مظفرآباد (وائس آف پاکستان)پی آئی ڈی کے مطابق وزیر حکومت چوہدری محمد رشیدنے پی آئی ڈی ڈیجیٹل فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں جاری دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے افرا تفری پھیلانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں بجلی بلات میں کیے گے اضافہ کومعطل کیا جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچا۔حکومت کاکل سالانہ ریونیو 33بلین روپے ہے جبکہ تیس ارب روپے حکومت پیشنز کی مد میں ریٹائرڈ ملازمین کو ادا کرتی ہے۔حکومت آمدن سے زائد اخراجات کے لیے رقم وفاقی حکومت سے لیتی ہے۔ 15اکتوبر تک حکومت پاکستان کی جانب سے اس سہ ماہی کا ترقیاتی بجٹ ریلیز ہوجائے گا۔حکومت سیپرا باڈی بنانے جارہی ہے جس کے ذریعے سے آزادکشمیر حکومت خود بجلی کا ٹیرف ریٹ مقرر کرنے کی مجاز ہو گی۔حکومت اپنے لوگوں کے خلاف غیر ریاستی فورسز کا استعمال نہیں کرے گی افراتفری کی فضاکسی بھی طور پر عوامی مفاد میں نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے پلاننگ کمیشن سمیت متعلقہ فورمز پر آزادکشمیر کے عوام کی آواز اٹھائی، میٹرنگ سٹم کو ٹرانسفارمر کے ساتھ سنٹرل میٹرنگ یونٹ کے طور پر نصب کرنے کی تجویز پر عملدرکی تجویز زیر ٖغور ہے۔ ٹورازم، لائیواسٹاک میں انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ ریاست کے عوام ٹیکس دیں گے تو ترقیاتی کام کیے جاسکیں گے۔ آزادکشمیر میں پیداورای پوٹینشل کو بڑھانے کے لیے بیرونی انوسٹمنٹ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت مظاہرین سے ڈائیلاگ چاہتی ہے۔ ہم امن پسند لوگ ہیں، جمہوری روایات کو ہمیشہ حکومت فروغ دے گی۔ انتشار پھیلانے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سال ریونیو ٹارگٹ 9ارب تھا مگر حکومت نے 14ارب تک حاصل کر لیا۔ ترقیاتی کاموں کو جاری رکھنے کے لیے وفاق سے 94 کروڑ کی گرانٹ ملی جبکہ حکومت آزادکشمیر نے 2 ارب محکمہ فنانس سے ادھار لے کر پی این ڈی کو ترقیاتی کاموں کے لیے ادائیگی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 15اکتوبر تک حکومت پاکستان کی جانب سے اس سہ ماہی کا ترقیاتی بجٹ ریلیز ہوجائے گا۔ وزیر حکومت نے کہا کہ لو گ آٹا کے لیے اپنا ڈیلر مقرر کریں، ڈیلرز کی دکانوں کو ڈیجیٹلائزکرنے جارہے ہیں، حکومت نے ایک ارب کا انڈورسمنٹ فنڈ قائم کیا ہے اس کا مقصد غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا جائے گا۔ حکومت سیپرا باڈی بنانے جارہی ہے۔جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹیز کے جاری دھرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر حکومت نے کہا کہ حکومت جائنٹ ایکشن کمیٹیز کے نمائندوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔انہو ں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہے،درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے حکومت دن رات کام کررہی ہے۔ وزراء کے پاس کوئی اضافی مراعات نہیں ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کے ویژن کے مطابق وزرا نے ٹی اے ڈی اے، پیٹرول، ڈیزل سمیت تمام اضافی مراعات لینے سے انکار کردیا ہے۔ وزیرحکومت نے سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہونے والی بے بنیاد خبرمیں غیرریاستی فورسز کی طلبی کے حوالے سے افواہوں پر کہا کہ میرا یقین ہے حکومت ایسا کوئی اقدام اپنی عوام کے خلاف نہیں اٹھائے گی۔
0