0

ڈاکٹر فرزانہ فرحت ۔۔ غزل

ڈاکٹر فرزانہ فرحت ۔۔ لندن

لے چلو مجھ کوصنم اُن آسمانوں سے پرے
میں نے دیکھا ہے اجالا دو جہانوں سے پرے

اے مرے صیّاد اس کمرے کی کھڑکی کھول دے
میں نے دیکھا ہی نہیں ہے ان مکانوں سے پرے

میری کشتی کے لیے کوئی نہیں ہے ناخدا
اک کھڑا طوفان ہے اِن بادبانوں سے پرے

باغباں تیرے چمن میں ہے بہار آئی ہوئی
ہیں مگر سوکھے شجر بھی گلستانوں سے پرے

سوچتی ہوں دیکھ کر میں سنگِ مرمر کے مکاں
بے مکاں بھی لوگ ہیں اونچے مکانوں سے پرے

آہنی پنجرے کے اندر قید ہیں پنچھی کئی
ہیں کئی پرواز میں اُن آشیانوں سے پرے

کس طرف فرحت~ نکل آئی میں یوں چلتے ہوئے
کڑکڑاتی دھوپ ہے اُن سائبانوں سے پرے

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں