0

ناول: طپش مصنفہ: ماہم حیا صفدر قسط نمبر:


ناول: طپش
مصنفہ: ماہم حیا صفدر
قسط نمبر: 03

صبح اپنے بھرپور روپ میں طلوع ہو چکی تھی۔ گاٶں میں حسبِ معمول لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ لکڑی کے بنے چھوٹے چھوٹے گھروں میں اس وقت قدرے ہلچل تھی۔ اس کے برعکس لکڑی کے بوسیدہ پھاٹک والا یہ خستہ حال گھر سکوت کا پیرہن اوڑھے تھا۔ سال خوردہ ہارن بیم کا درخت سر نیہواڑے کھڑا تھا۔ درخت کے نیچے ایک چھوٹی سی میز تھی جس کے گرد لکڑی کی دو کرسیاں رکھی تھیں۔
روایتی لباس میں ملبوس اجاڑ آنکھوں والی وہ عورت کرسی کی پشت سے ٹیک لگاٸے خلا میں گھور رہی تھی۔ اس کے اُدھڑے ہوٸے نقوش اس کی بدحالی اور پیرسالی کی چغلی کھا رہے تھے۔
اس کے قدموں میں کچھ فاصلے پر ایک سترہ سالہ لڑکی بیٹھی تھی جس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔ پیالے میں چمچ گھماتے ہوٸے اس نے اپنی موٹی موٹی بھوری آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھا۔ ملگجا سا دیہاتی لباس پہنے، اپنی آنکھوں سے اطراف پر نظر رکھے وہ کافی شاطر لگ رہی تھی۔ ایک نظر خلا میں گھورتی عورت پہ ڈال کے اس نے تسلی سے مسکراتے ہوٸے ایک گہری سانس خارج کی۔
”او خدا! لڑکی کیا تمہیں یہاں اس کام کے لیے رکھا گیا ہے؟ مریضہ کا کھانا تم کھاٶ گی تو وہ کیا کھاٸے گی؟“ بوڑھا جو آہستگی سے لاٹھی کے سہارے گھر کے اندرونی حصے سے باہر آیا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر غصے سے بولا۔
”وہ میں۔۔۔میں تو صرف دیکھ رہی تھی کہ یہ سوپ کیسا بنا ہے۔“ بوڑھے کو ناگہانی آفت کی طرح اپنے سر پہ نازل ہوتے دیکھ کر سوپ سے انصاف کرتی لڑکی گھبرا گٸی۔ اس نے جلدی سے سوپ کا پیالہ میز پر رکھا اور اٹھ کے کھڑی ہو گٸی۔
خلا میں گھورتی عورت نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا اور غضبناک بوڑھے کو دیکھا۔
”نتالیہ! تمہاری کام چوری اور بے ایمانی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ مجھے تمہاری ماں سے کہنا ہو گا کہ اب تمہارے لیے یہاں کوٸی جگہ نہیں ہے۔“ بوڑھے کا غصہ کم ہوتا دکھاٸی نہیں دے رہا تھا۔
”نہیں۔۔۔نہیں، خدا کے لیے ایسا کچھ مت کرنا! میری ماں بیمار ہے۔ ماں اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کی ضروریات میری تنخواہ سے ہی پوری ہوتی ہیں۔“ نتالیہ نے رونی صورت بنا کے بوڑھے کے سامنے ہاتھ جوڑے۔
عورت نے حیرت سے لڑکی کو دیکھا۔
”اسی لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ جس کام کے لیے تم آتی ہو اسے ایمانداری سے کیا کرو! کیا تم اس کی دواٸیں بھی کھاتی ہو؟“ وہ مشکوک ہوا۔
”نہیں۔۔۔بالکل نہیں! خدا کی قسم یہ کچھ بھی کھانا نہیں چاہتی۔ ابھی بھی میں نے سوپ دیا تو اس نے انکار کر دیا۔“ اس نے اپنی صفاٸی پیش کی۔
”تمہیں کھلانے پلانے کے معاملے میں اس کے ساتھ زبردستی کرنا ہو گی۔ اس طرح تو اس کی حالت دن بدن بگڑتی جاٸے گی۔“ بوڑھے کو تشویش ہوٸی تھی۔
