معافی ۔۔۔!نہ مل سکی
تحریر: عشاء نور
پر سکون شب میں ، ہلکی ہلکی ہواؤں کی لہروں کو محسوس کرتے ہوئے حیا اپنی نظریں آسمان کی سجاوٹ اور سوچیں بہت سے سوالوں میں الجھائے جائے نماز پر بیٹھی خدا سے گفتگو میں مصروف تھی ۔۔۔کسی سے سن کر آئی تھی کہ اس شب اللہ پاک سے معافی مانگی جاتی ہے ۔حالانکہ معافی تو جب کبھی سچے دل سے مانگیں وہ مقدس ذات قبول کرتی ہے ۔مگر اب تو اس کا ہر فعل دنیا کے مطابق ڈھل چکا تھا اس لیے بس اسی بات کو دل میں رکھے ہوئے اپنی ساری کیفیت خدا کو سناتی ہے اس امید پر کہ شاید سکون نصیب ہو جائے! شاید ۔۔۔اللہ اسے پھر سے اپنی محبت میں پناہ دے دے! شاید اس کو قلبی اور ذہنی سکون میسر ہو جائے! شاید وہ اپنے مطابق زندگی گزار سکے! شاید خدا اسے معاف کر دے!
مگر یہ ساری کیفیت بتانے کے بعد اللہ پاک جوابا اس سے سوال کرتے کیا تم نے خود کو معاف کر دیا ہے ؟؟؟؟ کیا تمھارے اپنے وجود نے ،تمھاری خود کی روح نے تمھیں معاف کر دیا ؟؟ جس دل کو تباہ کرنے میں تم نے ذرا کسر نہیں چھوڑی ، جسے بنا کچھ سوچے تم نے لاوارث چھوڑ دیا اور زمانے کے ہاتھوں زخمی کروایا! کیا اس نے تمھیں معاف کر دیا ؟؟؟ جو ستم تم نے اپنی آنکھوں پر کیا ان آنکھوں نے تمھیں معاف کر دیا ؟ جن کو ہر پل تم نے اشکوں کے سپرد کیے رکھا! جن کو تم نے بینائی سے بھی محروم کر دیا کیا ادھر سے معافی ہو گئی ؟
جن دماغی رگوں کو دن رات تم نے الجھن میں ڈالے رکھا کیا وہ اب کبھی سلجھ پائیں گی ؟جس شدت درد پر طب بھی اثر نہ کر سکی ان کرم نوازیوں کے بدلے کیا تمہیں معاف کر دیا گیا؟؟ پہلے ان سے معافی مانگو پھر میرے پاس آنا !۔ابھی تم چلے جاؤ!!!
حیا نے جوں ہی اپنے خستہ حال دل سے ہاتھ جوڑ کر معافی کی گزارش کی تو اس کی حالت اس قدر خراب تھی۔دل معاف کرنے سے بھی قاصر تھا۔۔مختصر اسے معافی نہ مل سکی
0