اولڈ ہاوس،قسط دوئم۔تحریر: مصنفہ ، ادیبہ عزیز فاطمہ
آرام سے آرام سے ، بیگم کلثوم نے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کہا۔ ارے بات ہی کچھ ایسی ہے۔ میں بہت خوس ہوں ،آج میں بہت خوش ہوں، سیٹھ امداد نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ ارے کچھ بتائیں گے بھی یا یوں ہی جھومتے رہیں گے، بیگم کلثوم نے ان کی طرف تجسس سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ہاں ہاں میں جھوموں گا آج بہت جھوموں گا، دیکھو یہ فائل وہ فائل پر ہاتھ مار کر کہتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ بیگم کلثوم حیرت اور تجسس سے فائل کو دیکھتی ہے۔ تمھیں پتا ہے؟ سیٹھ امداد بیگم کلثوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے، ایک بہت بڑی کمپنی کے ساتھ ہم نے بزنس کیا تھا اور انکے اور ہماری کمپنی کے درمیان ایک بہت بڑی ڈیل طے پا گئی تھی ہماری کمپنی نے وہ پوری کردی ، ہمارا اپرول و پاس ہوگیا اور ہماری پروڈکٹ کی بیرونِ ملک بھی ڈیمانڈ ہونے لگی ہے۔ ہماری کمپنی کا شمار دنیا کی مشہور ترین کمپنیوں میں ہونے لگا ہے اور اسے کمرشلز اور ٹینڈرز ملنے لگے ہیں۔ اور تمھیں پتا ہے اگلے ماہ ہماری کمپنی کی ایک برانچ دبئی میں بھی کھل جائے گی اور پھر پوری دنیا میں ہماری کمپنی کی شہرت ہوگی ہمارا بزنس چمک اٹھے گا۔ میں بہت خوش ہوں آج میں بہت خوش ہوں سیٹھ امداد نے فائل بیگم کلثوم کو دیتے ہوئے کہا۔ بیگم کلثوم فائل اٹھا کر دیکھتی ہے، ارے واہ! یہ تو واقع ہی بہت خوشی کی بات ہے اس خوشی میں تو داعوت ہونی چاہیئے ، بیگم کلثوم نے کہا۔ سیٹھ امداد صوفے پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی گھڑی اتار کر سامنے پڑی میز پر رکھتے ہوئے بیگم کلثوم کی طرف دیکھتا ہے جو ابھی تک فائل دیکھنے میں مصروف تھی۔ وہ انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ بیگم اسی خوشی میں چائے ہوجائے؟ جی جی کیوں نہیں ابھی لائی، آپ فریش ہوجائیں میں چائے لاتی ہوں اور میں نے آپ کے لئے کباب بھی تل کر رکھے ہیں وہ بھی لاتی ہوں۔ وہ یہ کہ کر جلدی سے کامن روم سے نکل کر کچن میں میں چلی جاتی ہے۔ اور سیٹھ امداد بھی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کمرے میں چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد چائے پر سیٹھ امداد بیگم کلثوم سے کہتا ہے کہ میں سوچ رہا ہوں کہ کل بہت بڑی دعوت کا اہتمام کروں اور اس میں سب دوستوں اور رشتہ داروں کو مدعو کروں اور اس میں ہم کل زبیر اور ماہم کی منگنی کا اعلان بھی کردیں گے۔ ۔ بیگم کلثوم سیٹھ امداد کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے، اور اثبات میں سر ہلا دیتی ہے
اور پھر زورو شور سے داعوت کی تیاری ہونے لگتی ہے۔ سیٹھ امداد نے ایک شاندار داعوت کا اہتمام کیا اور یہ داعوت اس نے گھر کی بجائے فائیو سٹار ہوٹل میں کی۔ جب سب مہمان آگئے تو سیٹھ امداد اور بیگم کلثوم سٹیج پر آتے ہیں اور زبیر اور ماہم کو سٹیج پر آنے کی داعوت دیتے ہیں، ان کے ساتھ ماہم کے والد اور والدہ بھی سٹیج پہ آتے ہیں۔ جب سب جمع ہوجاتے ہیں تو سیٹھ امداد سٹیج پر ماہم اور زبیر کی منگنی کا اعلان کردیتے ہیں۔ جو کہ اگلے ہفتے ہونا طے پاتی ہے۔ اور یہ خوشی کی خبر سن کر سب لوگ خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں۔ زبیر سیٹھ امداد اور بیگم کلثوم کا اکلوتا بیٹا اور اکلوتی اولاد ہوتا ہے۔ وہ انجینئرنگ پڑھ رہا ہوتا ہے، زبیر بہت ہی خوش شکل اور خوش مزاج ہوتا ہے۔ لمبا قد، گورا رنگ، سیدھے بال اور ترچھا پف ۔ نیلی جینز اور گٹار اس کی کمزوری تھی، وہ بہت جلد لوگوں میں گل مل جاتا اور سب کو اپنا گرویدہ بنالیتا۔ ہمنا زبیر کی گرل فرینڈ اور اس کی کلاس فیلو تھی۔ ہمنا، زبیر اور فاحد ہمیشہ اکٹھے رہتے تھے، اور اکٹھے ہی پڑھتے تھے۔ ہمنا زبیر کو پسند کرنے لگی تھی مگر زبیر، ہمنا کو صرف اپنا اچھا دوست ہی سمجھتا تھا۔