0

دین اسلام کی نعمت، تحریر: عمیرا یاسمین


عمیرایاسمین
عنوان
دین اسلام کی نعمت
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (القرآن)
جس طرح انسان کو زندہ رہنے کےلیے ہوا پانی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ان سب نعمتوں کے بغیر زندہ رہنا ہمیں ناممکن لگتا ہے پس اسی طرح انسان کو زندہ رہنے کےلیے دین اسلام کی بھی ضرورت ہے اس کے بغیر ہم انسان تو لگتے ہی نہیں ہیں۔ کیونکہ انسان والی خصوصیات ہمیشہ اس شخص میں ہوتیں ہیں۔ جو دین اسلام پر عمل کرنے والا ہوتا ہے
جی ہاں عزایزات ہم واقعی ہی دین اسلام کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ہمارے دل مر جائیں گے ہم ٹوٹ کر بکھر جائیں گے ہم حیوانیت کے درجے میں چلے جائیں گے جب جسم کے اعضاء کو شریعت اسلام کی غذا نہیں دیں گے تو بتایے ہماری پہچان کیا ہے؟
دل وجان زندہ ہیں دین اسلام سے
بندہ انسان ہے دین اسلام سے
آج یہ بات ہم سب کے سامنے روزروشن کی طرح واضح ہے کہ ہم نے اس دنیا میں بہت سے لوگ دیکھے جو ڈاکٹر، استاد، انجینئر عالم، سونار یا کوئ دھوبی ہو خواہ وہ کسی بھی شعبے سےتعلق رکھنے والا ہو
ان سب کی اصل ان سب کی روح دین اسلام ہے اور اس کے بغیر ہم تصور کریں کہ ہم کیا انسان کہلانے لائق ہیں؟کیاہمارے اندر انسان جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا اس انسان والی خصلتیں ہیں؟
بس اب ہم سب نے اپنی سمت کو درست کرنا ہے ہم پیارے نبیﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے دنیا کے جس شعبے میں بھی ہیں۔ اپنے آپ کو شریعت اسلام کے احکام پر ڈھال لیں
اور اپنی شخصیت پر اپنے اس بدن پر احکام شرعیہ، آداب شرعیہ ،حدود شرعیہ کو لاگو کرتے چلے جائیں ہماری شخصیت نکھرتی چلی گی لیکن اگر ہم نے شیطان اور نفس کے مکر میں آکر سستی اختیار کی تو یقین جانیں ہماری شخصیت بگرتی چلی جائیگی پس ہم اچھے انسان دین اسلام سے ہی بنتے ہیں۔ اور جیسے ہوا پانی خوراک اور بے شمار نعمتیں جو اللہ پاک نے ہمیں عطا کیں ہیں۔ بے شک ان سب نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت دین اسلام ہے
آج ہم پر یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہے کہ اگر ہمارے اندر سے ایک صفت اچھے انسان والی نکال دی جاۓ جیسے شریعت اسلام کے مطابق پردہ کرنا
تو بتایے کیا ہم میں وہ برائیاں وہ حیوانیت نظر نہیں آۓ گی جو آج ہم سڑکوں پر بے پردہ دنددناتی اورہ گرد لڑکوں لڑکیوں میں دیکھتے ہیں۔
دیکھیں اب یہاں انسان اپنی اصل سے نکل کر گندگی کیطرف اسوقت بڑھا جب اس نے دین اسلام کو ایک مشکل امر جانا اتنے بلند مرتبوں پر فائز لوگوں کو میں نے یہ کہتے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ دور اور تھا جب دین اسلام پر عمل کرسکتے تھے اب نہ وہ لوگ رہے نہ وہ دور رہا آفسوس صد آفسوس ایسی سوچ پر یقین جانیں دین اسلام کے تمام احکام جب ایک انسان پر لاگو ہوتے ہیں۔ تو وہ بھلائ ،حسن اخلاق،رحم دلی، احساس اور بے شمار خصوصیات سے ملکر ایک اچھا انسان بنتا ہے اور حسد حوس طمع اور بہت ساری ایسی بیماریاں ہیں۔ کہ ہم جسمانی ڈاکٹر تو ہوتے ہیں مگر ہماری روح ان بیماریوں کا مرکز ہوتی ہے۔
آج ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارا جسم ،ہمارا گھر، ہمارے بچے، ہمارے اداروں میں اچھا ماحول ہو
مگر سب سے پہلے دین اسلام کے احکام اپنے اس جسم پر لاگو کرنے پڑھیں گے اللہ پاک تو ہمارے ساتھ ہیں وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہیں۔ پس اپنے آپ کو ہوا پانی خوراک کے ساتھ ساتھ دین اسلام سے بھی آراستہ کرنا ہے۔
*سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا*
*لیا جائیگا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں