0

ناول: طپش مصنفہ: ماہم حیا صفدر قسط نمبر: 04


ناول: طپش
مصنفہ: ماہم حیا صفدر
قسط نمبر: 04

اکتوبر کی ایک خوب صورت شام منسک کی گلیوں میں ٹہل رہی تھی۔ بادلوں کے کثیر چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں نے نیلے آسمان کو داغدار کر رکھا تھا۔ سفید گالوں سے جھانکتا تھوڑا تھوڑا نیلا آسمان بڑا ہی بھلا لگ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر آسمان کی جانب دیکھا تو یوں لگا جیسے کسی گوری حسینہ کے بدن کو تند ہواٶں کے تھپیڑے زخمی کر کے نیلو نیل کر گٸے ہوں۔
ٹرام سے اتر کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ Independence Square کی طرف بڑھ گٸی۔ کل کی بابت جب ویرا نے اسے بتایا تو اسے یقین ہی نہیں آیا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ کوٸی اس کے بارے میں جاننے کے بعد بجاٸے اس کا مذاق اڑانے اور اسے بدنام کرنے کے اس کا بھرم رکھے۔ آج یونیورسٹی میں وہ اسے معمول کے مطابق ملا تھا۔ ارون نے بھی اس سے کچھ نہیں کہا۔ یہاں تک کہ اس نے اس کے معذرت کرنے پہ اسے ڈانٹا کہ دوستوں میں اس سب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جواباً اس نے ارون کو سمجھایا کہ دوستوں میں ہی تو سب سے زیادہ اس سب کی ضرورت ہوتی ہے۔ ”شکریہ“ اور ”معذرت“ اس رشتے کو اور زیادہ مضبوط کرتے ہیں جسے ہم دوستی کہتے ہیں۔
یہ الگ بات تھی کہ واسل نے جب اس سے معذرت کی تو وہ بنا کچھ بھی کہے اسے خموشی سے دیکھ کر منظر سے ہٹ گٸی۔ وہ محسوس کر سکتی تھی کہ وہ کافی مایوس اور بے چین ہوا تھا۔ یہ جان کر اسے سکون ملا تھا کہ وہ جو اس کی پھٹکار سن کے اتنی دیر اضطراب کا شکار رہی تھوڑا سا تڑپنا تو اس کا بھی بنتا تھا۔
اب سرخ رنگ کی ایک خوب صورت عمارت اس کے سامنے تھی۔ Red Church میں اس وقت قدرے چہل پہل تھی۔ موسم اتنا خوب صورت تھا کہ سیاح اور کچھ مقامی لوگ اس منظر کا حصہ بنے ہوٸے تھے۔ چرچ کے اٹھے ہوٸے مینار، تکونی چھتیں اور پتھریلا چبوترہ دیکھتے ہوٸے اس کی سبز آنکھیں پانیوں سے بھر گٸیں۔ اسے یاد تھا کہ وہ آخری بار یہاں کب اور کس کے ساتھ آٸی تھی۔ اسے یاد تھا کہ آخری بار یہاں آنے کے ایک دن بعد کیا ہوا تھا۔
”موسم بہت اچھا ہے نا؟“ اپنی پشت پر ابھرتی ایک شناسا سی آواز پہ وہ چونک کے پلٹی۔
وہ اس کے عین پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اسے وہاں دیکھ کے میلانا کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ براٶن جینز اور سفید ہاٸی نیک پہنے، اپنی گرے چمکتی آنکھیں اِدھر اُدھر گھماتے وہ اچھا خاصا ہینڈسم بندہ اسے زہر لگ رہا تھا۔ اس کے باٸیں گال میں پڑتے ہلکے سے گڑھے کو دیکھ کر اس کا دل چاہا کہ اپنی درمیانی انگلی کے بڑے سے ناخن کو اس میں گھسا دے۔
”اے نامعقول آدمی! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ کیا تم میرا پیچھا کر رہے ہو؟“ اس نے مکمل پلٹ کے سینے پہ بازو باندھے اور ابرو سکیڑ کے اس سے پوچھا۔
”نہیں۔۔۔میں تو بس ایسے ہی یہاں سے گزر رہا تھا کہ تمہیں دیکھ کر رک گیا۔“ اس کے چہرے پہ جلی حروف میں ”جھوٹ“ لکھا ہوا تھا۔
درحقیقت وہ ویرا کو بتا کے آٸی تھی کہ وہ کچھ دیر کے لیے چرچ جانا چاہتی ہے۔ کل کی ملاقات میں واسل نے ویرا سے موباٸل نمبر کا تبادلہ کیا تھا (یہ الگ بات ہے کہ ارون کوشش کے باوجود محروم گیا) اس نے یونیورسٹی میں اس سے بات نہیں کی تھی سو وہ اس سے معذرت کرنے کے لیے مضطرب تھا۔ جب اس نے ویرا کو فون کر کے میلانا کے بارے میں پوچھا تو اسے پتا چلا کہ وہ Red Church میں گٸی ہے۔
نیلی جینز اور سبز سویٸٹر پہنے، اپنے سیاہ سلکی بالوں کو پونی میں قید کیے وہ کافی نکھری نکھری لگ رہی تھی۔ اس کا چہرہ کسی بھی قسم کے میک اپ سے عاری تھا۔
اسے ایک نظر گھور کے وہ پلٹ گٸی۔ اس کے قدموں کا رخ چرچ کی سیڑھیوں کی طرف تھا۔
”کیا تم نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا؟“ وہ لپک کے اس کا ہم قدم ہوا۔
”نہیں!“ وہ ہنوز سنجیدہ تھی۔
”کیا تمہیں نہیں لگتا کہ میرا ردِعمل فطری تھا؟“ وہ مایوس ہوا۔
”جو بھی تھا، تم اگر ایک بار میری بات سن لیتے تو مر نہیں جاتے۔“ وہ اسے قطعاً معاف کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
”میں مانتا ہوں کہ یہ میری غلطی تھی۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں ایسی غلطی دوبارہ نہیں کروں گا۔ تم چاہو تو مجھے اس کے لیے سزا بھی دے سکتی ہو۔“ وہ اسے مناٸے بنا ٹلنے والا نہیں تھا۔
سزا کے نام پر کچھ سوچ کر اس کی سبز آنکھوں میں شرارت کے رنگ بکھر گٸے۔ وہ سیڑھیوں کے عین سامنے ٹھہر گٸی اور پلٹ کر اسے دیکھا جو اس سے دو قدم دور ٹھہر گیا تھا۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں ایک شرط پہ معاف کروں گی۔“
”بتاٶ مجھے کیا کرنا ہو گا؟“ وہ اتاٶلا ہو رہا تھا۔
”تم ایسا کرو کہ اپنے دونوں ہاتھ ٹانگوں کے نیچے سے گزارتے ہوٸے ان سے اپنے دونوں کان پکڑو اور اٹھک بیٹھک کرتے ہوٸے کہو، میلانا یگور تم عظیم ہو جب کہ میں ایک احمق انسان ہوں۔ میں تم سے معافی چاہتا ہوں۔“ اس نے مزے سے کہا اور چرچ کی جانب پشت کر کے چوتھی سیڑھی پہ بیٹھ گٸی۔
”کیا؟ کیا تم ہوش میں ہو؟“ اس کی سزا سن کے واسل موروز کا منہ اتنا کھل گیا جتنا کھل سکتا تھا۔
”ٹھیک ہے تم نہیں کرنا چاہتے ہو تو یہاں سے بھاگ جاٶ! دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کرنا!“ دونوں کہنیوں کو گھٹنوں پہ رکھے اس نے چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں رکھ لیا۔
”ٹھیک ہے۔ میں کرتا ہوں مگر میں بس دو دفعہ کروں گا۔“ بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے وہ نیم رضامند لگ رہا تھا۔
”نہیں تم یہ دس دفعہ کرو گے۔“ سبز آنکھوں میں بلا کی شرارت تھی۔
”لیکن۔۔۔“ اس کا چہرہ لٹک گیا تھا۔
”کیا میں جاٶں؟“ وہ سنجدگی سے پوچھنے لگی تو وہ جھک گیا۔
”اگر تم کہیں رکو گے تو میں گنتی کو ایک سے شروع کر دوں گی۔“ وہ اسے یوں اصول بتا رہی تھی جیسے وہ کوٸی بہت ہی دلچسپ کھیل کھیلنے لگے ہوں۔
ٹانگیں پھیلا کے وہ اپنے بازو مرغا بننے کے لیے سرخ ہوتے کانوں تک لے گیا تو ایک بے ساختہ قہقہہ میلانا نے بمشکل اپنوں لبوں میں دبایا۔
