
ناول: طپش
مصنفہ: ماہم حیا صفدر
قسط نمبر: 06
نظم:
محبت رقص کرتی ہے
محبت آگ کی صورت دلوں میں جب بھڑکتی ہے
جلا دیتی ہے سانسوں کو، بدن کو راکھ کرتی ہے
کبھی رنگِ حقیقی میں، کبھی رنگِ مجازی میں
اجاڑے صحن یہ دل کا ہمیشہ بے نیازی میں
یہ ایسی جنگ ہے جس میں دعاٸیں ہار جاتی ہیں
کسی کی بے وفاٸی پر وفاٸیں ہار جاتی ہیں
محبت شاہ زادی ہے جو دل کو تخت کرتی ہے
طپش سے رشتہ ہے اس کا، طپش کو بخت کرتی ہے
اگر آنکھوں میں گھس جاٸے عیاں سب راز کرتی ہے
اگر کرنی پہ آ جاٸے، نظر انداز کرتی ہے
فنا ہونے نہیں دیتی مگر جینا بھی مشکل ہے
محبت چاک ہے دل کا جِسے سینا بھی مشکل ہے
بڑی بے درد ہوتی ہے، جگر کو آزماتی ہے
چبھن بھرتی ہے آنکھوں میں، لہو ہر دم رلاتی ہے
اضافہ کرتی رہتی ہے سدا غم کے خزانے میں
لیے پھرتی ہے سرگرداں یہ پیہم کل زمانے میں
عیاں دانستہ کب کوٸی صنم کا نقص کرتی ہے
طلب اک شخص کرتی ہے، محبت رقص کرتی ہے
(ماہم حیا صفدر)
اس کے اردگرد موسیقی کا شور تھا۔ فضا میں کسی نوخیز محبت کی کلی اپنی خوشبو بکھیر رہی تھی۔ یہ اس کلی کی خوشبو تھی جو رسلان کے دل کے گلشن میں کھل رہی تھی۔ جب کہ واسل کے دل میں پنپتی نخلِ محبت جو اب تناور ہو چکا تھا، اچانک ہی خزاں کی زد میں آ گیا تھا۔ اپنے دل کی بے چینی کو نظر انداز کرنے کی تگ و دو کرتا وہ جبراً مسکرا رہا تھا۔ غیر حاضر ہوتے ہوٸے کسی جگہ اپنی حاضری کو یقینی بنانا سخت مشکل امر ہے جس میں وہ مصروف تھا۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ خوب صورت اور وسیع سٹیج پر دل کھول کر آراٸشی کام کیا گیا تھا۔ میز پر ایک بڑا سا کیک سجا تھا جس پر مسٹر ایڈورڈ اور مسز دامینیکا کی تصاویر نہایت مہارت سے بناٸی گٸی تھیں۔ غبارے، پھول، پتیاں، سینٹڈ کینڈلز اور خوشبوٸیں وغیرہ اس منظر کو چار چاند لگا رہی تھیں۔ سٹیج کے داٸیں حصے میں موسیقی کا انتظام تھا۔ دو ملازم ہاتھوں میں کیمرے لیے تصاویر اور ویڈیوز کی صورت میں ان خوب صورت لمحات کو قید کرنے میں مصروف تھے۔ ارون، ویرا اور واسل سے معذرت کرتا سٹیج کی جانب بڑھا۔ رسلان بھی میلانا سے معذرت کر کے والد کے پہلو میں جا کھڑا ہوا کہ اب انہیں اپنی شادی کی چونتیسویں سال گرہ کا کیک کاٹنا تھا۔ میلانا مسکراتی ہوٸی ان کے برابر میں آن کھڑی ہوٸی تو واسل نے جبراً رخ موڑ کے نگاہیں سٹیج کی جانب مرکوز کر لیں۔ اس کی آنکھوں کے گرے پردوں پر بے رنگ پانی کی تہہ کسی بھی وقت بہہ نکلنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ ویرا نے اک نظر دکھ سے اسے دیکھ کر میلانا کو دیکھا جس کی آنکھیں کسی ایسے احساس سے چمک رہی تھیں جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اسے وہ مطمٸن، پرسکون اور اس قدر خوش لگی تھی۔
ارون نے اک نظر سٹیج سے کچھ دور کھڑی اولیانا کو دیکھا جو ہاتھ میں واٸن گلاس لیے الگ تھلگ سی کھڑی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا مگر اس نے مسکراتے ہوٸے نفی میں سر ہلا دیا۔ ارون کے علاوہ کسی نے اس کی کمی محسوس کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ آس پاس کھڑے لوگ اسے یوں الگ تھلگ دیکھ کر چہ مگوٸیاں کرنے لگے تو وہ ناچار بے دلی سے سٹیج کی جانب بڑھی۔
تالیوں اور موسیقی کے شور میں کیک کاٹا گیا۔ سب نے باری باری جا کے مسٹر اینڈ مسز ایڈورڈ کو مبارکباد اور تحاٸف پیش کیے۔
سب سے آخر میں ارون ان تینوں کو اپنی فیملی سے ملوانے کے لیے سٹیج کی طرف لایا۔ اولیانا کیک کٹتے ہی منظر سے غاٸب ہو چکی تھی۔
”ماں، بابا، بھاٸی! یہ میرے دوست ہیں۔ یہ واسل ہے، یہ میلانا ہے اور یہ ویرا ہے۔“ اس نے باری باری ان تینوں کا تعارف کروایا۔
مسٹر ایڈورڈ کے برعکس مسز دامینیکا نے خوش دلی سے تینوں کو گلے لگا کے خوش آمدید کہا۔ مسٹر ایڈورڈ ارون کو خاص بھاٶ نہیں دیتے تھے تو اس کے دوستوں کو پروٹول کیوں کر دینے لگے۔ رسلان نے مسکرا کر تینوں سے ہاتھ ملایا۔ اب وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے متعارف ہو رہے تھے۔ جب کہ واسل کی نظریں مسٹر ایڈورڈ کے وجود پہ جمی تھیں۔ متناسب جسامت، درمیانہ قد، سفید رنگت، اٹھی ہوٸی مغرور ناک، گہری بھوری آنکھیں جن میں بلا کی سختی تھی۔ ان کے کلین شیوڈ چہرے پہ ایک ہی پتھریلا تاثر تھا۔ مسکراتے ہوٸے بھی ان کے نقوش کی پرتوں میں چھپی سختی کم ہوتی نظر نہ آتی تھی۔ اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے وہ چونکے تو اسے اپنی جانب ہی متوجہ پایا۔ ایک نظر غور سے اسے دیکھنے پر وہ ٹھٹھکے۔ اس کے نقوش دیکھ کر انہیں گمان گزرا تھا کہ وہ اس لڑکے کو پہلے بھی کہیں دیکھ چکے ہیں۔ انہیں اپنی جانب متوجہ دیکھ کر واسل مسکرایا تو اس کے باٸیں گال میں اک ہلکا سا گڑھا پڑ گیا۔
”مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہیں پہلے بھی کہیں دیکھ چکا ہوں۔ کیا تم اس سے قبل بھی ہمارے یہاں آٸے ہو؟“ مسٹر ایڈورڈ نے ذہن پر زور ڈالتے ہوٸے اسے براہِ راست مخاطب کیا تو باقی سب اپنی گفتگو چھوڑ کے ان کی جانب متوجہ ہوٸے۔
