
*گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے*
” سلطان ٹیپو شہید”
یوم شہادت:4 مئی 1799ء
تحریر: منیبہ شوکت،ٹوبہ ٹیک سنگھ
فخر ہند ابو الفتح فتح علی ٹیپو سلطان شہید ہندوستان کے شہرہ آفاق علاقہ بنگلور سے شمال مشرق کی جانب ٢٢ میل پر واقع “دیون ہلی”کے مقام پر ٢٠ذالحجہ ١١٦٣ه مطابق 10نومبر 1750ءمیں پیدا ہوئے۔
نسبت حیدری اور فاطمی تھی،ماں کا نام فاطمہ اور باپ کا نام حیدر علی ہونے کی وجہ سے ۔شجاعت و حوصلہ ، دینی غیرت و حمیت اور وطنی و ملکی تعلق اور محبت آپ کے اندر خاص اوصاف تھے،جن میں سے زیادہ انہیں اپنے باپ سے ورثہ میں ملا تھا ۔
نواب حیدر علی ایک مضبوط عزم و حوصلہ ، مومنانہ کردار اور سیاسی حزم و تدبر رکھنے والے تھے ، شروع میں وہ راجہ میسور کے معمولی ملازم تھے لیکن پھر ان کی ریاست کی اہم ذمہ داریاں مثلاً گورنری ، سپہ سالاری اور نیابت سلطان وغیرہ سپرد ہوئی جن کو انہوں نے احسن انداز سے انجام دیا، ان کے اثر رسوخ دیکھ کر سلطنت کے دوسرے لوگ ان سے حسد کرنے لگے جس کے نتیجے میں انہیں سیاست سے بےدخل کرنے کی سازش چلی، چنانچہ وزیراعظم ریاست میسور کھنڈے راؤ نے مرہٹوں سے مدد لے کر حیدر علی پر فوج کشی کی سخت لڑائی کے بعد حیدر علی کو فتح نصیب ہوئی۔
حیدر علی کی فتح سے متاثر ہو کر راجہ نے انہیں کھنڈرے رائے کی جگہ دے دی،چناچہ حیدر علی کے لیے نظم مملکت میں اپنے حزم و سیاست اور عزم و حوصلہ کے جوہر دکھانے کے راستے صاف ہو گئے،ان کی شجاعت اور بہادری کو داد دینی ہوگی انہوں مرہٹوں کا مقابلہ کر کے انہیں زیر کیا اور انگریزوں سے بدلہ لینے کے لیے ان کی ریاست”کرناٹک”پر بھی حملہ کیا جس نے انگریزوں کے حوصلے پست کردیے ان سب مہمات میں سلطان ٹیپو شہید اپنے والد کے ساتھ پیش پیش رہے۔
شہزادہ ٹیپو سلطان اب پوری طرح والد کی قائم مقامی کے لیے تیار ہوچکا تھا،بعض بڑی مہمات کو سر کرنے کے لیے حیدر علی نے سلطان ٹیپو کو روانہ کیا،مگر حیدر علی کے سفر آخرت کے آغاز نے انگریزوں کے پست حوصلوں میں جان ڈال دی،اور ان میں پھر سے نیا جذبہ پیدا ہونے لگا،ایک انگریز مورخ کی رائے پیش کی جاتی ہے کہ:”قسمت ہندوستان کے خلاف ہوچکی تھی اس لیے حیدر علی کی غیر متوقع وفات نے ہندوؤں کے قدم جمادیے” مؤرخ کا تجزیہ اپنی جگہ حق ہے،لیکن یہ حقیقت ہے سلطان کی نڈر،بےباک اور حوصلہ مند شخصیت نے انگریزوں کے جمتے قدم لڑکھڑا دیے لیکن اپنوں کی غداری اور حب مال و جاہ سے سلطان کے واقعہ شہادت نے انگریزوں کے خواب کی تعبیر کو غلط ہوتے ہوتے سچ کر دکھایا۔
بچپن کی نشوونما اور جوانی کا صحیح رخ کسی بھی شخصیت کی تشکیل اور تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے ،سلطان شہید کے والد گرامی نے اپنے بیٹے کی تربیت میں ان باتوں کا پورا خیال رکھا ،سلطان شہید کی عمر کا پانچواں سال تھا کہ عربی اور فارسی کی تعلیم کے ساتھ امور جہانبانی کی تعلیم کا بندوست کردیا گیا ، فنون سپہ سالاری اور اور شہسواری سکھانے کے ماہر استاد کا بندوست کیا گیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پندرہ برس کی عمر میں ایک لائق شہزادہ،بہادر کمانڈر اور باحمیت مسلمان کے طور پر سامنے آگئے ۔