0

چائلڈ لیبر : تحریر: عزیز فاطمہ

چائلڈ لیبر : تحریر: عزیز فاطمہ
ہر سال ١٢ جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال چھوٹے بچوں سے کام کروانے، مزدوری کروانے کے خلاف دن منایا جاتا ہے، بچے کی کام کرتے تصویر لگا کر اس کی مظلومیت دکھا کر مختلف تحریریں لکھی جاتی ہیں جس سے مظلومیت ظاہر ہو ایسے اسٹیٹس واٹس اپ ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر لگائے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح سے مختلف اداروں جیسے سکولوں وغیرہ میں چائلڈ لیبر ٹیبلوز وغیرہ بچوں سے کروائے جاتے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد بچوں خاص طور پر چھوٹے بچوں سے کام کروانے ، مزدوری کروانے کے امر کو نا پسند کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
مگر کیا اس ایک دن کے علاوہ بھی ہم اس امرِ قبیح کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ کیا ہم حقیقت میں بھی ان ننھے اور معصوم پھولوں کو روز مسلے جانے سے بچا پاتے ہیں۔
ہر روز ہمارے ارد گرد نہ جانے کتنے ہی پھول مسلے جاتے ہیں“ نہ جانے کتنی ہی معصوم کلیاں روز ظلم و ستم کی بھٹی میں جھونکی جاتی ہیں۔ ہمیں ہر روز مختلف دکانوں پر چھوٹے چھوٹے بیسیوں بچے مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی ہاتھ میں کپڑا لیئے کسی ہوٹل کی میز صاف کررہا ہے، تو کوئی ہوٹل کے برتن دھو رہا ہے۔ کوئی بچہ ہاتھ میں بھاری بھرکم ہتھوڑا لیئے لوہا کوٹنے میں مصروف ہے، تو کہیں کسی ورک شاپ یا آٹو شاپ میں ہاتھ میں پلگ پانہ لیئے موٹر کھول رہا ہے۔ اور کوئی بچہ گاڑی کے نیچے لیٹا مرمت کر رہا ہے۔ اور کہیں بڑی بڑی کوٹھیوں میں کام کرتی اور تشدد برداشت کرتی یہ معصوم کلیاں، اور زمانے کی ستم ظریفی کا شکار کوڑے کے ڈھیر سے کھانا تلاش کرتے اور خونخوار کتوں سے کھانے کے لئے لڑتے یہ مظلوم بچے۔ یہ معاشرے کی ستم ظریفی، معاشرے کی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے تلخ رویے ہی تو ہیں۔ یہ سب مناظر ہمارے منہ پہ زوردار طمانچہ ہیں ۔ یہ ہماری معاشی اور معاشرتی تقسیم ہی ہے جس کی وجہ سے ایسے مناظر ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی بحران ہے جس کے ستائے غریب ماں باپ اپنے معصوم پھولوں کو کھیلنے کودنے اور سکول پڑھنے کی عمر میں ان کے ننھے ہاتھوں سے کھلونے ، قلم اور کتاب لے کر ان کو دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے انکو کام پہ بیجھ دیتے ہیں اور ان کے نازک کندھوں پہ بھاری ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔ اور پھر اسی لئے ہر دوسری دکان یا ہوٹل پر یہ معصوم بچے کام کرتے اور زرا سی غلطی پر بری طرح سے پٹتے اور کھال کھینچواتے نظر آتے ہیں۔ بہت سے گھرانے غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنے بچوں کو گھر سے باہر مزدوری کرنے بھیج دیتے ہیں۔ مگر دوسری طرف بہت سے مجبور اور غریب گھرانے ایسے ہیں جو غربت کے ساتھ ساتھ نشے جیسی لعنت کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں میں گھر کا سربراہ یا کمانے والا اگر نشے کا عادی ہو تو وہ تمام وسائل نشے کی نظر کردیتا ہے حتی کہ اس سے گھر کا سازو سامان بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ ایسے گھروں کے بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سر پر کسی کا سایہ اور تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ایسے گھروں کے بچے یا تو نشے کے عادی ہوجاتے ہیں یا بری صحبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو جرائم پیشہ ہوتے ہیں اور جرائم پیشہ سرگرمیوں چوری، ڈکیتی اور منشیات کا کاروبار جیسی وارداتوں میں ملوث ہوتے ہیں اور پھر وہ معاشرے کے لئے ناسور بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف گھروں میں کام کرنے والی کم سن بچیاں جو اپنے گھروں سے نکل کر اور بعض دوسرے شہروں میں جاکر بڑی کوٹھیوں اور گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ یہ حالات کی ستائی مجبور ننھی کلیاں اپنی عمر اور ہمت سے بڑھ کر سارا سارا دن سارے گھر اور بڑے چھوٹے سب کا کام کرتی ہیں اور اگر کبھی برتن دھوتے وقت غلطی سے ہاتھ سے برتن گرکر ٹوٹ جاتا ہے یا کپڑے استری کرتے وقت اگر کوئی کپڑا جل جاتا ہے تو گھر کی مالکن برتن ٹوٹنے پر مار مار کر اس کا جسم لال کا دیتی ہے اور کپڑا جلنے پر اس بچی کا ہاتھے اور منہ جلا دیتی ہے۔ مگر دوسری طرف اس کم سن ملازمہ کی عمر کی ہی اس کی اپنی بیٹی ہوتی ہے جسے اس نے زندگی کی ہر آسائش دے رکھی ہے اور اس کو نازو نین سے پالتی ہے اور اسکو تعلیم بھی دلواتی ہے مگر اپنی بیٹی کی ہم عمر سے وہ سارے گھر کا کام کرواتی ہے اور چھوٹی سی غلطی پر اسکو ظلم وتشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ کیا یہ انسانیت ہے کیا یہ ظلم نہیں، انسانیت کے برعکس نہیں۔ اپنی بیٹی کو تو نازو نین سے پالیں اور غریب کی بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ دے۔ مانا کہ آپ اس کم سن ملازمہ کو گھر کا کام کروانے کے بدلے ایک حقیر سی رقم تنخواہ کے طور پر دیتے ہیں اور کبھی کبھار آپ اپنے پرانے کپڑے یا بچوں کے پرانے کپڑے اس کو تھما دیتے ہیں،لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ جب کام والی بچی سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو آپ اس کو مارنے پیٹنے یا سزا دینے کی بجائے اس کو یہ سوچتے ہوئے معاف کردیں کہ اگر اسکی جگہ آپ کی اپنی بیٹی ہوتی اور یہ غلطی اس نے کی ہوتی تو کیا آپ اس سے بھی یہی سلوک کرتے، اس کو بھی ایسے سزا دیتے۔ قربان جائیں ہمارے آقا نبی کریم کے جب وہ اپنے غلام ،کو کسی کام سے بیجھتے تو بچے ہونے کی وجہ سے وہ راستے میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں لگ جاتے اور واپسی پر انہیں دیر ہوجاتی مگر نبی کریم نے کبھی دیر سےآنے پر ڈانٹ نہیں پلائی اور نہ ہی غلطی ہونے پر کبھی سزا دی بلکہ آپ نے اسے ہمیشہ معاف فرما دیا ۔ سبحان اللہ۔ توکیا ہم اس معاملے میں اپنے پیارے نبی کی سیرت مبارکہ سے سبق نہیں لے سکتے۔میں ایسے لوگوں اور اداروں کو سلام پیش کرتی ہوں جو مزدور بچوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم و تربیت کے لئے کام کر رہے ہیں۔ گو کہ ان کی تعداد آٹے میں نمک برابر ہےمگر پھر بھی ایک امید کی کرن تو ہے جو اپنی بساط کے مطابق یہ شمع جلائے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں