خواب، بقلم:۔ آمنہ یاسین
یوں بزمِ انجم کے مہماں بن کر
ہم چل دیے پرتوی سے رازداں بن کر
وہ جہاں تاروں کی جھلملاہٹ ہے
ہر طرف روشنی کی تلملاہٹ ہے
ہر قدم پہ روشن ہیں آگ کے گولے
لپکتے ہیں جن پہ ہر دم شعلے
وہ شعلے جو تپش سے عاری ہیں
ان کے درمیاں سے گزرتے ہوئے ہم
کہکشاؤں کے سمندر میں جا پہنچے
جہاں تاروں کی محفل عروج پہ تھی
عجب حسین رنگوں کا امتزاج تھا
نیلے پیلے بنفشی ستارے
کہیں اڑتا گیسوں کا غبار تھا
کوئی دیکھے تو قوسِ قزح بھول جائے
کہیں ہورہی تھی تاروں کی جنم بھومی
کہیں تارے یخ بستہ ہوکر گِررہے تھے
اس گرتے سیاہ مادے کے تعاقب میں
ہم ایسے عجب مقام پہ جا پہنچے
جہاں کششِ ثقل بڑھ چکی تھی
جو شدت سے ہمیں کھینچ رہی تھی
ہم اس کی اور جا گرے
ہوا کا دباؤ بڑھنے لگا
ہمارا سر چکرانے لگا
خوف سے ہم نے انکھیں موند لی
اور جو کھولی تو وہی بسترِ استراحت
وہی پرانے خواب۔۔۔!
بقلم:۔ آمنہ یاسین