کوٹلی(بی بی سی)صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر و سینئر پارلیمنٹرین چوہدری محمد یٰسین نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہی مسلہ کشمیر حل کروا سکتی ہے اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کا اقتدار میں آناضروری ہے مہاجرین مقیم پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔اس وقت بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے بھارت کی جانب سے۔ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو ختم کرنے کی سازش رچائی جا رہی ہے۔اس مقصد کے لیے حریت قیادت کا عدالتی قتل گرفتاریاں پابند سلاسل رکھنا اور عدالتی فیصلوں کے زریعے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا سلامتی کونسل کی قراردادوں کی موجودگی میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔لیکن یہ جزبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کے حوصلے توڑنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔لاکھوں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والی قوم کے حوصلے ایسے نہیں توڑے جا سکتے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے یونین کونسل دھمول کوٹلی سٹی میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق امیدوار اسمبلی سردار آفتا ب انجم ایڈووکیٹ،صدر پی پی ضلع کوٹلی چوہدری پرویز اکبر ایڈووکیٹ،مرکزی سینئر نائب صدر قیوم قمر ایڈووکیٹ،جنرل سیکرٹری شفیق کلماروی ایڈووکیٹ،ممبر ضلع کونسل راجہ اظہر،کونسلر عامر شاہ ایڈوکیٹ+چوہدری فیاض منظور،عارف شاہ،چوہدری شاہد کمال کے علاوہ بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان کی شرکت۔صدر پیپلزپارٹی چوہدری محمدیٰسین نے کہا کہ آزادی کے حصول کے لیے آخری دم تک جدو جہد جاری رہے گی۔مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے سلامتی کونسل کی قراردادیں۔مسئلہ کشمیر پر بانی چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو شہید سے محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور سابق صدر آصف علی زرداری سے بلاول بھٹو زرداری تک دو ٹوک موقف رہا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا کیا۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست کو جب بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کیا تو جو ردعمل ہمیں دینا چاہیے تھا وہ نہیں دے سکے مودی کورٹ نے ایسا فیصلہ دیا۔بھارت کی طرف سے 50 لاکھ ہندؤں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے اور مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے اور ہندو وزیر اعلیٰ کو لانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔حکومت پاکستان مسلہ کشمیر کے حوالیسے قومی قیادت اور آزاد کشمیر کی’سیاسی قیادت و حریت قیادت سے مشاورت کے بعد حکمت عملی تیار کرے اور اب روایتی نہیں جارہانہ کشمیر پالیسی کی ضرورت ہے۔
0