”ایک۔۔۔
دو۔۔۔
تین۔۔۔“
اب وہ بڑے مزے سے اس کی اٹھک بیٹھک کو انجواٸے کر رہی تھی۔ ظاہر ہے وہ میلانا تھی جو خود کو ذرا سی بھی تکلیف دینے والوں کو اتنی آسانی سے معاف نہیں کرتی تھی۔
”پورا نیچے جاٶ۔۔۔۔
مکمل بیٹھو۔۔۔۔“
آس پاس آتے جاتے، چبوترے پہ ٹہلتے لوگ اس چھ فٹ کے لڑکے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو ہدایات دیتی سبز آنکھوں والی لڑکی کے سامنے اٹھک بیٹھک کر رہا تھا۔
”میلانا یگور تم عظیم ہو جب کہ میں ایک احمق انسان ہوں۔ میں تم سے معافی چاہتا ہوں۔“ ساتھ ساتھ وہ یہ کلمات ادا کرنا نہیں بھولا تھا۔
”نو۔۔۔
دس۔۔۔
شاباش واسل موروز! تم نے کر دکھایا۔ میں تمہیں معاف کرتی ہوں!“ اک ادا سے پونی میں قید بالوں کو چھو کر اس نے کہا۔
گہری گہری سانسیں بھرتے، کمر پہ دونوں ہاتھ ٹکاٸے واسل نے اسے گھورا جسے اس نے یکسر نظرانداز کر دیا۔
”اب کیا تم یہیں بیٹھی رہو گی؟“
”کیوں؟ یہاں بیٹھنا منع ہے؟“ وہ حیران ہوٸی۔
”میں پرے کرنے کے لیے چرچ کے اندر جا رہا ہوں۔ کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟“ وہ ابھی تک کھڑا تھا۔
”نہیں۔۔۔میں نہیں جاٶں گی۔“ اس کے لہجے کی سختی نے واسل کو چونکایا۔
”کیوں؟ کیا تمہیں خدا سے کچھ نہیں مانگنا؟“
”نہیں۔۔۔میں خدا سے ناراض ہوں۔“ اس نے سکون سے کہا۔
”کیا؟ کیا تم خدا پر یقین نہیں رکھتی؟“ اسے شدید حیرت ہوٸی تھی۔
”میں نے ایسا کب کہا؟ میں نے بس یہ کہا کہ میں خدا سے ناراض ہوں۔“ اس نے شانے اچکاٸے۔
”تم خدا سے کیسے ناراض ہو سکتی ہو؟ کیا مخلوق کو خالق سے ناراض ہونے کا حق ہے؟“ وہ اس کے برابر آن بیٹھا۔ اس نے ہمیشہ اپنے ماں باپ سے یہی سنا تھا کہ خدا بندوں سے ان کے گناہوں کے سبب ناراض ہو جاتا ہے۔ پہلی بار کسی نے اس سے کہا تھا کہ وہ خدا سے ناراض ہے۔
”میں نہیں جانتی لیکن میں تو اس سے ناراض ہو جاتی ہوں۔ اور تمہیں پتا ہے کہ وہ مجھے منا بھی لیتا ہے۔“ آخر میں رازداری سے اس کی طرف جھکتے ہوٸے میلانا نے اسے بتایا۔
”اور خدا تمہیں کیسے مناتا ہے؟“ واسل متجسس ہوا۔
”وہ چیز دے کر جس کے لیے میں ضد کرتی ہوں یا پھر اس سے بہتر چیز دے کے جس کے بارے میں میں نہیں جانتی کہ وہ میرے لیے نفع بخش ہے یا نہیں۔“ ایک مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا۔
”اس بار تم نے خدا سے کیا مانگا ہے جو تمہیں ابھی تک نہیں ملا اور تم خفا ہو؟“ اسے دلچسپی ہو رہی تھی۔
”ہے کچھ ایسا جو میں سالوں سے مانگتی آ رہی ہوں مگر مجھے مل نہیں رہا۔ میں نے قسم کھاٸی تھی جب خدا مجھے اس معاملے میں مناٸے گا تو میں تب ہی چرچ میں قدم رکھوں گی۔“ اس کا لہجہ ٹھوس تھا۔
”کیا تمہیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ تم غلط کر رہی ہو؟ ایک بندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خدا سے ناراض ہو۔“ واسل شدید الجھن کا شکار تھا۔
”نہیں میں اپنے اور خدا کے معاملے میں زیادہ سوچتی نہیں ہوں کیوں کہ میں اپنے اور خدا کے تعلق کو پیچدہ نہیں کرنا چاہتی۔“ میلانا نے انگلیاں مروڑتے ہوٸے کہا۔
”پتا نہیں تم کیا کہہ رہی ہو۔ خیر میں پرے کے لیے اندر جا رہا ہوں۔ تم جو مانگنا چاہتی ہو مجھے بتا دو! میں تمہارے لیے پرے کروں گا۔ ہو سکتا ہے یوں تمہاری مطلوبہ چیز تمہیں مل جاٸے۔“ واسل نے اس سے کہا۔
”میں اپنے اور خدا کے درمیان کسی تھرڈ پارٹی کو لانے کی قاٸل نہیں ہوں۔“ وہ دلکشی سے مسکراٸی تو واسل کو اس کے لہجے کی سچاٸی پر یقین آ گیا۔
”رکو! کیا میں تمہیں پرے کرنا سکھاٶں؟“ اس نے جوش سے پوچھا۔
”وہ کیسے؟“ وہ حیران ہوا۔
”ہم چرچ کے علاوہ بھی کسی بھی جگہ خدا سے بات کر سکتے ہیں، کچھ مانگ سکتے ہیں۔ دیکھو! میری طرف دیکھو اور میری پیروی کرو!“ اس کی آواز میں عجیب سی خوشی اور جوش تھا۔ اس کا چہرے پہ ایسی بچگانہ معصومیت تھی کہ واسل کی آنکھیں ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
اس نے واسل کے دونوں ہاتھ تھامے تو اس کے شانوں تک کرنٹ دوڑ گیا۔ اس کے ہاتھوں کو ہوا میں بلند کر کے پھیلاتے ہوٸے وہ اسے پرے کرنے کا طریقہ سکھا رہی تھی۔
”اپنے آپ کو آزاد، ہلکا اور تازہ دم محسوس کرو! اپنی آنکھیں بند کرو اور تصور کرو کہ تم ایک برف پوش چوٹی پر کھڑے ہو۔۔۔“ مسکراتے ہوٸے وہ اسے سمجھا رہی تھی جو بنا چوں چراں کیے مزے سے اس کی پیروی کر رہا تھا۔
”نہیں وہاں کا ارادہ منسوخ کر دو کہ وہاں ٹھنڈ زیادہ ہو گی۔ تم تصور کرو کہ تم ایک خوب صورت وادی میں ہو اور خدا تمہارے سامنے ہے۔ اب تم خدا سے جو چاہو مانگ لو!“ آنکھیں بند کیے، دھیرے سے ہونٹ ہلاتی چرچ کی سیڑھیوں پہ بیٹھی دیوی نے کہا۔
”اگر سامنے خدا کی بجاٸے کوٸی اور دکھاٸی دے تو؟“ ساتھ بیٹھے داس نے اپنی بند آنکھوں کے گرے پردوں پہ عیاں منظر کی جان بنی دو سبز آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا۔
”تو خدا سے اسی کو مانگ لو!“ دیوی نے جھنجھلاتے ہوٸے جان چھڑانے والے انداز میں کہا تو داس کے لب کھل اٹھے۔
”کیا تمہارے سامنے خدا ہے یا کوٸی اور؟“ داس متجسس ہوا۔
”ہاں، میرے سامنے خدا ہے۔“ دیوی نے اپنی بند آنکھوں کے سبز پردوں پہ پھیلے منظر کی جان بنے دو نیلی آنکھوں والے دیوتا کو دیکھتے ہوٸے جھوٹ بولا۔
خدا سے اپنے منظر کی جان بنی سبز آنکھوں والی لڑکی کو مانگنے والا داس نہیں جانتا تھا کہ دیوی ایک نیلی آنکھوں والے دیوتا کو خدا سے مانگ رہی ہے۔ داس نہیں جانتا تھا کہ دیوی اس نیلی آنکھوں والے دیوتا کو خدا سے کیوں اور کس لیے مانگتی ہے؟
*****
رات کے اس پہر گلی قدرے سنسان تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ رات ڈھل چکی تھی اور سب سو چکے تھے۔ بلکہ یہ رات کے کھانے کا وقت تھا۔ دو قطاروں میں بنے ہوٸے گھروں کو مصنوعی روشنیاں نے اجلا کر رکھا تھا۔ کھلی کھڑکیوں سے آتی مختلف کھانوں کی اشتہا انگیز مہک نتھنوں سے ٹکرا کے سیدھی معدے میں جا رہی تھی۔ وہ دونوں گلی میں کی نکڑ میں لگے لیمپ پول کی زرد روشنی میں بنتے اپنے سایوں کو روندتے ہوٸے آگے بڑھ رہے تھے۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ داٸیں قطار میں بنے ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے رک گٸے۔ لکڑی کا بنا سرخ خستہ دروازہ ایک زنگ آلود تالے سے مقفل تھا۔ سیم نے تالے کو دو انگلیوں سے چھوا اور مڑ کے اسے دیکھا۔ وہ اس کے تاثرات نہیں جان سکتا تھا کیوں کہ سر پہ رکھی کیپ اور چہرے پہ لپٹے سرخ مفلر نے اس کی آنکھوں کے علاوہ سب چھپا رکھا تھا۔