”نہیں! میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ میں پارٹ ٹاٸم Gabor Shoes Store میں بطور سیلز ایسوسی ایٹ کام کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے مجھے وہاں دیکھا ہو۔“ واسل نے جلدی سے جواب دیا۔
”نہیں۔۔۔میری یاداشت بہت اچھی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مجھے ضرور یاد ہوتا۔“ انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوٸے کہا۔
”ایڈورڈ کیا آج کی پارٹی بنا رقص کے ختم ہو گی؟“ مسٹر رامن نے بلند آواز میں انہیں مخاطب کیا تو سبھی نے تاٸید کی۔
”ایسا نہیں ہے۔ رقص کیوں نہیں ہو گا؟“ وہ مسکرا دیے۔
کچھ ہی دیر میں وہاں خوب صورت دھنیں بجنے لگیں۔ مرد و خواتین ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے لان بھر میں جوڑیوں کی شکل میں بکھرنے لگے۔ رسلان نے ہچکچاتے ہوٸے میلانا کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر رقص کی دعوت دی جسے واسل کے دل کو کچلتے ہوٸے اس نے مسکرا کے قبول کر لیا۔ ارون نے بھی بھاٸی کی پیروی کرتے ہوٸے ویرا کے سامنے ہتھیلی پھیلا دی جسے اس نے کچھ پل توقف کے بعد تھام لیا۔ مدہوش دھنوں پہ تھرکتے قدم اس کے دل کو روند رہے تھے۔ اس وقت اسے اپنا آپ ان ملازموں اور ویٹروں جیسا لگ رہا تھا جو اِدھر اُدھر بھاگتے اپنے کام کر رہے تھے۔
رسلان نے اس کی کمر کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں بھر رکھا تھا جب کہ میلانا کے بازو اس کی گردن کے گرد حماٸل تھے۔ وہ دونوں مسکراتے ہوٸے مکمل لگ رہے تھے۔ اس سے زیادہ دیکھنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ رقص کرتی جوڑیوں کو دیکھ کر اسے یوں لگا جیسے کاٸنات میں سب کے جوڑے بن گٸے ہوں اور وہ مجرد رہ گیا ہو۔ اپنی آنکھوں کی دھندلاہٹ پہ قابو پاتا وہ اس منظر سے فرار کی راہ ڈھونڈنے لگا۔ جو منظر دل کی طپش کو دو چند کریں ان سے نکل جانا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ہاں ایک بات سوچنے میں وہ غلط تھا کہ وہاں بس وہی اکیلا رہ گیا ہے۔ وہاں کوٸی اور بھی تھا جو ایک کنارے کھڑا کسی زہریلی سوچ کے تحت اپنے لب کاٹ رہا تھا۔
*****
مسکرانا شاید دنیا کا آسان ترین فعل ہے۔ لبوں کو تھوڑا سا پھیلا لینا آسان ہی تو ہوتا ہے۔ مگر جب بات جبراً مسکرانے پہ آ جاٸے تو مسکرانا دنیا کا مشکل ترین فعل بن جاتا ہے۔ اپنے اندر ہوتی ٹوٹ پھوٹ کے برعکس وہ جبراً مسکراتی رہی تھی۔ کتنے ہی دنوں کے بعد اس نے اپنی تنہاٸی کا حجرہ چھوڑ کے رونقوں کی بزم میں گم ہونے کی کوشش کی تھی۔ مگر لوگ بہت ظالم ہوتے ہیں۔ انہیں کسی کی اجڑی تنہاٸی گوارہ ہوتی ہے نہ عارضی آباد محفل۔ ان کے کلچر کے مطابق شادی ہونا نہ ہونا، طلاق، بیوگی و دیگر باتیں عام تھیں۔ مگر محبت کے الگ قوانین ہوتے ہیں جو اس نے خود پہ جبراً لاگو کر رکھے تھے۔ یہ ایسے قوانین تھے جو اس کے اسٹیٹس کانشیس والدین سمجھنے سے قاصر رہے تھے۔ وہ بہت حساس تھی۔ طنزیہ نظروں اور کریدتے لہجوں سے بچ بچا کے وہ یہاں آ گٸی تھی۔ وہ یہاں اپنی ہی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب اسے کسی کے وہاں آنے کا احساس ہوا۔ قدموں کی چاپ سن کر اس نے پلٹ کے دیکھا جہاں وہ سر جھکاٸے اسی طرف آ رہا تھا مگر اسے دیکھ کر چند قدم دور رک گیا۔
”میں معافی چاہتا ہوں۔ میں غلطی سے اس طرف آ نکلا۔“ اس نے چاند کے ساٸے میں اداس بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا جو سوٸمنگ پول میں پاٶں لٹکاٸے کنارے پہ بیٹھی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”کوٸی بات نہیں۔ تم اگر رونا چاہتے ہو تو یہ جگہ بہترین ہے۔“ اولیانا نے اسے گہری نظروں سے دیکھا جو اسے اپنا پرتو لگا تھا۔ شاید وہ بھی وہاں سے فرار ہو کے آیا تھا۔
”نہیں۔۔۔میں دراصل واش روم جانا چاہتا تھا مگر۔۔۔“
”واش رومز گھر کے اندرونی حصے میں ہیں۔“ وہ اس کی بات کاٹ کے اداسی سے مسکرا دی تو واسل پلٹ گیا۔
”رونا بری بات نہیں ہے۔ نہ ہی کوٸی غم منانے کے لیے کسی پرسکون جگہ کو تلاش کرنا غلط ہے۔ اگر تمہیں میری موجودگی سے کوٸی خدشہ ہے تو میں یہاں سے چلی جاتی ہوں۔ تم جب تک چاہو یہاں بیٹھ کے اپنا دل ہلکا کر سکتے ہو۔“ اس نے جلدی سے کہا تو واسل کے اٹھتے قدم تھم گٸے۔
کچھ سوچ کر وہ اس کی طرف بڑھا۔
”اور تمہیں کس نے کہا کہ میں غمگین ہوں یا غم منانے کے لیے کسی جگہ کی تلاش میں ہوں؟“ وہ اس کے برابر آن بیٹھا۔
”زخمی آنکھیں، زخمی آنکھوں کو پہچان لیا کرتی ہیں۔ جھلستی روحیں اک دسرے کی طپش بھانپ لیا کرتی ہیں۔“ اولیانا نے ٹھہر ٹھہر کے جواب دیا تو واسل نے اک گہری سانس خارج کی۔
”تم ارون کے دوست ہو؟“ اولیانا نے اسے ارون کے ساتھ دیکھا تھا۔
”ہاں! اور تم ارون کی بہن اولیانا ہو۔“ وہ خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”تم مجھے کیسے جانتے ہو؟“ وہ چونکی۔
”ارون اکثر تمہارا ذکر بہت محبت سے کرتا ہے۔“ واسل نے سچ کہا تھا۔
”ہاں وہ میرا اچھا بھاٸی ہے۔“ وہ محبت سے مسکرا دی۔
”تم اپنی فیملی کی تقریب چھوڑ کر یہاں کیوں بیٹھی ہو؟“ اب شاید سوال کرنے کی باری اس کی تھی۔
