
(بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم! بنا اجازت کاپی پیسٹ کرنے یا نامِ مصنفہ حذف کرنے سے گریز کریں)
ناول: طپش
مصنفہ: ماہم حیا صفدر
قسط نمبر: 10
آگ کے شعلے اور سیاہ دھوٸیں کے مرغولے سوٸے فلک محوِ پرواز تھے۔ آگ ڈھیر سارے جسموں کو راکھ اور دو آنکھوں کو کسی ٹھنڈی جہنم کی گھاٹیاں بنا چکی تھی۔ آگ کسی بھوکی شیرنی کی طرح اِدھر اُدھر سر پٹخ رہی تھی۔ گویا اس کے علم میں تھا کہ ایک زندگی اس کی بربریت کا نشانہ نہیں بن سکی۔ دو آنکھوں میں یہ آگ انتقام کی برف بن کے جم چکی ہے۔
*****
میلانا اب بہتر محسوس کر رہی تھی۔ اس کے زخم اتنے گہرے نہیں تھے سو انہیں بھرنے اور مندمل ہونے میں زیادہ دن نہیں لگے تھے۔ یہ دسمبر کا آخری ہفتہ تھا۔ اتوار کا سست اور سرد دن سہج سہج کے چل رہا تھا۔ وہ جو گھر سے یونہی نکلا تھا کب اس کے فلیٹ کے سامنے آ ٹھہرا اسے خبر ہی نہ ہوٸی۔ اس نے کچھ سوچتے ہوٸے ڈور بیل بجاٸی۔ دروازہ ویرا نے کھولا تھا۔
”واسل! تم کیسے ہو؟“ اس نے وہیں کھڑے کھڑے پوچھا۔
”میں ٹھیک ہوں ویرا! تم کیسی ہو؟“ اس نے نرمی سے مسکراتے ہوٸے پوچھا۔
”میں بھی ٹھیک ہوں۔ تم یہاں کیسے آٸے؟“ وہ ہنوز اس کے راستے میں کھڑی تھی۔
”کیا تم مجھے یہیں سے واپس بھیجنا چاہتی ہو؟“ واسل نے ہنستے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں؟ کیا مطلب؟ میں کچھ سمجھی نہیں۔“ ویرا نے الجھتے ہوٸے اسے دیکھا۔
اس نے مسکراتے ہوٸے بازو سینے پہ لپیٹ لیے اور کوٸی جواب نہ دیا۔ ویرا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟“ وہ حیران ہوٸی۔
”کیوں کہ نہ تو تم نے مجھے اندر آنے کی دعوت دی ہے اور نہ ہی راستہ دے رہی ہو۔“ اس نے ہلکی ہلکی بڑھی شیو کو کھجاتے ہوٸے کہا تو ویرا نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔
”میں معذرت چاہتی ہوں کہ مجھے یاد نہیں رہا۔ دراصل میں نیند میں ہوں۔“ ویرا نے سامنے سے ہٹتے ہوٸے اسے اندر آنے کا اشارہ کیا۔
”وہ تو تمہیں دیکھنے سے ہی پتا چل رہا ہے۔“ واسل نے اس کے حلیے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ اپنی کاملیت پسندی کے برعکس اس وقت شدید الجھی ہوٸی لگ رہی تھی۔
”تم بیٹھو میں جلدی سے فریش ہو کے آتی ہوں۔“ ویرا کو شرمندگی محسوس ہوٸی۔
”مجھے لگتا ہے کہ میں جلدی آ گیا ہوں۔ غالباً تم دونوں ابھی سو رہی تھیں۔“ واسل نے میلانا کے بند کمرے کی طرف دیکھتے ہوٸے کہا۔
”وہ تو پیداٸشی سستی کی ماری ہوٸی عورت ہے۔“ ویرا نے منہ بناتے ہوٸے کہا۔
”یہ تم دن کے گیارہ بجے میری براٸیاں کرنے کے لیے بیدار ہوٸی ہو؟“ میلانا ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کے اپنے بال سمیٹتی باہر آٸی تو ویرا ہڑبڑا کے پیچھے ہٹی۔
”نن۔۔۔نہیں تو۔۔۔“
”اور تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ اس نے واسل کو مخاطب کیا۔
”میں تو بس تمہیں دیکھنے آیا تھا۔“ اس نے جلدی سے کہا۔
“کیوں میں کسی عجاٸب گھر سے لاٸی گٸی ہوں جسے دیکھنے کے لیے تم صبح ہی صبح یہاں آن دھمکے ہو۔“ وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کے بولی۔
”میں فریش ہو کے آتی ہوں۔“ ویرا نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔
”دراصل میں تمہاری خیریت دریافت کرنے آیا تھا۔“ واسل نے صفاٸی پیش کی۔
”میں ٹھیک ہوں۔ اب یہاں سے چلتے پھرتے دکھاٸی دو تو بہتر ہو گا۔“ میلانا نے انگلی کے اشارے سے اسے باہر کا راستہ دکھایا۔
”تم کچھ زیادہ ہی بے مروت نہیں ہو رہی ہو؟ گھر آٸے دوست کے ساتھ ایسا برتاٶ کون کرتا ہے؟“ وہ دو قدم آگے بڑھا۔
”میں اپنے گھر آٸے دوستوں کے ساتھ ایسا ہی برتاٶ کرتی ہوں۔“ وہ سینے پہ بازو لپیٹتے ہوٸے بولی۔
”یہ گھر میرا ہے اور تم کراٸے دار ہو۔“ ویرا نے اندر سے ہانک لگاٸی تو وہ بدمزہ ہوٸی۔
”اب کیا تم مجھے یونہی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے گھورتے رہو گے؟“ اس نے واسل سے پوچھا جو مکمل توجہ اور فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”تم کوٸی اتنی بھی قابلِ دید شے نہیں ہو کہ جسے گھورنے کے لیے اپنی آنکھیں پھاڑنی پڑیں۔“ وہ مزے سے کہتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔
”ہاں؟ کیا کہا تم نے؟ میں تمہارا خون پی جاٶں گی!“ وہ پیر پٹختی اس کے پیچھے ہو لی جو ٹانگ پہ ٹانگ جماٸے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
کمرے کی صفاٸی ستھراٸی کی حالت ہمیشہ کی طرح مخدوش تھی۔
”جتنا وقت تم دوسروں کا خون پینے کے منصوبے بنانے میں صرف کرتی ہو اس سے آدھا وقت نکال کے اپنے کمرے کو صاف کر لو تو یہ نہایت خوب صورت لگے گا۔“ اس نے ہمدردانہ مشورہ دیا۔
”تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ ویسے یہ کمرہ صاف کرنے میں کتنا سا وقت لگے گا؟“ میلانا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوٸے پوچھا۔
”یہی کوٸی پندرہ بیس منٹ لگیں گے۔“ واسل نے اندازہ لگایا۔
”تو پھر تم بیٹھے بیٹھے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ اٹھو اور کام پہ لگ جاٶ! میں تب تک فریش ہو کے آتی ہوں۔“ اس نے حکم صادر کیا۔
”میں؟ کیا مطلب؟ تم کہنا چاہ رہی ہو کہ میں یعنی واسل موروز تمہارا کمرہ صاف کروں۔“ وہ گھبرا ہی تو گیا تھا۔
”ہاں بالکل! اور خبردار جو تم نے یہاں سے رفو چکر ہونے کی کوشش کی۔ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گی۔“ وہ فوراً ہی باتھ روم میں غاٸب ہو گٸی تو واسل نے ناچار اٹھ کے کمرے کی صفاٸی شروع کی۔
”یہ تم کیا کر رہے ہو؟“ ویرا جو اچانک وہاں سے گزری تھی اسے بیڈ کے نیچے سے کچرا نکالتے دیکھ کر حیران رہ گٸی۔
”وہ میں۔۔۔یہاں کچرا بہت ہے نا! میلانا نے مجھے کچھ نہیں کہا میں خود ہی یہ کر رہا ہوں۔“ اس نے جلدی سے وضاحت پیش کی۔
ویرا کو اس پل وہ نہایت ہی معصوم لگا تھا۔ اس کی اِس محبت پہ اسے بے ساختہ پیار آیا تھا۔ واسل کو لگتا تھا کہ شاید میلانا کے لیے اس کے محسوسات سے سواٸے اس کے کوٸی بھی آگاہ نہیں ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ویرا اس کے دل کی بات جانتی تھی۔ وہ گرے آنکھوں میں کروٹیں بدلتے خوابوں کا پسِ منظر جانتی تھی۔
”ویسے تم یہاں آٸے کیوں ہو؟“ ویرا نے پوچھا۔
”میں خود نہیں آیا میری بد قسمتی مجھے یہاں لاٸی ہے۔“ اس نے منہ بناتے ہوٸے کہا تو وہ ہنس دی۔
”ٹھیک ہے تم یہ کام مکمل کرو جب تک میں ہم سب کے لیے ناشتہ بناتی ہوں۔“ ویرا پلٹ گٸی تو اس نے ایک گہری سانس خارج کی اور اپنی یہاں آمد پہ افسوس کرتا ہوا صفاٸی کرنے لگا۔
*****
وہ تازہ دم ہو کے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا تو لاٶنج میں موجود مسٹر ایڈورڈ پہ نظر پڑی جو سامنے بیٹھے میخاٸل سے کچھ کہتے ہوٸے ناخوش نظر آ رہے تھے۔
”کیا بات ہے ڈیڈ؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟“ وہ ان کی طرف چلا آیا۔
”میرا نہیں خیال کہ اب تم کچھ بھی ٹھیک رہنے دو گے۔“ وہ سخت خفا تھے۔
”آخر مسٸلہ کیا ہے؟ کوٸی مجھے کچھ بتاٸے گا؟“ وہ میخاٸل سے کچھ فاصلہ رکھ کے بیٹھ گیا۔
”تمہاری توجہ کمپنی کے معاملات سے ہٹتی جا رہی ہے۔ اکاٶنٹس میں بے ضابطگیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔“ مسٹر ایڈورڈ نے غصے سے کہا۔
”میرے علم میں ایسا کچھ نہیں آیا۔ آپ۔۔۔“
”کیوں کہ تمہارا علم اور تمہاری عقل محدود ہو چکی ہے۔ کمپنی کے جنرل مینجر کو ان معاملات سے آگاہی ہے مگر تمہیں کچھ خبر ہی نہیں ہے۔“ وہ برس ہی تو پڑے تھے۔
”آپ اطمینان رکھیں میں سب سنبھال لوں گا۔“ اسے میخاٸل کے سامنے اپنی تذلیل گوارہ نہیں تھی جو ٹانگ پہ ٹانگ رکھے دلچسپی سے باپ بیٹے کو الجھتا دیکھ رہا تھا۔
”تم کیا خاک سنبھالو گے؟ کچھ اہم ادویات کے را میٹریل کا اسٹاک بہت کم رہ گیا ہے۔ اس سلسلے میں تم نے کیا پیشرفت کی ہے؟“ انہوں نے ساتھ رکھی ایک فاٸل اٹھا کر اس کی طرف اچھالی جو درمیان میں رکھی میز پر جا گری۔
”اس سلسلے میں کام مکمل ہو چکا ہے۔ ایک یا دو دن میں ہمارے حساب سے بہترین کمپنی کے ساتھ ہماری ڈیل لاک ہو جاٸے گی۔“ رسلان نے انہیں تسلی دی۔
”تم جو بھی کرو لیکن یہ یاد رکھو کہ مجھے دوبارہ ایسی شکایات ہرگز موصول نہ ہوں۔ یہ بزنس ایمپاٸر میں نے کتنی محنت سے بناٸی ہے تم اچھی طرح جانتے ہو۔ اسے ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو میں ہرگز خاموش نہیں رہوں گا۔“ وہ سختی سے کہتے ہوٸے اٹھ کھڑے ہوٸے۔
”ڈیڈ آپ شاید بھول رہے ہیں کہ اس کمپنی کے لیے میں نے کیا کیا کِیا ہے۔ آپ میری محنت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔“ وہ دکھ سے کہتا ہوا ان کے سامنے کھڑا ہوا۔
”اور اب تم اسی محنت کو ڈبونے پہ تلے ہوٸے ہو۔“ وہ طنزاً بولے۔
”ڈیڈ!“ اس نے دکھ سے انہیں دیکھا۔
”ان معاملات کو جلد سلجھاٶ رسلان! ہماری کمپنی کی ساکھ کو کسی قسم کا کوٸی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ دیٹس آل!“ وہ گہری سانس بھر کے ٹھہرے ہوٸے لہجے میں کہتے سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔
رسلان حیرت اور غم کے ملے جلے جذبات لیے ان کی پشت کو دیکھتا رہ گیا۔
”میں بھی چلتا ہوں۔“ میخاٸل اپنے کوٹ کا بٹن بند کر کے اٹھا۔
”رکو!“ رسلان نے اسے آواز دی تو وہ دو قدم فاصلے پہ ٹھہر گیا۔
وہ چلتا ہوٸے اس کے سامنے آیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
”ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟“ میخاٸل نے الجھ کے پوچھا۔
”مجھ سے خوامخواہ کی دشمنی مت پالو میخاٸل!“ وہ بولا تو دسمبر کے اس دن سے زیادہ اس کا لہجہ سرد تھا۔
”اوہ! ورنہ؟ ورنہ تم کیا کرو گے؟“ وہ اسے اکسا رہا تھا۔
”میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو۔ میں پھر یہی کہوں گا کہ مجھ سے، میرے معاملات سے دور رہو اور مجھ سے دشمنی مت پالو!“ رسلان نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کے اسے تھپکتے ہوٸے سنجیدگی سے کہا۔
”تم مجھ سے منت کر رہے ہو؟“ وہ طنزاً مسکرایا۔
”نہیں میں تمہیں وہ مشورہ دے رہا ہوں جو تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ اس کا انداز ناصحانہ تھا۔
”اور اگر میں تمہارا یہ مشورہ نہ مانوں تو؟“ اس نے دلچسپی سے پوچھتے ہوٸے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
رسلان نے افسوس سے نفی میں گردن ہلاتے ہوٸے اسے دیکھا۔ اچانک اس نے ایک ہاتھ بڑھا کے میخاٸل کو گردن سے دبوچا اور اس کا داٸیں کان اپنے لبوں کے قریب کیا۔
”یقیناً تم مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہو۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں دشمنی ختم کرنے پہ یقین نہیں رکھتا۔ اور تم اس سے آگے بھی جانتے ہو۔“ اس نے نرمی سے کہتے ہوٸے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلا۔
”میں یہ یاد رکھوں گا۔“ میخاٸل نے اپنی گردن کو مسلتے ہوٸے اسے مخاطب کیا۔
اس کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا تو رسلان نے ایک گہری سانس اندر اتاری۔
”آخر کیوں یہ لوگ اچھے انسانوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں؟ آخر کیوں جس کے ساتھ جتنا اچھا کیا جاٸے وہ ہمارے ساتھ برا کرنے پہ تلا رہتا ہے؟ ہم جتنی شرافت کا مظاہرہ کریں لوگ اتنی ہی رذالت کیوں دکھاتے ہیں؟ میں محنت کرتا ہوں تو بھی انہیں چبھتا ہوں۔ میں محبت کرتا ہوں تو بھی یہ لوگ میرے دشمن ہیں۔“ وہ تھکے تھکے سے انداز میں خود کلامی کرتا ہوا آنکھیں موندے صوفے پہ ڈھیر ہو گیا۔ آج وہ بہت دکھی اور افسردہ تھا۔
*****
واسل نے میلانا کا کمرہ صاف کر دیا تھا اور اب وہ ویرا کے ساتھ بیٹھا لذیذ ناشتے سے انصاف کر رہا تھا۔ انہوں نے میلانا کا انتظار کیا تھا مگر اس کا جلد باہر آنے کا ارادہ نہیں تھا۔ سو ان دونوں نے اس کا مزید انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
”تم کافی بہت اچھی بناتی ہو۔“ واسل نے تعریف کی۔
”بہت شکریہ! میں کافی شاپ پہ کام کر چکی ہوں۔“ ویرا نے مسکرا کے تعریف وصولی۔
”میں جانتا ہوں۔“ اس نے سر کو خم دیا۔
”مجھے آج کرسمس کی تیاری کے لیے کچھ خریداری کرنی ہے۔ ابھی مجھے مارکیٹ بھی جانا ہے۔“ ویرا نے کلاٸی پر بندھی ہوٸی گھڑی دیکھتے ہوٸے کہا۔
”اوہ! میں اب چلتا ہوں۔“ واسل نے جلدی سے کہا۔
”ارے نہیں، نہیں! میں تو بس یونہی کہہ رہی تھی۔ ابھی ہمارے جانے کا طے کردہ وقت نہیں ہوا۔“ اس نے وضاحت دی۔
”واسل! تم سے ایک بات پوچھوں؟“ ویرا نے کچھ پل توقف کے بعد اسے مخاطب کیا۔
”ہاں ضرور!“ وہ سیدھا ہو بیٹھا۔
”تم یوں سمجھو کہ میں بس ایک معاملے میں تمہاری راٸے جاننا چاہ رہی ہوں۔“ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس موضوع پر بات کیسے شروع کرے۔
”میں سن رہا ہوں ویرا! تم اطمینان سے اپنی بات کہو۔“ اس نے کافی کا مگ میز پہ رکھتے ہوٸے کہا۔
”تم مجھے یہ بتاٶ کہ اگر تمہارے سامنے کوٸی جرم ہو۔۔۔میرا مطلب ہے کہ کوٸی ایسی سرگرمی ہو جو تمہیں مشکوک لگے تو تم کیا کرو گے؟“ ویرا نے اس کے تاثرات کو بغور دیکھتے ہوٸے پوچھا۔
”میں اس معاملے کی تہ تک جانا پسند کروں گا۔ میں پہلے اس سرگرمی کی حقیقت جاننے کی کوشش کروں گا کہ آیا وہ واقعی کوٸی جرم تھا یا صرف میری نظر کا دھوکہ۔“ واسل نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
”اگر تمہارا دل گواہی دے اور تمہارے پاس ایک آدھ معمولی سا ثبوت بھی ہو تو؟“ وہ سب کلیٸر کر لینا چاہتی تھی۔
”جرم کا ثبوت معمولی ہی کیوں نہ ہو جرم کی حیثیت نہیں بدل سکتی۔“ اس نے کہا۔
”اور اگر تمہیں یقین ہو کہ تم مزید ثبوت حاصل کر سکتے ہو تو تم کیا کرو گے؟ اگر مجرم طاقتور ہو اور تمہیں اپنی جان خطرے میں نظر آ رہی ہو تو تم کیا کرو گے؟“ وہ اپنا ارادے کو تشکیل دے رہی تھی۔
”زیادہ جراٸم اور مجرموں کی پشت پناہی طاقتور لوگ ہی کیا کرتے ہیں۔ اگر مجھے علم ہو جاٸے تو میں کسی خوف یا خدشے کی پروا کیے بغیر سچاٸی کا ساتھ دوں گا۔ میں قانون کی مدد سے اس براٸی کا خاتمہ کروں گا۔“ اس کا لہجہ سچا تھا۔
”تم درست کہہ رہے ہو۔ تم نے بہت کچھ سمجھنے میں میری مدد کی ہے، شکریہ!“ ویرا نے سمجھتے ہوٸے سر ہلایا۔
”ویسے خیریت ہے؟ تم ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟ کیا تم کسی جرم کی گواہ ہو؟“ واسل نے آنکھیں سیکڑتے ہوٸے اسے دیکھا۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں تو۔ میں تو بس یونہی ایک ناول پڑھ رہی تھی۔ اس میں ایک کردار اس نہج پہ، اس کشمکش میں مبتلا ہے۔“ ویرا نے جلدی سے کہا۔
”اوہ! پھر اس کردار نے کیا کِیا؟“ واسل نے سمجھتے ہوٸے سر ہلایا۔
”دراصل میں ابھی نصف کہانی ہی پڑھ پاٸی ہوں۔“ اس نے جواب دیا۔
”جب مکمل کر لو تو مجھے ضرور بتانا۔“ واسل نے مسکراتے ہوٸے کہا۔
”ہاں ضرور!“ ویرا بھی مسکرا دی۔
”یہ تم دونوں کس خوشی میں مسکرا رہے ہو؟“ میلانا کی مشکوک آواز نے انہیں چونکایا۔
وہ ان سے کچھ قدم دور کمر پہ ہاتھ ٹکاٸے کچھ دیر پہلے کی نسبت تازہ دم لگ رہی تھی۔
”یہاں مسکرانا منع ہے کیا؟“ واسل نے حیرت سے پوچھا۔
”میرا ناشتہ کہاں ہے؟“ اس نے ویرا کو مخاطب کیا۔
”ناشتہ اتنا لذیذ تھا کہ ہم نے ختم کر دیا۔ آج تمہیں اپنے لیے ناشتہ خود بنانا پڑے گا۔“ ویرا نے خالی برتن اٹھا کے سنک میں ڈالے۔
”ہاں؟ تم نے۔۔۔تم نے میرے حصے کا ناشتہ ہڑپ کیا ہے نا؟“ وہ واسل پہ چڑھ دوڑی۔
”نن۔۔۔نہیں، مجھے تو ویرا نے پیشکش کی تھی۔“ وہ گھبرایا۔
”خدا کرے کہ تمہیں ڈاٸریا۔۔۔“
”میں تمہیں تازہ ناشتہ بنا دیتی ہوں۔ ہم تو بس مذاق کر رہے تھے۔“ اس کی بددعا مکمل ہونے سے قبل ویرا نے گھبرا کے کہا تو اس نے ایک پرسکون سانس اندر اتاری۔
”یہی مناسب ہے۔“
وہ ویرا کی چھوڑی ہوٸی کرسی سنبھال چکی تھی۔ جب کہ واسل دل ہی دل میں خود کو یہاں آنے پر کوس رہا تھا۔
*****
دسمبر کی آخری شاموں کی مخصوص اداسی اس کے دل میں پھیلی ہوٸی تھی۔ انسان بھی اپنی سہولت کے لیے اپنی کیفیات کو موسموں سے منسوب کر دیتا ہے۔ اس کے نزدیک خوشی بہار کا دوسرا نام ہے تو اداسی دسمبر کی زرد دھندلی شاموں کا پرتو ہے۔ موسم کوٸی بھی ہو یہ اندرونی کیفیت پہ منحصر ہوتا ہے کہ اس سے نبرد آزما ہونے والا اسے کیا کہتا ہے۔ کسی کا اصل ہی اداسی ہو تو دسمبر کی سیلن زدہ نمکین شاموں کو معتوب ٹھہرانا زیادتی ہے۔ کسی کا من بجھا بجھا ہے، روح بیزار ہے اور دل رنجور ہے تو اس کے لیے کسی گوری کے بھیگے ہوٸے سیاہ کاجل سی یہ شامیں اداسی و نحوست کا کنایہ ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر کسی کا من کھلا کھلا ہے، روح سرشار ہے اور دل مسرور ہے تو اس کے لیے یہ شامیں رومان کا استعارہ ہوتی ہیں۔