”کیا تمہیں اچھی طرح یاد ہے کہ وہ بوڑھا تمہیں یہیں لایا تھا؟“ وہ یقیناً برہم تھا۔
”ہاں ایبن! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہی اس کا گھر تھا۔“ سیم نے تیزی سے کہا۔
”تو پھر وہ تمہارا رشتے دار کہاں ہے؟ کیا تم مجھے اس زنگ آلود تالے سے ملوانے لاٸے ہو؟“ غصے سے بولتے ہوٸے اس کی آواز تیز اور بلند ہو گٸی۔
”ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ضروری کام سے کہیں۔۔۔“
”اس وقت وہ کس ضروری کام سے کہاں جا سکتا ہے؟“ اس نے سیم کی بات کاٹی۔
تبھی ساتھ والے گھر کا دروازہ کھلا۔ ایک پنتیس سالہ شخص انہیں حیرت سے دیکھتا باہر نکلا جو اس کے ساتھ والے گھر کے سامنے کھڑے بحث کر رہے تھے۔
”اے لڑکو! کون ہو تم دونوں؟ کیا تم یہاں چوری کرنے آٸے ہو؟ کیا مجھے تمہاری خاطر تواضع کے لیے پولیس کو بلانا چاہیے؟“ وہ تیز لہجے میں ان سے مخاطب ہوا تو وہ بدمزہ ہو کے دروازے کی جانب پشت کر کے دو قدم دور آن کھڑا ہوا۔
”نہیں ہمارا ایسا کوٸی ارادہ نہیں ہے۔ ہم تو اس گھر کے مالک سے ملنے آٸے ہیں۔ کیا آپ کو پتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟“ سیم نے جلدی سے اسے بتایا کہ مبادا وہ پولیس کو بلا ہی نہ لے۔
”کیا تم اس پاگل بُڈھے کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟“ اس کے چہرے پہ حیرت واضح تھی۔ ایبن نے پلٹ کے ان دونوں کو دیکھا جو اب آمنے سامنے کھڑے تھے۔
”تمہیں ان کے بارے میں اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔“ سیم کو اس کا انداز برا لگا تھا۔
”کس طرح؟ کیا ایک پاگل کو پاگل کہنا بری بات ہے؟“ اس کی حیرت دوچند ہوٸی۔
”کیا تم ہمیں اس بوڑھے کی بیٹی کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو؟ تم اس کے ہمساٸے ہو یقیناً اس کے بارے میں سب جانتے ہو گے۔ اس کی بیٹی جو چار دن سے لاپتا ہے۔ یہ اس کی تصویر دیکھو! تم تو جانتے ہی ہو گے۔“ سیم نے جلدی سے تصویر اسے تھما دی۔
اس آدمی نے ایک نظر تصویر پہ ڈالی اور سیم کو گھورنے لگا۔
”کیا وہ احمق بھی تمہارے ساتھ ہے؟“ اس نے ایبن کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے پوچھا تو اس کا خون کھول گیا۔
”ہاں! تم اس لڑکی کے بارے میں کچھ بتاٶ نا!“ سیم کو سب جاننے کی جلدی تھی۔
”کیا تم لوگوں نے کبھی تھیٹر نہیں دیکھا؟“ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”نہیں!“ سیم نے یک لفظی جواب دیا۔
”یہ تھیٹر کی مشہور کم عمر اداکارہ ہے۔ اس کا پلے آج بھی Voka تھیٹر میں نماٸش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔“ اس نے بتایا تو ایبن پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا۔
”لیکن اس بوڑھے کی بیٹی۔۔۔“
”کس کی بیٹی؟ اس پاگل بُڈھے کی تو شادی ہی نہیں ہوٸی تو بیٹی کہاں سے آ گٸی؟ وہ پچھلے چھ ماہ سے روزانہ کوٸی نہ کوٸی تصویر اٹھا کے پولیس اسٹیشن پہنچ جاتا ہے کہ میری بیٹی کل سے لاپتا ہے۔ وہ پاگل بُڈھا ہر آتے جاتے سے یہی سب کہتا ہے۔“ اس نے سیم کی بات کاٹتے ہوٸے تفصیلاً بتایا تو سیم کا منہ مارے حیرت کے کھل گیا۔
”کیا تم سچ۔۔۔“
”کیا تم اب یہاں سے خود چلو گے یا میں تمہیں دھکے دوں؟“ ایبن نے سیم کو گھورتے ہوٸے اس کی بات کاٹی۔
”میرا یقین کرو ایبن! میں تو صرف اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کے آنسوٶں میں سچاٸی دیکھی تھی۔“ سیم نے جلدی سے اس کے پیچھے لپک کے صفاٸی دی۔
”خاموش رہو فالتو شخص! تم نے میرا دماغ چاٹ لیا اور۔۔۔اور میرا وقت ضاٸع کیا۔“ وہ گرجا۔
”لڑکو! رکو، میری بات سنو! میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔“ وہ چند قدم ہی چلے تھے کہ اس شخص نے انہیں پکارا۔
سیم نے ایبن کو ملتجی نظروں سے دیکھا تو اس نے ایک گہری سانس خارج کی۔
”کیا بات ہے؟ اب تم ہمیں کیا بتانا چاہتے ہو؟“ ایبن نے اپنی سیاہ آنکھوں کو سکیڑتے ہوٸے پوچھا۔
”یہاں نہیں۔ تم لوگ میرے گھر میں آ جاٶ میں تمہیں کچھ بتاتا ہوں۔“ اس شخص نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوٸے کہا۔
ایبن نے سیم کو گھورا اور پلٹ کر اس آدمی کی طرف بڑھ گیا۔ سیم بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔
*****
گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی جب وہ اس کے کمرے کے سامنے آن رکا۔ کھانے کی میز پر وہ اسے پہلے سے زیادہ کمزور، خاموش اور اداس لگی تھی۔ کچھ سوچتے ہوٸے اس نے داٸیں ہاتھ کی انگلیاں فولڈ کر کے دروازے پہ دستک دی۔
”کون؟ ارون؟“ اندر سے تھکے ہوٸے لہجے میں پوچھا گیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس دروازے پہ اب صرف ارون ہی دستک دیتا تھا مگر وہ پھر بھی تصدیق کرنا نہیں بھولتی تھی۔
”ہاں میں ہی ہوں۔“ ارون نے جواب دیا۔
”اندر آ جاٶ! دروازہ کھلا ہے۔“ اسے اجازت دی گٸی۔
ارون دھیرے سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔ کمرے میں روشنی کم تھی۔ اسے وہ پلنگ کی پشت کے ساتھ سر ٹکاٸے دکھاٸی دی۔ دروازہ بند کر کے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ اس کے پاس پہنچ گیا۔ سرخ بالوں والی لڑکی کی بھوری آنکھوں میں کسی دکھ کے گہرے ساٸے تھے۔
”کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اب اپنے دل کے دروازے بھی کھول دینا تمہارے لیے مناسب ہو گا؟“ وہ اس کے پاٸنتی پلنگ پہ بیٹھ گیا۔
”تمہیں کس نے کہا کہ اجڑے ہوٸے دلوں کے دروازے یا کھڑکیاں سلامت ہوتی ہیں؟ غم کی سونامی آنکھوں کے ہی بند نہیں توڑتی بلکہ دل کی چاردیواری بھی منہدم کر جاتی ہے۔ جب چار دیواری ہی نہ ہو تو کھڑکیاں اور دروازے کہاں ہوں گے؟“ وہ اداسی سے مسکراٸی۔
”غم اور خوشی تو لازم و ملزوم ہیں۔ اولیانا! تمہیں اب موو آن کر جانا چاہیے۔“ ارون نے مخلصی سے مشورہ دیا۔
”میرے لیے یہ بہت مشکل ہے۔“ اولیانا نے اپنی ٹانگیں سمیٹیں۔
