رداامانت علی
فیصل آباد
تلخ حقیقت
آج کل ہمارے معاشرے کے امیر اور اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ہر چیز کی معافی ایسے ہے جیسے کہ وہ نیک کام کر رہیں ہوں۔
ہمارے معاشرے میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے محبت کے دعوے کرتے ہیں اور جب اس محبت کو نکاح جیسے پاک رشتے میں لانے کی بات کرتے ہیں تو ذات پات امیری غریبی گاؤں زمانہ اور رشتے دار آجاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
لوگ اس وقت کہاں تھے جب محبت کو ہتھیار بنا کر اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہر حد سے گزر جاتے تھے اور چوری چھپے گھر تک لے آتے تھے۔
مرد وہ نہیں ہوتا جو ہر ایک کو دل دے بیٹھے اور وقت گزارے
مرد وہ ہوتا ہے جو کسی ایک کے ساتھ مخلص ہو اور اس کو سرے عام اپنی عزت بنا لے
نا کہ مسیج فون وغیرہ پر وقت گزارے۔
پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب لڑکا ایسا کچھ کر دیتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے لئے مرنے کا مقام ہوتا ہے ۔
لڑکا اس وقت اپنی بہن کو بات بتاتا ہے کہ وہ اس کی ایس مدد کرے۔ لڑکی سب باتوں سے دور اندھاپن لڑکے کی ہر بات پر یقین کرتی ہے۔ لڑکے کی بہن جو کہ خود شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں اور الله نے اُسے ایک بیٹی عطا کی ہوتی ہے۔ وہ اس لڑکی کا ساتھ دینے کی بجائے جس پر ظلم ہوا ہے بلکہ اپنے بھائی کی باتوں میں آ کر اس لڑکی کو سمجھاتی ہے کہ چپ رہو۔ لڑکا اور اس کی بہن اس وقت تک لڑکی کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں جب تک ان کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا ۔ جب ان کو اپنا مقصد مکمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے کہ لڑکے کی شادی کسی اور جگہ ہو رہی ہے وہ بھی اس لئے کہ وہ ان کی ذات کی ہے اور وہ ان کے بیٹے کے لئے ایک ایسا ذریعہ ہے جو کہ ان کے بیٹے کے مقصد کو کامیاب بنا سکتی ہے۔
کتنی پیاری بات ہے
نیک مرد کے لئے نیک عورت
بد مرد کے لئے بد عورت
وہ جس کو نیک سمجھ کر اپنے بھائی کی زندگی میں اس کا ہمسفر بنا کر لیکر آئیں، ان کی آنکھوں میں اللہ کی طرف سے ایسی پٹی باندھ دی گئی ۔ وہ لڑکی پہلے سے شادی شدہ اور ایک بیٹی کی ماں تھی اور اس کی پہلی طلاق کی وجہ اس کا عاشق تھا ۔ کہتے ہیں جب آنکھوں پر کسی بھی طرح کی لالچ کی پٹی باندھ دی جائے تو سچ جتنا بھی سامنے ہو اس کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ امیر اونچی ذات والے لوگ دوسروں کے سامنے بہت معزز بنتے ہیں پر اصلیت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
وہ لڑکی اور اس کے گھر والوں نے بھی چھپایا کہ ان کی بیٹی پہلے سے شادی شدہ ۔ لالچ دونوں طرف تھا لڑکے والوں کو اپنا مقصد اور لڑکی کو امیر ترین گھرانہ اور پر سکون زندگی گزرتی ہوئی نظر آنے لگی۔
اس لڑکی کا کیا قصور تھا جس کو محبت میں پھنسا کر اس کا استعمال اپنے نفس کے لئے کیا گیا اور جب اپنا مقصد کسی دوسری لڑکی کی صورت میں نظر آنے لگا تو اس لڑکی کو زمانے بھر میں رسوا کرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ اس لڑکی نے ناجانے اُس کے اپنوں کتنی بار بات بتانے کی کوشش کی ہو پر کسی نے اس کی ایک نہ سنی کیونکہ وہ لڑکی ایک غریب گھر اور چھوٹی ذات کی تھی۔
کیوں لوگ بھول جاتے ہیں۔ الله کی ذات بڑی ہے اگر وہ لڑکی کسی کو بتا نہیں سکی اس کی آواز اس دنیا کے بنائے گئے رسم و رواج اور ایسے امیر ترین اونچی ذات کے لوگوں کی وجہ سے دب گئی ۔ آخرت میں اس لڑکی کے ایک ایک آنسو کا بدلہ تو دینا ہو گا۔
کچھ کر نہی سکتی
کسی کو بتا نہی سکتی
رب کے علاوہ کسی پر
یقین کر نہی سکتی
بہت سے لوگ کہیں گے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کی غلطی کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کم سے کم اس لڑکی کی کوئی صدا تو سنتا جو آج چپ ہو گئی کیونکہ اس نے دونوں گھروں کے لوگوں کو دل سے اپنا کہا تھا نہ کہ اس لڑکے کی بہن کی طرح اپنے مفاد تک چپ کروایا کہ وقت گزرنے دو میں خود بات کروں گی اپنے گھر رشتے داروں سے اور پھر ایک ایسا وقت آیا کہ لڑکی اپنی آخری سانسوں کی طرف جانے لگی.
