0

اسرائیل،فلسطین جنگ اور ستاون مسلم ممالک کی بے حسی۔ تحریر: عزیز فاطمہ

اسرائیل،فلسطین جنگ اور ستاون مسلم ممالک کی بے حسی۔ تحریر: عزیز فاطمہ
جب کفار نے،ظالم و جابر ، قابض اسرائیلی یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا۔ ان کو بجلی کی فراہمی روک دی، ان کا پانی بند کردیا، ان کی خوراک تک رسائی مشکل بنا دی، غرض یہ کہ ہر طرح سے ان کی زندگی تنگ کردی۔ ایسے میں حماس کے غیور اور بہادر مجاہدین نے جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت جرأت مندانہ قدم اٹھایا اور ٧ اکتوبر ٢٠٢٣، ہفتہ کے دن حماس مجاہدین نے اسرائیل پر سینکڑوں، ایک خبر کے مطابق ہزاروں میزائل داغے جس سے یہودیوں میں خوف و حراس پھیل گیا اور اسرائیلی شہری خوف ذدہ ہوکر فلسطین اور غزہ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ اور ایئر پورٹ پر اسرائیلی مسافروں کا رش لگ گیا۔ جب تمام اسرئیلی وہاں سے نکل گئے تو اسرئیلی وزیرِاعظم اور فوج نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے غزہ کے نہتے شہریوں پہ میزائل حملے شروع کردیئے۔ جو اب تک جاری رہے۔ اسرائیل کی طرف سے تقریباََ اٹھارہ ہزار ٹن بارود فلسطینیوں پر برسایا گیا اور غزہ کے معصوم، بے گناہ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بے گناہ مسلمان مردوں، عورتوں، بزرگوں، بوڑھوں خاص طور پر چھوٹے بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جن میں شیرخوار بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ یعنی اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی۔ مگر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ اسرائیل نے غزہ کے ننھے ننھے معصوم پھولوں کو روند ڈالا مگر مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ غزہ میں صیہونی فوج نے ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کر ڈای، مگر مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہودی فوجی، مسلمان خواتین عورتوں، بچیوں کی عصمت دری کرتے رہے، انھیں نوچتے رہے۔مگر مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ اسرائیلی وزیرِاعطم نے غزہ، فلسطین میں خوراک، پانی، دیگر سہولیات جیسے فیول، ایندھن وغیرہ کی فراہمی روک دی۔ ان کی بجلی کاٹ دی۔ اور ان تمام سہولیات کی فراہمی پر پابندی عائد کردی۔ غزہ میں معصوم بچے بھوک اور پیاس سے بلکتے رہے، بجلی اور فیول کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہسپتالوں میں مریض اور زخمی تڑپتے رہے۔ مگر مسلم دنیا کے حکمران خاموش تماشائی بنے رہے۔ اسرائیل نے غزہ میں پانچ ہزار بچوں کو شہید کردیا۔ ان ننھی کلیوں کو روند ڈالا۔ بعضِ تو ایسی ایسی ننھی کلیاں اور کونپلیں تھیں کہ جو ابھی پوری طرح کھلنے بھی نہ پائی تھیں، کہ انھیں مسل دیا گیا، اور وہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لئے جنت کے سفر پر روانہ ہوتی رہیں، مگر مسلمان حکمران خاموش تماشائی بنے رہے۔ غزہ میں کفن اور دفنانے کے لئے جگہ ختم ہوگئی مگر عرب دنیا تلواریں پکڑ کر رقص کرتی رہی۔ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ جب ادھر غزہ میں یہودی فوجی، مسلمان عورتوں کی عزتیں لوٹ رہے تھے، تو دوسری طرف عرب مسلم حکمران بے حسی کی چادر اوڑھ کر امریکہ ، برطانیہ سے کروڑوں ڈالرز دے کر رقاصائیں ( ڈانسرز ) منگواکر سیزن فیسٹیول منارہے تھے اور ان پر لاکھوں لٹارہے تھے۔ غزہ میں بچے بھوک، پیاس اور بموں سے مر رہے تھے۔ ہر منٹ پر اک جنازہ اٹھ رہا تھا اور دوسری طرف عرب حکمران عیاشیوں اور فحاشیوں میں مصروف فیسٹیول منارہے تھے۔ صرف عرب دنیا ہی نہیں دیگر مسلم ممالک بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئیے ہوئے تھے۔ پاکستان بھی اپنی بےحسی کی دھن میں مگن مختلف شہروں میں فیسٹیول اور میوزیکل نائٹس کا انعقاد کراتا رہا۔ ترقی نے بھی اس بے حسی میں اپنا حصہ ڈالا۔ مسلم دنیا کا ہیرو کہلانے والا رجب طیب اردگان نے بھی خالی بیانات اور سوکھی دھمکیوں سے ہی کام چلایا۔ اک خالی کارتوس تو اس سے چل نہ سکا، یہ کرے گا جہاد فلسطین میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ارے کونسا جہاد اور کاہے کا ہیرو؟ ترقی کے صدر سے تو اتنا نہ بن پڑا کہ وہ اسرايل کو تیل کی فراہمی روک دے اس کا راستہ ہی بند کردے، جو آذربائیجان سے ترقی کے راستے اسرائیل کو پہنچایا جاتا ہے۔ ادھر ایران نے بھی کوفیوں کا کردار ادا کیا۔ سوکھی اور خالی دھمکیاں لگا لگا کر غزہ تباہ کروا دیا۔ اور جب حماس نے پکارا تو کوفیوں کا کردار ادا کیا اور کمال بے حسی اور خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” حماس نے اسرائیل پر حملہ کرتے وقت حزب اللّلہ کو اعتماد میں نہیں لیا تھا اس لیئے ایران حماس کا ساتھ نہیں دے گا۔ ایران کا ایکہ رسالہ جو آیت اللّلہ خمینی کی سرپرستی میں شائع کیاجاتا ہے۔ اس رسالے نے آیت اللّلہ خمینی کا ایک بیان شائع کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ” ایران کبھی بھی دوسرے کی خاطر کسی سے نہیں لڑتا ، وہ صرف اپنی لڑائی لڑتا ہے“ اصل گیم تو کچھ اور ہی ہے۔ ”UNO میں ایران کی اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ اس وقت تک اسرائیل پہ حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ وہ ڈائریکٹ ایران پر حملہ نہیں کرتا“ تو اقوامِ متحدہ نے ٨ سال سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کردیں۔ یہودیوں کی طرف سے ایران کو انعام و کرام سے نوازا جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔۔۔۔۔۔۔ سیاست کھیل گیا ایران فلسطین کے ساتھ۔ آخر نکلے نہ کوفی، دے دیا نہ دھوکہ۔۔۔۔ ادھر عرب کے امامِ کعبہ عبدالرحمن السدیس نےبھی جمعے کے خطبے میں کہا کہ” اسرائیل، فلسطین کی جنگ ایک فتنہ ہے اس سے دور رہا جائے۔ اور حاکمِ وقت کی پیروی کی جائے۔“ اک طرف افغانستان نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، تو دوسری طرف مصریوں نے تو ہر حد ہی پار کردی۔ پہلے تو امدادی سامان غزہ تک پہنچانے کے لئے راستہ نہیں کھولتے، اور کھولتے بھی ہیں تو ہفتے میں صرف ایک دفعہ۔ لوگ امدادی سامان لےکے کھڑے رہے مگر انہوں نے گزرنے نہیں دیا۔ دوسری طرف مصری گورنمنٹ نے امداد تو غزہ تک نہ پہنچنے دی مگر انہی امدادی ٹرکوں اور یمبولینسز میں بٹھا کر اسرائیلی فوجیوں کو رفع بارڈر سے گزار کر جالب کیمپ کے اندر گھسا کر، کیمپ میں پناہ گزین فسطینیوں کو شہید کروادیا۔ سچ ہی کہتے ہیں لوگ فرعونوں کی سرزمین مصر پر آج بھی سنگدل اور بے رحم فرعون ہی بستے ہیں۔
یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ستاون مسلم ممالک کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی نے غزہ تباہ کروادیا۔ جس طرح کچھ سال پہلے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں جموں کشمیر انڈیا کو بیچ دیا اور وہاں کے بے بس مجبور مسلمانوں کی جان ومال، عزت و آبرو کا سودا کرلیا۔ مگر کسی بھی مسلمان ملک نے ان ظالمانہ اقدام کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ اسی طرح ایران نے غزہ تباہ کروادیا اور اس کی قیمت وصول کرلی ، مگر دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ مگر دوسری طرف جب حماس نے پہلا ڈرون اٹیک کیا تو اسی وقت سارے غیر مسلم ممالک خاص طور پر امریکہ، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی اسرائیل کی پشت پہ اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ امریکی صدر جوبائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نے اکٹھے پریس کانفرنس کی جس میں امریکی صدر جوبائیڈن نے نیتن یاھو کو گلے سے لگایا، اس کے آنسو پونچھے، اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا ” تم کرو فلسطین پر حملہ کروجوابی کاروائی ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں۔ تم بھی یہیں ہو، ہم بھی یہیں ہیں، دیکھتے ہیں کون تمہارا راستہ روکتا ہے، تم کرو فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کو تباہ۔ اس کے بعد جوبائیڈن نے تمام مسلم ممالک کو للکارا اور دھمکی دی کہ وہ اسرائیل پر حملے کا سوچیں بھی نہ ورنہ ان کا بھی یہی حال ہوگا تو یہ سننا تھا کہ تمام مسلم ممالک کے سربراہان اور انکی فوجیں دم دبا کر بھاگ گئے۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے اگر مسلم ممالک کی عوام، ان کے لوگوں کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ قومیں ابھی زندہ ہیں۔ ان کے دلوں میں موجود جذبہ ایمانی ابھی ذندہ ہے۔ یہ بےبس اور مجبور عوام اور تو کچھ نہی کرسکتے مگر تمام مسلم ممالک کی عوام نے ایک طرف تو دل کھول کر امداد دی تو دوسری طرف اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے انھیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ خاص طور پر ان کے برانڈز McDonalds، کوکا کوکلا، اور پیپسی اور نیسلے کی تمام پروڈکٹس کا بائیکاٹ کردیا،اور یہ ٹرینڈ اتنا چلایا کہ اسرائیلی کمپنیاں دیوالیہ تک پہنچ گئیں، اور انھیں اس بائیکاٹ سے اتنا نقصان پہنچا کہ ان کی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ انھیں جنگ بندی کرنی پڑی۔ اس بائیکاٹ نے وہ کام کردکھایا جو او آئی سی کا اجلاس بھی نہ کرواسکا اور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ حتی کہ اقوامِ متحدہ کا اجلاس بھی اسی غرض سے منعقد کیا گیا اور اس میں اسرائیل، فلسطین جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی اور تمام ممبران نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا اور مطالبہ کیا کہ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دی جائے۔ لیکن امن کے علمبردار امریکہ نے جنگ بندی کی قرارداد کی مزمت کی اور جنگ بندی سے انکار کردیا۔ اور امن کا علمبردار دوسرا ڈھونگی انڈیا اس اجلاس میں شامل ہی نہیں ہوا، اور دوسری طرف وہ اسرائیل کی حمایت میں کھڑا ہے۔ ساری زندگی مسلمانوں اور مسلم ممالک پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ان کو تباہ کرنے والے امریکہ اور انڈیا اصل میں خود دہشت گرد ممالک ہیں اور اسرائیل ، امریکہ کا ناجائز بچہ ہے جسے پالنے کے لئے امریکہ مسلمانوں کا خون بہاتا ہے اور اسرائیل کو پلاتا ہے۔ یہ ہے وہ امن کے علمبرداروں کی منافقت جو آج پوری دنیا پہ آشکار ہے۔ انڈیا امن قائم کرنے اور جنگ بندی کرنے کا کہہ بھی کیسے سکتا ہے اس نے تو خود جموں کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ الللہ امتِ مسلمہ کے حال پر اپنا رحم کرے جس طرح سارے کافر ، یہودو نصارا اکٹھے ہوگئے، اسی طرح الللہ تعالی مسلمان حکمرانوں کو آپس میں اتحاد کرنے اور مشکل اور کڑے وقت میں مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں کا سہارا بننے کی توفیق عطا کرے۔
وگرنہ اگر ان شہیدوں نے خاص طور پر غزہ کے ان بچوں نے جن کا دادا شہید ہونے والے اپنے پوتے، پوتیوں کا جنازہ اٹھاتے ہوئے رو رو کر انھیں کہہ رہا تھا کہ جاؤ جنت میں اور رسول الللہ سے کہنا، ان سے شکایت کرنا کہ آپ کی امت نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا، ہم مرتے رہے اور آپ کی امت خاموش تماشائی بنی رہی۔ اگر ان معصوم ننھے شہیدوں نے رسول الللہ سے شکایت کردی امتِ مسلمہ کی تو سوچا ہے پھر کیا ہوگا۔ کیا ہم خاص تور پر تمام مسلم ممالک کے سربراہان کیا یہ رسول الللہ کا سامنا کرپائیں گے؟ انھیں کیا منہ دکھايئں گے یہ؟ کیا جواز پیش کریں گے اگر آقا نے پوچھ لیا کہ غزہ کے مسلمانوں کی تنہا کیوں چھوڑا تو اپنی اس بے حسی، بزدلی اور کافر نواز دوستی کا کیا جواز پیش کریں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں