مقتولہ پر بہتان!
قانون سازی کی اشد ضرورت
تحریر ۔۔۔۔معظمہ تنویر
سارا گاؤں قتل ہونے والی عورت پر تھو تھو کر رہا تھا ۔قاتل کے بیان کے مطابق جب وہ دن گیارہ بجے کے قریب اچانک گھر میں داخل ہوا تو اس نے کمرے کے اندر اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ بستر پر برہنگی کے عالم میں انتہائی قابل اعتراض حالت میں دیکھا ۔اس کی بیوی کا آشنا توموقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا لیکن اس کی غیرت یہ سب برداشت نہیں کر سکی اور بیوی اس کے ہاتھوں قتل یوگئی۔
یہ واقعہ چند سال قبل پیش آیا تھا ۔اس کو سامنے رکھ کر کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں ۔
شوہر اچانک کیوں گھر میں آیا؟مقتولہ بیوی نے اپنے آشنا کو بلانے کے بعد بیرونی دروازے کو کھلا کیوں چھوڑ دیا ؟ رنگ رلیاں مناتے وقت کمرے کے دروازے کو بند کیوں نہیں کیا گیا؟بیوی کے آشنا کو کپڑے پہننے اور موقع سے فرار ہونے کا وقت کیسے مل گیا؟شوہر نے آشناکو قتل کیوں نہیں کیا؟ الزام لگائی گئی صرف عورت کو ہی منظر عام پر کیوں لایا گیا؟ زناکار مرد کی پردہ پوشی کیوں کی گئی اوراس کو سامنے کیوں نہیں لایا گیا؟ اس مقدمے کےجلد ہی تمام عدالتی معاملات طے پا گئے اور ملزم باعزت چھوٹ کر واپس آ گیا۔ بعد ازاں سچ سامنے آیا کہ ساس بہو کے جھگڑے پر مشتعل ہو کر شوہر نے اپنی بیوی کو مار ڈالا تھااوراسے غیرت کے نام پر قتل کا رنگ دے کر کیس جیت گیا تھا۔در اصل ہمارے معاشرے کے افراد کسی عورت پر زنا کے الزام کے بعد اس کے قتل میں عجیب سی کشش محسوس کرتے ہیں ۔اور دل ہی دل میں قاتل کو سراہتے ہیں ۔کوئی یہ نہیں جاننا چاہتا کہ قتل کے پس پردہ محرکات کیا ہو سکتے ہیں؟گھریلو جھگڑوں میں جب کوئی مرد مشثعل ہوکر عورت کو قتل کردیتاہے تو پھر قانون کی گرفت میں اجانے کے بعد اس کے پاس قتل کا یہی ایک جواز رہ جاتا ہے کہ عورت بد چلن تھی ۔کیوں کہ وہ اپنا پول نہیں کھولنا چاہتا کہ وہ غصے کا اتنا تیز ہے کہ اسے خود پر قابو ہی نہیں رہا اور اس نے ایک انسان کی جان لے لی ۔
کیا غصہ صرف مرد کو آتا ہے ؟
کیا عورت کی ہر دلیل بے کار ہے ؟
کیاعورت کو ہمیشہ خاموش ہوجانا چاہیے کہ کہیں اس کی جان ہی نہ چلی جائے ؟
جب تک خواتین کے قتل کے اصل محرکات پر بات نہیں کی جائے گی تب تک مرد کی غیرت کا ڈرامہ چلتا رہے گا اور ہر مقتولہ یونہی رسوا ہوتی رہے گی ۔اس حوالے سے یہ قانون سازی بہت ضروری ہے کہ کسی عورت پر زناکاری کے الزام پر مکمل پابندی لگادی جائے تاکہ قتل کی اصل وجوہات کا پتا چلایاجا سکے ۔اس کے علاوہ خاتون کو مرنے کے بعد ذلت اور بدنامی سے بچایا جا سکے ۔
0