
پیاس جوبجھ نہ سکی اُس کی نشانی ہوگی
ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہو گی
نور جہاں ثروت
28 نومبر 1949 ء دہلی
7 اپریل 2010 یوم وفات
*نور جہاں ثروت* نے اپنے کیریئر کا آغاز بحیثیت لیکچرار جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے شروع کیا. بعد میں ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں بھی لیکچرار شپ پر فائز رہیں. اسی کے ساتھ ساتھ آل انڈیا ریڈیو پر بحیثیت انٹرویور کے کام کرتی رہیں. 1980 ء سے وہ صحافت میں بھی وابستہ ہو گئیں اور روزنامہ قومی آواز اور روزنامہ انقلاب ممبئی میں خصوصی کالم لکھنا شروع کیا. ان کا انتقال 2010 میں ہوا
منتخب کلام
عمر بھر دیکھا ہوا وہ آرزو کا خواب تھا
کتنی آسودہ ہوئی ہوں اپنے ہی انکار سے
…..
…
تمام عمر کا قصّہ لکھوں، ارادہ تھا
لکھا تو دل کا ورق اپنا پھر بھی سادہ تھا
گماں یقین کی حد تک کبھی نہیں آیا
ہماری فہم کا دامن ہی کچھ زیادہ تھا
مجھی پہ ختم ہوئیں دوست داریاں ساری
کہ میرے درد کا دریا بہت کشادہ تھا
نجانے کیسے ہوئی مات بادشاہ کو بھی
ہمارے پاس تو لے دے کے اک پیادہ تھا
تمہارے دور سے ثروت، نباہ کر نہ سکی
کہ اس کے پاس روایات کا لبادہ تھا
نور جہاں ثروت ؔ
نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے
ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے
بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا
ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے
جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے
اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے
میں دشت تمنا میں بس اک بار گئی تھی
اس وقت سے رِستے ہیں مرے پاؤں کے چھالے
بے چہرہ سہی پھر بھی حقیقت ہے حقیقت
سکہ تو نہیں ہے جو کوئی اس کو اچھالے
ثروتؔ کو اندھیروں سے ڈرائے گا کوئی کیا
وہ ساتھ لیے آئی ہے قدموں کے اجالے
نور جہاں ثروتؔ
وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے
جو بیتی ہے دل پر مرے سب جان گیا ہے
رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں
وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے
تھا ساتھ نبھانے کا یقیں اس کی نظر میں
محفل سے مری اٹھ کے جو انجان گیا ہے
اوروں پر اثر کیا ہوا اس ہوش ربا کا
بس اتنی خبر ہے مرا ایمان گیا ہے
چہرے پہ مرے درد کی پرچھائیں جو دیکھی
بے درد مرے گھر سے پریشان گیا ہے
اس بھیڑ میں ثروتؔ نظر آنے لگی تنہا
کس کوچے میں تیرا دل نادان گیا ہے
…..
نور جہاں ثروت کی ایک نظم
اجنبیت
عجیب شکل سے ٹوٹے ہیں سلسلے دِل کے
کہ اپنا گھر بھی مجھے اجنبی سا لگتا ہے
نہ کوئی خواب یہاں مشترک
نہ تعبیریں
خیالِ خام کی تاویل خوب ہوتی ہے
کہ سینے چاک ہیں لفظوں کے
نطق پر تالے
مگر نہ شور پَہ پہرے
نہ آہٹوں کا شمار
سکوں کا گھُٹتا ہے دَ م
بے حسی کا عَالَم ہے
یہ میرا گھر ہے تو کیوں اجنبی سا لگتا ہے