بچپن ہی سے ٹیپو محنتی ،جرّی اور صاحب لیاقت تھے،پندرہ سال کی عمر میں ٹیپو سلطان فوجی زندگی میں پہلی بار آتے ہیں وہ حیدر علی کے ساتھ مالا بار پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں، یہاں پر انہوں نے صرف دو یا تین ہزار کے لشکر کے ساتھ دشمن کی بڑی فوج کو حراست میں لے لیا، جس پر حیدر علی نے خوش ہو کر انہیں اپنی محافظ فوج میں شامل کرلیا۔
چونکہ ٹیپو شہید کو علم و قلم سے خاص لگاؤ تھا اور دین سے اچھی خاصی نسبت تھی جس سے ان کے والد گرامی حیدر علی کو اطمینان ہوا تھا یہ ولی عہدی کے لیے نہایت موزوں ہیں، اور آئندہ سلطنت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
١١٩٦ھ کے آغاز میں عہد حیدری کی آخری ساعتیں تھیں،سلطان شہید دور اپنے والد کے چھیڑے ہوئے کاموں کو انجام دینے میں مصروف تھے جب والد کی وفات کی خبر پہنچی، اس خبر نے ان کی چولیں ہلادیں لیکن پھر بھی انہوں نے خود کو سنبھالا اور نئے عزم و حوصلہ سے قافلہ سالاری کی۔۔
٢٠محرم الحرام ١١٩٦ه کو تاج شاہی پہنایا گیا ، تخت نشینی کی اطلاع چاروں طرف پھیل گئی لیکن پھر بھی آپ نے حکم دیا کہ جو جہاں پر ہے اپنا فرض منصبی ادا کرتا رہے۔
سلطان شہید انگریزوں سے نمٹنے کے بعد اندرونی سازشوں کو ختم کرنے پر لگ گئے، سب سے بڑا مسئلہ ارتداد کا تھا مرتدوں کے سامنے اسلام کی حقانیت بیان کی گئی سب نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا ،اس کے بعد سلطان شہید نے بہت سی مہمات انجام دیں ہمیشہ فتح آپ کا مقدر رہی۔
اس کے بعد سلطنت کی مضبوطی کی لیے کام شروع کیا گیا جو دشمن سے برداشت نا ہوسکا،جب سلطان مرہٹوں اور نظام سے جنگ میں مصروف تھے ان دنوں “ایسٹ انڈیا کمپنی “فوجی تنظیم میں لگی ہوئی تھی ،ایک تو انہیں نئے مقبوضات کی تلاش تھی اور دوسرا وہ حیدر علی اور سلطان شہید سے اپنی شکستوں کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی سلطان شہید کو راستے کا ایک پتھر خیال کرتی تھی، جو اس کے منافع اور مقاصد میں حائل تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ انگریزوں کے سلسلہ میں ذرا بھی لچک اور نرمی نہیں برداشت کرتے تھے، اسی لیے انگریز ہر صورت میں سلطنت خداداد کو تہس نہس کرنے کا ارادہ کرچکے تھے،اس کے لیے انہوں نے تمام ترکیبیں اور صورتیں اختیار کی۔
لارڈ ولزلی کو ہندوستان کا گورنر جنرل بنا کر بھیجا گیا ، اب ایسٹ انڈیا کو اس کی نگرانی میں کام کرنا تھا، دوسری طرف فرانس کی ہمدردیاں ان دنوں میں سلطان کے ساتھ تھی ان کی محبت میں نہیں بلکہ برطانیہ سے نفرت کی وجہ سے تھیں ، ولزلی سے یہ کہاں برداشت تھا۔
اب ہندوستان میں پورے طور پر قدم جمانے اور اپنے ملک انگلستان کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے تاخیر کا خطرہ نہیں لینا چاہتا تھا،اور ادھر سلطان ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی ریاست کی مظبوطی کے لیے جان کی بازی لگانے کے لیے تیار تھے، ولزلی نے یہ کوشش کی کہ پونا اور حیدرآباد دونوں علاقوں کو قبضے میں لے لیا جائے تاکہ یہ علاقے کسی بھی طرح سرنگاپٹم سے نہ مل سکیں۔۔
ہندوستان میں اطمینان کرلینے کے بعد انگریزوں نے افغانستان کی طرف توجہ کی کہ کہیں یہاں سے سرنگاپٹم کو نقصان نہ پہنچ جائے، اس کے لیے انگریزوں نے دوسری چالیں شروع کیں۔۔
ان سب کے بعد سلطنت خداداد کے اندر جھوٹ ،فریب اور رشوت ستانی اختیار کرتے ہوئے ہر قسم کے خلط ملط ہتھ کنڈے اختیار کر کے رعایا کو سلطان کے خلاف کردیا، سلطان کو ظالم ، بزدل ،عیش پرست اور پتا نہیں کیا کیا تہمتیں لگائی یہ سب انگریزوں نے اپنے مفاد کے لیے کیا ۔۔
اور مختلف محبت کے خطوط لکھ کر سلطان کو متاثر کیا گیا ،اور ادھر میر صادق سلطان کے قریب ہو کر یہاں کے راز انگریزوں تک پہنچاتے ،الغرض سلطان کی شہادت اپنوں کی غداری کی وجہ سے ہوئی،اپنوں نے جھوٹ بول کر سلطان کو دھوکہ دیا اور اپنے رازوں کو مال و دولت کی لالچ میں غیروں کے سپرد کردیا۔ سلطان کو اس کا گمان بھی ہوا لیکن ایک اعلیٰ ہمت،حوصلہ مند نے گمان کو جھٹک دیا۔
آخر کار سلطان نے اس کا ادراک و احساس پاکر سبھی عہدہ داروں کو مسجد اعلی سرنگا پٹم میں بلا کر وفاداری اور ایمان داری کا وعدہ لیا لیکن اس وقت پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔۔۔
حالات اس قدر خراب ہوئے کہ سلطان کو کسی کامیابی کی امید نہیں تھی،وہ اللّٰہ پاک کی رحمت سے مایوس نہیں تھے لیکن وہ اللّٰہ پاک کی مرضی اور مشیت اسی میں جان رہے تھے، شاید اب زیادہ دن باقی نہیں رہ گئے بہت کوشش کرلی اس دنیا میں بدلہ آخرت میں پائیں گے۔۔
واقعہ شہادت:
آخر گھمسان جنگ ہوئی سلطان کو حالات نے بتادیا کہ مقدر کچھ اور ہیں اسی اثناء میں ایک عزیز جانثار سید غفار کے شہید ہونے کی اطلاع ملی کھانا کھا رہے تھے یہ کہتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیا”بس ہم بھی جانے والے ہیں”۔۔
سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اعلاناً کلمتہ اللّٰه کہنے میں تگ و دو کی انتہا کردی، ایک وقت آیا کہ سلطان ہر طرف دشمنوں میں پھنس گئے اس کے باوجود ان کی تلوار جوہر دکھا رہی تھی، سلطان کے دو زخم لگے تھے تیسرے زخم نے انہیں نڈھال کردیا وفاداروں نے اٹھا کر انہیں پالکی میں ڈالنا چاہا لکین دشمنوں کے ہجوم نے انہیں پیچھے دھکیل دیا، سلطان زخموں سے چور ہو کر زمین پر گر پڑے، ایک انگریز سپاہی نے آگے بڑھ کر حملہ کرنا چاہا لیکن ابھی سلطان میں زندگی کی رمق اور غیرت ایمانی باقی تھی فورا تلوار سے وار کر کے سپاہی کو جہنم واصل کیا،پھر دوسرے سپاہی نے شدید حملہ کیا جو برداشت نہ ہوسکا،آخری لمحات تک سلطان نے جہد مسلسل سے تکبیر مسلسل کے ساتھ جاری رکھی، اور اللّٰہ کے لیے اپنا خون نذر کر کے جام شہادت نوش فرمالیا۔۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے~
“شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی”
****