لڑکی یہ سوچ سوچ کر ہی خود سے سوال کرتی کہ کہاں گئی اس لڑکے کی باتیں جس نے کہا تھا کہ میں دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں ہوں۔ میری تربیت میرے بھائیوں بہنوں اور ماں نے ایسی نہیں کی ۔ میں خود ساری زندگی باپ کے پیار کے لئے ترسا ہوں مجھے اندازہ ہے کہ جب کوئی ہمارے پاس نہیں ہوتا تو کتنی کمی محسوس ہوتی ہے۔ لڑکی تو محبت میں اس طرح اندھی گونگی بہری ہو چکی تھی کہ اُس کے آس پاس کے لوگوں نے اس لڑکے کے بارے میں آگاہ بھی کیا پر کہتے ہیں جب عشق سر پر چڑھ کر بولے تو کوئی کتنا بھی سمجھانے کی کوشش کرے سب نظر انداز ہوتا ہے بلکہ جو سمجھا رہا ہو اس سے نفرت ہو جاتی ہے، کہ کیوں اس نے میرے پیار کے بارے بات کی ۔ کہتے ہیں یار کی گلی کی ایک ایک چیز یہاں تک کے اس کے کتوں سے پیار ہوتا ہے ۔
لڑکی کا قصور یہ تھا کہ وہ لڑکے سے سچی محبت کرتی تھی اور لڑکا اس کے ساتھ محبت کے دعوے تو ایسے کر رہا تھا جیسے کہ وہ لڑکی کے لئے ہر چیز سے ٹکرا جائے گا۔ مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا اگر مرد چاہے تو طوائف کو بھی اپنی عزت بنا لے۔ اسلام نے بھی مرد کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے پر یہ نہیں کہا کہ اپنے نفس کی وقتی تسکین کے لئے کسی کی بہن بیٹی کی عزت جذبات کے ساتھ کھیلا جائے۔
اپنے سے بڑوں سے سنا کرتے تھے کہ پہلے زمانے کے لوگ اس قدر عزت والے ہوتے تھے کہ کسی کی بہن بیٹی کا نام اگر ان کے گھر کے لڑکے کی وجہ سے بدنام یا اس پر معاشرے کے کسی افراد نے لڑکے کے نام سے لڑکی کو بلا لیا تو وہ لوگ اس لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنا لیتے تھے کہ آج ہماری وجہ سے اس لڑکی پر نام آیا تو کل کو کہیں ہمارے خاندان کی لڑکی کے ساتھ مکافات عمل نہ ہو جائے اور اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہتے۔
آج کل دنیا میں دولت کمانے والا انسان کبھی مرنے کے بعد اپنے ساتھ وہ سب مال و دولت لے کے گیا جو اس نے کسی کی دل آزاری کسی سے جھوٹے محبت کے دعوے کر کہ کمائی ہو۔ اصل مال و دولت تو وہ ہے جو کسی کے کام آئے ۔
مزہ تو تب ہے جب اونچی ذات اور امیر ترین لوگ کسی غریب اور چھوٹی ذات کی بیٹی بہن کو اپنے گھر کی ملکہ بنائے۔
0