0

غزل ذکی انور

ہوا کی دوش پہ مشعل جلانے والی ہے
وہ سانؤلی تو دلوں کو لبھانے والی ہے

میں سوچتا ہوں کہ دل ہی نکال کر رکھ دو
وہ پہلی بار مرے گھر کو آنے والی ہے

نسب ہمارا پہنچتا ہے ایسی ذات تلک
جو دشمنوں کو گلے سے لگانے والی ہے

بتاؤں میں تمہیں فکر معاش ہے کیا چیز
یہ کمسنی میں ہی بو ڑھا بنانے والی ہے

قریب ہے کہ میں زلفیں تری سنواروں گا
تو میری بانہوں میں آرام پانے والی ہے

گناہ تو نہیں آنکھوں میں دیکھنا تیری
تری نگاہ بھی مستی لانے والی ہے

ذکی یہ دھاگے درختوں میں باندھ کر کیا ہو
تمہاری سوچ بھی پچھلے زمانے والی ہے

ذکی انور

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں