
ڈاکٹرعارفہ صبح خان 25-4-2023
تجا ہلِ عا رفانہ عید آتی ہے مگر خوشی نہیں آتی!
ُہر سال عید کی اتنی زیادہ تیا ریاں ہو تی ہیں کہ ہر گھر کے بجٹ کا بڑا حصہ عید کی تیاریوں میں لگ جاتا ہے۔ پورے رمضان جو ش و خروش کا عالم رہتا ہے۔ خا ص طور پر چاند رات کی گہما گہمی عروج پر ہو تی ہے۔ امیر اور غریب سبھی بھرپور شاپنگ کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایک سے ڈیڑھ درجن افراد صرف اِس وجہ سے خو دکشی کر لیتے ہیں وہ عید پر اپنے یا بیوی بچوں کے نئے کپڑے نہیں بنا سکے۔ ہر سال عید سے پہلے یہ دلخراش خبریں سُننے اورپڑھنے کو ملتی ہیں۔ پاکستان ابھی تک پانچ طبقات میں تقسیم ہے۔ ان میں انتہائی امیر لوگ ہیں جو کھرب اور ارب پتی ہیں۔ انھیں صرف آرڈر کرنا آتا ہے۔ ہر چیز ان کی دسترس میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ عید پر کم از کم ایک درجن قیمتی ترین ملبوسات تیار کرواتے ہیں۔ ان کی ہاں بڑی بڑی پارٹیاں ہو تی ہیں لیکن شاندار او ر شا ہانہ پارٹیوں کے باوجوداندر ایک کھوکھلا پن موجود ہو تا ہے۔ عید کی وہ خوشی جو انسان کو وجد، سرور اور جوش و ولولے سے بھر دیتی ہے۔ وہ انکے ہاں مفقود ہوتی ہے۔ اسکے بعد امیر ترین اور خوشحال لوگ آتے ہیں۔ انکے پاس بھی وافر پیسہ ہو تا ہے۔ یہ کروڑوں پتی کہلاتے ہیں۔ انکے گھر کی عورتیں بھی آٹھ دس بارہ سوٹ بنواتی ہیں اور ہر چیز میچنگ لیتی ہیں۔ انکے ہاں بھی عید پر بہت اہتمام ہو تا ہے۔ پارٹیاں رکھی جاتی ہیں۔ یہ سب لوگ آپس میں ملتے ہیں۔ رشتے داروں سے زیادہ فیملی فرینڈز ہو تے ہیں۔ تمامتر اہتمام کے انکے دل بھی اند ر بُجھے بُجھے ہو تے ہیں۔ ایک خاص قسم کی جیلسی اور کھنچاؤ ہو تا ہے کہ اس مرتبہ فلاں دو کروڑ کی گاڑی میں آیا ہے اور فلاں کی گا ڑی چھ کروڑ کی ہے۔ فلاں بیگم کا ڈریس مشہور زمانہ بوتیک کا ہے یا کسی نے فارن برینڈ استعمال کیا ہے۔ کس کی جیولری اس بار نئی تھی اور کون زیادہ خوبصورت یا سمارٹ لگ رہی تھی۔ انکے اند ر خوشی سے زیادہ دکھاوا ہو تا ہے۔ انکے بعد پاکستان کا تیسرا بڑا طبقہ آتا ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ سب سے زیادہ ہے حالانکہ تعداد میں یہ پہلے اور دوسرے طبقے کے مقابلے میں کئی گنا بڑا ہے مگر اپنے سے نچلے دو طبقات کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ متوسط طبقہ کہلاتا ہے۔ یہ لوگ اچھا کھاتے پیتے اور اچھا اوڑھتے پہنتے ہیں۔ ان کی عورتیں کوشش کر تی ہیں کہ دوسری کیٹگری سے مقابلہ کر سکیں۔ لہذا متوسط طبقے کی عورتیں بھی چار چھ سے کم سوٹ نہیں بنا تیں۔ میچنگ جوتے، آرٹفیشل جیولری، میک اپ، مہندی چوڑیاں فیشل ہر چیز کا اہتمام کرتی ہیں۔ دو تین پکوان خود تیار کرتی ہیں اور دو تین ریڈی میڈ منگواتی ہیں۔ انکے ہاں زیادہ تر رشتہ دار خا ص طور پر جلے بُھنے اور سڑے ہوئے رشتے دار آتے ہیں۔ اسکے علاوہ سہیلیاں، دوست، احباب، جاننے والے بھی آتے ہیں۔ خو شی خوشی عید کی تیاریاں کرنے کے باوجود کچھ نا پسندیدہ اور جلے کٹے رشتے دار آنے سے انکی عید بے مزہ بلکہ بد ذا ئقہ ہو جاتی ہے۔ چوتھے نمبر پر سفید پُوش طبقہ آتا ہے۔ یہ لوگ اپنے پُرانے لباس ہی استعمال کرتے ہیں یا پھر سستے قسم کے جوڑے بنا لیتے ہیں۔ گھر میں ہی سویاں، کباب اور بریانی پکا کر عید منا لیتے ہیں۔ سفید پوش طبقہ پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہے جو اپنی خواہشوں اور ارمانوں پر مصلحت کے پردے ڈالے رکھتے ہیں۔ یہ ہر عید پر کسی معجزے یا بہتری کی امید پالتے ہیں مگر انکے حالات کبھی نہیں بدلتے۔ ہر عید پر بچے اور بڑے دل مسوس کر کے رہ جاتے ہیں۔ انکی عید روایتی ہو تی ہے اور اُس میں کوئی چارم نہیں ہوتا۔ روٹین کے معا ملات ہو تے ہیں۔ غلطی سے کبھی کو ئی امیر رشتے دار زیادہ عیدی دے جائے یا کیک مٹھائی، آئس کریم، روسٹیڈ چکن، پیزا لذانیہ یا کڑاھی لے آئے تو انکے ہاں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے ورنہ سارا سال یہ لوگ دال سبزی پر ہی گزارہ کرتے ہیں کیونکہ اب توبڑا گوشت بھی انکی دسترس سے باہر ہے۔ پانچواں اور سب سے بڑا طبقہ پاکستان کے غریب لوگ ہیں۔ اگر چہ یہ غریب ہوتے ہیں۔ مانگ تانگ کر گزارہ کرتے ہیں پھر بھی انکے بچے مٹھائی کے ایک ٹکڑے یا سو روپے عیدی ملنے پر خوش ہو جاتے ہیں۔ غبارے چُھولے ٹافیاں بسکٹ چپس لے کر خوش ہو جاتے ہیں مگر انکا سارا وجود محرومیوں اور غربتوں کی داستان سُنا رہا ہو تا ہے۔ جب یہ اُمراء کو بڑی بڑی گا ڑیوں اور خوشبو سے بھرے ملبوسات اور ہوٹلوں میں جاتے دیکھتے ہیں تو درد اور اذیت انکے چہروں پر نمایاں نظر آتا ہے۔ عید آتی ہے لیکن پاکستان میں پانچوں طبقات کے اندر وہ جوش، مسرت، خوشی اور ترنگ نہیں ہوتی جو کبھی بچپن میں ہم دیکھا کرتے تھے۔ اکیسویں صدی اپنے ساتھ بہت سی نحوستیں لیکر آئی ہے۔ ان میں سے بڑی نحوست یہ ہے کہ اندر کی خوشی مر گئی ہے۔ ہر طرف نفسا نفسی، خود غرضی اور مطلب پرستی کا راج ہو گیا ہے۔ ہر آدمی رشتوں کو دولت کے ترازو میں تولنے لگا ہے۔ ایک بھائی خوشحال ہو تو باقی بھائی نہ صرف حسد کرتے ہیں بلکہ اپنے بھائی کو اٹھتے بیٹھتے چُونا بھی لگا تے ہیں۔ ایک شخص کامیاب ہو جائے تو دوسرے سوگ مناتے ہیں۔ کسی کہ تحفہ یا عیدی دینی ہو تو سوچتے ہیں کہ دوسرے سے زیادہ وصول کر لیں۔ لوگوں کے دل، ذہن اور رشتے کاروباری ہو گئے ہیں اور ریاکاری، منافقت اور ملمع نے انسان کے باطن کا سکون، طمانیت اور معصومیت چھین لی ہے۔ اب عید آتی ہے اور اُس کی تیاری بھی پورا رمضان چلتی ہے لیکن مرد عید کی نماز پڑھکر آتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ عید کادن عموماً لوگ اپنے گھر میں گزارتے ہیں تو سارا دن مر د عورتیں بچے سوئے رہتے ہیں یا مختلف چینلز پر چلنے والے روایتی، فضول، چھچھورے اور دو نمبر پروگرام دیکھتے ہیں یا پھر موبائل پر لگے رہتے ہیں۔ پورے سال میں شاید عید کادن سب سے بورنگ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عید تو ہر سال آتی ہے لیکن حقیقی خو شی نہیں آتی؟
0