ہمارے رویے : تحریر : عزیز فاطمہ
افراد سے مل کر معاشرہ بنتا ہے،اور یہی افراد معاشرے کی اقدار کا تعین کرتے ہیں۔ ہر معاشرے کی کچھ اقدار اور اس کے رسم و رواج ہوتے ہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ ایک اسلامی اور پاکستانی معاشرہ ہے۔ اور اس معاشرے کے رسم ورواج اور اقدار بھی سلامی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کے رویے بھی ہیں جن کا ہمیں ہر روز سامنا ہوتا ہے ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جیسے جہیز، رشوت ، حق تلفی ، غربت اسٹیٹس اور اونچی ذات وغیرہ۔ اونچی ذات اور اس ذات کا ذوم ایک ایسی بیماری ہے جس نے سارے معاشرے کو جکڑا ہوا ہے۔ اور ہر دوسرا فرد اس بیماری میں مبتلا نظر آتا ہے۔آ ج کے ذیادہ تر مسائل کی وجہ بھی یہی اونچی ذات ہے۔ ایک اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے کبھی بھی اپنی ذات سے باہر نہیں آتے خاص طور پر رشتہ کرنے کے معاملے میں لوگ ترجیح اپنے جیسی اونچی ذات والوں کو ہی دیتے ہیں۔ اور اس کو ضد بنا لیتے ہیں اگر رشتہ کرنا ہے تو اپنی ہی ذات برادری میں ہی کرنا ہے ورنہ نہیں کرنا چاہے لڑکی گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہوجائے۔ اسی طرح سے لڑکی بھی اپنی جیسی ذات سے ہی لینی ہے اور بہو اگر کسی دوسری ذات سے آگئی یا کچھ کم اسٹیس والوں سے آگئی تو اس کا جینا حرام کردیا جاتا ہے۔ اسے مڈل کلاس ہونے کے طعنے دیئے جانے لگتے ہیں، غریب اور کم تر سمجھ کر حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چاہے وہ کتنی ہی قابل ، فرمانبردار، مخلص ہو مگر اس کی قدر نہیں کی جاتی۔ کم حیثیت اور چھوٹی ذات کی ہوتے ہوئے اونچے گھرانے میں آنے کے جرم میں اس کو ساری زندگی سزا دی جاتی ہے اور گھر کے ملازم کی سی حیثیت ہوتی ہے اس کی۔ کیا مہذب معاشروں کا یہی دستور ہے۔ کیا ہمارے دین نے ہمیں یہی سکھایا ہے؟ ہمارے اللہ اور نبی پاک کا یہی حکم ہے ۔ یقیناَ نہیں بلکہ اسلام تو ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے۔ یہ ذات پات اور یہ اسٹیٹس دولت اور حیثیت کی بنا پر کسی کو عزت والا اور کسی کو کم تر سمجھنا یہ سب رویے اور تفریق یہ سب درجے ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سب ہمارے معاشرتی رویے ہیں۔ ذاتیں صرف س لئے بنائی گئی تھیں تاکہ لوگوں میں فرق کیا جاسکے ان کی پہچان کی جاسکے نہ کہ اس لئے بنائ گئی تھیں کہ اس کی وجہ سے تم دوسروں کو کم تر سمجھو اور اپنے سے کم ذات والوں کو انسان ہی نہ سمجھو۔ جبکہ وہ بھی انسان ہیں اور تمہارے برابر ہیں۔ برتری اگر کسی انسان کو دوسرے انسان پر ہے تو وہ صرف تقوی کی بنیاد پر ہے ،نیک اعمال کی بنا پر ہے۔ صرف اس چیز پرہے کہ کوئی انسان کس قدر نیک ہے، متقی و پرہیز گار ہے اور وہ تم سے ذیادہ کتنا خدا کے قریب ہے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سینکڑوں سال پہلے کھڑے تھے ۔ اتنا پڑھ لکھ کر اعلی تعلیم حاصل کرکے مہذب اور تہذیب یافتہ اور تعلیم یافتہ ہوکر بھی ہمارے رویوں میں زرا سی بھی لچک پیدا نہیں ہوتی۔ ہم اپنے اندر برداشت اور وسعت پیدا نہیں کرتے اور چیزوں کو قبول نہیں کرتے۔ ہم نے آج اسلامی اقدار اور روایات کو پسِ پشت ڈال کر انسان کے بنائے ہوئے نظام کی غلامی قبول کرلی ہے۔ جہاں نہ تو ہماری عقل فہم کام کرتی ہے اور نہ ہی ہماری تعلیم کی ہی چلتی ہے بس ہم ظالم نظام کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ انسان نے بعض نظام اتنے ظالم اور فرسودہ بنائے ہیں کہ اس کی بھینٹ ہمیشہ کمزور، مجبوراور صنفِ نازک ہی چڑھتی ہی۔ قبائلی علاقوں میں ایسے لوگ قابض ہوتے ہیں، جو سارے علاقے کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں اور ان کی زندگی صرف اس خان یا سردار کی مرہونِ منت ہوتی ہے جو علاقے کا بڑا ہوتاہے یا علاقے کا وڈیرا ہوتا ہے۔ بعض قبائلی علاقوں میں علاقے کا سردار اپنے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کس کی شادی قبیلے کے کس گھر میں کروانی ہے، کس کو اٹھوانا ہے، کس کو مروانا ہے اور کس کو زندہ رکھنا ہے تک کے سب فیصلے سردار کرتا۔ وہ صرف قبیلے پر ہی ظلم و ستم نہیں کرتا بلکہ اسکے اپنے گھر کے افراد خاص طور پراس کے گھر کی عورتیں بھی اس کے ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ان سرداروں ، خانوں، چوہدریوں اور وڈیروں کو اپنی زمین جائیداد سے بہت پیار ہوتا ہے۔ جتنی بڑی زمین ہوگی، جتنا بڑا رقبہ ہوگا، جتنے ذیادہ دیہاتوں پر اس کی ملکیت ہوگی اتنا ہی بڑا اس کا شملہ ہوگا، اتنی ہی بڑی اس کی عمارت ہوگی تو دور دراز علاقوں پر اس کا رعب ہوگا۔ اس لئے وہ اپنی زمینوں میں کسی کی شراکت یا اس میں سے کسی کا حصہ برداشت نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان وڈیروں اور سرداروں کی بہن بیٹیاں ساری زندگی کنواری ہی گزار دیتی ہیں۔ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی شادی نہیں کرتے تاکہ انھیں جائیداد میں سے حصہ نہ دینا پڑے۔ اور ان کی زمین جائیداد کسی دوسرے کے پاس نہ جائے۔ مگر کچھ وڈیرے اور قبائلی تو اس قدر ظالم ہوتے ہیں کہ وہ ہر حد کو ہی پار کردیتے ہیں وہ اپنی جائیداد بچانے کے لئے یا تو لڑکی پر بد چلنی کا الزام لگا کر اور اسے کاری کر کے قتل کر دیتے ہیں اور کچھ تو ایسا عمل کرتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جائے۔وہ اپنی ناک اونچی رکھنے اور دولت بچانے کے لئے لڑکی کو قتل تو نہیں کرتے مگر لڑکی یعنی اپنی بہن یا بیٹی کی شادی قرآن پاک سے کردیتے ہیں اور وہ ساری زندگی ایسے ہی گزار دیتی ہے۔ یہ معاشرے کے وہ تلخ رویے اور فرسودہ روایات ہیں جنہوں نے مہذب اور پڑھے لکھے معاشرے کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے حویلی یا جاگیر کے مالک گھرانوں میں سے اگر کوئی پڑھ لکھ بھی جائے تو بھی وہ اپنے خاندان کی جہالت کو ختم نہیں کرسکتا وہ اس کے خلاف بغاوت نہیں کرتا بلکہ وہ بھی ان رسم و رواجوں کے ہاھتوں مجبور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک آج ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے ہے۔ یہاں ہر اک نے اپنی ایک ذاتی سلطنت بنا رکیھی ہے جس کے قائدے قانون اور رسم و رواج باقی تمام معاشرے سے الگ تھلگ ہیں۔ وہ رہتے تو اسی ملک میں ہیں ، کھاتے بھی اسی ملک کو ہیں مگر سلطنت اور قائدے قانون علیحدہ ہیں۔ وہ خود کو منوانے کے لئے اپنے ماتحتوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردیتے ہیں مگر کوئی نہ تو ان کو روکتا ہے اور نہ ہی انکے آگے کوئی کچھ بولتا ہے۔ سب ظالم نظام کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اور کوئی اس کے خلاف آواز اٹھائے تو اس کو خاموش کروادیا جاتا ہے اور اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ بظاہر ایسے لوگ معاشرے کے معزز شہری بنے ہوتے ہیں مگر اصل میں وہ ظالم اور جابر حاکم ہوتے ہیں۔ ان ظالم لوگوں نے معاشرے کے سامنے اپنی جھوٹی شان بنائی ہوتی ہے۔ یہی ہمارا معاشرہ ہے اور یہی ہمارالمیہ ہے۔ یہ معاشرے کے وہ رویے ہیں جن کے آگے انسان مجبور اور بے بس ہے۔ یہی و جہ ہے کہ آج ہمارا معاشرہ مسائل اور بد امنی کا شکار ہے اور پستی میں گرا ہوا ہے۔
0