”تم تقریب چھوڑ کر یہاں کیوں آٸے ہو؟“ اولیانا نے اس کا سوال نظر انداز کر دیا۔
”میں بس یونہی! وہاں مجھے گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے زیادہ بھیڑ والی جگہوں پر اکثر گھٹن محسوس ہونے لگتی ہے۔“ اس نے اک گہری سانس اندر اتاری تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔
”کیا تم اس سفید فراک والی لڑکی کو پسند کرتے ہو؟“ کچھ پل توقف کے بعد اس نے آہستگی سے پوچھا تو واسل ساکت رہ گیا۔
”کیا مطلب؟ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ اس کا لہجہ بے ترتیب تھا۔
”یہی کہ کیا تم اس لڑکی سے محبت کرتے ہو؟ میں نے دیکھا کہ جب وہ رسلان سے بات کر رہی تھی تم مسلسل اسی کو دیکھ رہے تھے۔ تمہارے دیکھنے کے انداز سے محسوس ہو رہا تھا کہ تمہیں وہ سب اچھا نہیں لگ رہا۔“ کچھ دیر قبل جب وہ واسل کو جھڑک کے رسلان کے پاس گٸی تھی تو اولیانا نے انہیں بات کرتے اور واسل کو سلگتے دیکھا تھا۔
”کاش اس کے پاس بھی تمہارے جیسی آنکھیں ہوتیں جو میری آنکھوں میں لکھے پیام پڑھ سکتیں۔ کاش اس کے پاس بھی ایسا ہی دل ہوتا جو میرے دل کی طپش کو محسوس کر سکتا۔“ اس نے حسرت سے کہا۔
”فکر مت کرو! وہ بھی سمجھ جاٸے گی۔“ اولیانا کو اس پہ ترس آیا۔
”شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔“ وہ مایوس تھا۔
”اتنی جلدی ہار کون مانتا ہے؟“ وہ حیران ہوٸی۔
”ہار ماننے کے وقت کا تعین مقابل کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ اور میرے پاس کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کی بنا پر میں جیتنے کا تصور بھی کروں۔“ وہ کچھ زیادہ ہی مایوس ہو رہا تھا۔
”میرے نزدیک محبت میں بنا لڑے ہار جیت کی باتیں کرنا گناہ ہے۔“ اولیانا نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
”تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں محبت کی جنگ بنا کسی ایسے ہتھیار کے لڑ سکتا ہوں جس سے مقابل لیس ہے؟“ واسل نے ابرو سکیڑے۔
”محبت کی جنگ کی یہی تو انفرادیت ہے کہ اسے لڑنے کے لیے بھی صرف محبت کا ہتھیار درکار ہوتا ہے۔ جنگ بھی محبت کی، ہتھیار بھی محبت کا اور مالِ غنیمت بھی محبت ہی۔“ وہ اداسی سے مسکراٸی۔
”اور تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟“ وہ اس کے یقین پر بے یقین ہوا۔
”اتنا یقین سواٸے اس جنگ کو لڑنے اور اس میں فتح یاب ہونے والے کے کس کے لہجے میں ہو سکتا ہے؟“ اس نے جواباً سوال کیا تو وہ کچھ سمجھتے ہوٸے اثبات میں سر ہلانے لگا۔
”اور تم یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہو؟ مطلب وہ تمہارا بھا۔۔۔“
”میں نے تم میں وکٹر کو دیکھا۔ جس طرح تم اسے دیکھ رہے تھے ایک شام وہ بھی یونہی بے بسی اور مایوسی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ وہ بھی اپنے مقابل کے ہم پلہ نہیں تھا۔ اسے کہنے میں اور مجھے سمجھنے میں دیر ہو گٸی تھی۔ مگر ہم نے یہ جنگ لڑی اور جیت بھی لی۔“ اس کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔
”وہ کہاں۔۔۔“
”اب تم یہاں سے جاٶ! مزید کچھ بھی مت پوچھنا!“ اولیانا نے اس کا ارادہ بھانپ کر اس کی بات کاٹی۔
”شکریہ! تم سے مل کر اچھا لگا۔ تم نے میرا دل ہلکا کر دیا۔“ وہ گہری سانس بھر کے اٹھ کھڑا ہوا۔
”کوٸی بات نہیں۔“ وہ شاید کافی دنوں کے بعد اتنا مسلسل بولی تھی۔ اسی لیے اس کا لہجہ تھک گیا تھا۔
”کیا تم نہیں آ رہی؟“ کچھ قدم چل کر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا جو ایک دم خاموش ہو چکی تھی۔
”نہیں! اور سنو! ہو سکتا ہے جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہ ہو اور یہ صرف تمہارا وہم نکلے۔“ کہہ کر وہ یوں لاتعلق ہو گٸی جیسے اسے جانتی ہی نہ ہو۔ وہ خاموشی سے پلٹ گیا۔ اب وہاں ایسی خاموشی تھی جیسی کسی قبرستان میں ہوتی ہے۔
”وکٹر! تم مجھے اتنی جلدی چھوڑ کر کیوں چلے گٸے؟“ ایک دھیمی سی سسکی نے قبرستانی خاموشی کو مرتعش کیا۔
*****
سرخ پینٹ کوٹ اور سیاہ شرٹ پہنے اس کا حلیہ ہی نہیں شخصیت بھی سب سے الگ لگ رہی تھی۔ سرخ ٹاٸی کو کھول کر اس نے یونہی گردن کے گرد لپیٹ لیا تھا۔ اس کے تیکھے نقوش اس قدر تنے ہوٸے تھے کہ کوٸی بھی پہلی نظر میں دیکھ کر ٹھٹھک جاتا۔ اپنی فرنچ کٹ بیٸرڈ کو دو انگلیوں سے چھو ک اس نے داٸیں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ اس کی ذات میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ اس کی پیشانی پہ بڑے بڑے حروف میں ”منفیت“ لکھا ہوا نظر آتا۔ باٸیں ہاتھ میں پکڑے واٸن گلاس سے گھونٹ بھرتا وہ سلگ رہا تھا۔ اس کی نظریں مسٹر ایڈورڈ کی فیملی پر تھیں۔
”اگر تمہیں لگتا ہے کہ صرف گھورنے سے تم ایڈورڈ کے بیٹوں کے برابر ہو جاٶ گے تو تم غلطی پر ہو۔“ مسٹر رامن اس کے برابر آن کھڑے ہوٸے۔
”اور آپ سے کس نے کہا کہ مجھے ان کی برابری درکار ہے؟ میں تو برتری کا خواہاں ہوں۔“ اس نے ناپسندیدگی سے انہیں دیکھتے ہوٸے کہا۔
”ہاہاہا! میرے پیارے بیٹے! یہ اچھا مذاق تھا۔“ مسٹر رامن نے ہنستے ہوٸے اس کا شانہ تھپتھپایا۔
”آپ دیکھیں گے کہ ایک دن بونڈرز کی دولت، مقام و مرتبہ سب کچھ ہمارا ہو گا۔“ اس نے باپ کو چیلنجنگ انداز میں کہا۔
”اور تم یہ کیسے کرو گے؟“ وہ سنجیدہ ہو چکے تھے۔
”میں بونڈرز کو برباد کر دوں گا۔“ اس نے یوں دانت کچکچاٸے جیسے ان میں بونڈرز کی گردنیں ہوں۔
”خواہش تو میری بھی یہی ہے مگر خبردار! تم اپنی تخریبی کارواٸیوں سے باز رہو گے۔“ مسٹر رامن نے شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوٸے اسے سختی سے وارن کیا۔
”آپ یہی تو کرتے ہیں۔ بس ایک بار مجھے کھل کر کھیلنے دیں، میں سب سنبھال لوں گا۔“ اس نے اجازت طلب نظروں سے باپ کو دیکھا۔
”جانے دو میخاٸل! اگر تم اتنے ہی قابل ہوتے تو ایک بعد ایک چھوڑ کے جانے والی اپنی تین بیویوں میں سے ایک کو سنبھال لیتے۔“ مسٹر رامن نے ناک پر سے مکھی اڑاتے ہوٸے کہا تو میخاٸل نے سختی سے لب بھینچے۔
”اب آپ زیادتی کر رہے ہیں۔“ ان کا طعنہ اسے کسی تازیانے سے کم نہیں لگا تھا۔
”آثار بتا رہے ہیں کہ ایڈورڈ کے بیٹے بھی وہی راستہ چنیں گے جو اس کی بیٹی نے چنا تھا۔“ مسٹر رامن نے سامنے دیکھتے ہوٸے پراسرار لہجے میں کہا۔
میخاٸل نے ان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں مسٹر ایڈورڈ کے بیٹے دو خوب صورت لڑکیوں کے ساتھ الگ الگ محوِ گفتگو تھے۔
مسٹر ایڈورڈ جو کوٸی بات کرنے کے لیے مسٹر رامن کی طرف آٸے تھے، ان کی بات سن کر ان کی پشت پہ چند قدم پیچھے رک گٸے۔ مسٹر رامن کے انداز نے انہیں چونکا دیا تھا۔ اپنے بیٹوں اور ان کے پہلو میں کھڑی لڑکیوں کو اک ناپسندیدگی سے دیکھ کر وہ کچھ سوچتے ہوٸے پلٹ گٸے۔
*****
وہ ابھی یونیورسٹی سے لوٹی تھی۔ بیگ کو نہایت بے فکری سے صوفے پر ڈالا اور جوگرز اتار کے ایک طرف اچھالے۔ جب سے ویرا نے اسے الگ کمرہ دیا تھا وہ اپنے فطری انداز میں رہنے لگی تھی۔ وہ صبح شام جی بھر کے گندگی پھیلاتی اور ویرا کا ضبط آزماتی۔ منتیں کرنے پر ویرا نے اس کا کرایہ بھی نصف کر دیا تھا۔ ایسی شاہانہ رہاٸش بھلا میلانا یگور کے علاوہ کس کا مقدر تھی؟ رہنے کو اچھی جگہ مل گٸی تھی۔ کھانے کو پکا پکایا مل رہا تھا۔ اچھے دوست مل گٸے تھے اور۔۔۔اور شاید محبت بھی۔ کسی کا تصور کر کے وہ مسکرا دی۔
اسے بھوک لگی تھی سو سستی سے کچن میں آ گٸی۔ اس نے کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو سواٸے خام مال کے کچھ نظر نہ آیا۔ وہ فریج میں رکھے پھلوں میں سے ایک سیب اٹھا کر کرسی پر بیٹھ گٸی اور بنا دھوٸے کھانے لگی۔ کچھ سوچتے ہوٸے اس نے پینٹ کی جیب میں سے موباٸل فون نکالا اور ویرا کا نمبر ملایا۔
”ہاٸے ویرا، میری جان! کیسی۔۔۔“
”تمہیں کیا تکلیف ہے؟ میں یہاں کام کر رہی ہوں، تمہاری طرح فارغ نہیں بیٹھی۔ اب بتاٶ بھی کہ تم نے کال کیوں کی ہے؟“ جتنے میٹھے لہجے میں اس نے گفتگو کا آغاز کیا تھا اتنی ہی تلخی سے ویرا نے اس کی بات کاٹی۔ میلانا کا منہ صدمے سے کھل گیا۔
”مجھے تمہاری یاد آ رہی تھی۔“ اس نے اس درجہ (مصنوعی) معصومیت سے کہا کہ دوسری جانب آگ بگولہ ہوتی ویرا نے ایک گہری سانس خارج کی۔
”دیکھو میلانا، میری پیاری بہن! میرا کوٸی اتنا اچھا بھاٸی نہیں ہے جو مجھے کما کر کھلاتا رہے۔ مجھے اپنے لیے سب خود ہی کرنا ہے۔ مہربانی کرو اور مجھے کام کے وقت بار بار فون کر کے پریشان مت کیا کرو!“ ویرا نے عاجزانہ لہجے میں اپنی درخواست دہراٸی۔
یہ بھی سچ تھا کہ اس نے جب سے اسے موباٸل فون دلوایا تھا وہ اسے کام پر بھی چین نہیں لینے دیتی تھی۔ دن میں بیسیوں بار فون کرنا اس کا وطیرہ بن چکا تھا اورر ویرا اس کو سمجھانے سے قاصر تھی۔
”اچھا ٹھیک ہے، تم خفا تو مت ہو! میں تو بس تمہاری خیریت جاننا چاہ رہی تھی۔“ وہ اتنی معصوم بھی نہیں تھی جتنی بنتی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں۔ اب کال بند کرو!“ ویرا نے حکمیہ لہجے میں کہا۔
”اوکے ویرا، باٸے!“ اس نے سعادت مندی سے جواب دیا۔
”رکو! سنو!“ اس سے پہلے کہ وہ کال کاٹ دیتی اس نے جلدی سے پکارا۔
”اب کیا ہے ویرا؟ تمہارا تو کوٸی بھاٸی بھی نہیں ہے جو تمہیں کما کر کھلاٸے۔ تم کام کا وقت کیوں ضاٸع کر رہی ہو؟ کیا بات ہے؟“ اس نے نہایت اطمینان سے ویرا کو سلگایا۔
”کیا تم نے واسل سے معافی مانگی؟“ ویرا نے اس کا طنز نظر انداز کیا۔
”ہیں؟ میں اس سے معافی کیوں مانگنے لگی؟“ وہ حیران ہوٸی۔
”میلانا تم نے کل رات اس کے ساتھ بہت برا برتاٶ کیا تھا۔ تمہیں اس سے اس انداز میں بات نہیں کرنا چاہیے تھی۔ آخر وہ تمہارا دوست ہے۔“ ویرا نے رسان سے اسے سمجھایا۔
”میرا نہیں خیال کہ میں نے کچھ ایسا کیا یا کہا تھا جس پر مجھے معذرت خواہ ہونا چاہیے۔ اور وہ تو بالکل ٹھیک تھا۔ ہم معمول کے مطابق ملے اور بات کی۔“ اس نے برا سا منہ بنایا۔
”میلانا! یاد رکھو کہ ہر خفگی ظاہر نہیں کی جاتی۔ اور وہاں تو بالکل بھی نہیں جہاں سامنے والا اپنی غلطی کو غلطی مانے پر ہی آمادہ نہ ہو۔“ ویرا نے پتے کی بات کی تھی۔
”اچھا تم کہتی ہو تو میں اس سے معذرت کر لوں گی۔“ اس نے نیم رضا مند ہوتے ہوٸے کہا۔
”اونہوں! معذرت دل سے کرنی چاہیے، کسی کے کہنے پر نہیں۔ میرا کام تمہیں سمجھانا تھا۔ اب اگر تمہارا دل آمادہ ہو تو اس سے اپنے برے رویے کے لیے معذرت کر لینا۔“ اس کے لہجے میں سچاٸی تھی۔
”ہاں، ہاں! ٹھیک ہے۔ میں اس سے معذرت کر لوں گی۔“ میلانا نے اسے یقین دلایا۔
”باٸے!“ ویرا نے جلدی سے بات سمیٹی مبادا وہ کوٸی اور حساب کتاب کھول کے بیٹھ جاٸے۔
”باٸے!“ کال کاٹ کر اس نے موباٸل فون بے دلی سے میز پر ڈالا۔
وہ بیزار ہو رہی تھی۔ اس کی کاہلی اور سستی نے ترقی کی منازل طے کر کے بے کاری کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔ اب بیزاری کا جنم ہونا تو فطری تھا۔ کچھ سوچ کر اس نے موباٸل فون اٹھایا اور واسل کے نمبر پر ایک پیغام لکھ کر بھیج دیا۔ پھرتی سے اٹھ کر وہ کمرے کی جانب بڑھ گٸی۔
دوسری جانب وہ اپنے موباٸل فون کی سکرین پر کھلے پیغام کو حیرت سے پڑھ رہا تھا۔
”کیا ہم ابھی مل سکتے ہیں؟ اگر ہاں تو ریڈ چرچ آ جاٶ! میں تمہیں وہیں ملوں گی۔“
*****
دن کے دو پہر ڈھل چکے تھے۔ اپنے خوب صورتی سے آراستہ آفس میں بھی وہ بے سکون ہو رہا تھا۔ وہ وہاں موجود ہوتے ہوٸے بھی غیر موجود تھا۔ وہ اپنی مکمل توجہ کام کی جانب مبذول رکھنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا۔ جسم تو وہیں موجود تھا مگر دل کا کیا کرتا جو ہمک ہمک کے دو سبز گھاٹیوں میں کودنے کا درپے تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اسے ملنے والی اب تک کی تمام لڑکیوں میں سے خوب صورت ترین تھی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ ذہانت و فطانت میں لاثانی تھی۔ بس اس کی شخصیت میں ایک ایسی شانِ بے نیازی تھی جو طلسم کی طرح اسے لپیٹے ہوٸے تھی۔ وہ نہ اس سے متاثر ہوٸی تھی نہ بچھ بچھ گٸی تھی۔ پھر بھی اس نے اس کے ساتھ بات کی تھی، رقص کیا تھا۔ اس کے انداز میں نہ مکمل خود سپرگی تھی نہ مکمل بیگانگی۔ شاید یہی خاصیت تھی جو اسے سب سے الگ بناتی تھی۔ وہ رسلان بونڈر تھا جو فتح کرنا جانتا تھا۔ فتح ہونے کا احساس ابھی اس کے لیے ناآشنا تھا۔ اس ایک ملاقات کے بعد وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا تھا۔ اسی لیے وہ اس سے بارِ دِگر ملنے کا خواہاں تھا۔ نہیں معلوم اس ملاقات میں وہ اس کا فاتح بننا چاہتا تھا یا مفتوح۔ موباٸل سکرین پہ چمکتا میلانا کا نمبر (جو اس نے ملاقات کے اختتام پر لیا تھا) دیکھتے ہوٸے وہ مسکرا رہا تھا۔ یہ طپش تھی یا جو بھی تھا بس اسے بھلا لگ رہا تھا۔
*****
موسم کافی خوش گوار تھا مگر اس کے من کا موسم اس سے میل نہیں کھا رہا تھا۔ وہ اس سے خفا تھا مگر اس کے بلانے پہ یہاں کھنچا چلا آیا تھا۔ کچھ چاہتوں کے دھاگے بڑے مضبوط ہوتے ہیں جو ایک بار دل سے بندھ جاٸیں تو کھلنے کا نام نہیں لیتے۔ ان کا دوسرا سرا جس شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ اگر ہلکا سا جھٹکا ہی دے دے تو پورا وجود کھنچا چلا آتا ہے۔
چرچ کے سامنے ٹہلتا وہ اس کا ہی منتظر تھا جب وہ اسے اپنی طرف آتی دکھاٸی دی۔ سرخ سکرٹ اور سفید بلاٶز پہ سرخ ہی منی کوٹ پہنے وہ کافی نک سک سے تیار ہوٸی لگ رہی تھی۔ لبوں کو لباس کے ہم رنگ سرخ لپ اسٹک میں رنگے اس کی چھب ہی نرالی تھی۔ واسل نے جبراً اپنی نظروں کا رخ موڑا۔
”ہاٸے!“ وہ اس کے پاس آ کے رکی۔
ہاٸے!“ واسل نے سادگی سے جواب دیا۔
”اے سنو! کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟“ بنا تمہید باندھے اس نے پوچھا تو اسے اک خوش گوار سا احساس ہوا۔
اسے واسل کی خفگی کا احساس ہوا تھا یہ کوٸی معمولی بات تو نہ تھی۔
”میں تم سے ناراض کیوں ہونے لگا؟“ اس نے جواباً سوال داغا۔
”وہی تو میں کہہ رہی تھی کہ تم مجھ سے ناراض کیوں ہو گے۔ مگر ویرا کو کون سمجھاٸے جسے لگ رہا تھا کہ میں نے کل رات پارٹی میں تم سے برا برتاٶ کیا اور مجھے اس کے لیے تم سے معافی مانگنی چاہیے۔“ میلانا نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوٸے گویا ویرا کی عقل پہ ماتم کیا۔
واسل موروز کے دل میں کھلتی خوش گمانی کی کلی یہ سن کر مرجھا گٸی کہ وہ ویرا کے کہنے پر یہاں آٸی ہے۔
”کوٸی بات نہیں۔ میرا خفا ہونا یا نہ ہونا تمہارے لیے اتنا اہم نہیں ہے۔“ اس نے سادگی سے مسکراتے ہوٸے گویا خود کو باور کروایا۔
“اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔ ویرا کو ایسا لگا ہے تو شاید واقعی میرا برتاٶ نامناسب ہو۔ میں تم سے معافی چاہتی ہوں۔“ اس نے جلدی سے اس کے اندازے کی تردید کی۔
”کوٸی بات نہیں۔“ یہ تسلی بھی شاید اس کے اپنے لیے تھی۔
”شکریہ!“ وہ کہہ کر چرچ کی سیڑھیوں کی طرف بڑھی تو وہ بھی پیچھے ہو لیا۔
”ایسا نہیں ہے کہ میرے لیے کسی سے معذرت کرنا مشکل ہے۔ بس پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ تم مجھ سے کبھی خفا نہیں ہو سکتے۔ میں بس اسی لیے ہچکچا رہی تھی۔“ میلانا نے کندھے اچکاتے ہوٸے کہا تو پتا نہیں کیوں ایک دل کش مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آن ٹھہری۔
”اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟“ وہ سراپا سوال تھا۔
”میں نے کہا نا مجھے معلوم نہیں!“ اس نے تیسری سیڑھی پہ بیٹھتے ہوٸے جواب دیا۔ وہ اس کے سامنے سیڑھیوں سے نیچے کھڑا تھا۔