وہ اپنے اندر کی مستقل کیفیت کو سہج سہج چلتے دسمبر کی شام کی بے رخی کا شاخسانہ بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ اپنے بھربھرے وجود کو یکجا کرنے کی کوشش کرتی وہ نم فضا میں اپنی سانسوں کی تبادلہ کر رہی تھی۔
”میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں اور تم یہاں موسم سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔“ ارون اسے ڈھونڈتا ہوا ٹیرس تک آیا تو اسے اپنے آپ میں محو پایا۔
”ستم گر موسم بھلا کسے محظوظ کر سکتا ہے۔“ وہ اداسی سے مسکرا کے پلٹی۔
”تمہیں اس سردی میں یہاں نہیں کھڑے ہونا چاہیے۔ تم بیمار پڑ جاٶ گی۔“ ارون نے دانستہ اس کی بات کو نظر انداز کیا۔
”میرا دل بیمار ہے ارون! اب جسم بھی بیمار پڑ جاٸے تو کیا فرق پڑتا ہے۔“ اس نے سرخ پڑتے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا۔
”اولیانا! کبھی کبھی تو تمہاری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔“ ارون نے منہ بناتے ہوٸے کہا۔
”وہ اس لیے کہ میری کہی گٸی باتوں کا تمہارے سر کے اندر اترنا ناممکن ہے۔ انہیں سمجھنے کے لیے سر کے اندر بھی تو کچھ ہونا چاہیے۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
”ہاں؟ تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟“ وہ الجھا۔
”دیکھو تم نے میرا دعویٰ فوراً سے سچ کر دکھایا۔“ اولیانا نے اس کا شانہ تھپکا۔
”میں سمجھ نہیں پا رہا کہ تم میری تعریف کر رہی ہو یا تذلیل۔“ وہ مشکوک تھا۔
”ان سب باتوں کو چھوڑو اور یہ بتاٶ کہ تم مجھے ویرا سے کب ملوا رہے ہو؟“ اولیانا نے دونوں بازو سینے پہ لپیٹے ہوٸے پوچھا۔
”اوہ خدا! میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں بھول جاتا ہوں۔“ اس نے ماتھا پیٹتے ہوٸے اپنی عقل پہ ماتم کیا۔
”تم خود تو اس سے ملنا یا بات کرنا تو نہیں بھولتے ہو۔ یہ کوٸی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔“ اولیانا نے خفگی سے گھورا۔
”اوہ اولیانا! تم خود بھی تو کسی پارٹی یا گیدرنگ میں جانا پسند نہیں کرتی ہو۔ تمہیں اس سے اکیلے میں ملنا ہو تو اس کے لیے مجھے انتظام کرنا ہو گا نا۔“ کچھ حد تک وہ درست کہہ رہا تھا۔
”تم اپنے دوستوں کو کسی دن کھانے کے لیے مدعو کرو نا!“ اس نے مشورہ دیا۔
”تاکہ مسٹر ایڈورڈ اپنے ہٹے کٹے ملازمین سے کہہ کر انہیں باہر پھنکوا دیں۔ میں نے اسی لیے اپنے دوستوں کو کرسمس پارٹی پر بھی مدعو نہیں کیا تھا۔“ اس نے منہ بناتے ہوٸے کہا تو وہ ہنس دی۔
”اب وہ ایسے ظالم بھی نہیں ہیں۔“ اس نے اسے تسلی دی۔
”کیا یہ تم کہہ رہی ہو؟“ اس نے کچھ جتاتے ہوٸے انداز میں پوچھا۔
”کوٸی اور بات کرو ارون!“ اس کا لہجہ بھیگنے کو تھا۔
”ٹھیک ہے۔ ابھی تو ہمارے امتحانات سر پر ہیں۔ سمیسٹر بریک ہوتے ہی میں تمہیں ویرا سے ضرور ملواٶں گا۔“ ارون نے مسکراتے ہوٸے پلان ترتیب دیا۔
”یہ مناسب ہے۔“ وہ بھی مسکرا دی۔
”تم نے اسے کرسمس پر کوٸی تحفہ دیا؟“ اولیانا نے سرسری سا پوچھا۔
”ہاں میں نے اسے ڈھیر ساری چاکلیٹس، پرفیومز، ایک شرٹ، ایک کتاب اور ایک کارڈ گفٹ کیا تھا۔ جب کہ اس نے مجھے ایک شیونگ کٹ دی تھی۔“ ارون نے خوشی سے بتایا۔
”تمہیں اسے گولڈ یا ڈاٸمنڈ کا کوٸی گفٹ بھی دینا چاہیے تھا۔“ اولیانا نے سر ہلاتے ہوٸے کہا۔
”لیکن اسے وہ تحفے بہت پسند آٸے تھے۔“ وہ سچ کہہ رہا تھا۔
”یہ اچھی بات ہے کہ وہ دولت پرست نہیں ہے۔“ وہ مسکرا دی۔
*****
وہ اس وقت تہ خانے میں موجود تھے۔ وسط میں رکھی میز کے گرد تین کرسیاں موجود تھیں۔ زہوک جلدی جلدی کافی کے گھونٹ بھرتا لیپ ٹاپ کے ساتھ مصروف تھا۔ سیم ان کے لیے ابھی ابھی کافی بنا کے لایا تھا سو ایبن اور سیم پورے انہماک سے کافی پینے میں مشغول تھے۔
”ایبن کیا تمہیں وہ لڑکی یاد ہے؟“ زہوک نے مصروف سے انداز میں پوچھا۔
”کون سی لڑکی؟“ اس نے یونہی پوچھ لیا۔
”جسے کچھ دن قبل بے ہوش ہونے پہ تم نے اپنی آغوش میں لیا تھا اور۔۔۔“
”اچھا، اچھا! کیا ہوا اسے؟“ ایبن نے گھبرا کے اسے ٹوکا تو سیم مسکرا دیا۔
”وہ تم سے ملنا چاہتی ہے۔“ وہ ہنوز کی بورڈ کے بٹنوں سے کھیل رہا تھا۔
”کیوں؟“ اس نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوٸے پوچھا۔
”وہ تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔“ اس نے جواب دیا۔
”حالاں کہ وہ میرا شکریہ پہلے ہی ادا کر چکی ہے۔“ اس نے ابرو سکیڑے۔
”کیا؟ وہ کب؟“ زہوک نے سر اٹھایا۔
”تمہی نے تو اس کا پیغامِ تشکر مجھ تک پہنچایا تھا۔“ اس نے گھورتے ہوٸے کہا تو وہ گڑبڑایا۔
”اوہ! میں بھول گیا تھا۔ لیکن اب وہ تم سے ملنا چاہتی ہے۔ تم اس سے ایک بار مل لو نا!“ اس نے سفارش کی۔
میلانا اسے بار بار درخواست کر رہی تھی کہ وہ ایبن اور اس کی ایک ملاقات کروا دے۔ نہ چاہتے ہوٸے بھی زہوک نے اس سے وعدہ کر لیا تھا اور اب وہ اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔
”ہاں ایبن! ایک بار ملنے میں کیا ہرج ہے؟ تمہیں اس سے ضرور ملنا چاہیے۔“ سیم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاٸی۔
”تم دونوں آخر کیا چاہ رہے ہو؟“ ایبن نے مشکوک انداز میں ان دونوں کو دیکھتے ہوٸے پوچھا جو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
”تمہاری خوشی!“ زہوک نے دھیرے سے کہا۔
”تم نے کیا کہا؟“ اس نے آنکھیں سکیڑیں۔
”میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہماری خوشی کے لیے ایک بار اس لڑکی سے ملنے میں کیا مضاٸقہ ہے؟ دراصل میں اس سے وعدہ کر چکا ہوں کہ تمہیں اس سے ملنے پر راضی کر لوں گا۔“ زہوک نے معصومیت سے کہا۔
”تمہیں بنا مجھ سے پوچھے ایسا کوٸی بھی وعدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔“ اس نے برا مناتے ہوٸے کہا۔
”لیکن بھاٸی اب تو کر لیا ہے۔ مجھے اس لڑکی کے سامنے شرمندہ مت ہونے دو۔“ شاید وہ اسے پہلی بار اتنا معصوم لگا تھا۔
”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ میں اس سے مل لوں گا۔ اب تم اپنے کام پر دھیان دو!“ اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
”بھاٸی تم بہت اچھے ہو۔ خدا کرے کہ جلد تمہاری زندگی میں ڈھیر ساری خوشیاں آٸیں۔“ وہ واقعی خوش ہو گیا تھا۔
سیم اور ایبن اسے یوں خوش ہوتا دیکھ کر مسکرا دیے۔
”یہ دیکھو! میں نے کر لیا ہے۔“ کچھ دیر بعد زہوک جوش سے چلایا۔
ایبن نے سنجیدگی سے لیپ ٹاپ کو اپنی طرف گھماتے ہوٸے نظریں سکرین پر جماٸیں۔
”تم لوگوں کو یاد ہے نا کچھ دن قبل ایک لڑکی کی ادھ جلی لاش ریکور کی گٸی تھی۔“ ایبن نے سنجیدگی سے کیا۔
”ہاں جو ایک دور دراز کے گاٶں سے یہاں نوکری کی تلاش میں آٸی تھی اور جس کی لاش کو ایک جھیل کے قریب کسی جھُنڈ سے ریکور کیا گیا اور اسے ایک حادثہ قرار دیا گیا تھا۔“ سیم نے جلدی سے کہا۔
”ہاں بالکل! اور ہمیں مارک کا کردار بھی یاد ہے۔“ زہوک نے اثبات میں سر ہلاتے ہوٸے کہا۔
”شاید میں اس نامعلوم مجرم کا مقصد جان چکا ہوں۔“ کچھ پل توقف کے بعد ایبن بولا تو وہ دونوں ساکت رہ گٸے۔
”کیا؟ کیا مطلب؟ کیا تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ تم ان سانحات کا محرک جان چکے ہو؟ یعنی کہ تم ملزم کا مقصد جان چکے ہو کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟“ وہ دونوں ایک ساتھ بولے۔ تجسس انہیں اپنی لپیٹ میں لیے ہوٸے تھا۔
”وہ ملزم نہیں مجرم ہے۔“ اس کا لہجہ بے لچک تھا۔
”کیا تم اسے بھی جانتے ہو؟“ وہ حیران تھے۔
”اس نامعلوم شخص کا جرم واضح ہے سو وہ ملزم نہیں مجرم ہے۔ وہ کیوں کر رہا ہے اور اسے اس سے کیا مل رہا ہے، ہم یہ جان چکے ہیں۔ بس اب یہی معلوم کرنا باقی ہے کہ یہ کون کر رہا ہے۔ شاید ہم جلد ہی اسے گردن سے دبوچ لیں۔“ اس کے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی۔
”اب کیا تم ہمیں اس کا مقصد بتانا پسند کرو گے؟“ سیم جاننے کے لیے بے چین تھا۔
”ہاں! تو پھر سنو کہ وہ جو کوٸی بھی ہے وہ ان لڑکیوں کو اغوا کر کے۔۔۔“
وہ بتاتا جاتا تھا اور ان کی آنکھیں فرطِ حیرت سے پھٹتی جاتی تھیں۔ وہ بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھتے نفی میں سر ہلاتے ہوٸے بس یہی کہے جا رہے تھے:
”کوٸی اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟“
*****
یونیورسٹی میں ان کا مخصوص قطعہ آج بھی اتنا ہی پرسکون تھا جتنا پہلے دن تھا۔ نیا سال ان کی زندگی کے در پہ دستک دینے کو بے تاب کھڑا تھا۔ ان کے امتحانات سر پر تھے۔ ارون اور واسل کوٸی اہم موضوع ڈسکس کر رہے تھے جب کہ میلانا کچھ مسنگ لیکچرز کو کور کرنے کے بارے میں سوچ سوچ کے ہلکان ہو رہی تھی۔
”او خدا! تم دونوں کتنا بولتے ہو۔ میں بیزار ہو رہی ہوں۔“ اس نے تھک کے ٹھوڑی گھٹنے پہ ٹکاٸی۔
”تو اب کیا امتحانات کی تیاری چھوڑ کر تمہاری بیزاریت کو دور کرنے کے لیے ہم یہاں سرکس کے جانوروں کی طرح کرتب پیش کریں؟“ واسل نے برا مناتے ہوٸے کہا۔
”تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم دونوں کو اپنے اندر کے جانوروں کو ظاہر کرنے کے لیے کرتب کرنے کی ضرورت پڑے گی؟“ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”میں تمہیں جانور لگتا ہوں؟“ اسے صدمہ ہی تو پہنچا تھا۔
”دیکھو میلانا! اسے تم جو بھی کہو میں ایک انتہاٸی ہینڈسم لڑکا ہوں۔ براہِ کرم میرے بارے میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے گریز کرو!“ ارون نے اپنی جیکٹ کو جھاڑتے ہوٸے اک ادا سے کہا تو واسل کا منہ کھلا رہ گیا۔
”بس کرو! تم دونوں انتہاٸی بور ہوتے جا رہے ہو۔ داٶد کتنا اچھا تھا۔ میں اسے جی بھر کے تنگ کرتی تھی۔ کم از کم میں اس موٹے سے مذاق تو کر لیتی تھی۔“ اسے آج داٶد کی یاد آ گٸی تھی۔
”ہاں اس کی جسامت، اس کے حلیے اور چال ڈھال پہ طنز کرنے کو تم مذاق کہتی ہو۔“ ارون نے کہا۔
”میں بس مذاق کرتی تھی ارون!“ اس نے مذاق کرنے پہ زور دیا۔
”مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں بہت فرق ہوتا ہے میلانا!“ واسل نے سنجیدگی سے کہا۔
”میرا نہیں خیال کہ اس نے کبھی بھی میری کسی بات کا برا منایا ہو۔ تم دونوں جان بوجھ کر مجھے گلٹ کا شکار کرنا چاہتے ہو۔“ اس نے منہ بنایا۔
”ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں نے محض ایک بات کی ہے تاکہ آٸندہ تمہیں کسی کو اس کے ظاہری حلیے یا خد و خال کو موضوع بنا کر مذاق کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ مذاق کرنے کے لیے، ہنسنے کے لیے اور بھی کٸی موضوعات ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہماری حسِ مزاح کی تسکین کسی کو موٹا، پتلا، ٹھگنا، لمبا، کالا، پیلا یا کچھ بھی ایسا کہہ کر ہی ہو۔ ہماری حسِ مزاح بھی کسی بھوکے بھیڑیے سی ہوتی ہے۔ ہم اس بھیڑیے کے سامنے جو بھی شکار کر کے ڈالتے رہیں گے یہ اسی کو کھانے کا عادی ہو جاٸے گا۔ اگر ہم اس کے سامنے ایک بار کسی کی عزتِ نفس کے ٹکڑے ڈالیں گے تو اس کے لبوں کو اسی کا خون لگ جاٸے گا۔ پھر ہم لاکھ کوشش کر لیں جب تک ہم کسی کی جسمانی حالت، ظاہری شکل و صورت یا کمزوریوں کو اپنے الفاظ کے پنجوں میں لے کے نہیں ادھیڑیں گے اس بھیڑیے کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ مزاح زندگی کی روانی کا سبب ہے۔ ہمیں مذاق کرنا چاہیے مگر کسی کی کمزوریوں کی بنیاد پر اس کا مذاق اڑانا نہیں چاہیے۔“ وہ بولا تو بولتا چلا گیا۔
جب کہ میلانا اس کی گرے آنکھوں میں ٹھہرے سکون کو دیکھتی چلی گٸی۔ ارون نے ستاٸش بھرے انداز میں واسل کو دیکھا۔
”ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟“ اس کو خاموشی سے اپنی جانب بغور دیکھتے ہوٸے دیکھ کر واسل نے پوچھا۔
”میں شاید تمہیں کبھی بھی سمجھ نہیں پاٶں گی۔“ میلانا نے ایک گہری سانس خارج کی۔
”میں اتنا مشکل بھی نہیں ہوں کہ سمجھ ہی نہ آٶں۔“ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
”تم اتنے سہل بھی نہیں ہو کہ فوراً سمجھ آ جاٶ۔“ اس نے اعتراف کیا۔
”تو تم تسلی سے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اتنی جلدی کس بات کی ہے؟“ وہ ہنس دیا۔
اس سے قبل کہ میلانا اسے جواب دیتی ارون کا فون بج اٹھا۔
”سنو! داٶد کی کال ہے۔“ اس نے خوش گوار حیرت سے سکرین کو دیکھتے ہوٸے بتایا۔
گو کہ ان تینوں نے اس دوران اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بات نہیں کر پاٸے تھے۔
”کیا سچ میں؟ کال اٹینڈ کرو نا!“ میلانا اور واسل نے بے صبری سے کہا۔
وہ اس سے ویڈیو کال پہ بات کر رہے تھے۔ داٶد کافی مضمحل اور شکستہ لگ رہا تھا۔ اس نے انہیں اپنے والد کے انتقال کی خبر سناٸی تھی۔ اب وہ اپنے باپ کا کاروبار اور اپنی فیملی کو سنبھال چکا تھا۔ وہ دیکھ سکتے تھے کہ ذمہ داریوں کے احساس نے ہر وقت سجے سنورے رہنے والے، اپنی دھن میں بے فکری سے بہنے والے محمد داٶد کو کتنا مختلف انسان بنا دیا تھا۔ وہاں موجود دو لوگوں کو اس کا غم بالکل اپنا غم لگا تھا۔ وہ جو باپ کو کھو چکے تھے اس کی کیفیت کو محسوس کر رہے تھے۔ غم کی ایک خاص بات ہے کہ یہ جب بھی کسی نٸے شخص کو ملے گزشتہ شخص بھی اس کی موجودگی کو پوری طرح محسوس کر کے ویسے ہی رو دیتا ہے جیسے خود کو ملنے پر رویا تھا۔
جبراً مسکراتا، ان کی خیریت پوچھتا وہ کیسا اجنبی سا لگ رہا تھا۔ شاید اس کی خوش خوراکی کی عادت بھی چھوٹ چکی تھی کہ وہ پہلے کی نسبت کافی نحیف لگ رہا تھا۔
ارون اور واسل اس کی دلجوٸی کر رہے تھے جب کہ میلانا افسوس سے اسے دیکھ رہی تھی۔ تبھی اس کے بیگ میں تھرتھراہٹ ہوٸی۔ اس نے بے دلی سے موباٸل فون نکال کے دیکھا۔ سکرین پہ روشن ہوٸے پیغام کو بے یقینی سے دیکھتی وہ مسکرا دی۔ بالآخر وہ اس سے ملنے کے لیے مان ہی گیا تھا۔
*****
وہ ٹرام اسٹیشن سے اتر کے اپنے فلیٹ کی جانب بڑھی ہی تھی کہ اسے اپنے عقب میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ دھندلی شام نے حدِ نظر کو کم کر دیا تھا۔ گلی میں لیمپ پولز نے اپنے مخصوص رنگوں کا اجالا بکھیر رکھا تھا۔ وہ نسبتاً کم اجلے حصے میں تھی جب اس کی پشت پر کوٸی آہٹ ابھری اور وہ ٹھہر کے پلٹی۔
”یہ تمہارے لیے ہے۔“ اس سیاہ جیکٹ اور جینز میں ملبوس شخص نے ایک چھوٹا سا سیاہ پیکٹ اسے تھمایا۔
”تمہارا شکریہ!“ ویرا نے جلدی سے وہ پیکٹ اپنے بیگ میں ڈالا اور پلٹ کے قدم اپنے فلیٹ کی جانب بڑھاٸے۔
یہ سب اس قدر اچانک ہوا تھا کہ محسوس ہی نہ ہو پایا کہ ان دونوں نے آپس میں کوٸی بات کی ہے۔
”آخر تم کیا کرنا چاہتی ہو؟“ وہ اس سے ایک قدم کا فاصلہ رکھ کے یوں چل رہا تھا گویا دو انجان لوگ اپنی اپنی منزل کی طرف گامزن ہوں۔
”میں سچاٸی اور انصاف کا ساتھ دینا چاہتی ہوں۔ میں مجرموں اور گنہ گاروں کو بے نقاب کرنا چاہتی ہوں۔“ وہ غیر متزلزل لہجے میں گویا ہوٸی۔
”اس میں بہت خطرہ ہے ویرا!“ وہ متفکر تھا۔
”تم فکر مت کرو اینڈرے! میں قانون کی مدد لوں گی۔ میں تمام شواہد قانون کو فراہم کروں گی۔“ وہ ناک کی سیدھ میں چل رہی تھی۔
”وہ بہت طاقتور ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں کسی قانون کے رکھوالے کی ہی پشت پناہی حاصل ہو۔ ورنہ تم خود سوچو کہ اتنا بڑا جرم کوٸی کیسے کر سکتا ہے۔“ وہ سچ کہہ رہا تھا۔
”میں اپنے حصے کا کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں جرم کو انجام پاتے دیکھ کر گونگے، بہرے اور اندھے لوگوں کی طرح بیٹھی نہیں رہ سکتی۔ میں قانون کی مدد کر کے اپنا فرض ادا کروں گی۔ اس سے آگے ذمہ داران کو سزا دینا قانون کا کام ہے۔“ وہ فیصلہ کر چکی تھی۔
”تمہارا ارادہ اور مقصد نیک ہے۔ میں دعا کروں گا کہ خدا تمہاری مدد کرے۔“ اس نے ایک گہری سانس اندر اتاری۔
”تم فکر مت کرو! اس معاملے میں تمہارا کہیں بھی ذکر نہیں آٸے گا۔“ اس نے اسے تسلی دی۔
”یہ وہ تمام ثبوت ہیں جو میں نے جان پر کھیل کر اکٹھے کیے ہیں۔ کچھ تصاویر اور دیگر تفصیلات حاصل کرنے میں میں میرے ایک دوست نے میری مدد کی ہے۔“ اس نے اسے آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔
”کیا وہ قابلِ اعتماد ہے؟“ ویرا نے پوچھا۔
”ہاں وہ ایک اچھا انسان ہے۔“ اینڈرے نے یقین سے کہا۔
”تم پُرسکون رہو۔ آج کے بعد ہم اس موضوع پر کوٸی بات نہیں کریں گے۔ اب تم جاٶ!“ اس کی عمارت سامنے ہی تھی سو اس نے اینڈرے کو الوداع کہا اور وہ یونہی انجان بنا آگے بڑھ گیا۔
*****
شام ڈھل چکی تھی۔ رات منسک شہر کو اپنی آغوش میں لیے تھپک رہی تھی مگر وہ سونے سے انکاری تھا۔ آج ہر طرف معمول سے زیادہ ہلچل تھی۔ سب نٸے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے بے تاب تھے۔ ان گنت نظریں اپنا مقرر کردہ سفر طے کرنے کے لیے تیز تیز بھاگتی گھڑی کی سوٸیوں پہ جمی ہوٸی تھیں کہ کب بارہ بجیں اور نٸے سال میں قدم رکھا جاٸے۔ آج وہ دل لگا کے تیار ہوٸی تھی۔ وہ پہلی بار ایبن سے مکمل ہوش و حواس میں ملنے آٸی تھی۔ رسلان نے اسے بونڈرز پیلس میں ہونے والی نٸے سال کی تقریب میں مدعو کیا تھا مگر اس نے بالکل ویسے ہی معذرت کر لی تھی جیسے کرسمس پارٹی میں جانے سے کی تھی۔ ویرا کو مدعو کرنے کی بجاٸے ارون اس کے لیے تحاٸف لے کر اس سے ملنے آ گیا تو میلانا نے بھی اس تقریب میں نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگلی صبح رسلان بیش قیمت تحاٸف کے ساتھ اس سے ملنے آیا تھا مگر وہ اسے کوٸی تحفہ نہ دے پاٸی۔
”امید کرتا ہوں کہ تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔“ وہ اپنے خیالوں میں کھوٸی ہوٸی تھی جب اس کی پشت پر ایک گھٹی گھٹی سی آواز ابھری۔
چند گہری گہری سانسیں اپنے اندر اتار کر وہ پلٹی۔ وہ اس سے چند قدموں کے فاصلے پر اپنے مخصوص حلیے میں موجود تھا۔ جینز، ہاٸی نیک، ہڈ والی جیکٹ اور منہ کو اچھے سے لپیٹے ہوٸے مفلر نے اس کی شناخت مشکل بنا رکھی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں تھے۔ اس کے پورے وجود میں بس ان کی آنکھیں ظاہر تھیں۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
”کیا تم نے مجھے یہاں میرا معاٸنہ کرنے کے لیے بلایا ہے؟“ شاید وہ اس کے یوں دیکھنے پر خفا ہوا تھا۔
”نن۔۔۔نہیں، تمہاری آنکھیں۔۔۔“ وہ الجھی ہوٸی تھی۔
”پیاری ہیں۔“ اس نے سادگی سے جملہ مکمل کیا۔
”نہیں!“ وہ کچھ سوچ رہی تھی۔
”یہ تمہارا ذاتی خیال ہے۔ حالاں کہ میری ماں کو میری آنکھیں بہت پسند ہیں۔“ سیاہ آنکھوں میں سکون ہی سکون تھا۔
”میں ایک ہی جگہ کھڑا نہیں رہ سکتا۔ تمہیں مجھ سے بات کرنے کے لیے میرے ساتھ چلنا پڑے گا۔“ وہ پرسکون لہجے میں کہتا ہوا آگے بڑھ گیا تو وہ چونک کے پیچھے ہو لی۔
”اس دن تم نے میری جان بچاٸی، اس کے لیے میں تمہاری شکر گزار ہوں۔“ میلانا نے گفتگو کا آغاز کیا۔
”تمہاری جگہ کوٸی بھی ہوتا میں اس کی مدد کرتا۔ اس کے علاوہ کوٸی اور بات ہے تو کرو!“ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، سر جھکاٸے اپنے ساٸے کو کچلتا وہ آگے بڑھ رہا تھا۔
”میں جانتی ہوں کہ تم ایک ہمدرد انسان ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ تم کمزوروں کی مدد کرتے ہو۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ تم براٸی اور برے لوگوں کے خاتمے میں پیش پیش رہتے ہو۔“ اس سے قدم ملانے کے لیے اسے تیز تیز چلنا پڑ رہا تھا مگر وہ پھر بھی اس سے دو قدم پیچھے تھی۔ آس پاس گزرنے والے لوگ اگر ٹھہر کے دیکھتے تو یہی گمان کرتے کہ ایک لڑکی ایک لڑکے کا پیچھا کر رہی ہے۔
”اگر یہ میری تعریف تھی تو میں اسے بخوشی وصول کرتا ہوں۔“ اس کی بے نیازی اپنی جگہ تھی۔
”کیا تم میرے ایک سوال کا جواب دے سکتے ہو؟“ اس نے کچھ سوچتے ہوٸے پوچھا۔
”پوچھو!“ اس کا لہجہ حکمیہ تھا۔
”تمہارے تو ان گنت دشمن ہیں۔ ان میں سے طاقتور دشمن بھی ہوں گے۔ مجھے بتاٶ کہ اگر کوٸی دشمن طاقتور ہو اور ہم کمزور ہوں تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم طاقتور کیسے بن سکتے ہیں؟“ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے اس نے رازداری سے پوچھا تو وہ ٹھہر گیا۔ وہ چونک کے پلٹا ہی تھا کہ اپنی دھن میں چلتی وہ اس کے سینے سے جا ٹکراٸی۔
ایک لمحہ تھا جو ان کے درمیان اچانک سے آیا اور ٹھہر گیا۔ اس کی پیشانی اس کے چوڑے سینے پہ یوں ٹکی تھی گویا وہ سجدہ ریز ہو۔ وہ اس کی بلند ہوتی دھڑکنوں کا شور سن سکتی تھی۔ گاڑیوں اور لوگوں کا شور تھم گیا تھا۔ مصنوعی روشنیاں تیز ہو گٸی تھیں۔ نیامیہ سٹریٹ کے اس کنارے پہ ایک زندہ لمحے نے جنم لیا تھا۔ ایسے لمحے دو دلوں کی دھڑکنوں کے بہم ہونے کے لیے بنتے ہیں۔ مگر وہ تو انجان تھے اور انہیں ایک مختصر سی ملاقات کے بعد ہمیشہ کے لیے الگ الگ راستوں پہ چلنا تھا۔ وہ دو الگ دنیاٶں کے باشندے تھے سو یہ جادوٸی لمحہ ان کے لیے بے اثر تھا۔
”میں معذرت چاہتی ہوں۔“ وہ سنبھل کے پیچھے ہٹی۔
”ہاں۔۔۔ہاں، ٹھیک ہے، کوٸی بات نہیں۔“ اس کا چہرہ عیاں تھا نہ اس کے تاثرات۔
”دیکھو۔۔۔“
”میلانا، میلانا یگور!“ اس نے جلدی سے اپنا نام بتایا۔
”ہاں تو میلانا یگور کسی بھی طاقتور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے جتنا طاقتور ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ ہم بنا اس کے برابر آٸے بھی اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔“ ایک ایک لفظ ٹھہر ٹھہر کے ادا کرتا ہوا وہ اس کے عین سامنے کھڑا تھا۔
”وہ کیسے؟“ وہ ساکت کھڑی اسے بولتا دیکھ رہی تھی۔
”اس اپنے برابر لا کے۔ اگر ہم اس کے جتنے طاقتور نہیں ہو سکتے تو کیا ہوا؟ ہم اسے اپنے جتنا کمزور تو کر سکتے ہیں نا!“ وہ بول رہا تھا۔
”ہم کسی طاقتور کو کمزور کیسے کر سکتے ہیں؟“ وہ سن رہی تھی۔ وہ اسے سننا چاہتی تھی۔
”دشمن جتنا بھی طاقتور ہو وہ ہوتا انسان ہی ہے۔ اس کی بھی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ اس کی کمزوریاں ڈھونڈو اور اسے کمزور کر دو۔ ہر شخص کا کوٸی نہ کوٸی ویک پواٸنٹ ہوتا ہے۔ اس کے ویک پواٸنٹ پہ پے در پے وار کرو تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔“ اس کی آنکھوں میں سختی در آٸی تھی۔
”اور اگر کسی کی کمزوری محبت ہو؟“ اس کے لب کپکپاٸے۔
”تو پھر اسے اتنی محبت دو کہ وہ اپنے آپ سے اور ساری دنیا سے بیگانہ ہو جاٸے۔ اس کو محبت میں اس قدر کمزور کر دو کہ اس کی عقل ساتھ چھوڑ جاٸے اور وہ دیوانہ ہو جاٸے۔ ایک شاطر اور حاضر دماغ دشمن کی نسبت کسی پاگل اور مخبوط الحواس دشمن کو ختم کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔“ اس کا ہر جملہ نپا تلا ہوا تھا۔
”اور اگر وہ چوکنا ہو جاٸے تو؟“ وہ الجھی ہوٸی تھی۔
”دنیا میں اتنے قتل کسی اور شے سے نہیں کیے گٸے جتنے اعتبار کے ہتھیار سے کیے گٸے ہیں۔ اپنے دشمن کو خود پر اعتبار دلانا سیکھو اور اسے ادھ موا کر دو! کسی کو گولی سے مارا جاٸے تو ایک لمحہ لگتا ہے۔ لیکن کسی کو اعتبار کا سلو پواٸزن دیا جاٸے تو مرنے والے کی آنکھوں میں جو حیرت، جو کرب اور جو تکلیف ہوتی ہے اسے دیکھنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔“ وہ یوں بولا گویا اسے واقعی مزہ آ رہا ہو۔
”بہت شکریہ! تم نے میری بہت سی الجھنیں دور کر دی ہیں۔“ وہ کچھ پل توقف کے بعد بولی۔
”تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟ تمہیں دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ تمہارا کوٸی دشمن ہے جس کے بارے میں تم اتنے خطرناک ارادے رکھتی ہو۔“ وہ آنکھیں سکیڑ کے اسے بغور دیکھ رہا تھا۔
”میں بس تمہارے کام کرنے کا طریقہ جاننا چاہ رہی تھی ورنہ میرے پاس ان سب باتوں کے لیے وقت نہیں ہے۔“ اس نے ایک ادا سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوٸے کہا۔
”میں اعتبار کر لیتا ہوں۔“ اس نے سادگی سے کہا۔
”تمہیں واقعی ہی کر لینا چاہیے کیوں کہ۔۔۔“
اس سے قبل کے وہ اپنی بات مکمل کرتی اس کا موباٸل فون بجا۔ اس سے معذرت کر کے وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور پلٹ کے کال اٹینڈ کی۔
”ہاں! نہیں۔۔۔دراصل میری طبیعت کچھ ناساز تھی۔ میں کسی سڑک پر کیوں رکوں گی؟ ہاں میں گھر پہ ہی ہوں۔ کیسا شور؟ مجھے تو سناٸی نہیں دے رہا۔ یہاں مکمل سناٹا ہے۔ نہیں تمہیں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔“ وہ کال کاٹ کے پلٹی تو وہ حیرت اور بے یقینی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”تم جھوٹ بھی بولتی ہو؟“ وہ حیران تھا۔
”حسبِ ضرورت!“ اس نے اِدھر اُدھر متلاشی نظروں سے دیکھتے ہوٸے کہا۔
”تم عجیب ہو!“ اس نے اعتراف کیا۔
”میں غریب بھی ہوں۔“ اس نے منہ لٹکایا تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
”میں چلتا ہوں۔“ وہ پلٹا۔
”سنو!“ وہ پکاری۔
”بولو!“ وہ بنا مڑے تھم گیا۔
”اگر مجھے کبھی تمہاری مدد کی ضرورت پڑے۔۔۔“
”تو مجھے بلا لینا۔“ اس نے اس کی بات کاٹی۔
”تمہارا شکریہ!“ وہ واقعی مشکور تھی۔
”تم کٸی بار کر چکی ہو۔“ وہ سادگی سے کہہ کے آگے بڑھ گیا تو وہ مخالف سمت چل دی۔
سڑک کی دوسری جانب سگنل پہ رکی گاڑی میں بیٹھا رسلان الجھن کا شکار تھا۔ اس نے میلانا کو ابھی ابھی کسی کے ساتھ سڑک کنارے کھڑے دیکھا تھا۔ اس نے تصدیق کے لیے اسے کال کی تھی مگر سامنے آ کے رکتی گاڑیوں اور رش کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں پایا تھا۔ جب سگنل کھلا اور گاڑیاں سامنے سے ہٹیں اس جانب کوٸی بھی نہیں تھا۔ اس نے کچھ سوچتے ہوٸے ایک نمبر ملایا۔
”ویرا! کیا میلانا سے بات ہو سکتی ہے؟“
”اس کی طبیعت کچھ ناساز ہے۔ وہ ابھی آرام کرنے کی غرض سے لیٹی ہے۔ کیا میں اسے اٹھا دوں؟“ دوسری جانب ویرا نے دانت پیستے ہوٸے جھوٹ بولا۔
”نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا نمبر بند جا رہا تھا اسی لیے میں نے تمہیں کال کی۔ اپنا خیال رکھنا!“ اس نے جلدی سے کہہ کے کال کاٹ دی۔
”اففف! آج کل میں کچھ بھی سوچنے لگا ہوں۔ شاید وہ مجھے ہر طرف نظر آنے لگی ہے۔“ خود کلامی کرتے ہوٸے وہ مسکرا دیا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی کہ اسے گھر میں ہونے والی تقریب میں شریک ہونا تھا۔
دوسری جانب ویرا نے میلانا کو غاٸبانہ صلواتیں سناٸیں جس نے میسج کر کے اسے درخواست کی تھی کہ اگر رسلان اسے کال کر کے میلانا کے بارے میں پوچھے تو وہ اسے وہی سب بتاٸے جو میلانا بتا چکی تھی۔
*****
اس کے لیے اتوار کا دن اپنے ساتھ ڈھیر ساری سستی لے کر آیا تھا۔ خلافِ معمول وہ الجھا الجھا اور شکستہ سا تھا۔ اس کا دو کمروں کا فلیٹ خستہ سہی مگر نہایت نفاست اور سادگی سے سجا ہوا تھا۔ فلیٹ کی حالت کے برعکس وہ اس کی صفاٸی ستھراٸی کا خاص خیال رکھتا تھا۔ وہ نیلی جینز اور جرسی میں ملبوس اپنے کچن میں کھڑا اپنے لیے کافی بنا رہا تھا جب ڈور بیل نے اس کی توجہ کھینچی۔ کوٸی مسلسل گھنٹی بجا رہا تھا۔ وہ بے دلی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا دروازے تک آیا اور آہستگی سے اسے کھولا۔ سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر اس نے بے یقینی سے اپنی آنکھوں کو مسلا۔
”کیا تمہیں حنوط کر دیا گیا تھا؟“ وہ بولی تو اسے کچھ کچھ یقین آیا۔
خلافِ معمول وہ نہایت نکھری نکھری، تازہ دم اور صاف ستھری لگ رہی تھی۔ سیاہ جینز اور پنک ہاٸی نیک پہ سیاہ لانگ کوٹ اور سیاہ ہی جوگرز پہنے، بالوں کو ٹیل پونی میں باندھے، ہاتھوں کو کوٹ کی جیبوں میں چھپاٸے وہ اس کے عین سامنے کھڑی تھی۔ وہ پہلی بار اس سے ملنے اس کے فلیٹ پہ آٸی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر خوش بھی تھا اور حیران بھی۔
”ہاں؟ کیا مطلب؟“ وہ حیران تھا۔
”مطلب یہ کہ تم نے دروازہ کھولنے میں اتنی دیر لگاٸی ہے جیسے تمہیں اہرامِ مصر سے نکل کے آنا پڑا ہو۔“ اس نے سر جھٹکا۔
”ایسی بات نہیں ہے۔ میں کچن میں مصروف تھا۔“ اس نے جلدی سے کہا۔
”کیا میں اندر آ جاٶں؟“ اس نے اسے گھورتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں، ہاں، کیوں نہیں؟“ اس نے جلدی سے ایک طرف ہو کے اسے راستہ دیا اور اس کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر لیا۔
”تم یہاں اکیلے رہتے ہو؟“ اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے وہ اس سے آگے چل رہی تھی۔
”ظاہر ہے۔“ اس نے دو حرفی جواب دیا۔
”تمہارا فلیٹ دیکھ کر مجھے ویرا کے فلیٹ میں گزرا پہلا دن یاد آ گیا ہے۔ تب وہ بھی اتنا ہی صاف ستھرا تھا۔“ وہ یوں کچن میں گھس گٸی تھی گویا یہ اسی کا فلیٹ ہو۔
”بہت شکریہ! کیا تم کافی پیو گی؟“ اس نے میزبانی کا فرض ادا کرنا مناسب سمجھا۔
”اگر تم میرے ساتھ بیٹھ کے پی سکتے ہو اور کافی پینے کے دوران اٹھ کر نہیں جاٶ گے تو بنا دو۔“ وہ ایک کونے میں پڑی میز کے سامنے رکھی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گٸی۔
”میں بناتا ہوں۔“ اس نے اس کی بات کا پسِ منظر جان کر ایک گہری سانس خارج کی۔
”کل شام میری ایبن سے ملاقات ہوٸی واسل!“ دونوں کہنیاں میز پر ٹکاٸے، ہاتھوں کے پیالے میں منہ کو رکھے وہ اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
اس کا کافی پھینٹتا ہاتھ ایک پل کے لیے تھما اور اس نے پلٹ کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”کیا واقعی؟“ وہ حیران ہوا۔
”ہاں! تم جانتے ہو کہ اس حادثے میں میری جان بچانے والا کوٸی اور نہیں ایبن ہی تھا۔“ اس نے رازداری سے اسے بتایا۔
”کیا؟ تم نے ہمیں یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تمہاری جان بچانے والا وہ شخص تھا جس کی تم غاٸبانہ پرستار ہو۔“ وہ اپنا کام بھی ساتھ ساتھ کر رہا تھا۔
”وہ اس لیے کہ مجھے ایک شک تھا جس کی میں تصدیق کرنا چاہتی تھی۔“ اس نے ایک گہری سانس اندر اتاری۔
”کیسا شک؟ اور کیا اب وہ شک دور ہو گیا یا یقین میں بدل گیا ہے؟“ وہ اس کی جانب پلٹا۔
”مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے۔ لیکن میں بہت الجھی ہوٸی ہوں۔“ میلانا نے بیزاری سے کہا۔
”کیسی الجھن؟“ واسل نے ابرو اچکاٸے۔
”تم نہیں سمجھو گے سو اس بات کو چھوڑ دو۔ تمہاری کافی مزید کتنا وقت لے گی؟“ اس نے پوچھا۔
”یہ تیار ہے۔“ اس نے جلدی سے دو مگ نکالے اور ان میں گرم کافی انڈیلنے لگا۔
”امید ہے تمہیں پسند آٸے گی۔“ اس نے ایک مگ اس کے سامنے رکھا اور اپنا مگ لے کے اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
”یہ بہت اچھی ہے۔“ اس نے ایک گھونٹ بھر کے خوش گوار انداز میں کہا۔
”بہت شکریہ!“ اس نے سر خم کر کے تعریف وصول کی۔
”کیا تم اپنے سبھی کام خود کرتے ہو؟“ اس نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں! مام کے مرنے کے بعد ڈیڈ نے اپنی زندگی شراب اور جوے کی نذر کر دی۔ میں تب سے اپنی تمام تر ذمے داریاں خود ہی اٹھا رہا ہوں۔ اب تو دنوں اور سالوں کی گنتی بھی یاد نہیں ہے۔“ اداسی سے بتاتے ہوٸے اس کی آنکھیں نم ہوٸیں۔
”میں معافی چاہتی ہوں کہ میں نے تمہیں دکھی کر دیا۔“ میلانا کو افسوس ہوا۔
”کوٸی بات نہیں۔ تم بتاٶ کہ تمہارا بھاٸی اور اس کی فیملی کیسی ہے؟“ اس نے جبراً مسکراتے ہوٸے پوچھا۔
”وہ سب ٹھیک ہیں۔ وہ میرے اخراجات اٹھاتے ہیں، میری خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں اور مجھے سب کچھ میسر کرتے ہیں۔ ایک پر سکون زندگی گزارنے کے لیے بھلا اور کیا چاہیے؟“ اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے جنہیں سمجھنے سے وہ قاصر تھا۔
”کبھی کبھی میں تمہیں بالکل بھی سمجھ نہیں پاتا کہ تم کیا ہو اور کون ہو۔“ واسل نے بے بسی سے اعتراف کیا۔
”ہاہاہا حالاں کہ پہلی ہی ملاقات میں میری آنکھیں پڑھتے ہوٸے تم نے بہت بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔“ وی ہنس دی تھی تو وہ بھی مسکرا دیا۔
”آنکھیں پڑھنے سے یاد آیا کیا ایک ہی شخص کی دو طرح کی آنکھیں ہو سکتی ہیں؟“ اس نے کچھ یاد آنے پر سنجیدگی سے پوچھا۔
”ہاں؟ دو طرح کی آنکھیں؟ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ وہ بری طرح الجھا۔
”کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں۔“ اس نے جلدی سے کہا۔
”کیا میں تمہارا باتھ روم استعمال کر سکتی ہوں؟“ میلانا نے خالی مگ میز پر رکھتے ہوٸے پوچھا۔
”ہاں ضرور! تم اس روم میں اٹیچڈ باتھ روم استعمال کر سکتی ہو۔“ واسل نے داٸیں ہاتھ بنے کمرے کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس جانب چل دی۔
اپنی کافی ختم کر کے اس نے خالی مگ میز پر رکھا اور بند کمرے کی طرف دیکھا۔ کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور دروازے کے سامنے آن ٹھہرا۔ اس نے ہاتھ سے دروازے کو دھکیلا تو احساس ہوا کہ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس نے دروازے پر دستک دی مگر کوٸی جواب موصول نہ ہوا تو وہ پر سوچ انداز میں دو قدم پیچھے ہٹ کے کھڑا ہو گیا۔
”میں معافی چاہتی ہوں کہ مجھے تھوڑی دیر ہو گٸی۔“ بیس منٹ بعد وہ دروازہ کھولتے ہوٸے باہر نکلی تو اسے سامنے کھڑا دیکھ کر چونکی۔ وہ خاموش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”یہ دروازہ غلطی سے بند ہو گیا تھا۔ دراصل مجھے اپنے کمرے کا دروازہ بند رکھنے کی عادت ہے تو اسی لیے انجانے میں یہ بھی بند ہو گیا۔“ وہ ہاتھوں کو باہم رگڑتے ہوٸے اس کے سامنے آن ٹھہری۔
