0

ماں بسیرا ” (بے سہارا ماوں کیلۓ اک ساٸبان) انیلا طالب


ماں بسیرا ”

(بے سہارا ماوں کیلۓ اک ساٸبان)

انیلا طالب

اس کاٸنات میں کہنے کو تو سب کچھ عارضی ہے فانی ہے مگر یہاں ایک ایسا رشتہ بھی ہے جس کی قربانیوں کو آپ کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ رشتہ ماں کا مقدس رشتہ ہے۔۔۔جس کے بارے واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا ہے کہ اس بحث میں مت پڑو کہ ماں کتنی نمازوں کے برابر ہوتی ہے ۔۔۔ وہ تو پورا دین ہوتی ہے۔۔۔ مگر بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو ان ماٶں کی قدر کر پاتے ہیں۔ موجودہ دور میں آپ کو جو ماٸیں نظر آٸیں گی ان میں اکثریت ایسی ماٶں کی ہے جو بیوگی کا زخم سہنے کے بعد اپنی ہی اولاد کے ہاتھوں ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں۔ ان کا بیمار وجود اولاد کیلۓ نا قابل برداشت ہے اور ان کا خیال ہے کہ بے وقت کی کھانسی ان کے گھر میں گونجتی ہے تو جراثیم پھیلتے ہیں شاید وہ یہ بھول گۓ ہیں کہ اسی ماں کی آواز جب گھر میں پھیلتی ہے تو رحمت بسیرا کرتی ہے آفات و بلیات بھاگ جاتی ہیں۔ مگر کیا کیا جاۓ۔۔۔۔؟
وقت نے ایسا دھارا بدلا ہے کہ معاشرے کی سوچ بدل گٸ ہے میں ان بوڑھی بیواٶں لا وارث اور بے کس و تنہا لا چار خواتین کا سوچتی تھی تو گھنٹوں بعد بھی سواۓ اضطراب اور بے چینی کے کچھ نہیں ملتا تھا پھر ایک دن مجھے ایک ایسے ادارے کا پتا چلا جس کے نام نے ہی مجھے جکڑ لیا۔ ماں بسیرا۔۔۔
میری روح کو جھنجوڑ ڈالا تھا کسی نے۔ میں نے سوچا کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آج کے اس دور میں جب اپنی ہی اولاد ماٶں کو دھکے مار کر گھروں سے نکال دیتی ہو ۔کوٸ دوسرا انسان ایک ایسا ادارہ قاٸم کر لے جہاں ماٸیں رہتی ہوں۔ ان کی اعلی خدمات کی جاتی ہوں ان کے سونے کھانے پینے کا خیال رکھا جاتا ہو ۔ تو میرے دل میں خیال آیا کیوں نہ میں دنیا میں بناٸ جانے والی اس جنت کو دیکھ کر آٶں۔ اس کے مکینوں کو دیکھ کر آٶں جو اس جنت میں پھول کی طرح مہکتے ہیں۔ جن کا غم اس درودیوار نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے ۔
پھر کیا تھا۔۔۔۔میں ماں بسیرا پہنچی۔ تو دروازے پر ماں بسیرا کی روح رواں بینا غوری پاکیزگی اور معصومیت سے چمکتی ہوٸیں اپنی مینیجر عینی کے ہمراہ مجھے انتہاٸ گرمجوشی سے ملیں اور پرتپاک استقبال کر کے اندر لے کر گٸیں۔۔۔جب میں ہال میں پہنچی تو ششدر رہ گٸ وہاں درودیوار سے مایوسی محرومیت بے کسی ٹپکنے کی بجاۓ ہر سو محبت کی خوشبو مہک رہی تھی ۔۔۔۔ ڈاٸننگ ٹیبل پر تازہ پھولوں کے گلدستے ماحول کو خوشگوار بناۓ ہوۓ تھے۔اور وہاں پر جتنی خواتین تھیں سب میں بہت اتفاق تھا خوشی تھی جب میری ان سے بات چیت ہوٸ تو ہر ماں کے اس ادارے کیلۓ جذبات بے مثال تھے ۔بہت سی ماٸیں بھیگی پلکوں کے ساتھ اپنے تاثرات بتا رہی تھیں میں نے بھی مخصوص ڈاٸری میں اپنے تاثرات قلمبند کیۓ اور وہاں ریک میں سجے دستخط شدہ کپوں سے منسوب ایک گوشے میں اپنا نام لکھ کر ایک یادگار کے طور پر وہاں رکھا۔اس دن اپنا نام مجھے بہت خوبصورت لگا تھا۔ شاید یہ اس جگہ کا اثر تھا غالبا۔۔۔
وہاں بطور مہمان صرف میرے لیۓ ہی نہیں بلکہ ان تمام ماٶں کیلۓ بھی ہاٸ ٹی کا انتظام کیا گیا تھا کوٸ درجہ بندی نہیں تھی کہ مہمان کو اچھے برتن میں چاۓ سرو ہوگی اور وہاں رہنے خواتین کو دوسرے برتنوں میں۔۔۔۔۔
مجھے بینا غوری صاحبہ پہلی ہی ملاقات میں ایک پری کی مانند لگیں یہ اولڈ ہوم ان کے شوہر پاکستان کے ایک معروف بزنس مین اور انتہاٸ عاجز اور بہترین انسان ایوب غوری صاحب نے اپنی والدہ کے ایصال ثواب کیلۓ قاٸم کیا ہے اور یہاں مکمل ماحول وہی فراہم کیا گیا ہے جس طرح کا ماحول فرمانبردار اولاد اپنی ماٶں کیلۓ کرنے کا سوچتی ہے۔ وہاں ایک نرس چوبیس گھنٹے تک رہتی ہے کھانا پکانے کیلۓ ملازمات الگ سے ہیں۔
باقاعدہ گارڈن بنایا گیا ہے جہاں گارڈننگ کی جاتی ہے۔ تاکہ ماٸیں ذہنی طور پر بھی پریشانیوں سے نکلیں۔ ادارے کی خصوصیات پر تو الگ سے کتاب مرتب کی جا سکتی ہے مگر میں صرف یہاں کچھ باتیں بینا غوری کے متعلق کہنا چاہتی ہوں کہ وہ بہت صاف دل اور انتہاٸ رحم دل خاتون ہیں اور معاشرے کی دیگر خواتین کیلۓ ایک رول ماڈل۔ سادگی میں ان کا کوٸ ثانی نہیں۔
اللہ کی محبت سے سرشار ۔۔۔ اور بے مثال خوبیوں سے آراستہ۔ان کی خوبیوں کا ہی اثر تھا کہ اس دن میں انہیں گلے ملے بغیر نہیں رہ سکی تھی“
میں دعا کروں گی کہ اللہ انہیں بہت سی خوشیاں عطا کرے ۔۔۔۔
یہاں میں خصوصی طور پر مس عینی کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں کہ جنکی خوش اخلاقی نرم دلی نے میرے ماں بسیرا کے دورے کو یادگار بنایا۔
ماٸیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔یہ باتیں بتانے کا مقصد یہی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ میرے ان لفظوں کے ذریعے کسی بے آسرا ماں کو سہارا مل جاۓ۔۔ماں بسیرا لاہور میں قاٸم کیا گیا ہے سوشل میڈیا کے ذریعے ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں