شاعرہ و ادیبہ : عزیز فاطمہ: وہ جاگیں تو سہی
وہ جاگیں تو سہی، بہتر ہی کافی ہیں
گر جاگیں جو مسلمان تو بہتر ہی کافی ہیں
مسلم جو للکارے تو دشمن پہ ہو ہیبت طاری
وہ للکارے تو سہی، اک للکار ہی کافی ہے
وہ جاگیں تو سہی، بہتر ہی کافی ہیں
گر جاگیں جو مسلماں تو بہتر ہی کافی ہیں
واں کوفی بیچ راہ چھوڑ گئے، یاں عرب و عجم سرِ راہ چھوڑ گئے
واں بھی حسین تنہا تھا ، یاں بھی وفادار حسین تنہا ہیں
وفا ہو گر جزبوں میں زندہ تو بہتر ہی کافی ہیں۔
وہ جاگیں تو سہی بہتر ہی کافی ہیں
رچی ہے پھر سے قدس میں کربلا، لگا ہے پھر میدانِ کربلا
پھر کوفیوں نے دغا دیا، پھر پیاسے اصغر کا گلا کٹا
پھر سے ظالم خون سے ہے پیاس بجا رہا، پھر قطرہ آب کو ترس گیا غزہ
گر ہو میسر پینے کو تو اک بوند ہی کافی ہے۔
وہ جاگیں تو سہی، بہتر ہی کافی ہیں
لٹ رہا ہے شب و روز فلسطین کا چمن، بیٹھا ہے چپ تان کے یاں عرب و عجم
دل پہ تالا، زباں پہ تالا، نگاہ پہ تالا، غیرت مسلمہ بک گئی ہے یہاں سرِبازار فاطمہ
ستاون ممالک کے لئے مض اک ڈالر کا چکر ہی کافی ہے۔
وہ جاگیں تو سہی، گر جاگیں جو مسلماں تو بہتر ہی کافی ہے۔
وہ جاگیں تو سہی ، بہتر ہی کافی ہیں