نیلم (بی بی سی)صدر نیلم بارعظمی شیریں ایڈووکیٹ نے غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارِ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست اسرائیل نے فلسطین کے چھوٹے سے علاقے غزہ پر قیامت برپا کررکھی ہے۔اسرائیل کی درندگی سے معصوم بچے،خواتین اور ہسپتال بھی محفوظ نہیں ہیں جس پر عالمی ضمیر اور انسانی حقوق کے اداروں کی مجرمانہ خاموشی شرمناک ہے، اوا ٓئی سی سمیت مسلم حکمرانوں وعالمی ضمیر کو فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ایسا نہیں کیا گیا تو تاریخ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے غزہ میں انسانیت سوز مظالم کرکے تمام حدیں پار کردی ہیں مگر وہ اپنی تمام تر فوجی اور جدید اسلحے کی طاقت کے باوجود فلسطینی عوام کے شوق شہادت اور جذبہ جہاد کو شکست نہیں دے سکتا۔صدر نیلم بار عظمی شیریں ایڈووکیٹ نے کہا کہ اسرائیل طاقت کے نشے میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل طاقت کے نشے میں انسانیت سوز مظالم اور جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اسرائیل کا غزہ کے ہسپتال پر حملہ ناقابلِ قبول ہے،معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں پر اسرائیل کی جانب سے شدید بمباری غیر انسانی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے جاری بمباری سے ہزاروں نہتے شہری نشانہ بن چکے ہیں،اسرائیل فوری طور پر غزہ کی ناکہ بندی ختم کر کے خوراک اور ادویات کی ترسیل یقینی بنائے صدر نیلم بار نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے فلسطینی بہن بھائیوں کے لئے امداد کا اعلان جس میں راشن اور ضروریات زندگی کی اشیا ہیں خوش آئند ہے کشمیر عوام بھی ان کی مدد کیلئے آگے آئیں اور فلسطینی بھائیوں کی امداد کیلئے آگے بڑھیں۔۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی فلسطینی شہدا ء کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت و تندرستی عطا فرمائے! آمین
0