0

16 رمضان المبارک میں پیش آنے والے تارِیخی


16 رمضان المبارک میں پیش آنے والے تارِیخی واقعات
تحریر و تحقیق: محمد فائز المرام
*16 رمضان 2ھ:*
رسُول اللہ ﷺ اپنی مختصر جمعیت کے ہمراہ میدانِ بدر پہنچے۔ چُوں کہ کفّارِ قُریش اِس سے قبل ہی میدانِ بدر پہنچ کر جنوبی سمت میں خیمہ گاہ قائم کر چکے تھے اس لیے اِسلامی لشکر نے اُن کے بالمقابل شمالی سمت میں اپنی خیمہ گاہ قائم کی۔ اُس روز شمسی تارِیخ 12 مارچ 624ء تھی۔
*16 رمضان 14ھ:*
قادسیہ کے میدانِ جنگ میں فارسِ قدیم کی آخری عظیم سلطنت ساسانیہ اور عالمِ اِسلام کی پہلی سلطنت ’خِلافتِ راشدہ‘ کے مابین ہولناک معرکہ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اِس شدید معرکہ میں عرب مسلم فوج کے سپہ سالار مجاہدِ اوّل سعدؓ بن ابی وقاص تھے جب کہ لشکر کے دیگر سالاروں میں مثنیٰؒ بن حارثہ، طلیحہؒ بن خویلد (سابق مدعیٔ نبوت)، عاصم بن عمرو التمیمی، قعقاع بن عمرو التمیمی، عبداللہ بن المعتم العبسی، زہرہ بن الحویہ التمیمی، ربعیؓ بن عامر التمیمی اور جریرؓ بن عبداللہ البجلی وغیرہا شامل تھے۔ ساسانی فوج کا سپہ سالار اِیرانیوں کا مشہور جنگجو رُستم فرُّخ زاد تھا جسے بطورِ خاص عربوں سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ساسانی لشکر کے دیگر سالاروں میں بہمن جادویہ، ہرمزان، شہریار، پیروز (فیروز)، مہران اور جواں شیر وغیرہ کے نام قابلِ ذِکر ہیں۔ تارِیخ طبری کے مطابق عرب فوج کی تعداد چالیس ہزار تھی، اس کے مقابل فارسی لشکر پچاس ہزار کے لگ بھگ تھا۔ اُس روز شمسی تارِیخ 3 نومبر 635ء تھی۔
*نوٹ:* اس جنگ کی اِسلامی تارِیخ محرّم کی بھی بیان کی گئی ہے۔
*16 رمضان 385ھ:*
ملک شام کے دُور دراز واقع علاقوں پر بازنطینیوں کی یلغار کے پیشِ نظر فاطمی خلیفہ نے اعلانِ جہاد کرا دیا اور ہر اُس شخص کو طلب کیا جو جنگ کے قابل ہو۔ اُس روز شمسی تارِیخ 14 اکتوبر 995ء تھی۔
*16 رمضان 394ھ:*
فاطمی خلیفہ الحاکم بامر اللہ نے قاضی(جج) حُسین بن نعمان کو اُس کے منصب سے معزول کر دیا او راُس کی بجائے عبد العزیز بن نعمان کو قاضی مقرّر کیا۔ قاضی عبدالعزیز ایک لائو لشکر (جلوس) کے ہمراہ جامع مسجد ِعمروؓ بن العاص پہنچا تا کہ اپنے منصب کا اختیار (چارج) پا سکے۔ اُس روز شمسی تارِیخ 7 جولائی 1004ء تھی۔
*16 رمضان 409ھ:*
کشمیر کی تارِیخ میں پہلی بارمسلمانوں نے روزہ رکھّا۔ سلطان محمود غزنوی نے جب فتحِ کشمیر کی غرض سے کوچ کیا تو حاکم ریاست نے خُود میں اُس کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر سرحد پر آ کر اُس کا اِستقبال کیا اور اپنی اکثر رعایا سمیت اِسلام قبول کر لیا۔ چُوں کہ رمضان کا مہینہ آدھا گزر چکا تھا، اس لیے مسلمانانِ کشمیر نے بقیہ آدھے ماہ کے روزے رکھے۔ اُس روز شمسی تارِیخ 23 جنوری 1019ء تھی۔
*16 رمضان المبارک 845ھ:*
قرونِ وسطیٰ کے معروف مسلم مؤرخ المقریزی نے وفات پائی۔ انھوں نے مصر کی مملوک اور فاطمی تواریخ پر کُتب تحریر کی تھیں۔
*16 رمضان 1061ھ:*
1۔ تارِیخِ آلِ عثمان کی سب سے مشہور خاتُونِ حرم اور باعظمت و مقتدر ملکہ، ماہ پیکر قُسیم (عُرفِ عام میں: کوسم) سلطانہ کو ایک لونڈی نے اُن کی بہو کے اشارہ پر قتل کر دیا۔ بوقتِ قتل اُن کی عُمر 62 سال تھی۔ اُس روز شمسی تارِیخ 2 ستمبر 1651ء تھی۔
2۔ قُسیم سلطان کے قتل ہوتے ہی اُن کی بہو خدیجہ طرخان نے سلطنت کی زمام اپنے ہاتھ میں لے لی کیوں کہ تخت پر ایک کم سِن لڑکا محمد چہارم تخت نشین تھا اور حکومتی فیصلوں کے قابل نہ تھا۔ خاتُونِ اوّل اور سلطنتِ عثمانیہ کی سب سے مقتدر خاتُون کا اعزاز پاتے وقت خدیجہ طرخان کی عُمر صرف 24 سال تھی، یہ خاتُون رُوسی علاقہ یُوکرین سے تعلق رکھتی تھی۔
*16 رمضان 1213ھ:*
فرانسیسی فاتح جرنیل نپولین بونا پارٹ نے العریش میں مملوکوں کا تعاقب کیا او رعکا کے مقام پر اُنھیں جا لیا۔ اس معرکہ میں فرانسیسیوں نے مملوکوں کو شکست دی تھی۔ اُس روز شمسی تارِیخ 20یا 21 فروری 1799ء تھی۔
*16رمضان 1325ھ:*
عثمانی مصر کے وکیل، صحافی، سِیاست دان اور سرگرم قوم پرست، مصطفیٰ کامل پاشا نے عثمانی سلطان اور خدیوِ مصر کی مخالفت میں مصری نیشنل پارٹی قائم کی۔ اُس روز شمسی تارِیخ 24 اکتوبر 1907ء تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں