نہیں
ہرگز نہیں
مجھے
جیتنا ہوگا
ہار
میرا مقدر نہیں
میں
اپنے عزم سے
ولولہء جنوں سے
اپنی جیت کو
ماتھے کی لکیر کروں گی
میں یہ ٹھان چکی
میں اپنے حق میں
ہر تقدیر کروں گی
منافقت میں
ڈوبے اے بشر
تو مجھے
کیا ہرائے گا۔۔۔۔۔۔۔
دے کر دھوکہ کیا ستائے گا
تٌو مجھے کیا رلائے گا
کہ
تو نے دیکھا کبھی
باطل کو حق کے سنگ
کبھی دیکھا ہو
حق پہ چڑھا باطل کا رنگ
سیدہ کنول کاظمی
0