
تشریح صفا خالد
شعر نمبر# 1
*دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے*
*پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے*
*حوالہ متن* :
نظم کا نام: جوابِ شکوہ
کتاب بانگِ دارا
شاعر کا نام: علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ
*حل لغت*
اثر رکھنا۔۔۔۔۔ حق جاننا، تسلیم کرنا
طاقت۔۔۔۔۔۔۔قوت
پرواز۔۔۔۔۔۔اڑنے کی صلاحیت
*تشریح*
یہ حکیم العصر، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی کتاب بانگِ دارا، نظم جوابِ شکوہ کا شعر ہے۔ عصر حاضر کے مسلمانوں نے اپنے موجودہ حالات سے پریشان ہو کر اللہ سے شکوہ کیا تھا۔ اس شعر میں شاعر نے اللہ کی طرف سے جوابی شکوہ الفاظ کی صورت میں قلم بند کیا ہے۔ شاعر نے اس شعر کے ذریعے مسلمانوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو ابھارنے کی ایک دردمندانہ کوشش کی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میرے دل کی آواز جو قلم کی صورت میں امت مسلماں تک پہنچی ہے اس آواز نے نہ صرف اہل زمین میں ہنگامہ برپا کیا بلکہ عرش معلیٰ میں بھی ایک کہرام سا مچا رکھا ہے۔ کیونکہ دل سے نکلنے والی آواز سحر زدہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ اس کے پر نہیں ہوتے مگر اس کی اڑان بلندیوں کو چھو کر عرش تک جا پہنچتی ہے۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ اس کی بات سنی جائے لوگ اس کے الفاظ کو سراہیں اور داد دیں تو لازم ہے کہ الفاظ کی تاثیر شیریں ہو۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میرے یہ الفاظ جو سراسر خوابیدہ مسلمانوں کو جگانے کے لیے نظم کی صورت میں نکلے تھے ان الفاظ نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ عرش پر بھی میرے یہ الفاظ دعا کی صورت میں قبولیت کا علم لے کر زمیں پر پہنچے۔ جس سے نا صرف مسلمانوں نے خود کو پہچانا بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔ مشرق سے مغرب تک مسلمان کا دین نور بن کے جگمگانے لگا۔ گویا تمام انسانیت نہیں خودی کا نعرہ لگایا اور دین حق کا پرچار کیا۔ کیونکہ دل سے نکلنے والے الفاظ دعا کی صورت میں ہوں تو فرشتوں جیسی پاکی رکھتے ہیں۔ کیونکہ دعا بغیر پروں کے اڑان بھرتی ہے اور عرش تک جا پہنچتی ہے۔ پھر چاہے قبولیت کا پروانہ جلد ملے یا بدیر۔
حاصل کلام: آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان دعا کی صورت میں بلاواسطہ یا بالواسطہ عرشِ معلیٰ تک رسائی رکھتا ہے۔ بشرط یہ کہ دعا میں چنے گئے الفاظ میں اصول و ضوابط کا خیال رکھا جائے۔ قبولیت کا تعلق الفاظ کی تاثیر سے جڑا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر نمبر#2
*ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالٓ اپنے آپ کو*
*آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں*
*حوالہِ متن*
غزل
شاعر: علامہ محمد اقبال
*حل لغت*
ڈھونڈنا۔۔۔۔۔۔ تلاش کرنا
گویا۔۔۔۔۔اصل میں، در حقیقت
منزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔سفر کا اختتام، انتہاۓ محنت، انعام
*تشریح*
