عصر حاضر کے منفرد لب و لہجہ کے شاعر محترم مظفر احمد مظفر صاحب
انسان اپنی زندگی میں جب اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے تو اس میں والدین کی دعائیں اس کی محنت اور کام کی سچی لگن کار فرما ہوتی ہے۔ انسان کی خوبصورتی اس کے اعلیٰ کردار اور بہتر تربیت میں پنہاں ہے جیسا کہ کائنات کی خوبصورتی چمن میں مہکتے پھولوں سے ہے اور فلک کی خوبصورتی چاند اور ستاروں سے ہے۔ بعینہ شعرو ادب کی دنیا میں جھانکا جائے تو ماضی میں جن شعراء حضرات نے محنت کی، بامقصد، خوبصورت اشعار لکھے اور ادب کی ترویج و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ان کا نام اب بھی فلک پر ستاروں کی طرح چمک دمک رہا ہے۔ ان چمکتے دمکتے ستاروں میں ایک روشن ستارے کا نام محترم مظفر احمد مظفر ہے۔ آپ کا مسکن برطانیہ ہے۔ وہ اپنے خوبصورت اور دلنشیں اشعار لکھنے کی وجہ سے ناصرف برطانیہ بلکہ پاکستان، بھارت اور جہاں جہاں اردو پڑھی اور سمجھی جاتی ہے یکساں طور پر زبان زد عام ہیں۔ آپ نعت گوئی میں بھی اسی طرح ہی مقبول ہیں۔ آپ برطانیہ میں رہتے ہوئے گاہے بگاہے ہونے والی ادبی محافل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں اور ان ادبی محافل کی زینت آپ کی شرکت کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ محترم مظفر احمد مظفر صاحب شعراء کی فہرست میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں لہٰذا ناآموز شعراء آپ سے اشعار میں اصلاح لیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مزید برآں ہر ادبی تنظیم خواہ وہ برطانیہ میں ہو یا پھر بھارت و پاکستان میں سبھی انہیں اپنی ادبی تنظیم سے منسلک کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس ادبی تنظیم کی کامیابی کی ضمانت بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی ان کی کامیابی اور مقبولیت کا راز ہے۔ محترم مظفر احمد مظفر صاحب کی ادب دوستی اور شاعری میں کمال فن کو سراہتے اور اعتراف کرتے ہوئے لکھنؤ ( بھارت) کی ایک ادبی تنظیم “دبستانِ اہل قلم لکھنؤ” کی جانب سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں مورخہ 9 ستمبر 2023 بروز ہفتہ کو “ناخدائے سخن ایوارڈ” سے نواز گیا۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ یقیناً اس ایوارڈ کے حقدار ہیں۔ قبل اس سے آپ کو بھارت و پاکستان سے رئیس المتغزلین ، استاذالشعراء ، اور نازش اردو ایسے ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ۔ آپ کی شاعری میں جدیدیت، حقیقت پسندی، اور زمانے کی خوبصورتی جھلکتی ہے۔ دبستان اہل قلم لکھنؤ کی جانب سے ناخدائے سخن ایوارڈ دیا جانا بھی اسی بات کا اعتراف ہے کہ محترم مظفر احمد مظفر صاحب عصر حاضر کے شعراء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مزید یہ خوش آئند بات ہے کہ ادب کی دنیا سے منسلک ادباء اور شعراء حضرات کو ایورڈ دئیے جانے سے ان میں شوق، لگن اور لکھنے میں مزید نکھار پیدا ہوتا ہے مزید قاری حضرات میں بھی اشعار پڑھنے اور لکھنے کے رجحان کے ساتھ ساتھ ان کے علم میں بھی وسعت پیدا ہوتی ہے۔
0