0

مقتولہ پر بہتان ! قانون سازی کی اشد ضرورت تحریر :معظمہ تنویر قسط۔1

مقتولہ پر بہتان !
قانون سازی کی اشد ضرورت
تحریر ۔۔۔۔۔۔معظمہ تنویر
قسط۔۔۔۔۔1
ہمارے معاشرے میں خواتین کے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہے ہیں اور آج تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ ہر مقتولہ پر کم و بیش یہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بد چلن تھی ۔ محرم مرد نے اسے کسی کے ساتھ نازیبا حالت میں دیکھا تو اس کی غیرت گورا نہ کر سکی اور اس کے ہاتھوں عورت قتل ہو گئی۔
بے حسی کا یہ عالم ہے کہ عوام الناس کی اکتریت کسی خاتون کے قتل کی اس وجہ کو دل و جان سے درست تسلیم کرتی ہے ۔اور قاتل لوگوں کی نظر میں اس بیہمانہ جرم کے باوجود بھی رعایت کے قابل ہوتا ہے کیوں کہ مرد کی غیرت خوف اور دہشت کی علامت بن چکی ہے کسی کی مجال نہیں کہ اس بربریت کے خلاف آواز اٹھائے ۔کوئی یہ سوال بھی نہیں کرتا کہ شریعت کے مطابق تو کسی پر زنا کا ری کا جرم ثابت کرنے کے لئے بھی چار گواہوں کی شرط رکھی گئی ہے جنہوں نے اس فعل بد میں ملوث مرد اور عورت کو مکمل حالت اختلاط میں دیکھا ہو ۔تو پھر کیوں صرف ایک مرد کی گواہی پر بھروسہ کر لیا جاتا ہے جب کہ وہ مقتولہ پر بد چلنی کاکوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکتا ۔صرف اس کا بیان ہی اتنا اہم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اور ایسا بیان دینے والے قاتل کی زبان کیوں نہیں کھینچ لی جاتی کہ جو اپنی بیوی ،بہن ،بیٹی ،یا ماں کے قتل کے بعد اس پر اتنا گھناونا الزام لگاتا ہے ۔اس الزام کے بعد مقتولہ سب کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی ہے ۔اور بہت سوں کی نظر میں قاتل کی حیثیت ایک ہیرو کی سی ہوتی ہے جس نے آخر کار ایک برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہوتا ہے ۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسے کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد شش و پنج کا شکار ہوجاتی ہے جب قانون کے رکھوالے قاتل کو ہتھکڑیاں پہنا کر اس کا بیان سامنے لے کر آتے ہیں کہ ملزم نے اپنی محرم عورت کو اس لئے قتل کیا کیوں کہ وہ ایک فاحشہ تھی ۔
جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں