0

“دسمبر کے نام میرا پیغام” تحریر: آپا منزہ جاوید اسلام آباد

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

دسمبر کے نام میرا پیغام
یوں تو سارے مہینے دنوں کی گنتی ہیں پس اس کے علاوہ کچھ نہیں
لیکن یہ دن یہ ہمارے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں
اس کے اتار چڑھاؤ ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں
جیسے ان مہینوں سے سردی گرمی خزاں بہار کے موسم منسوب ہیں ایسے ہی ہماری کچھ یادیں ان سے جڑ جاتی ہیں کچھ خوشیاں کچھ غم ان کی تاریخوں سے ایسے جڑ جاتے ہیں کہ جیسے ہی وہ تاریخ آتی ہے ہماری یادوں کے دریچے کھلنے لگتے ہیں
کوئ اپنی خوشیاں مناتا ہے سارا دن اس دن کو یاد گار اور پہلے سے بہتر کرنے میں لگ جاتا ہے اور کوئی اس دن کی تلخی کو مٹانے کے لیے تدارک کرتا ہے کوئی سارا دن اس تاریخ کو سوگ منا کر کرتا ہے
یہ گزرتے وقت بھی بہت ظلم ہوتے ہیں ان کے نہ دل ہوتے ہیں نہ انکھیں یہ تو پس گزرنے کے لیے ہوتے ہیں
اس سال کی ریل گاڑی کے بارہ ڈبے
بن دیکھے بن سنے
کہیں پھول نچھاور کرتے ہیں تو کہیں اپنی مسلسل رفتار میں سب کچل کر رکھ دیتے ہیں
کوئ ان سے برسائے پھول اٹھاتا خوشیوں سے سرشار اس مہینے کے آنے کا شکر ادا کرتا ہے اور کوئ لہولہان حسرتوں سے بھرے بوجھل دل سے گزرتے پل کو دیکھتا ہی رہ جاتا ہے
یہ ماہ سال وزن نہ رکھتے ہوئے بھی بعض مرتبہ بہت وزنی ہو جاتے ہیں
وقت کی ریل مہینوں سے بندھیروز ازل سے فراٹے بھرتی چلتی جارہی ہے
میرے بس میں ہو تو میں اس کے ہر ڈبے میں پھول بھر دوں مرادیں رکھ دوں خوشی کے تحفے رکھ دوں دل کا سکون قرار رکھ دوں آنکھوں کی چمک رکھ دوں
اے وقت کی چلتی دھارا اے فراٹے بھرتی زندگی کے ریل میں پیغام ہے تیرے لیے سن
اے ماہِ سال کی ریل تو اپنے اندر خوشیاں بھر لے دنیا میں غم بہت زیادہ ہو چکے ہیں آہیں سسکیاں بہت ہیں تو باٹنا چاہتی ہے تو سب میں اب کہ خوشیاں بانٹ دیے سب کے چہرے خوشی سے کھل جائیں دنیا میں امن ہو جائے کوئی کسی سے نفرت نہ کرے کوئ کسی کو قتل نہ کرے کوئ کسی کی حق تلفی نہ کرے ہر طرف محبت بانٹ خوشیاں بانٹ کہ تیرے آنے کی خبر سے دل جھوم جائیں تیرا وجود سکون کا باعث بنے رہے اے دسمبر تو جنوری سے جب بھی ملے اسے محبت کا امن کا خوشیوں کا پیغمبر بنا کر بھیجنا کہ جنوری کے آنے سے ہمارے دکھوں کا مداوا ہو سکے
27_12_2023
بدھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں