
لرزاں ہوئی زمیں ،تحریر: ماہم حیاصفدر
21 مارچ 2023 کی شب نو بج کر سنتالیس منٹ پر پاکستان بھر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گٸے۔ یہ افتاد ایسی تھی جس نے پل بھر میں اپنی اپنی دنیا میں کھوٸے ہوٸے لوگوں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ہر غافل دل خوفِ الہی کے سبب کپکپا اٹھا۔ جس شدت سے زمین لرزی اسی شدت سے دنیا کی رنگینوں میں کھوٸے ہوٸے لوگوں کے دل لرز اٹھے۔ ہر دل ڈرا، ہر آنکھ بھر آٸی اور ہر لب پہ أَسْتَغْفِرُ اللّٰه کا ورد جاری ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس ہولناک زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا جہاں اس کی گہراٸی 180 کلو میٹر تک بتاٸی گٸی ہے۔کچھ ذراٸع کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 ریکارڈ کی گٸی تو کچھ ذراٸع کے مطابق اس کی شدت 6.8 تھی جو کافی شدید تھی۔ اس زلزلے نہ صرف افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لیا بلکہ پاکستان، بھارت، چین، تاجکستان، ازبکستان، قازقستان اور کرغزستان میں بھی شدید جھٹکے محسوس کیے گٸے۔ زلزلے کا دورانیہ نو سے دس سیکنڈز تک بتایا جا رہا ہے۔ نیز اس کے آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تقریباً 10 بج کر 43 منٹ پر 3.7 کی شدت کے آفٹر شاکس محسوس کیے گٸے۔ پاکستان کے تقریباً تمام صوبے اور اضلاع زلزلے سے متاثر ہوٸے ہیں۔ تاہم خوش قسمتی سے زیادہ جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوٸیں۔ ذراٸع کے مطابق اب تک 9 اموات اور 160 سے زاٸد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیز اس دوران کچھ گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ افتاد اس قدر اچانک تھی کہ کوٸی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہر شخص اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھا جب زمین نے لرز کے کسی قادر و مطلق کی موجودگی کا احساس دلایا۔ جو اس کی موجودگی سے غافل ہو چکے تھے ایک پل میں لرز اٹھے اور مصیبت کی اس گھڑی میں دل سے اسے پکارنے لگے۔ زلزلے کا شمار قدرتی آفات میں ہوتا ہے۔ قدرتی آفات کو روکنا یا ان کے آگے بند باندھنا تو ناممکن ہے لیکن ان سے بچاٶ کے لیے کچھ اقدامات کرنا ضروری ہے۔ زلزلوں کی تاریخ بھی تاریخِ انسانی کی طرح قدیم ہے۔ یہ کم وقت میں زیادہ نقصان پہنچانے والی آفت ہے۔ کسی وبا، جنگ، طوفان، سیلاب یا کسی اور قدرتی آفت کی نسبت زلزلہ کم دورانیے میں زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ کچھ ذراٸع کے مطابق لگاٸے گٸے اندازے بتاتے ہیں کہ اب تک زلزلے وقفے وقفے سے 8 کروڑ انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل چکے ہیں۔
ساٸنسی علوم و تحقیقات کو دیکھا جاٸے تو علم ہوتا ہے کہ ہماری زمین کی تہ تین بڑی پلیٹوں یوریشین، انڈین اور اریبٸین پر مشتمل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کے نیچے تواناٸی (حرارت) جمع ہوتی رہتی ہے۔ جب یہ حرارت ایک مخصوص مقدار سے بڑھ جاتی ہے تو زمین کہ تہ بنانے والی پلٹیں اس حرارت کی بدولت سرکنے لگتی ہیں۔ ان پلیٹوں کے سرکنے سے داٸروی لہریں اس مقام کی چاروں سمتوں میں پھیل جاتی ہیں۔ زمین کی تہ کا ہلنا انہی پلٹیوں کا سرکنا ہے۔ اس کیفیت کو زلزلہ کہا جاتا ہے۔ جو علاقے ان پلیٹوں کے اشتراک کے مقام پر موجود ہوں وہاں یکے بعد دیگرے زلزلوں کا آنا معمول بن جاتا ہے۔ پاکستان کے جو علاقے فالٹ لاٸنز کے اوپر موجود ہیں وہاں اکثر و بیشتر شدید یا کم شدید نوعیت کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔اپنی شدت کی بنیاد پر زلزلہ تباہ کاریوں کا مٶجب بنتا ہے۔ اگر شدت کم ہو تو زمین کا ہلنا ہی محسوس ہو پاتا ہے۔ اسی طرح شدت بڑھ جاٸے تو کھڑکیوں، شیشوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر زلزلے کی شدت مزید بڑھ جاٸے تو آن کی آن میں شہر ملیا میٹ ہو جاتے ہیں اور پہاڑوں تک میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اس دوران مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہو جاتا ہے، بجلی، گیس اور دیگر اشیا کی فراہمی و ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ سڑکوں کا ٹوٹ پھوٹ جانا آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ جانی و مالی نقصان کا بڑھ جانا ملک و قوم کی معیشت پہ بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان میں 8 اکتوبر 2005 میں آنے والا زلزلہ ایسے ہی زلزلوں کی ایک مثال ہے۔
اسلامی نقطہٕ نظر سے دیکھا جاٸے تو اللّٰہ تعالیٰ جو تمام کاٸنات اور مخلوقات کا خالق و مالک ہے، وہ قادر ہے۔ جب اولادِ آدم دنیا کی رنگینوں میں کھو کر اسے فراموش کر دیتی ہے اور اس کی مقرر کردہ حدوں کو پھلانگتی ہے تو وہ انہیں متنبہ کرنے کے لیے ایسی نشانیاں دکھاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں سرکشی کے نتیجے میں ملنے والی سزاٶں کا بارہا بیان ملتا ہے۔ قرآن مجید میں ہمیں جا بجا پچھلی قوموں کے گناہوں اور انہیں ملنے والے عذابوں کا ذکر ملتا ہے۔ قدرتی آفات انسان کی اپنی ہی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ چند مستند احادیث کی روشنی میں زلزلوں کی بکثرت آمد کو قربِ قیامت کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ سو ہمیں چاہیے کہ حتی المقدور فسادات سے بچیں، گناہوں سے کنارہ کریں اور صبح و شام اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہیں۔ ہمیں نہ صرف خود براٸیوں اور غلط کاریوں سے محفوظ رہنا چاہیے بلکہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حصار میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور ہمیں آفات کا شکار نہ بناٸے۔
زلزلے سے بچاٶ کے لیے گھروں اور عمارتوں کی تعمیر میں عمدہ اور معیاری سامانِ تعمیر استعمال کرنا چاہیے۔ وقتاً فوقتاً خستہ کھڑکیوں اور شیشوں کو بدلتے رہنا چاہیے۔ نیز خستہ دیواروں اور مکانوں کو رپیٸر کرواتے رہنا چاہیے۔ جب زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوں تو گھروں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل کر کسی کھلی جگہ پر آ جانا چاہیے تاکہ اگر دیواروں یا عمارتوں کا ملبہ گرے تو اس سے محفوظ رہا جا سکے۔ کسی مضبوط دیوار وغیرہ کو پکڑ کر یا اس کے ساتھ چپک کر کھڑے رہنا بھی مفید ہے۔ نیز لیٹ جانا اور خود کو کسی بھاری بھرکم شے سے ڈھانپ لینا بھی فاٸدہ مند ہوتا ہے۔ اس دوران بجلی یا گیس سے چلنے والی مشینوں، بجلی کی تاروں، کھمبوں وغیرہ سے دور رہنا چاہیے تاکہ کسی ناخوش گوار حادثے سے محفوظ رہا جا سکے۔ کسی قسم کی بھی مدد پانے کے لیے ریسکیو اداروں کو فوراً مطلع کرنا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)
بے بسی کھیلتی رہتی ہے سرِ دشتِ فنا
شہر کے شہر یہاں پل میں اُجڑ جاتے ہیں
(ماہم حیا صفدر)