0

منقبت شانِ شیرِ خداؓ


منقبت
شانِ شیرِ خداؓ
خدا کے خاص بندے ہیں علیؓ ابنِ ابو طالب
ہمارے دل میں بستے ہیں، علیؓ ابنِ ابو طالب
ابو طالب تھے والد، فاطمہ تھیں والدہ انؓ کی
بیاں کیسے حقیقت ہو بھلا انؓ کے کسی گن کی
گھرانہ معتبر تھا، تھے وہی سردار مکہ کے
یہ نسبت کم نہیں ہے، وہ تھے پیارے بھاٸی آقاﷺ کے
چنا انؓ کو، لیا دستِ مبارک ہاتھ میں اپنے
نبیؐ نے پرورش کی، ان کو رکھا ساتھ میں اپنے
نبوت کی ہوٸی خلعت عطا جس دم محمدﷺ کو
بنے دشمن سبھی، دینے لگے جب غم محمدﷺ کو
رکھا پیغامِ حق جب مصطفیٰﷺ نے سامنے سب کے
سناٸے ان کو جس دم آپﷺ نے پیغام سب رب کے
فقط تھی دس برس عمرِ مبارک پر علیؓ اٹھے
کی جب تکذیب سب نے، کلمہ تب پڑھ کر علیؓ اٹھے
نبیؐ نے انؓ کو اس درجہ محبت کی عطا رب کی
علیؓ نے ساتھ آقاﷺ کے عبادت کی سدا رب کی
میانہ قد، بڑی آنکھیں، تھی رنگت گندمی انؓ کی
تھا پر رونق سراپا، ہو بیاں کیا دل کشی انؓ کی
ہوا جب اذنِ ہجرت، مصطفیٰﷺ مکہ سے نکلے تھے
امانت دی انہیں ہر اک، وہی بستر پہ لیٹے تھے
لکھا جاتا ہے آبِ زر سے ہی یہ کام انؓ کا تو
فدا کاری کے سب ابواب میں ہے نام انؓ کا تو
چلے مکہ سے لے کے نورِ ایماں اپنے سینے میں
نبیؐ کے بعد وہ بھی آ گٸے پیارے مدینے میں
رہے وہ بدر میں آگے، فراٸض سے نہ غافل تھے
وہ پہلا معرکہ تھا اور وہ پہلی صف میں شامل تھے
بنا انؓ کا مکاں رشکِ ارم جب طاہرہؓ آٸیں
علیؓ کے عقد میں آقاﷺ کی پیاری فاطمہؓ آٸیں
عبادت میں، ریاضت میں کوٸی ثانی نہ تھا انؓ کا
شجاعت میں، بسالت میں کوٸی ثانی نہ تھا انؓ کا
خدا کا نام لے کر وہ اٹھے، لشکر الٹ آٸے
وہی شیرِ خدا تھے جو درِ خیبر الٹ آٸے
انہیں آقاﷺ نے پیاروں میں کِیا نزدیک یوں چن کے
نبیؐ کو پیار تھا انؓ سے، علیؓ ہارون تھے انﷺ کے
مقرر وقت پر آقاﷺ ہوٸے رخصت جو یاروں سے
دیا تھا غسل آقاﷺ کو علیؓ نے اپنے ہاتھوں سے
رہے صدیقؓ کے ساتھی، انہیں تھے مشورے دیتے
رکھا ساتھی عمرؓ نے بھی، انہیں تھے مشورے دیتے
خلیفہ جب بنے عثمانؓ، وہ انؓ کے بنے ساتھی
تھے یارِ خاص وہ عثمانؓ کے، داٸم رہے ساتھی
ہوٸی بے بس خلافت جب، مدد کو تب علیؓ آٸے
تھی پھیلی ہر طرف رسمِ بغاوت جب علیؓ آٸے
کہا انؓ نے کہ ہو جاٶ خدا کے نام پر یکجا
انہوں نے چاہا تھا ہو جاٸیں سب اسلام پر یکجا
کروں میں کیا بیاں کیسی تھی روشن زندگی انؓ کی
بناوٹ سے تھے عاری وہ، مثل تھی سادگی انؓ کی
تھا کس میں دم کہ آتا سامنے، سو پیچھے سے آیا
تھا انؓ کا رعب اس درجہ، نہ قاتل سامنے آیا
بڑی ہی بے قراری سے گٸے تھے گھر سے مسجد میں
میں قرباں جاٶں انؓ پر جو ہوٸے زخمی تھے مسجد میں
شہادت جو ملی انؓ کو شہادت وہ نمایاں ہے
علیؓ کا ذکر ہے جس میں حکایت وہ نمایاں ہے
خصاٸل میں تھے وہ یکتا، علیؓ تو ایک ہی تھے بس
کوٸی ثانی نہیں انؓ کا، علیؓ تو ایک ہی تھے بس
ماہم حیا صفدر

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں