جہیز، تحریر: ردا امانت علی
کس طرح سے والدین اپنی بیٹی کے لئے جہیز بناتے ہیں اور اس کو اپنے گھر کی کرتے ہیں پھر بھی بیٹی کے نصیب کے ڈرتے رہتے ہیں ۔ جب لڑکی اگلے گھر جاتی ہے پھر بھی سسرال والے اس کو باتیں آتے جاتے سناتے ہیں جیسے کہ کہاوت ہے کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو ۔
آپ میں سے اکثر لوگ یہ بھی سوچ رہیں ہوں گے کہ جہیز نہیں دینا چاہئے ۔
کیا؟ آپ کے ضمیر نے آپ سے ملامت کی اور آپ کو جھنجھورا کہ ہم کسی کی بیٹی کو اگر اپنے گھر کی عزت بنا کے لیکر آرہے ہیں تو جہیز جیسی لعنت کو کیوں ساتھ لیکر آرہے ہیں ۔ہم نے جہیز لیکر نہ تو معاشرے اپنا اونچا مقام بنا لینا ہے نہ ہی ہمارے دو پر لگ جانے ہیں کہ ہم ہوا میں اڑنا شروع کر دیں۔ہم میں سے اکثر اللہ کے حکم سے اتنے صاحب استطاعت ہیں کہ ہم اگر جہیز نہ بھی لیں تو الله کے حکم سے بہت اچھا گزر بسر کر سکتے ہیں۔
اکثر معاشرے اور سسرال کے ڈر سے والدین اپنی بیٹیوں کے لئے بچپن سے ہی جہیز بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ ان کی بیٹی کی سسرال میں عزت ہو ۔
یہ دقیا نوسی سوچ کو بدلنا ہو گا کیونکہ جنہوں نے کسی کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنانا ہو تو وہ دو کپڑوں میں بھی محرم رشتے کے بھروسے کے ساتھ لے آتے ہیں ۔ یہ رسم و رواج معاشرے میں ہم لوگوں نے ہی رائج کئے ہیں ۔ معاشرہ ہم سے ہے ۔ معاشرے کے ڈر سے ایسی رسموں کو بڑھاوا دینے کی بجائے ایسی رسموں کے سامنے چٹان کی طرح کھڑے ہوں اور ان رسموں کے خاتمے کے لئے آواز بلند کریں۔ آپ میں سے کچھ کے ذہنوں میں آرہا ہو گا کہ یہ رسمیں ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلی آرہی ہیں اور ہم نے بھی اپنی بہن بیٹی کو جہیز دیا ہے تو بہو لے آئے گی تو کونسی نئی بات ہو جائے گی۔ کہاوت ہے اگر کسی کا منہ لال دیکھ لیا تو کیا اپنا منہ بھی تھپڑوں سے لال کر لیں۔کہنے کو ہم پڑھے لکھے شعور رکھنے والے ہیں اور ایک دوسرے کی غلطیوں پر بہت باریک بینی سے نظر رکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی موقع ملے اور ہم اس انسان کو نیچا دکھا سکیں ۔ کیا کبھی یہ سوچا اگر ہم یہ ہی باریک بینی اس طرح سے اپنے معاشرے میں رکھیں اور ایسے سفید پوش لوگوں کو ڈھونڈنا شروع کریں جنکے گھر میں ایسی جوان بیٹی یا بیٹیاں ہوں ان کو اپنے خاندان کا حصہ بنا سکے یا ان کے والدین کا بوجھ کم کیا جا سکے اور ان کی شادی کے اخراجات برداشت کر سکیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکے کی مہندی پر ایسی ناچنے والیوں کو بلایا جاتا ہے اور ان پر ہزاروں پیسے لٹا دیتے ہیں تا کہ رشتے دار محلے والے واہ واہ کریں کہ اس نے تو اتنے پیسے ناچنے والی پر لٹا دئیے پر کبھی یہ نہیں سوچا کہ اگر وہ ہی پیسے کسی ایسے انسان کے کام آجاتے جنکو اشد ضرورت تھی ۔ آپ میں سے اکثر کے دماغ میں یہ سوال بھی آرہا ہو گا کہ شادی ایک بار ہونی ہوتی ہے بار بار نہیں اس لئے اپنے ساری خواہشات کو پورا کر لیں ناچنے والی پر ہزاروں لاکھوں لٹانے والے معاشرے میں واہ واہ کروانے والے جہیز جسی لعنت کو لینے میں بہت فخر محسوس کرتے ہیں ۔کہنا نہیں بلکہ عمل کرنا ہے اور جہیز لینا نہیں بلکہ جہیز لفظ کو ختم کرنا ہے۔مشکل ہو گا لوگ مذاق بنائیں گے پر اگر اس بار بھی لوگوں کے ڈر سے کسی کے ساتھ حق تلفی ہو گئی اور لوگوں کے ڈر سے ضمیر کی آواز کو بھی دبا دیا جاتا تو یقین جانیں کبھی آپ حق سچ کے لئے آواز نہیں اٹھا سکتے اس کی ایک بڑی وجہ لوگوں کا ڈر۔
ایک قدم آگے بڑھائیں اپنی آواز کو حق سچ کے لئے اٹھائیں بےشک سامنے والا جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اور لوگوں کے ڈر سے نہیں بلکہ الله کے ڈر سے اپنی آواز بلند کریں۔ جو والدین اپنی بیٹیوں کو جہیز دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں خوش رہیں اور اس کے باوجود بھی ان کو وہ عزت نہیں ملتی جو ان کا حق ہے تو کیا وہ لڑکی اپنے والدین کے گھر دو وقت کی عزت کے ساتھ روٹی نہیں کھا سکتی۔کیا لڑکا اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ جہیز کو نہ لے اور اپنی بیوی کو اس کی ضروریات کی تمام اشیاء مہیا کر سکے۔
مجھے آپ سب کی رائے درکار ہے تنقید برائے اصلاح
ردا امانت علی
فیصل آباد
22 اپریل 2023
11:40PM
0