”کوٸی بات نہیں۔“ وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔
”میں چلتی ہوں۔ کافی کے لیے تمہارا شکریہ!“ اس نے اجازت چاہی۔
”مجھے خوشی ہے کہ تم مجھ سے ملنے کے لیے آٸی ہو۔“ اس نے خوش دلی سے کہا۔
”تمہاری خوشی کے لیے میں آتی رہوں گی۔“ ایک ادا سے مسکراتے ہوٸے اس نے کہا تو واسل موروز کے دل میں وہی احساس جاگا جسے اس نے بڑی مشکلوں سے تھپک تھپک کے سلایا تھا۔
دریاٸے نیامیہ کے کنارے ڈھلتی ہوٸی اک شام نے اس کے پہلو میں چٹکی بھری تو وہ اداسی سے مسکرا دیا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گٸی تو وہ آگے بڑھا اور نہ چاہتے ہوٸے بھی داخلی دروازہ مقفل کر دیا۔
ایک نظر اپنے حلیے پہ ڈال کر اس نے بڑھی ہوٸی شیو پر ہاتھ پھیرا اور کچھ سوچتے ہوٸے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے کمرے کی ایک ایک چیز کو بغور دیکھا۔ سب کچھ اپنی جگہ پر موجود تھا۔ اسی پر سوچ انداز میں وہ باتھ روم میں داخل ہوا اور ایک ایک چیز کو دیکھا۔ تبھی اسے احساس ہوا کہ ایک چیز وہاں پر موجود نہیں تھی۔ اس نے ایک گہری سانس خارج کرتے ہوٸے ماتھا پیٹا اور اپنی جینز کی جیب سے موباٸل فون نکال کے ایک نمبر ڈاٸل کیا۔
”اب کیا مصیبت ہے؟“ دوسری جانب سے فوراً ہی کاٹ کھانے والے انداز میں پوچھا گیا۔
”مس میلانا یگور! میری شیونگ کریم غلطی سے آپ کے کوٹ کی اندرونی جیب میں چلی گٸی ہے۔ براہِ کرم وہ مجھے واپس دے جاٸیں کہ فی الوقت مجھے اس کی اشد ضرورت ہے۔“ اس نے نہایت ادب سے درخواست کی۔
”جہنم میں جاٶ! میں یہ واپس لا رہی ہوں۔“ دوسری جانب اپنے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ مطلوبہ چیز کی موجودگی کا یقین کر کے جھنجھلاٸی۔
*****
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی اینڈرے کے فراہم کردہ ثبوت لیپ ٹاپ میں دیکھ رہی تھی۔ اتنے دنوں سے وہ انہیں تسلی سے دیکھنا چاہتی تھی مگر اسے وقت ہی نہیں مل پایا تھا۔ آج وہ فرصت سے دیکھنے بیٹھی تو وہ جیسے جیسے آگے بڑھتی جاتی حیرت، خوف اور غم و غصے کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ یہ جرم ایک وسیع پیمانے پر بنا کسی جھول کے، منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ اسے روکنا اور مجرموں کو ان کے کیفریکردار تک پہنچانا ضروری تھا۔ وہ یہی سب دیکھ رہی تھی جب اس کا موباٸل فون بجا۔ سکرین پر ارون کا نام جگمگا رہا تھا۔ گھڑی رات کے بارہ بجا رہی تھی۔ اس وقت نہ چاہتے ہوٸے بھی اس نے کال اٹینڈ کر لی۔
”ویرا میری جان! کیسی ہو؟“ بڑی لگاوٹ سے پوچھا گیا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں میری جان کے دشمن! تم ہمیشہ بے وقت کال کیوں کرتے ہو؟“ اس نے ایک گہری سانس بھر کے پوچھا۔
”کیوں؟ کیا ہوا؟ کیا تمہیں یاد کرنے کے لیے یا تم سے بات کرنے کے لیے کوٸی مخصوص وقت ہے؟“ اس نے جلدی سے پوچھا۔
”میں نے ایسا تو نہیں کہا۔ تم فرصت میں مجھے یاد کر سکتے ہو۔“ اس نے لیپ ٹاپ کو بند کیا۔ وہ جانتی تھی کہ ارون بات کیے بنا نہیں ٹلے گا۔
”مجھے تمہاری یاد سے ہی فرصت نہیں ہے۔ میرا ہر لمحہ تمہارے خیال کی خوشبو سے مہکا ہوا ہے۔“ اس کی محبت بھری سرگوشی نے ویرا کے کان سرخ کر دیے۔
”تم کوٸی سستا نشہ کرنے لگے ہو کیا؟ یا پھر تم نے کوٸی دوسری درجے کی رومانوی فلم تو نہیں دیکھ لی جو کچھ بھی بولے جا رہے ہو؟“ اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرتے ہوٸے اس نے مصنوعی سختی سے پوچھا۔
”تم جو بھی سمجھو میری تو یہی حالت ہے اور یہی سچ ہے۔“ وہ اپنے دعوے پہ قاٸم تھا۔
“ارون!“ کچھ پل سوچنے کے بعد اس نے اسے پکارا۔
”میں یہیں ہوں۔“ وہ بولا تو اس نے اپنے اطراف میں نظر ڈالی گویا وہ اس کے پاس ہی ہو۔
”اگر کبھی زندگی میں ایسا موڑ آ جاٸے جب میں تم سے کچھ ایسا کہوں جس پر یقین کرنا تمہارے لیے ناممکن ہو تو کیا تم میرا یقین کرو گے؟“ وہ سنجیدہ تھی۔
”زندگی میں اگر کوٸی ایسا مقام آیا تو تمہیں مجھ سے یہ پوچھنا نہیں پڑے گا ویرا کہ کیا میں تم پر یقین کرتا ہوں یا نہیں۔ سارے ثبوت، سب شواہد، کل گواہان اور ساری دنیا ہی تمہارے خلاف کیوں نہ ہو میں تمہارے ساتھ رہوں گا، میں تمہارا یقین کروں گا۔“ اس کے لہجے کی سچاٸی نے ویرا کے اندر سکون ہی سکون بھر دیا تھا۔
”اور اگر میرے مدِ مقابل تمہارا کوٸی قریبی ہوا تو؟“ وہ بارِ دگر تسلی کر لینا چاہتی تھی۔
”میرے لیے تم سے بڑھ کر میرا قریبی کوٸی نہیں ہے۔ تمہارے مدِ مقابل میں خود بھی ہوا تو میں تمہارا ہی یقین کروں گا۔“ اس کا الفاظ زندگی تھی۔
”اور تم میرے مدِ مقابل آٶ گے ہی کیوں؟“ اس نے مصنوعی خفگی سے پوچھا۔
”تمہیں پانے کے لیے مجھے اگر تمہارے مدِ مقابل بھی آنا پڑا تو آ جاٶں گا۔“ شاید وہ آج سارے اعتراف کر لینا چاہتا تھا۔
”مجھے لگتا ہے تم نے واقعی ہی کوٸی ایسی ویسی فلم دیکھ لی ہے جو کچھ بھی بولے جا رہے ہو۔“ اپنی بوکھلاہٹ پہ قابو پاتے ہوٸے ویرا نے اسے ڈپٹا۔
”کیسی کیسی؟“ وہ حظ اٹھانے کے موڈ میں تھا۔
”شب بخیر ارون!“ اس نے ایک نظر موباٸل فون پر ڈالتے ہوٸے کہا۔
”ارے سنو تو!“ وہ جلدی سے بولا۔
”اب تمہاری باقی باتیں میں پھر کبھی سنوں گی۔ شاباش، خود بھی سو جاٶ اور مجھے بھی سونے دو!“ وہ تھکن محسوس کر رہی تھی۔
”ٹھیک ہے۔ اپنا خیال رکھنا!“ وہ مان گیا تھا۔
”تم بھی!“ ویرا نے مسکرا کے کہا اور کال کاٹ دی۔
”ویرا! کیا تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟“ وہ لیپ ٹاپ اور دیگر چیزوں کو اپنے ٹھکانے پر رکھ کے پلنگ کی جانب بڑھی ہی تھی کہ میلانا دروازہ دھکیل کے اندر داخل ہوٸی۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“ ویرا نے اس کا سوال نظر انداز کیا۔
”مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا کچھ وقت تمہارے ساتھ بِتا لوں۔“ وہ اچھل کر پلنگ پر بیٹھ گٸی تو ویرا نے ایک گہری سانس اندر اتاری اور اس کے سامنے بیٹھ گٸی۔
”خیریت تو ہے؟ تمہیں مجھ پہ اس قدر پیار کیوں آ رہا ہے؟“ ویرا نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
”تم تو میری جان ہو ویرا! تمہارا میرا ساتھ چند دنوں، مہینوں یا سالوں کا تھوڑی ہے۔ ہمیں تو زندگی بھر ایک ساتھ، ایک ہی گھر میں رہنا ہے۔“ اس کا لہجہ محبت سے چور تھا۔
”یا خدا! خیر ہی ہو۔ آج تو میرے لیے سب کی محبتیں امڈ امڈ کے باہر آ رہی ہیں۔ ویسے یہ تم نے آخر میں جو کہا ہے کہ ہمیں ایک ہی گھر میں رہنا ہے تو میلانا یگور! کان کھول کے سن لو تم اپنی سٹڈیز مکمل ہوتے ہی یہاں سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کے چلی جاٶ گی۔ میں اس سے زیادہ تمہیں برداشت نہیں کروں گی۔“ اس نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے خبردار کیا۔
”ارے اس ڈربے میں رہنے کی بات کون کر رہا ہے؟ میں تو محلوں میں راج کرنے کے لیے بنی ہوں۔ کیا ہمیں ایک ہی محل میں نہیں جانا؟“ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جسے دیکھ کر ویرا ٹھٹھکی۔
”تمہارا مطلب ہے کہ تم رسلان بونڈر سے شادی کرو گی؟“ اس نے پوچھا۔
”ظاہر ہے۔ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔“ اس نے اک ادا سے شانے اچکاٸے۔
”کیا اس نے تمہیں پرپوز کیا ہے؟“ ویرا نے آنکھیں سکیڑ کے اسے بغور دیکھا۔
”نہیں! لیکن وہ بارہا اپنی محبت جتا چکا ہے اور تم دیکھنا کہ ایک دن میں اس محل پہ راج کروں گی۔“ اس کے مستقبل کے ارادے واضح تھے۔
”میلانا اگر تم برا نہ مناٶ تو ایک بات کہوں؟“ اس نے کچھ سوچتے ہوٸے پوچھا۔
”مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آٸی کی جب لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی کہی گٸی بات سن کر سامنے والا برا منا سکتا ہے تو وہ ایسی بات کرنا ہی کیوں چاہتے ہیں۔ خیر تم کہو، میں سن رہی ہوں۔“ وہ آج بے تحاشا بولنے کے موڈ میں تھی۔
”میرا خیال ہے کہ رسلان تمہارے لیے اچھا ہم سفر نہیں بن سکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ تم دونوں کے درمیان اتنی مطابقت نہیں ہے کہ شادی کر سکو۔“ وہ دو گرے آنکھوں کے پھیکے رنگوں کا تصور کرتے ہوٸے بولی تو میلانا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”کیا مطلب؟ تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟ یہ سب تم سے کس نے کہا ہے؟ اور اگر وہ میرے لیے اچھا ہم سفر نہیں بن سکتا تو پھر اس سے بہتر کون ہے؟“ وہ اچھا خاصا برا منا چکی تھی۔
”یہ میرا ذاتی خیال اور میرے ذاتی محسوسات ہیں۔ تم واسل کے بارے میں کیوں نہیں سوچتی ہو؟“ بہت ہمت کر کے اس نے وہ کہہ دیا جو وہ کہنا چاہتی تھی۔
”اب یہ واسل بیچ میں کہاں سے آ گیا؟“ وہ حیران ہوٸی۔
”وہ شروع سے تمہارے ساتھ، تمہارے پاس تھا میلانا! وہ تمہارا خیال رکھتا ہے، تمہارا ساتھ دیتا ہے اور تمہیں چاہتا بھی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اس کے بارے میں سوچو۔“ ویرا واسل کے لیے واقعی ہی یہ سب کرنا چاہتی تھی جو وہ کر رہی تھی۔
”یہ سب تم نے واسل سے کہا ہے؟“ وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”اس کا یہی تو مسٸلہ ہے کہ وہ مناسب وقت پہ بھی مناسب بات نہیں کرتا۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں دولت پرستی سے نکل آنا چاہیے۔ بلند اور کشادہ محلوں کے خواب جب سراب بن جاتے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تمہیں کوٸی تکلیف نہ پہنچے۔“ اس نے ہاتھ بڑھا کے میلانا کا ہاتھ تھاما اور اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کے محبت سے تھپتھپایا۔
وہ کچھ پل اسے بغور خاموشی اور بے یقینی سے دیکھتی ہی چلی گٸی۔ پھر اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔
”واہ! یہ تمہارا خیال ہے، یہ تم چاہتی ہو۔ کیا میں اب تمہارے خیالات اور تمہاری چاہتوں کی بنیاد پہ اپنی زندگی کے فیصلے کروں گی؟ نہیں ویرا نہیں! یہ تم نہیں بول رہی ہو بلکہ تمہارے اندر کی کوٸی ان سکیور عورت بول رہی ہے جو اپنی ہی ہم جنس کو بہتر زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتی۔ تم خود تو ارون کی محبت کا دم بھرتی ہو اور مجھے کہتی ہو کہ میں اس محل کے خواب دیکھوں نہ اس محل کے مالک کے بارے میں سوچوں۔ یہ تمہاری کھلی منافقت نہیں ہے تو کیا ہے؟“ وہ پھٹ ہی تو پڑی تھی۔
”میلانا تم غلط سمجھ۔۔۔“ ویرا اس قدر حیران اور بے یقین تھی کہ اسے الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے۔
”نہیں ویرا! میں تمہیں اب ہی تو ٹھیک ٹھیک سمجھ رہی ہوں۔ تم ہمیشہ مجھے رسلان سے دور رہنے کا کہتی ہو۔ تم مجھے میرے مستقبل کے بارے میں کوٸی بھی نپا تلا فیصلہ لینے سے منع کرتی ہو۔ یہ تمہاری جلن نہیں ہے تو کیا ہے؟ تم ارون سے محبت کرتی ہو اور اس کے ساتھ بونڈرز پیلس پر، ان کی دولت پر ایک ملکہ کی طرح راج کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن جب بھی میری بات آتی ہے تو تمہارے معیار کا پیمانہ بدل جاتا ہے۔“ پلنگ سے اتر کے وہ اس کے سامنے کھڑی اسے سنا رہی تھی۔
”بس بہت ہوا میلانا! میں نے یہ سب صرف تمہارے بھلے کے لیے کہا ہے۔ تم۔۔۔“ ویرا اٹھ کے اس کے مقابل کھڑی ہوٸی۔ وہ اسے خود سے اس قدر بدگمان نہیں دیکھ سکتی تھی۔
”اس سب میں میرا بھلا کہاں سے آ گیا؟ مان لو ویرا کہ تم انتہاٸی خود غرض، خود پسند اور جیلس لڑکی ہو۔ مجھے تم سے اور تمہاری منافقت سے گھِن آ رہی ہے کہ تم کس قدر گھٹیا۔۔۔“
اس سے قبل کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی ویرا کا داٸیاں ہاتھ اٹھ گیا اور اس کے باٸیں گال پہ اپنا نشان ثبت کر گیا۔ اس کی زبان تھم گٸی اور آنکھوں میں بے یقینی بھر گٸی۔
”اس سے آگے تم نے ایک لفظ بھی کہا تو میں تمہارا لحاظ نہیں کروں گی۔ ابھی کے ابھی میرے کمرے سے نکل جاٶ!“ ویرا نے ضبط کرتے ہوٸے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
”تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟ تم نے مجھے تھپڑ مارا؟“ وہ بے یقینی سے گال پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔
”یہ تمہاری زندگی ہے سو جو چاہو فیصلہ کرو۔ ہمارا مالکِ مکان اور کراٸے دار کے سوا کوٸی تعلق نہیں ہے۔ میں نے تم سے جو بھی کہا وہ نادانی میں کہا۔ اب یہاں سے جاٶ!“ اپنی تذلیل کا احساس اور میلانا کے بدگمانی میں بولے گٸے الفاظ اس کی روح کو گھاٸل کر گٸے تھے۔
”میں یہ ہمیشہ یاد رکھوں گی۔“ میلانا نے اپنے گال کو چھو کر کہا۔
”میں بھی تمہارا کہا گیا ہر لفظ یاد رکھوں گی۔“ اپنے لہجے کی نمی پر قابو پاتے ہوٸے اس نے دکھ سے کہا۔
”تم نے مجھے تھپڑ مارا ہے ویرا! خدا کرے کہ تمہارا یہ ہاتھ ٹوٹ جاٸے اور تم زندگی بھر کے لیے ناکارہ ہو جاٶ! تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور مجھے تکلیف دی ہے۔ خدا کرے تم ایسی تکلیف سے گزرو کہ کوٸی تصور بھی نہ کر سکے۔“ غم و غصے سے چلاتی ہوٸی وہ حسبِ عادت بددعاٶں پہ اتر آٸی تھی۔ وہ غصے میں اس قدر اندھی ہو چکی تھی کہ اپنی بددعاٶں کی نوعیت کا اندازہ بھی نہ کر سکی۔
ویرا دکھ اور خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اور تھکے تھکے انداز میں دروازے کی سمت اشارہ کیا۔
”تم اپنے اس فلیٹ سمیت جہنم میں جاٶ! میرے امتحانات ختم ہوتے ہی میں یہاں سے چلی جاٶں گی۔ میں دوبارہ تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہوں گی۔ خدا کرے کہ تم دوبارہ مجھے کبھی دکھاٸی ہی نہ دو۔“ دو آنسو ٹوٹ کر اس کے گالوں کو روندتے ہوٸے ٹھوڑی تک آ گٸے۔
وہ دکھ سے چلاتی ہوٸی دروازے کو غصے سے بند کر کے باہر نکل گٸی تو ویرا نے خود کو پر سکون کرنے کے لیے ایک گہری سانس خارج کی۔
وہ دونوں اپنی اپنی جگہ بے یقین، دکھی اور شاک کی کیفیت میں تھیں۔ ان کے درمیان نوک جھونک ہونا معمول تھا۔ لیکن ایسا جھگڑا ان کے درمیان اتنے عرصے میں پہلی بار ہوا تھا۔ شاید وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پہ صحیح تھیں یا پھر دونوں ہی غلط تھیں۔
میلانا کو اپنے مقام سے ویرا غلط لگی تھی۔ وہ بے یقین تھی۔ وہ حیران تھی۔ وہ غصے میں بھی تھی کہ ویرا اسے غلط مشورہ دے رہی یا اسے اپنے احکامات کی پابند بنانا چاہتی ہے۔ اسے برا لگا تھا کہ ویرا اس کے لیے غلط سوچتی ہے اور اسے بہتر مسقتبل پاتے ہوٸے نہیں دیکھ سکتی۔ جب کہ ویرا کو اپنے مقام سے میلانا غلط لگی تھی۔ اسے دکھ پہنچا تھا کہ میلانا نے اسے اپنی دشمن اور برا چاہنے والی سمجھا۔ ساتھ جڑے ہوٸے دونوں کمروں میں دو لڑکیاں جذبات میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کے دکھی تھیں۔
*****
نیا دن ان کے معمولات میں بھی نیا پن لے آیا تھا جو کہ بالکل بھی قابلِ قبول نہ تھا۔ ہر وقت زندگی کے سروں سے گونجنے والے فلیٹ میں موت کی سی خاموشی تھی۔ وہ میلانا کے بیدار ہونے سے قبل ہی بنا ناشتہ کیے مقررہ وقت سے پہلے ہی آفس کے لیے نکل آٸی تھی۔ میلانا کے امتحانات آج سے شروع ہو رہے تھے۔ جو کچھ ان کے درمیان ہو چکا تھا وہ افسوس ناک تھا۔ وہ اس پر ہاتھ اٹھا کے شرمندہ تھی۔ خاموشی سے سر جھکاٸے وہ ٹرام اسٹیشن کی طرف بڑھ رہی تھی۔
*****
نٸے دن کا آغاز ہو چکا تھا مگر وہ اپنی سٹڈی میں صوفے پہ لیٹا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سرخ ڈورے ابھرے ہوٸے تھے۔ شرٹ کے بٹن کھولے، آستینیں چڑھاٸے وہ کسی نشے کے زیرِ اثر تھا۔ کھڑکیاں دروازے بند ہونے کے سبب دھواں ان چار دیواروں میں قید تھا۔ میز پہ رکھے اس کے موباٸل فون کی گھنٹی بجی تو اس نے موباٸل فون اٹھایا۔ سکرین پہ چمکتا ہوا نام دیکھ کر سیدھا ہو بیٹھا۔
”اب کیا افتاد آن پڑی ہے؟“ وہ برہم ہوا۔
دوسری جانب کوٸی کچھ بتا رہا تھا جسے سن کر اس کے داٸیں ہاتھ کی مٹھی بھنچتی جاتی تھی۔
”تمہیں کس نے بتایا کہ اس کے پاس کوٸی ثبوت ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”تم اس معاملے کو چھوڑ دو کہ تم اسے نہیں سنبھال سکتے۔ اسے اس سے ملنے دو۔ میں اسے اپنے ہاتھوں سے، اپنے طریقے سے ماروں گا۔ ویسے بھی مجھے آگ کا رقص دیکھے بہت عرصہ ہو گیا ہے۔“ دوسری جانب موجود شخص کو سختی سے ہدایات دیتے ہوٸے وہ آخر میں خباثت سے مسکرایا اور کال کاٹ دی۔
”ویرا! ماننا پڑے گا کہ تم انتہاٸی بہادر اور انصاف پسند لڑکی ہو جسے اپنی جان سے زیادہ دوسروں کی فکر ہو رہی ہے۔ مجھے تمہارے لیے افسوس رہے گا۔“ خود کلامی کرتے ہوٸے اس نے میز پہ رکھا ہوا اپنا لاٸٹر اٹھا کے سلگایا اور دیوانہ وار ہنسنے لگا۔
(جاری ہے)