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا یہ شعر غزل کا مقطع ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے نامور شاعر علامہ محمد اقبال نے اس شعر کے زریعے فلسفۂ خودی کی حقیقت سے پردہ چاک کیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کی تمام تر دوڑدھوپ، تگ و دو ناقص ہے جب تک انسان اپنے تخلیق کیے جانے کی اصل وجہ نہ جان لے۔ جب تک انسان اس دنیا پہ اتارے جانے کا مقصد نہ بھاپ لے۔ انسان کی تمام تر زندگی بے فیض رہ جائے اگر وہ اس ارضِ خاکی کی باریک بینی کو نہ سمجھ سکے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس پر کسی مذہب، مسلک یا فرقے کا ٹھپا نہیں لگا ہوتا بس کہ وہ جس مذہب میں آنکھ کھولتا ہے اسی مذہب کو واحد جان کر اپنی زندگی گزارنے لگتا ہے۔ اگرچہ قرآن پاک ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ “ایک وقت ایسا آتا ہے کہ زمین اور آسمان والے میری حالت پر روتے ہیں آپ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ مجھے ان کی غیب پر رونا پڑا۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھے ان کی خبر تک نہیں ہوتی”
اسی طرح علامہ اقبال بھی اپنے اس شعر میں فرماتے ہیں کہ انسان بھی اپنی حقیقت سے آشنا نہیں ہے۔اس لیے کبھی وہ خود کو سنگِ میل سمجھ لیتا ہے اور کبھی خود پہ خود ہی منزل کا نشان لگا لیتا ہے۔ گویا انسان کی حقیقت اس جہان میں بس ایک مسافر کی طرح ہے اگر اسے اس دنیا میں اتارے جانے کا مقصد سمجھ میں آجائے تو وہ اسے پیدا کرنے والے کی واحدانیت کو بھی بصدقِ قلب تسلیم کر لیتا ہے۔ علامہ اقبال اس شعر میں خود شناسی کے امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان اپنے وجود کی تلاش میں اس قدر محو ہے کہ خود کو ہی مسافر خود کو ہی منزل سمجھ لیتا ہے۔
حاصل کلام: علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے انسان کو اس دنیا میں صرف اور صرف اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ خود کی پہچان کرے۔ اور جب وہ غور و فکر کے راستے پر نکلے تو معرفت الہی سے متعارف ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر نمبر # 3
*کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں*
*کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری، جبیںِ ناز میں*
*حوالہِ متن*:
غزل
شاعر: علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ
*حل لغت*
حقیقتِ منتظر۔۔۔۔۔۔۔سچ اور حق کا انتظار
لباسِ مجاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسم، وجود
تڑپ رہے۔۔۔۔۔۔ بے چین رہے
جبینِ ناز۔۔۔۔۔۔۔۔عاجزی اور انکساری والی پیشانی
*تشریح*
اس شعر میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسےظہور کے انتظار میں ہیں جو حقیقت اور تصوف کی اصلاح کا مفہوم بیان کرتا ہے۔ یہاں اس حقیقت سے مراد ذات خداوندی ہے۔ لباسِ مجاز سے مراد وہ مادی شکل جو حواسِ خمسہ کی دلیل ہو۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ اس شعر میں فرماتے ہیں کہ انسان اپنی رب سے روبرو ہے وہ دیدار کا طالب نظر آتا ہے۔ یہ عشق خدائے واحد کی ذات سے ہے اور عاشق انسان ہے جو کہتے ہیں یا اللہ میں تجھے سجدہ تو کرتا ہوں مگر میرا سجدہ مجھے لطف نہیں دیتا کیونکہ میں تیرے وجود کی جھلک تک نہیں پا سکا۔ اے خدا تو کسی طرح مادی شکل میں ظاہر ہو میں تیرے قدموں میں اپنے ساتھی نشاور کر دوں تاکہ مجھے میرے عشق میں لذت محسوس ہو۔ اے خدا تو نے خود کو ایک حجاب میں چھپا رکھا ہے لیکن میرا دل تیرے دیدار کو تڑپتا ہے میں بندہِ پرور کیا جانوں عشق کے قرینے اے رب مجھے اب اپنی دید کے ذریعے محبت کے آداب سمجھا دے۔ اے رب تو کسی طرح مجازی شکل اوڑھ کر میرے سامنے عیاں ہو پاکی میرے مضطرب و منتظر سجدوں کو زندگی مل سکے۔
حاصل کلام: خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اس شعر میں خود کو عاشق فرض کرکے اپنے رب سے درخواست کی ہے کہ اے مالکِ کون و مکاں مادی صورت میں ظاہر ہو تاکہ انسان کے ناتواں سجدے لطف کی رعنائیوں سے فیض یاب ہوسکیں۔
سوزِ قلم صفا خالد
فیصل آباد