نیلم(بی بی سی)صدر نیلم بار عظمی شیریں ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات فوری حل کرے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں میں مخصوص افراد اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض عناصر مظاہروں کی آڑ میں پاک فوج اور مملکت خداد پاکستان کے خلاف ہرزاہ سرائی کررہے ہیں جو قابل مذمت ہے۔آٹا،بجلی اور دوسری مہنگائی سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ احتجاجی تحریک کے منتظمین اپنے ایجنڈے کو صرف مہنگائی اور معاشی مسائل تک محدود رکھیں۔ بے جا طور پر ایجنڈے کا طویل کرنا حل میں مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ مسائل کی آڑ میں مملکت پاکستان اور مسلح افواج پاکستان کے خلاف کسی مہم کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان فطری طور پر لازم و ملزوم ہیں۔بدنظمی اور بدانتظامی خدانخواستہ کسی مرحلے میں بے قابو ہوکر اس خطے کو بڑی طاقتوں کا میدان جنگ بنا سکتی ہیں۔تمام جھگڑے،تنازے اور جنگوں کے فیصلے بھی مذاکرات کی بنیاد پرحل ہوئے اس لیے ایکشن کمیٹی کے ممبران مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس کاحل نکالیں۔اس ایجنڈے کوطول دینے کے بجائے حل کیا جائے۔مفت بجلی کوئی ملک بھی فراہم نہیں کرسکتے مگر جائز مطالبات کاحل حکومت کی ذمہ داری ہے۔بے شک آزادکشمیر میں مسائل موجودہ ہیں اور اس مہنگائی سے کوئی مخصوص طبقہ پریشان نہیں بلکہ سب مہنگائی کے خاتمے کیلئے احتجاج پرہیں اور طوفان مہنگائی قابل قبول نہیں ہے۔بجلی بلات میں بے جاٹیکسز کاخاتمہ کیاجائے.
0