”اور اگر تم نے خود ہی مجھے خفا کر دیا تو؟“ نہیں معلوم کس خدشے کے تحت اس نے پوچھ لیا تھا۔
”میں اپنے اچھے دوستوں سے نہ بے سبب خفا ہوتی ہوں نہ انہیں خفا کرتی ہوں۔ پھر بھی اگر کبھی تمہیں لگے کہ میرے کسی عمل یا میری کسی بات پر تمہیں خفا ہو جانا چاہیے تو میری جانب سے وضاحت آنے کا انتظار ضرور کرنا۔“ اپنے بکھرتے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹتے ہوٸے اس نے سنجیدگی سے کہا۔
گرے آنکھوں نے اس منظر کو عقیدت سے اپنے اندر سمو لیا۔
”ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔“ میلانا نے اضافہ کیا تو اس نے سر کو خم کرتے ہوٸے اثبات میں ہلایا۔
اس کے نزدیک ان کا تعلق دوستی کا ہی تھا سو وہ ابھی کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا۔ کچھ رشتوں کو بدلنے کے لیے مناسب وقت اور حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک ابھی کسی بھی اقرار یا اظہار کے لیے وقت موزوں نہیں تھا۔
”اے سنو! کیا تم نے ارون کے بھاٸی کو دیکھا؟“ اس نے جوش سے اسے مخاطب کیا تھا تو اس کے حلق تک کڑواہٹ بھر گٸی۔ اب وہ اسے کیا بتاتا کہ اس نے وہاں بس اسے اور ”ارون کے بھاٸی“ کو ہی دیکھا تھا۔
”یا خدا وہ کس قدر ہینڈسم ہے۔ اس کی آنکھیں، اس کی شخصیت، اس کا لب و لہجہ، سچ کہوں تو میں خود کو اس کا فین ہونے سے روک ہی نہیں پاٸی۔ تم نے دیکھا کہ وہ کس طرح۔۔۔“ خوشی اور جوش کا ملا جلا احساس اس کے لہجے سے چھلک رہا تھا۔ جہاں وہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ اسے رسلان کے خصاٸص گنوا رہی تھی وہیں اس کی آنکھوں سے رقابت کے شعلے اٹھ رہے تھے۔
”اچھا بس! اب وہ اتنا بھی شاندار نہیں تھا۔“ عاجزانہ انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوٸے اس نے کہا تو وہ چونکی۔
”تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ ایک سیکنڈ۔۔۔! کیا تمہیں جلن تو نہیں ہو رہی کہ تمہارے سامنے کسی اور خوب صورت شخص کی تعریف کی جا رہی ہے؟“ اس کا انداز تقریباً مذاق اڑانے والا تھا۔
”میں کسی سڑیل مزاج بزنس مین سے کیوں جلوں گا؟“ اس نے منہ بنایا۔
”وہی تو ایک سیلز ایسوسی ایٹ کا کسی عام سے بزنس مین سے جلنا بنتا ہے بھلا؟“ وہ ابھی بھی مذاق کے موڈ میں تھی۔
”اگر تمہیں یہی سب باتیں کرنی ہیں تو کیا میں جاٶں؟“ وہ برا منا چکا تھا۔
”ہےےے! دیکھو وہ آ گیا!“ وہ واسل کا سوال نظر انداز کر کے سامنے دیکھ کر جوش سے بولی جہاں وہ گاڑی لاک کرتا اسی سمت آ رہا تھا۔
”تو کیا میلانا نے اسے یہاں بلایا تھا؟ کیا اس نے مجھے یہاں اس لیے بلایا کہ جب تک وہ نہیں آتا میں وقت گزارنے میں اس کی مدد کر سکوں؟“ دکھ سے سوچتا وہ بدگمانی کی آخری حد پہ جا کھڑا ہوا۔
وہ پھرتی سے اٹھ کر اس تک گٸی اور گلے ملتے ہوٸے اس کا استقبال کیا۔ ایک ساتھ چلتے ہوٸے وہ کتنے مکمل لگ رہے تھے یہ احساس تو اسے بھی ہوا تھا۔
”یہ واسل ہے۔ یہ میرا اچھا دوست ہے۔ تم یقیناً کل رات اس سے پارٹی میں مل چکے ہو۔“ اس نے واسل کا تعارف کروایا۔
”ہاں میں مل چکا ہوں۔“ رسلان نے مسکراتے ہوٸے واسل سے ہاتھ ملایا جس کا ہاتھ ہی کیا پورا وجود بے جان ہو رہا تھا۔
”میں معافی چاہتا ہوں کہ تمہیں ڈسٹرب کیا۔ دراصل میں تم سے ملنا چاہتا تھا اسی لیے کال کر کے اصرار کیا۔“ وہ میلانا سے مخاطب تھا۔
”بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ تم ایک بار بس اس سے ملتے اور دوبارہ ملنے کی خواہش نہ کرتے؟“ واسل نے دکھ سے مسکراتے ہوٸے سوچا۔
”کوٸی بات نہیں۔ مجھے یہاں کام تھا۔ میں راستے میں تھی جب تمہاری کال آٸی اسی لیے تمہیں یہاں بلا لیا۔“ میلانا نے دلکشی سے جواب دیا۔
”یہاں؟ تمہیں اس چرچ میں کیا کام تھا؟“ رسلان نے چاروں طرف نظریں گھماتے ہوٸے حیرت سے پوچھا۔
”کیا تم پہلے کبھی یہاں آٸے ہو؟“ میلانا نے اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوٸے سنجیدگی سے پوچھا۔
”نہیں۔۔۔ہرگز نہیں! یا شاید میں کبھی یہاں آیا تھا۔ مجھے یاد نہیں۔“ اس نے سوچتے ہوٸے نفی میں سر ہلایا تو میلانا نے لب بھینچ لیے۔
وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے جب کہ واسل کو اپنا آپ اضافی لگ رہا تھا۔
”کیا ہم کسی کافی شاپ میں نہیں جا سکتے؟“ رسلان کو یہ جگہ ملاقات کے لیے مناسب نہیں لگ رہی تھی۔
”ہاں! کیوں نہیں؟ لیکن کیا ہم پہلے چرچ کے اندر ایک ساتھ جا سکتے ہیں؟“ میلانا نے ایک ادا سے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھتے ہوٸے پوچھا۔
وہ اس ناز سے کچھ پوچھتی اور رسلان انکار کر دیتا، یہ کیسے ممکن تھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میلانا نے اس کا ہاتھ تھام کر قدم پہلی سیڑھی پہ رکھا۔
”وہ چرچ کے اندر جا رہی ہے۔ گویا اس کی مراد پوری ہو گٸی ہے۔ تو کیا خدا نے اسے منا لیا ہے؟ یعنی خدا نے اسے اس کی مانگی ہوٸی شے دے دی ہے۔“ دکھ سے سوچتا وہ اندر ہی اندر گھاٸل ہو رہا تھا۔
”واسل! تم وہاں کیوں کھڑے ہو؟ تم بھی ہمارے ساتھ آٶ نا!“ پانچویں سیڑھی پہ رسلان کا ہاتھ تھام کے چڑھتی وہ رک کے پلٹی تو رسلان نے بھی اک نظر اسے دیکھا جو انہی کو دیکھ رہا تھا۔
رسلان کو کل بھی اس لڑکے نے ڈسٹرب کیا تھا اور آج بھی اسے دیکھ کر اسے عجیب سا احساس ہوا تھا۔
”نہیں! میں چلتا ہوں۔ مجھے کام پر جانے کے لیے دیر ہو جاٸے گی۔“ جبراً مسکراتے ہوٸے وہ دو قدم پیچھے ہٹا۔ شاید دل ہی دل میں وہ بھی خدا سے روٹھنے کا ارادہ کر چکا تھا۔
”کیا تم ٹھیک ہو؟“ میلانا نے اس کی دھندلاتی ہوٸی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا۔
”ہاں! باٸے!“ واسل نے مسکراتے ہوٸے ہاتھ ہلا کر دونوں کو الوداع کہا اور منظر سے نکل گیا۔
”کیا ہم چلیں؟“ رسلان نے اسے ساکت کھڑے دیکھ کر پوچھا تو اس نے مسکرا کر قدم اگلی سیڑھی پر رکھا۔
اس کا ہاتھ تھام کے چلتے ہوٸے اس کا چہرہ کسی عجیب سے، کسی انوکھے سے احساس کی زد میں تھا۔
*****
اس نے سونے کے لیے آنکھیں موندی ہی تھیں کہ دروازے پہ دستک ہوٸی۔
”کون ہے؟“ سستی سے آنکھیں کھولتے ہوٸے اس نے پوچھا۔
”میں ہوں، اولیانا!“ آہستگی سے جواب دیا گیا تو وہ چونک کر اٹھا۔ ایک نظر وال کلاک پر ڈالی اور اک بند دروازے پر۔
پیروں میں سلیپر اڑستا وہ لپک کر دروازے تک گیا۔
”تم یہاں؟“ اس نے حیرت سے پوچھا۔
یہ کوٸی انہونی نہیں تھی مگر اس کے لیے انہونی تھی۔ وکٹر کی موت کے بعد جب سے وہ اس گھر میں آٸی تھی اپنے کمرے تک ہی محدود رہتی تھی۔ اس سے ملنے کے لیے ارون کو وہیں جانا پڑتا تھا۔
”کیوں میں یہاں نہیں آ سکتی؟“ اندر داخل ہوتے ہوٸے اس نے ابرو اچکا کے پوچھا۔
”نہیں۔۔۔میں نے ایسا کب کہا؟ آٶ، یہاں بیٹھو!“ دروازہ بند کر کے وہ اس کا ہاتھ پکڑتا بیڈ تک لے آیا۔ اسے بٹھا کر وہ خود اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
”کیا تم ٹھیک ہو؟“ ارون کو اس کی گھورتی ہوٸی خاموش نگاہیں پزل کر رہی تھیں سو بات کا آغاز کیا۔
”ہاں میں ٹھیک ہوں مگر میرا نہیں خیال کہ تم ٹھیک ہو۔“ وہ بدستور اس کے چہرے سے کچھ کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی۔
”ہیں؟ مجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو چھوا۔
”کیا میں پہلے سے زیادہ خوب صورت ہو گیا ہوں جو تم مجھے اس طرح گھور رہی ہو؟“ ارون نے جوش سے پوچھا۔
”تم خوب صورت تو بالکل نہیں ہوٸے۔ ہاں مگر چالاک ضرور ہو گٸے ہو۔“ اولیانا نے ٹھوڑی کے نیچے داٸیں مٹھی جماتے ہوٸے کہا۔
”یہ الزام ہے۔ منسک میں اگر ہزار معصوم لڑکے ہیں تو ان میں سے ایک میں ہوں۔ اگر منسک میں صرف ایک معصوم لڑکا ہے تو وہ بھی میں ہی ہوں۔“ اس نے معصومیت سے اپنی صفاٸی دی۔
”تم مجھ سے باتیں چھپانے لگے ہو ارون!“ اولیانا کا شکوہ زبان پر آ ہی گیا تھا۔
”باخدا ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں تو ہر بات تم سے شیٸر کرتا ہوں۔ ایسا۔۔۔“
”اگر ایسا ہوتا تو تم مجھے اس لڑکی کے بارے میں ضرور بتاتے۔“ وہ سنجیدہ تھی۔
”کس کے بارے میں؟ کون سی لڑکی؟“ اس کے اچانک کہنے پر ارون کو کچھ یاد نہیں آیا۔
”وہی سیاہ لباس والی لڑکی! میرے سننے میں آیا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ رقص بھی کیا تھا۔ وہی لڑکی جسے دیکھتے ہوٸے تمہاری آنکھیں اپنے اصلی حجم سے کٸی گنا زیادہ پھیل رہی تھیں۔“ اولیانا نے تفصیل سے بتایا تو اس کے دل نے ایک دھڑکن مس کی۔
”اولیانا! وہ تو بس میری اچھی دوست ہے۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو۔“ ارون کا اندازہ سادہ تھا مگر آنکھیں صاف کہہ رہی تھیں، ”میری بہن! تم نے جو سمجھا، ٹھیک سمجھا!“۔
”کیا وہ تمہاری کلاس فیلو ہے؟“ وہ مکمل تفتیش کے موڈ میں تھی۔
”نہیں۔۔۔نہیں وہ تو میلانا کی دوست ہے۔“ ارون نے جلدی سے کہا۔
”ابھی تم نے کہا کہ وہ تمہاری دوست ہے۔“ اولیانا نے آنکھیں سکیڑیں۔
”وہ ہم دونوں کی دوست ہے۔“ وہ اسے سمجھا نہیں پا رہا تھا۔
”اور یہ میلانا کون ہے؟“ وہ کل رات کیک کٹ جانے کے فوراً بعد سٹیج سے غاٸب ہو گٸی تھی اسی لیے اس کے دوستوں سے مل نہیں سکی۔
”وہ میری کلاس فیلو ہے۔ وہ لڑکی جو سفید فراک میں ملبوس تھی، وہ میلانا ہے۔“ ارون نے اسے یاد دلایا تو اولیانا کو اس سفید فراک والی لڑکی کے ساتھ ساتھ ایک گرے آنکھوں والا لڑکا بھی یاد آ گیا۔ اس کا خیال آتے ہی اس کے دل میں ایک ان جانا سا افسوس جاگ اٹھا۔
”ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ جو میلانا ہے وہ میری کلاس فیلو اور میری دوست ہے۔ جب کہ میلانا جس لڑکی کے گھر میں بطور کرایہ دار رہتی ہے اس کا نام ویرا ہے۔ وہ ویرا تھی اور وہ ہم سب کی اچھی دوست ہے۔“ ارون نے اپنے تٸیں مکمل تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔
”اوہ! تو اس کا نام ویرا ہے!“ اولیانا نے ستاٸشی انداز میں کہا۔
”اچھا ہے نا؟“ ارون نے جلدی سے تاٸید چاہی تو اولیانا نے اسے ایک گھوری سے نوازا۔ اس کے کندھے ڈھلک گٸے۔
”وہ کیا کرتی ہے؟“ اولیانا سب جاننا چاہتی تھی۔
”اس نے فارمیسی کی تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ہماری کمپنی میں کام کرتی ہے۔“ اس نے خوش دلی سے بتایا۔
”مطلب اس کا اسٹیٹس۔۔۔“ اولیانا نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
”تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ ارون الجھا۔
”کچھ نہیں! تم مجھے اس سے کب ملوا رہے ہو؟“ اس نے ایک گہری سانس خارج کی۔ وہ قبل از وقت کچھ بھی کہہ کر ارون کی چمکتی آنکھوں کو بجھانا نہیں چاہتی تھی۔
”کیا تم اس سے ملنا چاہو گی؟“ وہ خوش تھا۔
”کیوں نہیں؟ میں اس سے ضرور ملنا چاہوں گی۔“ اولیانا نے مسکراتے ہوٸے کہا۔
”ہم اس ویک اینڈ پر اس سے ملنے چلیں گے۔“ اس نے تو جھٹ سے منصوبہ بھی بنا لیا۔
”ٹھیک ہے، میں چلتی ہوں۔ اب تم آرام کرو، شب بخیر!“ اولیانا نے اٹھ کر جوتے پہنتے ہوٸے کہا۔
”شب بخیر!“ وہ دروازہ بند کرنے کے لیے اس کے پیچھے ہو لیا۔
اولیانا دروازے کے سامنے رک کر پلٹی تو اس سے دو قدم فاصلے پر وہ بھی رک گیا۔
”ارون!“ اس نے سنجیدگی سے اسے مخاطب کیا تو وہ پریشان سا ہو گیا۔
”ہاں اولیانا!“
”کیا تمہارا اب بھی یہی مٶقف ہے کہ ویرا بس تمہاری دوست ہے؟“ سنجیدگی میں لپٹی اس کی شرارت ارون سے چھپی نہ رہ سکی تو وہ کھسیانا سا مسکرا دیا۔
”اب تم جاٶ! مجھے آرام کرنا ہے۔“ اسے کندھوں سے تھام کے باہر دھکیلتے ہوٸے اس نے کہا تو وہ کھلکھلا دی۔
دروازہ بند کرتے ہوٸے ارون نے خدا سے اس کے لیے داٸمی خوشیاں مانگیں۔ جانے کتنے دنوں کے بعد اس نے اولیانا کو ہنستے مسکراتے اور نارمل انداز میں بات کرتے دیکھا تھا۔
*****
سورج ہارن بیم کے سال خورہ پیڑ کی سب سے بلند شاخ سے اٹکا ہوا تھا۔ کرسی پر بیٹھی ہوٸی مریضہ آج قدرے بہتر لگ رہی تھی۔ نتالیہ اس کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس بار وہ سختی سے تاکید کر گیا تھا تو دوا و غذا میں ہونے والی بے ضابطگیوں میں قدرے کمی آ گٸی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ سنبھلی ہوٸی لگ رہی تھی۔ بوڑھا دوسری کرسی پر اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
”وہ موسمی پرندوں کی طرح آتا ہے اور جلد ہی لوٹ جاتا ہے۔“ مریضہ نے بوڑھے سے شکوہ کیا۔
”وہ اکیلا اتنے محاذوں پر لڑ رہا ہے۔ اسی لیے اگر دن میں آتا ہے تو رات میں لوٹ جاتا ہے اور اگر رات میں آتا ہے تو دن میں لوٹ جاتا ہے۔“ بوڑھے نے اسے رسان سے سمجھایا۔
اس کی بیماری ہی ایسی تھی کہ کوٸی یاد کہاں رہتا تھا۔ جب کبھی یاداشت سنبھلتی اور اسے یاد آتا کہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے جو اس کے ساتھ نہیں رہتا تو وہ یہ شکوہ ضرور کرتی۔
”وہ سب چھوڑ چھاڑ کر ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتا؟“ یہ سوال کافی پرانا ہو چکا تھا مگر اس کا انداز ہر مرتبہ نیا پن لیے ہوتا۔
”وہ اس مرتبہ آٸے گا تو میں اس سے کہوں گا کہ سب کام چھوڑ کر تمہارے ساتھ رہے۔“ بوڑھے نے اسے تسلی دی۔
”کیا تم سچ کہہ رہے ہو کہ اب وہ ہمارے ساتھ رہے گا؟“ تالیہ نے چہک کر پوچھا تو بوڑھے نے اسے کڑی نگاہوں سے گھورا۔
”میں تو بس یونہی اِس کے لیے پوچھ رہی تھی۔“ مریضہ کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے اس نے دوسرے ہاتھ سے کنگھی کو مضبوطی سے تھام لیا۔
”تم اپنے کام پہ دھیان دیا کرو! ہمارے نجی معاملات میں دخل اندازی مت کیا کرو!“ بوڑھے نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی۔
”میں تو ضرور کروں گی۔“ تالیہ نے ڈھٹاٸی سے بڑبڑاتے ہوٸے مریضہ کے بال سمیٹے۔
*****
رات کسی نامراد عاشق کے دل سی کالی، گہری اور سونی تھی۔ آج تو ان کے تہ خانے میں بھی غیر معمولی خاموشی تھی۔ انہیں یہاں آٸے دس منٹ ہو چکے تھے مگر کسی نے ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا تھا۔
زہوک اور سیم نے ایک ساتھ اسے دیکھا جو بیزار اور خاموش سا لگ رہا تھا۔
”ایبن! کیا تم ٹھیک ہو؟“ سیم کو تشویش ہو رہی تھی۔
”ہاں! شاید میں ٹھیک ہوں۔“ وہ خود بھی بے یقین تھا۔
”کیا کچھ ہوا ہے؟“ زہوک نے نرمی سے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔نہیں! کچھ نہیں! کیا تم نے اپنا کام کیا؟“ اس نے الجھتے ہوٸے نارمل ہونے کی کوشش کی۔
”ہاں! میرا خیال ہے کہ ہمیں آفیسر مارک کو چیک کرنا چاہیے۔“ زہوک نے بھی زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا اور کام کی بات کرنے لگا۔
”تمہیں ایسا کیوں لگا؟“ سیم نے پوچھا۔
”کیوں کہ یہ سب واقعات مارک کی حدود میں ہوٸے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی لاپتا لڑکی کے لیے خاص بھاگ دوڑ کرنے والا کوٸی نہیں تھا۔ زیادہ تر درخواستیں واپس لے لی گٸیں یا ان کی فاٸلوں کو مختلف وجوہات بیان کر کے بند کر دیا گیا۔“ زہوک نے تفصیلاً بتایا۔
”یعنی مارک وہ شخص ہو سکتا ہے جو ہمیں اصل گنہگار تک لے جاٸے گا۔“ ایبن نے پرسوچ انداز میں سر ہلاتے ہوٸے کہا۔
”تم دونوں مارک کو چیک کرو!“ اس نے ٹھہر کر کہا۔
”ٹھیک ہے۔ جیسا تم کہو۔“ وہ دونوں یک زبان بولے۔
”میں تھک گیا ہوں، اب آرام کرنا چاہتا ہوں۔“ اس نے پیشانی کو تین انگلیوں سے مسلتے ہوٸے کہا اور دروازہ کھول کے باہر نکل گیا۔
”اسے کیا ہوا ہے؟“ سیم نے زہوک سے پوچھا۔
”معلوم نہیں! شاید وہ اپنی ماں کے لیے پریشان ہے۔“ زہوک نے کندھے اچکاتے ہوٸے کہا تو سیم نے ایک گہری سانس خارج کی۔
*****
(جاری ہے)