”تمہارے لیے یہ تب تک مشکل رہے گا جب تک تم اسے مشکل سمجھو گی۔“ ارون نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم پھنساتے ہوٸے سنجیدگی سے کہا۔
”ارون! تم یہ نہیں سمجھو گے کیوں کہ تم اس سب سے نہیں گزرے۔ میں خدا سے دعا کروں گی کہ وہ تمہیں کبھی اس سب سے مت گزارے۔“ اس کے لہجے میں بے بسی تھی۔
”آخر ہم کیوں مرنے والوں کی یاد میں جیتے ہیں؟“ ارون الجھا تھا۔
”کیوں کہ ہم مرنے والوں کے ساتھ مر نہیں سکتے۔ جان سے پیارے لوگوں کو کھو کر ہم ان کے بغیر زندہ تو رہتے ہیں مگر زندگی کے سب رنگ ہم سے روٹھ جاتے ہیں۔“ اولیانا نے ایک گہری سانس خارج کی۔
”ایسے میں تو یہی بہتر ہے کہ روٹھے رنگوں کو منانے کی بجاٸے نٸے رنگوں سے دوستی کر لی جاٸے۔“ ارون نے پتے کی بات کی تھی۔
”کچھ رنگ اتنے پکے ہوتے ہیں اور ایسے محبوب ہاتھوں کے لگاٸے ہوتے ہیں کہ وہ روٹھ تو سکتے ہیں اتر نہیں سکتے۔ نٸے رنگ اگر پچھلے رنگوں پہ ہی لگاٸے جاٸیں تو زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ تم نے دیواروں کو رنگ ہوتے دیکھا ہے نا؟ ان پہ بھی نیا رنگ تبھی بہتر انداز میں چڑھتا ہے جب پرانے روٹھے رنگوں کو کھرچ کھرچ کے اتارا جاٸے۔“ اولیانا نے اسے سمجھاتے ہوٸے کہا۔
”گویا پرانے رنگ اترنا ناممکن نہیں ہے۔ پھر تو تم بھی اپنے وجود سے روٹھے رنگ اتار سکتی ہو۔“ وہ ہمیشہ مثبت سوچتا تھا۔
”ہاں مگر میں پہلے ہی اس قدر زخمی ہوں کہ انہیں کھرچنے کے عمل میں شاید مر جاٶں۔“ اس نے تھکے ہوٸے انداز میں اپنی آنکھیں مسلیں۔
”آخر تم وکٹر کو بھول کیوں نہیں جاتی؟“ ارون نے کچھ لمحے توقف کے بعد کہا۔
”وہ میرا شوہر تھا ارون! ہمارا ساتھ مختصر سہی لیکن اتنا برا بھی نہیں تھا کہ میں اسے فراموش ہی کر دوں۔“ اولیانا کی آنکھوں میں افسوس تھا۔
”لیکن تمہ۔۔۔“
”کافی دیر ہو گٸی ہے۔ تمہیں اب سو جانا چاہیے کہ صبح تمہیں یونیورسٹی بھی جانا ہے۔“ اولیانا نے اس کی بات کاٹتے ہوٸے اسے جانے کا اشارہ دیا۔
”شب بخیر!“ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ساتھ پڑے تکیے کو گود میں لے کر اس نے جلدی سے کہا۔
”شب بخیر!“ ارون ایک گہری سانس بھر کے اٹھا۔ وہ جانتا تھا اب وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتی۔
اس نے دیکھا کہ اولیانا کی بھوری آنکھوں میں کچھ اشکوں کے پیر اُکھڑ رہے تھے۔ اس نے افسوس سے سر جھٹکا کہ وہ اس کی باتوں سے دکھی ہو گٸی تھی۔ وہ اس کی اور وکٹر کی محبت کا گواہ تھا۔ اسے ایسا مشورہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ اسے خود پر افسوس ہو رہا تھا۔
وہ دروازے تک آ کے ٹھہرا اور ایک نظر پلٹ کے اسے دیکھا جس کی آنکھیں اس کی پشت پر جمی تھیں۔
”اولیانا میں معافی چاہتا ہوں! میرا مقصد تمہیں دکھی کرنا نہیں تھا۔ ایک بھاٸی کی حیثیت سے میں تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔“ اس نے صفاٸی دی۔
”میں جانتی ہوں اور تمہاری محبت کی قدر کرتی ہوں۔ اگر تم میرے ساتھ نہ ہوتے تو شاید میں کب کی مر گٸی ہوتی۔ ایک تمہی تو ہو جو تب بھی میرے ساتھ تھے جب سب میرے ساتھ تھے۔ اور تم تب بھی میرے ساتھ رہے جب سب میرا ساتھ چھوڑ گٸے۔“ وہ محبت سے مسکراٸی تو ارون بھی مسکرا دیا۔
”میں آٸندہ بھی ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا۔“
وہ کہہ کر باہر نکل گیا۔ اولیانا نے لب بھینچتے ہوٸے بند دروازے کو دیکھا۔ آثار بتا رہے تھے کہ اسے ایک بار پھر رات بھر جاگنا تھا۔
*****
بلیک جینز شرٹ اور پیلا کوٹ پہنے، بالوں کو ٹیل پونی میں قید کیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ میلانا نے داٸیں ہاتھ کی پشت سے جماٸی روکتے ہوٸے پلٹ کر اسے دیکھا جو ایک ہاتھ میں فاٸل فولڈر پکڑے، شانے پر بیگ لٹکاٸے سیاہ جوگرز سے فرش کو روندتی کچن کی جانب ہی آ رہی تھی۔ نک سک سے تیار ہوٸی ویرا کے برعکس ملگجے سے ٹراٶزر اور ٹی شرٹ میں الجھے بکھرے بالوں کے ساتھ وہ کافی غیر مہذب لگ رہی تھی۔
ابھی وہ ناشتہ بنا رہی تھی۔ اتنے بعد یہ پہلی بار تھا کہ مجبوراً اسے کچن میں گھسنا پڑا تھا۔
”ناشتہ تیار ہے تو لے آٶ! مجھے دیر ہو جاٸے گی۔“ ویرا نے کرسی سنبھالتے ہوٸے کہا۔
میلانا نے غور کیا تھا کہ اس کے ہر عمل سے نفاست چھلکتی تھی۔ ہر وقت صفاٸی صفاٸی کی رٹ لگاتی اسے وہ اکثر OCD کی شکار لگتی تھی۔
”لا رہی ہوں ملکہٕ عالیہ!“ میلانا نے منہ بنا کے ٹوسٹس پلیٹ میں سجاٸے۔ ایک مگ میں کافی بھر کے اس نے ناشتہ میز پہ رکھا اور اس کے سامنے والی کرسی پر یوں گری جیسے پہاڑ کھود کے آٸی ہو۔
ویرا نے مگ کو اپنی طرف کھسکایا اور چاروں طرف سے گھما کے دیکھا۔
”کیا تم نے مگ نہیں دھویا؟“ اسے مگ کی حالت مشکوک کر رہی تھی۔
”میں نے اسے اچھی طرح صاف کیا تھا۔ کیا اب تیزاب ڈال کے دھو دوں؟“ میلانا برا مان چکی تھی۔
”لگ تو نہیں رہا۔ خیر۔۔۔“ ویرا بڑبڑاٸی۔
”یہ کیا ہے؟ میں ناشتے میں پیپسی یا کوٸی بھی کولڈ ڈرنک نہیں لیتی۔“ قہوہ نما سیاہ رنگ کافی کو دیکھتے ہوٸے اس کی آنکھیں پھیل گٸیں۔
”یہ تمہیں پیپسی لگ رہی ہے؟“ صدمے کی زیادتی سے میلانا کا ہاتھ کلیجے پہ پڑا جس نے کریم ڈال کے اس کے لیے کافی بناٸی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک ہی مگ میں کافی کی آدھی بوتل خالی ہو چکی تھی۔
”اور یہ کیا ہے؟“ کافی کے ہم رنگ ٹوسٹس کو دیکھ کر ویرا کو سخت وحشت ہو رہی تھی۔
”یہ ٹوسٹ ہیں۔ تمہیں پتا ہے میری ماں کو میری ککنگ بہت پسند تھی۔ وہ میرے بناٸے گٸے کھانوں کی بہت تعریف کیا کرتی تھیں۔ آج رات ڈنر میں میں بیف۔۔۔“
”ماٸیں تو بہت معصوم اور دل رکھنے والی ہوتی ہیں میلانا! ان کی ایسی باتوں کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔“ ویرا کا سر چکرا رہا تھا۔
وہ سوچ رہی تھی کہ اگر یہی سب معمول رہا تو وہ اسے جلد ہی سڑک پر لے آٸے گی۔
”یہ ناشتہ تم کرو! اور خدا کے لیے آج کے بعد کچن میں داخل مت ہونا!“ اس نے انگلی اٹھا کر تنبیہ کی۔
”کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟“ میلانا کی باچھیں کھل گٸیں۔
”ہاں! اب میں چلتی ہوں۔“ اپنی کلاٸی پہ بندھی نفیس سی گھڑی کو دیکھ کر اس نے فاٸل فولڈر اور بیگ اٹھایا۔
”کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہیں BK Pharma میں جاب مل جاٸے گی؟“ میلانا نے جلدی سے پوچھا۔
”وہ اس وقت یہاں کی سب سے بڑی فارما کمپنی ہے۔ کسی بھی فارمیسی سٹوڈنٹ کی طرح میری شدید خواہش ہے کہ میں اس کمپنی میں کام کروں۔ مجھے یقین تو نہیں لیکن اچھی امید ضرور ہے۔“ ویرا نے ایک عزم سے کہا۔
”میں تمہارے لیے دعا کروں گی۔“ میلانا کے لہجے میں خلوص کی چاشنی تھی۔
”وہ جو تم میرے لیے کرو گی کیا وہ دعا ہو گی؟“ ویرا مشکوک تھی۔
”جاٶ! میں تم سے بات نہیں کر رہی۔“ اس نے منہ بنا لیا۔
”اچھا۔۔۔۔معذرت میں مذاق کر رہی تھی۔ باٸے!“ ویرا نے پاس آ کے اس کی گردن کے گرد بازو حماٸل کیے۔
”ٹھیک ہے۔ میں نے تمہیں معاف کیا۔ باٸے!“ اس کے ہاتھ کو تھپتھپاتے ہوٸے میلانا نے نرمی سے کہا۔
ویرا نے باہر نکل کے دروازہ بند کیا تو وہ ناشتے کی طرف متوجہ ہوٸی۔ اس کی آنکھوں میں شرارت کی چمک امڈ آٸی۔
”کوٸی بھی کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ یا تو کوٸی بھی کام ایسے کرو کہ سب تمہیں بار بار وہ کام کرنے کا کہیں۔ یا پھر اسے ایسے کرو کہ کوٸی تمہیں دوبارہ کہنے کا سوچ بھی نہ سکے۔“ خود کلامی کرتے ہوٸے اس نے ویرا کے لیے بناٸے گٸے جلے ہوٸے ٹوسٹ اور سیاہ رنگ کافی کو دیکھتے ہوٸے ڈھٹاٸی سے قہقہہ لگایا۔
وہ پلیٹ اور مگ اٹھا کے کھڑی ہوٸی ہی تھی کہ کسی چیز کے فرش پہ ٹکرانے کی آواز پہ ٹھٹھکی۔ اس نے چونک کے نیچے دیکھا جہاں اس کے قدموں میں ویرا کی نفیس سی واچ اپنے چکنا چور شیشے سمیت پڑی تھی۔ میلانا نے اس کا ہاتھ تھپکتے ہوٸے کب اس کی گھڑی اتار لی تھی اسے بھی نہیں پتا تھا۔
”آہ! ایک اور گھڑی!“ افسوس سے کہہ کے اس نے ایک گہری سانس خارج کی۔ ابھی اسے گھڑی کی لاش کو بھی ٹھکانے لگانا تھا۔
*****
ہاتھ میں دلیے کا پیالہ پکڑے وہ اِدھر اُدھر دیکھتی ہوٸی احتیاط سے کمرے میں داخل ہوٸی۔ مریضہ کی نظریں دروازے کی جانب ہی تھیں۔ چھوٹے سے پلنگ کی ٹیک کے ساتھ دو تکیے لگا کے اس کا سر اونچا کیا گیا تھا۔ اس کا لاغر وجود، آنکھوں سے ٹپکتی اجنبیت اور چہرے پہ پھیلی وحشت گواہ تھی کہ اس کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہے۔
نتالیہ نے پلنگ کے ساتھ پڑی چھوٹی سی لکڑی کی میز پر دلیے کا پیالہ رکھا۔ میز پر رنگ برنگی دواٶں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اس نے ایک نظر دواٶں کو دیکھا جو اس مریضہ کے لیے بے اثر تھیں۔ کمرے کی فضا میں دواٶں کی مخصوص بو رچی ہوٸی تھی۔
”تمہاری دوا کا وقت ہو رہا ہے۔ پہلے یہ دلیہ کھا لو تاکہ میں تمہیں دوا دے سکوں۔“ نتالیہ نے ویران آنکھوں والی عورت کے سینے پہ نیپکن پھیلایا اور اس کی گردن کے نیچے اپنا بازو رکھ کے اس کا سر اٹھایا۔ تکیوں پہ اس کا سر مزید اونچا کر کے اس نے اپنا بازو نکال لیا۔
”میں یہ نہیں کھاٶں گی۔ یہ تمہاری باتوں کی طرح بدمزہ ہے۔“ نتالیہ نے ایک چمچ بھر کے اس کے لبوں سے لگایا ہی تھا کہذرا سا دلیہ چکھنے کے بعد وہ بیزاری سے بولی تو نتالیہ کا منہ کھل گیا۔
”کیا کہا تم نے؟ کیا یہ بدمزہ ہے؟“ اسے صدمہ ہی تو پہنچا تھا۔
”ہاں!“ یک لفظی جواب دے کر وہ چھت کو گھورنے لگی۔
”اگر تم ایسے ہی بہانے کرتی رہو گی تو بیماری سے نہ سہی بھوک سے ضرور مر جاٶ گی۔“ نتالیہ غضبناک ہوٸی۔ اس میں کوٸی شک نہیں تھا کہ وہ بہت اچھا کھانا بناتی تھی۔
”تو ٹھیک ہے تم مجھے مرنے دو! میں مر جانا چاہتی ہوں۔ تم خدا سے دعا کرو کہ میں مر جاٶں۔“ وہ چھت کو گھورتی سنجیدگی سے گویا ہوٸی تو نتالیہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کا چہرہ اب بالکل سپاٹ تھا۔
”نہ سہی!“
چمچ کو میز پر رکھ کے اس نے کندھے اچکاٸے اور ایک نظر اِدھر اُدھر دیکھا۔ اطمینان سے پیالہ لبوں کو لگاتے ہوٸے وہ مزیدار دلیے سے انصاف کرنے لگی۔
اس نے آخری گھونٹ بھرا ہی تھا کہ باہر لکڑی کے فرش پر پڑتی بوڑھے کی لاٹھی کی ٹھک ٹھک کی آواز ابھری۔ وہ یقیناً کھیت سے واپس آ چکا تھا۔ پیالہ میز پر رکھ کے اس نے لبوں کو زبان سے چاٹا اور اپنی تخریب کاری کے نشان مٹا دِیے۔
*****
آج وہ یونیورسٹی نہیں آٸی تھی۔ واسل نے اسے فون کر کے یونیورسٹی نہ آنے کی وجہ پوچھی تو علم ہوا کہ وہ زکام کی زد میں ہے۔ واسل نے چھٹی کے بعد پارکنگ کے پاس جب ارون سے میلانا کی ناسازیٕ طبیعت کا ذکر کیا تو اس کی آنکھیں کسی خیال کے تحت چمک اٹھیں۔
”ہمیں اس کی تیمارداری کرنے جانا چاہیے۔ آخر وہ ہماری دوست ہے۔“ اس نے مشورہ دیا۔
”کیا تمہارے خیال میں ایسے جانا مناسب ہے؟“ وہ ہچکچایا۔
”اس میں نامناسب کیا ہے؟ یہ تو اچھی بات ہے۔“ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کے کناروں سے پھوٹ رہی تھی۔ گویا میلانا بیمار نہیں تھی بہت مزے میں تھی۔
”میرے خیال میں ہمیں اسے آرام کرنے دینا چاہیے۔“ وہ متامل ہوا۔
”بعض اوقات تیمارداروں کو دیکھ کر ہی بیمار کی آدھی بیماری ختم ہو جاتی ہے۔“ نہیں معلوم کہ وہ میلانا کی بیماری میں فکرمند تھا یا خود کسی بیماری میں مبتلا ہو رہا تھا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ تم اپنی گاڑی نکال لاٶ! ہم چلتے ہیں۔“ واسل نے رضامندی ظاہر کی۔
”نہیں۔۔۔نہیں! آج نہیں، ہم کل دن میں جاٸیں گے۔ آج اسے آرام کرنا چاہیے۔“ اپنی گھڑی پہ وقت دیکھتے ہوٸے اس نے جلدی سے یوں کہا جیسے کچھ یاد آ گیا ہو۔
”ہاں؟ ابھی تم کچھ اور کہہ رہے تھے۔“ واسل حیران ہوا۔
”ابھی وہ شاید ہسپتال گٸی ہو۔ ہمیں کل دن میں جانا چاہیے۔ میں تمہیں تمہارے فلیٹ سے لے لوں گا۔“ اس نے پروگرام سیٹ کر کے بتایا تو واسل نے کندھے اچکا لیے۔
”ٹھیک ہے۔ میں چلتا ہوں!“ واسل نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوٸے بیگ سنبھالا اور مخالف سمت چل دیا تو اس نے ایک گہری سانس بھری۔
”ویرا!“ کی چین کو انگلی میں گھماتے ہوٸے زیرِلب ایک نام دہراتا ہوا مسکرا دیا۔
*****
موسم بدل رہا تھا۔ یہ اکتوبر کا آخری ہفتہ تھا۔ ہوا میں خُنکی کا ہلکا سا احساس خوش گوار تھا۔ اتوار کے دن کے سورج کا مزاج قدرے دھیما تھا۔ میلانا پلنگ کی پشت سے سر ٹکاٸے نیم دراز تھی۔ پیروں سے لے کر سینے تک کو کمبل میں چھپاٸے وہ اپنی سرخ ناک کو ٹشو پیپر سے صاف کر رہی تھی۔ کل صبح سے اسے زکام نے بے حال کر رکھا تھا۔ اسی لیے اس نے کل یونیورسٹی سے چھٹی کی تھی۔
چار دن قبل اس نے ماسکو میں مقیم اپنے بھاٸی سے فون پر بات کرنے کے لیے جب اس کا نمبر ویرا کو دیا تو ویرا نے اسے ایک ذاتی موباٸل فون خریدنے کا مشورہ دیا۔ ویسے بھی اب شاید اس کی زندگی میں کچھ ایسے لوگ جڑ چکے تھے جو اس کا خیال رکھتے تھے اور اس سے رابطہ رکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بھاٸی نے اس کے خرچ کے لیے ایک موٹی رقم بھیجی تو اس نے ایک موباٸل فون بھی خرید لیا۔ ویرا کو باتوں باتوں میں اس نے بتایا تھا کہ اس کی ماں نے مرنے سے قبل لمبی چوڑی جاٸیداد چھوڑی تھی جس کی نگرانی اس کے بھاٸی کے ذمے تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بھاٸی ایک اچھا انسان ہے جو اس کا خیال رکھتا ہے مگر اس کی بیوی میلانا کو ناپسند کرتی ہے۔ ان کی دو چھ سالہ جڑواں بیٹیاں اور ایک دو سالہ بیٹا تھا۔
”تمہیں زکام کیسے اور کیوں ہوا؟“ واسل کنفیوز تھا کہ عیادت کرنے کا آغاز کیسے کرے۔ اس سے قبل اس نے شاید ہی کسی کی عیادت کی ہو۔
اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت وہ آج اس کی عیادت کرنے آٸے تھے۔ وہ جو صبح سویرے اس کے فلیٹ پہ وارد ہو کے اس کی نیند خراب کرنے کا سبب بنا تھا اب یوں بیٹھا تھا جیسے اسے میلانا کی عیادت سے کوٸی دلچسپی نہیں۔ مجبوراً اس کے کہنے پہ واسل کو ہی بات کا آغاز کرنا پڑا۔
”پتا نہیں میں نے زکام سے پوچھا نہیں کہ یہ مجھ سے ملنے کیسے اور کیوں آیا۔“ اسے کڑی نظروں سے دیکھتے ہوٸے وہ چھینکی تو اس نے ارون کے پیٹ میں کہنی مار کے اس کے کان میں سرگوشی کی;
”اب کیا پوچھنا ہے؟“
”پوچھو تم نے دوا لی؟“ نظروں کا زوایہ بدلے بنا اس نے دھیرے سے کہا۔
وہ اس کے پلنگ کے پاٸنتی جانب دیوار سے لگے صوفے پر بیٹھے تھے۔ ویرا میلانا کے برابر بیڈ کی ٹیک کے ساتھ انہیں کمپنی دینے کی غرض سے بیٹھی تھی۔ سفید ٹراٶزر اور سرخ ڈھیلی ٹی شرٹ میں بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹے وہ کوٸی کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی۔ جب کہ وہ گرے تھری پیس میں گرے ہی جوتے پہنے، بالوں کو جیل سے جماٸے اپنے تٸیں اس وقت روٸے زمین کا ”ہینڈسم ترین“ لڑکا لگ رہا تھا۔
ارون کی نظریں اس کے چہرے کے دونوں اطراف لٹکتی دو چھوٹی چھوٹی لٹوں سے اٹھکیلیاں کر رہی تھیں۔ وہ بھی اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر چکی تھی تبھی سختی سے دو تین بار گھور کے اسے متنبہ کرنا چاہا مگر وہ ڈھٹاٸی سے مسکراتے ہوٸے اسے دلچسپی سے یوں دیکھ رہا تھا جیسے کاٸنات کے کینوس پر بس اک یہی منظر بچا ہو۔
”کیا تم نے دوا لی؟“ واسل نے اس کا بتایا ہوا سوال پوچھا۔
”نہیں بیماری میں دوا کون لیتا ہے؟“ میلانا کا چڑچڑا پن بیماری کے باعث فطری تھا مگر اس کے بچگانہ سوال بھی جلتی پہ تیل والا کام کر رہے تھے۔
”مجھے لگتا ہے اس کا زکام اس کے دماغ کو چڑھ گیا ہے۔ تبھی یہ کسی بھی بات کا سیدھا جواب نہیں دے رہی۔ اب کیا پوچھوں؟ مجھے لگتا ہے ہمیں واپس چلنا چاہیے۔ اب پوچھنے کے لیے میرے پاس کوٸی سوال نہیں بچا۔“ واسل نے جھکتے ہوٸے ارون کے کان میں سرگوشی کی۔
”ابھی کیوں چلے جاٸیں؟ سوال کیوں نہیں ہیں؟ جو ٹشو پیپرز وہ استعمال کر رہی ہے اس کا برینڈ پوچھو!“ ارون کسی صورت جلدی اٹھنے کے حق میں نہیں تھا۔
”کیا واقعی؟ یہ کیسا عجیب سوال ہو گا۔“ واسل کو حیرت ہوٸی۔
”پاگل کچھ کمپنیز آج کل ٹشو پیپرز کو ری ساٸیکل کرتی ہیں۔ اس لیے ان کا استعمال صحت کے لیے مضر ہوتا ہے۔ ان کے کنٹیمینیٹڈ ریشے ناک کے خلیوں کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔ تم پوچھو اگر وہ کسی ایسی کمپنی کا برینڈ ہوا تو میں فوراً پہچان جاٶں گا۔ اس طرح اسے روک کر ہم اپنی دوست کی قیمتی جان بچا سکیں گے۔“ ارون کے لہجے میں خلوص کی چاشنی محسوس کر کے واسل کا دل پسیجا کہ وہ کتنا اچھا اور خیال کرنے والا دوست تھا۔
”جو ٹشو پیپرز تم استعمال کر رہی ہو یہ کس برینڈ کے ہیں؟“ واسل نے سنجیدگی سے پوچھا تو میلانا تو میلانا ویرا کو بھی اس کی دماغی حالت پہ شبہ ہوا۔
”میری طبیعت گٸی بھاڑ میں! تم یہ بتاٶ کہ تم ٹھیک ہو؟ تم کچھ کھا پی کے تو نہیں آٸے؟“ میلانا نے اسے گھورتے ہوٸے پوچھا تو وہ گڑبڑا گیا۔
”وہ تو غضبناک ہو رہی ہے۔“ ارون کے پیر پہ پیر مارتے ہوٸے اس نے اسے آگاہ کیا۔
”کوٸی بات نہیں۔ تم دل پہ مت لو! وہ بیمار ہے نا اس لیے کچھ بھی بول رہی ہے۔“ ارون نے تسلی دی تو اس نے ہمدردی سے میلانا کو دیکھا جس کی آنکھیں اب مسلسل چھینکنے کے باعث پانی سے بھر گٸی تھیں۔ اس کی سرخ ناک کیک پر لگے چیری کے ٹکڑے جیسی لگ رہی تھی۔ وہ اس حالت میں بھی اسے پیاری لگ رہی تھی۔
”میں ابھی آتی ہوں۔“ ویرا، ارون کو کڑی نظروں سے دیکھتی میلانا سے مخاطب ہوٸی کیوں کہ اب مزید یہاں بیٹھنا اس کے ضبط کا امتحان تھا۔
”ویرا! یہ کتنی بری بات ہے کہ میرے دوست میری عیادت کے لیے آٸے ہیں مگر تم نے انہیں چاٸے، کافی کچھ بھی پیش نہیں کیا۔“ میلانا کو ویرا پر افسوس ہوا۔
”میں کافی بناتی ہوں۔“ ویرا نے ضبط کرتے ہوٸے کہا۔
”ارے نہیں! اس کی ضرورت۔۔۔“
”میں تو ضرور پیوں گا!“ واسل کی بات کاٹتے ہوٸے ارون نے صوفے کی پشت پر بازو پھیلایا اور پیر میز کے نیچے پسارے یوں پھیل کے بیٹھ گیا جیسا اس کا ٹلنے کا کوٸی ارادہ نہ ہو۔
”ہم کافی پھر کبھی پی لیں گے۔ ابھی مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔“ واسل نے اپنے پاٶں سے اس کے پاٶں کو میز کے نیچے ٹھوکر لگاٸی۔
”ہاں تو تم جاٶ! میں تو کافی پی کے جاٶں گا۔“ اس کی آنکھوں میں رنگ اترے ہوٸے تھے۔ ایک شرارتی مسکان ویرا کو غصہ ضبط کرتے دیکھ کر اس کے لبوں سے پھسل پھسل جا رہی تھی۔
”لیکن طے یہی پایا تھا کہ تم مجھے ڈراپ کرو گے۔ اب میں کیسے جاٶں گا؟“ واسل بھی ضبط کی حدوں پہ تھا۔
”تم میری گاڑی لے جاٶ! میں ٹرام پہ چلا جاٶں گا۔“ اس نے میز سے کی چین اٹھا کے اس کی ہتھیلی میں تھما دی تو وہ اسے کڑی نظروں سے دیکھتا ہوا کھڑا ہو گیا اور چابی واپس میز پہ رکھ دی۔
میلانا کو جلد صحت یابی کی دعاٸیں اور نیک تمناٸیں دے کر وہ باہر نکل گیا تو ویرا بھی ناچار اس کی ڈھٹاٸی کو دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوٸی۔ اس کی نظروں نے دروازے سے غاٸب ہونے تک اس کا پیچھا کیا۔
”یہ تم جسے ایک سو اسی گھوریاں فی سیکنڈ کی رفتار سے تاڑ رہے ہو وہ عمر میں تم سے کافی بڑی ہے۔“ اس نے پلٹ کے دیکھا تو میلانا سینے پہ بازو لپیٹے اسے ہی گھور رہی تھی۔
”نہیں۔۔۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تمہیں کس نے کہا؟“ ایک کھسیانی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ پھیل گٸی۔
”کیوں کہ میں میلانا یگور ہوں۔ میں اپنے آپ سے تو بے خبر ہو سکتی ہوں مگر اپنے اطراف سے نہیں۔“ اسے نے فخریہ لہجے میں کہا تو ارون نے تاٸید میں سر ہلایا۔
کچھ ہی دیر میں وہ کافی بنا لاٸی اور مگ اس کے سامنے میز پہ رکھ دیا جو اس کی مخروطی انگلیوں کی لمباٸی چوڑاٸی ناپنے لگا۔
مگ رکھ کے وہ وہیں اس کے پاس کھڑی ہو گٸی تو اس نے مسکراتے ہوٸے جلدی سے مگ اٹھا لیا۔ نہایت شوق سے اس نے ایک بڑا سا گھونٹ بھرا ہی تھا کہ فوراً مگ میز پہ رکھ کے دہرا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں کھارے پانیوں سے بھر گٸی تھیں۔
”کیا ہوا؟ تمہیں کافی اچھی نہیں لگی؟“ لہجے میں تفکر کی چاشنی گھولے ویرا نے مایوسی سے پوچھا تو اس نے جلدی سے گھونٹ نگل لیا۔
”نہیں۔۔۔نہیں! یہ بہت اچھی بنی ہے۔ میں نے آج تک ایسی کافی نہیں پی۔“ دانت پیستے ہوٸے اس نے مصنوعی مسکراہٹ کا سہارا لیا۔
”ویرا، میری پیاری بہن! مجھے بھی کچھ کھانے کے لیے لا دو!“ میلانا نے میسنی سی شکل بنا کے کہا تو وہ خلافِ توقع مسکرا دی۔
”کیوں نہیں۔ میں ابھی تمہارے لیے دلیہ بناتی ہوں۔“ اس کے لہجے میں عجیب سی سرخوشی تھی۔
”تمہیں کیا ہوا؟“ میلانا نے ابرو سکیڑ کے ارون سے پوچھا جو بمشکل ضبط کرتا ہوا کافی کے گھونٹ اپنے حلق میں انڈیل رہا تھا۔
”کچھ نہیں۔۔۔یہ کافی ہے نا۔۔۔“
”ہاں ویرا کافی بہت اچھی بناتی ہے۔“ میلانا نے مسکرا کے کہا تو اس نے بھی تاٸید میں سر ہلایا۔
”بالکل!“
ادھر وہ کچن میں چولہا جلاتی ہوٸی دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔
”لوفر انسان اتنی ڈھٹاٸی سے گھور رہا تھا۔“
دلیے کا سامان سلیب پہ رکھتے ہوٸے وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑا رہی تھی۔
”ایسے لڑکے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے گھٹیا طریقے اپناتے ہیں۔ یقیناً اب اس کی آنتوں تک میں ٹھنڈک اتر گٸی ہو۔“ چمچ ہلاتے ہوٸے وہ گویا ہوٸی۔
”اور یہ آوارہ انسان مجھے تاڑ تو ایسے رہا تھا جیسے ابھی نگل جاٸے گا۔“
”آٸینے کی آخری اطلاعات کے مطابق میں انسان ہی ہوں اژدھا نہیں جو تمہیں نگل جاٶں گا۔“ اپنی پشت پہ ابھرتی اس کی آواز پہ وہ اچھل کے پلٹی۔
وہ جو خالی مگ میلانا کے کہنے پہ کچن میں رکھنے آیا تھا اپنے بارے میں اس کی گوہر افشانیاں سن کے حیران رہ گیا۔
گھبراتے ہوٸے وہ بنا جواب دیے دلیے کی طرف متوجہ ہوٸی تو ارون نے آگے بڑھ کے مگ سلیب پہ رکھ دیا۔
”کافی بہت اچھی تھی۔ شکریہ!“ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کر کے وہ فلیٹ کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
ویرا نے سلیب سے مگ اٹھا کے دیکھا جس کے پیندے میں ابھی بھی کافی سارا نمک موجود تھا۔ وہ ایسی بالکل نہیں تھی کہ کسی کو تنگ کرے یا ایذا دے۔ بس اس کی حرکتوں پہ اسے غصہ آیا تو دھیڑ سارا نمک کافی میں انڈیل دیا جسے وہ بنا کچھ کہے چپ چاپ پی گیا تھا۔ اچانک ہی اسے بہت شرمندگی محسوس ہوٸی کہ وہ ان کا مہمان تھا جس کے ساتھ اس نے ایسا سلوک کیا۔
”بیچارہ!“ اس نے تاسف سے کہا۔
تھوڑی دیر پہلے اس کے چہرے سے ٹپکنے والی خوشی مفقود ہو گٸی تھی۔
*****
”ہے ارون! یہاں نیچے آٶ!“ وہ اس وقت ٹیرس پہ کھڑا تھا جب لان میں ٹہلتے ہوٸے رسلان نے اسے پکارا۔
”کیا بات ہے بھاٸی؟“ وہ وہیں سے چِلایا۔
”نیچے آٶ، بتاتا ہوں!“ اس نے اشارہ کیا تو وہ ٹیرس سے اوجھل ہو گیا۔
شام کے چار بجے تھے اور وہ آج آفس سے چھٹی ہونے کے باعث گھر میں موجود تھا۔ کچھ ہی دیر میں ارون اس کے سامنے تھا۔ لان میں سجی کرسیوں پہ دونوں بھاٸی آمنے سامنے بیٹھ گٸے۔
”میں نے سوچا ہم دونوں بھاٸی آج کچھ وقت ایک ساتھ بِتاٸیں۔“ رسلان نے مسکراتے ہوٸے کہا۔
”کیوں نہیں بھاٸی! میرے لیے تو آپ کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔“ اس کا لہجہ بھاٸی کی محبت سے بھیگا ہوا تھا۔
”آج موسم کافی خوش گوار ہے۔“ رسلان نے آسمان پہ پھیلے ہلکے ہلکے بادلوں کو دیکھتے ہوٸے کہا۔
”جی بالکل!“
”بھاٸی ویسے آپ کو نہیں لگتا کہ آپ اب بوڑھے ہو رہے ہیں؟“ کسی خیال کے تحت ارون نے آگے جھکتے ہوٸے میز پہ کہنیاں ٹکا کے سنجیدگی سے کہا تو رسلان کا منہ مارے حیرت کے کھل گیا۔
”کیا؟ میں تمہیں بوڑھا دِکھ رہا ہوں؟“ اس کے الفاظ اسے تڑپا گٸے تھے۔
”نہیں۔۔۔نہیں! آپ تو بہت ہینڈسم ہیں۔ لیکن جلد آپ کی عمر بھی ہمارے کک کی طرح ڈھلنے لگی۔ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کو اب شادی کر لینی چاہیے؟“ وہ سیدھا مدعے پہ آیا۔
”یہ بیٹھے بٹھاٸے تمہیں میری شادی کا خیال کہاں سے آ گیا؟“ رسلان حیران تھا کہ یہ پہلی بار تھا جب ارون نے اس سے ایسی بات کی تھی۔
”آپ کی شادی ہو گی تو میری باری آٸے گی نا!“ آہستگی سے بڑبڑاتے ہوٸے اس نے منہ لٹکایا۔
”کیا کہا تم نے؟“ رسلان نے ابرو سکیڑے۔
”کچھ نہیں۔۔۔کچھ نہیں! میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ آپ اتنے ہینڈسم اور گڈ لکنگ ہیں۔ آپ تو کتنی ہی لڑکیوں کے دلوں پہ راج کرتے ہیں۔ کسی ایک سے شادی کر لیں نا!“ اس نے توصیفی لہجے میں کہا تو رسلان مسکرا دیا۔
”یہ تو ہے مگر مجھے ابھی تک کوٸی ایسی لڑکی نہیں ملی جس کے بارے میں میں اس انداز سے سوچ سکوں۔ میں کتنی لڑکیوں کے دلوں پہ راج کرتا ہوں یہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ میرے دل پہ کون راج کرتی ہے۔ ایسی لڑکی ابھی تک مجھے نہیں مل سکی۔ اور میں شادی اسی سے کروں گا جو میرا دل فتح کرے گی۔“ اس نے ٹھوس لہجے میں کہا تو رسلان نے رشک سے اسے دیکھا جو شہزادوں کی سی آن بان رکھتا تھا۔ وہ جو کسی کو بھی فتح کر سکتا تھا اس کا دل فتح کرنا بہت مشکل تھا۔
”یقیناً وہ لڑکی بہت خاص ہو گی جو شہزادوں جیسے میرے بھاٸی کا دل فتح کرے گی۔“ دل ہی دل میں اعتراف کرتے ہوٸے وہ مسکرا دیا۔
اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے کب ایک گھنٹہ گزر گیا انہیں پتا ہی نہیں چلا۔
”ٹھیک ہے بھاٸی! اب مجھے یونیورسٹی کا کچھ کام کرنا ہے۔ یہ وقت بہت خوب صورت تھا۔“ ارون نے اجازت چاہی۔
”ارے کچھ دیرکو نا! ابھی ہم ساتھ میں کافی پیتے ہیں۔“ رسلان نے دوستانہ لہجے میں کہا تو وہ کرسی سے یوں تڑپ کے اٹھا جیسے کسی سانپ نے اسے ڈس لیا ہو۔
”ن۔۔۔نن۔۔۔نہیں!۔۔۔نہیں، میں کافی نہیں پیوں گا! آپ جتنا مرضی اصرار کر لیں میں کافی نہیں پیوں گا۔ میں کافی کبھی بھی نہیں پیوں گا۔“ تیز زور زور سے نفی میں سر ہلاتا وہ یوں کہہ رہا تھا جیسے ابھی رو دے گا۔ اپنی بات مکمل کر کے تیز تیز قدم اٹھاتا وہ لان سے نکل گیا۔
”اسے کیا ہوا؟ میں نے کافی پینے کا کہا تھا زہر کا تو نہیں کہا۔ پھر یہ ایسا ردِعمل کیوں دے رہا ہے؟“ اسے نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھ کر رسلان نے حیرت سے خود کلامی کی۔
جب کہ عجلت میں سیڑھیاں چڑھتے ارون کو ایک زور کی ابکاٸی آٸی۔ پیار پیار میں ویرا کے ہاتھ کی بنی کافی اس نے نگل تو لی تھی مگر اب وقفے وقفے سے اسے اگلتے ہوٸے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی۔
*****
رات کا دوسرا پہر خاموش اور پُراسرار تھا۔ سرخ روشنی میں ڈوبا ان کا تہ خانہ کسی مذبح خانے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ یہاں کا ماحول رات کی پراسراریت کو دوچند کر رہا تھا۔ مشرقی دیوار کے ساتھ مختلف کمپیوٹراٸزڈ سسٹمز سجے ہوٸے تھے۔ دیوار پر دو بڑی بڑی سکرینز آویزاں تھیں۔ مغربی دیوار پہ تین درمیانے حجم کے سبز بورڈز تھے جن پر اخبارات کے تراشے اور کتنے ہی کاغذات کے ٹکڑے تھمب پنز کی مدد سے اٹکے تھے۔ شمالی دیوار کے ساتھ دو بڑی بڑی الماریاں تھیں جن کے شیشوں سے جھانکتے پستول، چاقو، چھریاں، ٹوپیاں، مفلرز، رومالز اور ایسی ہی کٸی چیزیں بھری ہوٸی تھیں۔ جنوبی دیوار کی جانب رخ کر کے کھڑا وہ واٸٹ بورڈ کو دیکھ رہا تھا جو ایک لکڑی کے سٹینڈ پہ نصب دیوار سے ٹکا ہوا تھا۔ اسی دیوار کے سینے میں پیوست لکڑی کا بھاری دروازہ اندر سے بند تھا۔ دو انگلیوں میں سیاہ مارکر گھماتے ہوٸے وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کی پشت سے کچھ قدم دور سیم اور زہوک کھڑے تھا۔ زہوک کے چہرے سے حیرت ٹپک رہی تھی۔
”یعنی اس بوڑھے کی نصف کہانی سچ ہے۔“ اسے ان دونوں نے اب تک جو بتایا تھا وہ حیران کن تھا۔
”ہاں بالکل! اس بوڑھے کی شادی نہیں ہوٸی اور اس کی کوٸی بیٹی نہیں تھی۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں کا بوجھ ڈھوتے وہ وقت کاٹ رہا تھا جب ایک پارک میں اس کی ملاقات خوش اخلاق سی لڑکی رسزا سے ہوٸی۔ بوڑھا جو سنجیدہ رہتا تھا وہ شوخ لڑکی اسے ہر شام کی سیر میں ہنستی ہنساتی ملتی۔ یوں سمجھ لو کہ یتیم رسزا بوڑھے کی پدرانہ شفقت کی اور بوڑھا اس کی شوخی و شرارت کا عادی ہو گیا۔ وہ اسے بالکل اپنی بیٹی جیسی لگتی تھی۔ وہ یتیم لڑکی اپنی محنت کش ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ بوڑھا اس کے لیے اکثر تحاٸف لے جاتا اور وہ کھل اٹھتی۔ وہ اس کی تعلیم میں مدد کے لیے اسے چھوٹی موٹی رقم بھی دے دیا کرتا۔ ان کی اس دوستی کو ایک سال ہو گیا تھا جب ساڑھے چھ ماہ قبل رسزا نے کالج میں داخلہ لیا۔ وہ بہت خوش تھی اور بوڑھا اس کی خوشی میں خوش تھا۔ لیکن اسے کالج جاتے ہوٸے ایک ہی ہفتہ ہوا تھا جب ایک دن وہ کالج سے واپس نہیں لوٹی۔ پولیس کی مدد سے اسے ہر جگہ ڈھونڈا گیا مگر وہ نہ مل سکی۔ تین دن بعد رسزا کی ماں اپنی بیٹی کی جداٸی برداشت نہ کر سکی اور اس نے خود کشی کر لی۔ بوڑھا جو اس دوران اپنی منہ بولی بیٹی سے جذباتی طور پر جڑ چکا تھا بکھر کے رہ گیا۔ رسزا کی ماں کی موت کے بعد اس نے بھی ہمت ہار دی اور اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ اب وہ بس ایک ہی کہانی دہراتا رہتا ہے جو کافی تک سچ ہے۔“ سیم نے تفصیلاً بتایا تو زہوک کی آنکھیں بھر آٸیں۔
”آخر یہ کون ہے جو اس صفاٸی سے لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے اور صرف لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے۔“ ایبن ماتھے پہ بل ڈالے سنجیدگی سے گویا ہوا تو وہ دونوں چونکے۔
”تم کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ کسی ایک ہی گروہ یا ایک ہی شخص کا کام ہے؟“ سیم نے الجھ کے پوچھا۔
”کیا تم دونوں کو ایسا نہیں لگتا؟“ وہ پلٹ کے ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا۔
”ان سب واقعات میں ایک بات مشترک ہے کہ کمزور اور متوسط طبقے کی ایسی لڑکیوں کو ہی اغوا کیا گیا ہے جن کے لیے بھاگ دوڑ کرنے والا کوٸی نہیں ہے۔ اور تو اور اغوا کا طریقہ کار بھی ایک جیسا ہے۔ کسی ایک کیس میں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہیں آٸی۔ یعنی ان لڑکیوں کو بہت سوچ سمجھ کر کسی ایسی جگہ سے اغوا کیا جاتا ہے جہاں کسی قسم کا کوٸی بھی ثبوت بچنا محال ہو۔ ان میں سے کسی ایک کیس میں بھی اغوا کار کی جانب سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا نہ ہی کسی لڑکی کی لاش برآمد ہوٸی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس گھناٶنے دھندے کے پیچھے جو بھی ہے اس کا مقصد بہت بڑا ہے۔“ ایبن نے ہاتھ ہلاتے ہوٸے اخبارات کے تراشوں کی سمت اشارہ کر کے انہیں بتایا۔
”یعنی ہم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ہم تو اب تک صرف منشیات فروشوں اور چور اچکوں سے ہی نبٹ سکے ہیں۔“ زہوک نے مایوسی سے کہا۔
”اب ہم ان سے بھی نبٹیں گے جو معصوم لڑکیوں کی زندگی سے کوٸی ایسا گھناٶنا کھیل کھیل رہے ہیں جس کے بارے میں ابھی کوٸی اور تو کیا ہم بھی نہیں جانتے۔“ ایبن ٹھوس لہجے میں کہتا ہوا واٸٹ بورڈ کی طرف پلٹ گیا۔
”ضرور ہم ایسا کریں گے۔ ہمیں تم پر یقین ہے کہ تم کچھ بھی کر سکتے ہو اور ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“ سیم اور زہوک نے ایک ساتھ کہا تو وہ مسکرا دیا۔
بلاشبہ اس کی ٹیم مختصر تھی لیکن اس کے ساتھی وفادار اور پرعزم تھے۔

(جاری ہے)

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں