شکوہ
تحریر: عشاء نور
دل کی سپرد ایک کام ہے کہ اس نے وجود کے ہر حصے میں خون کی گردش کروانی ہے ، مگر اس کے اس ایک کام کے پیچھے لاتعداد ظاہری ،باطنی ،روحانی ،پوشیدہ وجوہات دیکھنے اور محسوس کرنے کو ملتی ہیں ۔انہی کے زیر اثر دل اپنے کام کرنے کی رفتار کو بڑھاتا اور کم کرتا ہے! یوں تو کہا جاتا ہے دل کا کام خون سپلائے کرنا مگر اس عمل کے پس پردہ اصل کام انہی وجوہات کا ہوتا ہے ۔۔کیونکہ انہی کے مطابق دل اپنا فرض نبھاتا ہے اسی لیے تو انسانی موت کے بعد بھی دل سروائو کر سکتا ہے ۔۔کیونکہ اس کا دارومدار ان جذباتی ،روحانی لہروں پر ہوتا ہے جو کبھی انسانی موت کے بعد بھی دنیا میں موجود ہوتی ہیں ۔۔۔!
اتنی تمہید باندھنے کا جواز فقط ایک شکوہ ہے ۔۔جو وجود کو اس چھوٹے سے بے اختیار جذباتی لہروں کے غلام سے ہونے لگا۔۔۔وجود گلہ کرنے لگا خیریت! اب تم ذرا لحاظ نہیں کرتے ،یوں ہی بیٹھے بیٹھے بنا خبر کیے اپنی رفتار بڑھا لیتے ہو اور کبھی اس قدر خاموش ہو جاتے ہو کہ جیسے تم میری قید سے ہی رہا ہو چکے؟؟ خراب و خستہ حال میں دل جوابا وجود کو طنز کرنے لگا۔۔۔ارے بھئ! تمھاری قید سے رہائی کے انتظار نے ہی میری یہ حالت کر دی ہوئی! اور رہی بات نا فرمانی کی تو جب ایسی حالت ہو گی تو کون ہے جو سہی سے اپنا کام سر انجام دے سکے ؟ یہ بات تم ذہن کو سمجھاؤ کہ وہ اپنا حافظہ کھو دے یا ہر چیز پہچاننے سے انکار کر دے ، جب وہ انجان ہو جائے گا تو پھر مجھ پر بھی بوجھ تھوڑا کم ہو گا ، پھر اپنے مطابق جیسے مرضی مجھ سے کام لینا ۔۔!
0