”وہ لڑکا کہاں ہے؟“ عورت نے اچانک سے پوچھا تو وہ دونوں چونکے۔
”کیا یہ تمہارے پوتے کے بارے میں پوچھ رہی ہے؟“ کتنے ہی جگنو اس خوب صورت نوجوان کے بارے میں سوچ کے نتالیہ کی آنکھوں میں اتر آٸے تھے۔
”اسے گٸے تو کافی دن ہو گٸے ہیں۔ شاید وہ اس ہفتے کے اختتام پر یہاں آٸے۔ کیا تم اسے یاد کر رہی ہو؟“ بوڑھے نے نتالیہ کا سوال نظر انداز کرتے ہوٸے دوسری کرسی سنبھالی۔
”نہیں۔۔۔پتا نہیں!“ وہ سپاٹ لہجے میں کہہ کر اپنے سابقہ مشغلے میں مشغول ہو چکی تھی۔
”کیا تم اب یونہی کھڑی رہو گی یا اسے سوپ دو گی؟“ بوڑھے نے لڑکی کو ڈپٹا جو کسی اور ہی دنیا میں پہنچی مسکرا رہی تھی۔
”دے رہی ہوں۔“ برا سا منہ بناتے ہوٸے اس نے پیالہ اٹھا لیا۔
*****
”وہ سب کو بتا دے گا کہ میلانا چورنی ہے۔“ دریاٸے نیامیہ کے کنارے کھڑی وہ بری طرح ڈری ہوٸی تھی۔
اس میں کلاس تک جانے کی ہمت نہ تھی سو یونیورسٹی سے نکل آٸی۔ یہاں تک وہ دوڑتے ہوٸے آٸی تھی۔
یہاں کا منظر میلانا یگور کو اداس دیکھ کر اداس ہو گیا تھا۔ اس پہر وہاں چہل پہل نہ ہونے کے برابر تھی سو وہ تسلی سے اپنا دل ہلکا کر رہی تھی۔
”میں ارون کا سامنا کیسے کروں گی؟ میں سب کے سامنے کیسے جاٶں گی؟“ خود کلامی کرتی وہ زمین پہ بیٹھ گٸی۔
دریاٸے نیامیہ کے پرسکون پانیوں نے سبز آنکھوں سے بہتے ہوٸے آنسوٶں کو دیکھ کے افسوس سے ہاتھ ملا۔
اس کا پورا وجود شرمندگی، خوف، بے بسی، اضطراب اور اداسی کی زد میں تھا۔
*****
شام کے ساڑھے تین بج چکے تھے۔ ویرا کو کام کے لیے جانا تھا۔ وہ پارٹ ٹاٸم ایک کیفے میں کام کرتی تھی۔ اس نے Belarusian State Medical University سے فارمیسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اب اس کا ارادہ کسی اچھی فارما کمپنی میں جاب کرنے کا تھا جس کے لیے وہ دن رات محنت کر رہی تھی۔ اس نے جاب کے لیے دو تین اچھی فارما کمپنیز میں اپلاٸے کر رکھا تھا مگر ابھی تک کہیں سے مثبت جواب نہیں ملا تھا۔ اپنے اخراجات پورے کرنے لیے وہ Cafe Bagel میں شام چار بجے سے رات بارہ بجے تک آٹھ گھنٹے کام کرتی تھی۔
”یہ لڑکی کہاں رہ گٸی؟ اس وقت تک اسے آ جانا چاہیے تھا۔“ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آتے ویرا نے وال کلاک پہ نظر ڈال کے تشویش سے خود کلامی کی۔
اب وہ کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ کمرے میں ہر جگہ دیکھنے کے بعد بھی اس کی مطلوبہ چیز اسے نہیں ملی۔ تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آٸی۔ فلیٹ کی ایک چابی میلانا کے پاس تھی۔
ویرا نے سر اٹھا کے ایک سرسری نظر کمرے میں داخل ہوتی میلانا پہ ڈالی جس نے خلافِ معمول چپکے سے بیگ صوفے پہ رکھا اور اپنے پیروں کو جوگرز کی قید سے آزاد کرنے لگی۔
”تم آج دیر سے کیوں لوٹی ہو؟“ ویرا نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں ہاتھ مارتے ہوٸے پوچھا۔
”کیوں یہاں آنے جانے کے مخصوص اوقات ہیں کیا؟“ اس نے تلخی سے جواباً سوال کیا تو ویرا دھک سے رہ گٸی۔
اس نے پلٹ کر اسے دیکھا جو کافی سنجیدہ لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پہ آنسوٶں کے مٹے مٹے نشان تھے۔
”کیا تم ٹھیک ہو؟“ ویرا کو فکر ہوٸی۔
”ہاں! تم کیا ڈھونڈ رہی ہو؟“ میلانا نے خود پر قابو پاتے ہوٸے سرسری سا پوچھا۔
”مجھے میرا پسندیدہ ہیٸر بینڈ نہیں مل رہا۔ میں نے کل شام ہی یہاں رکھا تھا۔ خدا جانے وہ کہاں کھو گیا۔ کیا تم نے کہیں دیکھا؟“ ویرا نے ایک مرتبہ پھر دراز میں ہاتھ مارتے ہوٸے پوچھا۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں میں نے کہیں نہیں دیکھا۔“ وہ بوکھلا کے اٹھ کھڑی ہوٸی۔
”اوہ!“ ویرا مایوس ہوٸی تھی۔
”م۔۔۔مم۔۔۔میں۔۔۔تھک گٸی ہوں۔ مجھے آرام کرنا ہے۔ جاتے ہوٸے کمرے کی لاٸٹ اور دروازہ بند کر دینا۔“ وہ جلدی سے بیڈ پہ لیٹ کے کمبل اوڑھنے لگی۔
ویرا نے ایک نظر کمبل میں چھپی میلانا پہ ڈالی اور دوسری نظر اس کے پھیلے ہوٸے سامان پر۔ اس کا بیگ صوفے پر تھا تو جوگرز میز کے قدموں میں۔
افسوس سے ایک گہری سانس بھر کے وہ اپنی تیاری مکمل کرنے لگی۔ اپنی مصروفیت میں وہ میلانا پہ زیادہ غور نہیں کر سکی۔ وہ ہر وقت چہکنے والی سے اس کی خاموشی کا سبب نہیں پوچھ سکی۔
سر تا پیر کمبل میں لپٹی وہ ایک بار پھر سے خوف میں مبتلا ہو گٸی تھی۔ اپنے آنسوٶں اور سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتی کب وہ نیند کی وادی میں اتر گٸی اسے پتا ہی نہیں چلا۔
*****
بونڈرز پیلس پہ اتری یہ رات مصنوعی روشنیوں سے اجلی ہوٸی تھی۔ ہلکے نیلے رنگ کا قصر اس وقت سفید براق روشنیوں کا چوغا پہنے جگمگا رہا تھا۔ داخلی گیٹ کے سامنے وسیع لان کو دو حصوں میں تقسیم کرتی پختہ راہداری دن بھر کی تھکن اتارنے کی غرض سے سستا رہی تھی۔ قصر کی بلند چار دیواری پہ برقی قمقمے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے جو بیرونی اور اندرونی اطراف پر نظر رکھے ہوٸے تھے۔ بلند و بالا کشادہ مرکزی گیٹ یہاں کے مکینوں کے ارادوں جیسا مضبوط تھا۔ ہارن بیم اور پام کے درخت ایک ترتیب سے مربع چار دیواری کے ساتھ ساتھ اگے ہوٸے تھے۔ آراٸشی پھولوں کی سر چڑھی بیلیں دیواریں پھاندتی نظر آ رہی تھیں۔ لان کے اطراف میں کیاریوں میں اگے خوب صورت پھولوں کی مہک نے فضا کو معطر کر رکھا تھا۔ قصر کے باٸیں جانب ایک بڑا سا سوٸمنگ پول تھا جس کے کنارے اس وقت خالی نشستیں تھیں۔ عقبی جانب بھی بھرپور قدرتی و مصنوعی آراٸشی انتظامات تھے۔
لاٶنج کی دیوار پہ نصب وال کلاک نو بجنے کی نوید سنا رہا تھا۔ ڈاٸیننگ ہال میں چھری کانٹوں نے پلیٹوں سے ٹکرا کے ڈنر کے آغاز کا پیغام دیا۔
سربراہی نشست پہ بیٹھے مسٹر ایڈورڈ نے اپنے اطراف بیٹھے بیٹوں اور رسلان کے برابر بیٹھی اپنی شریکِ حیات کو دیکھا۔ ان کی نظر غیر ارادی طور پہ ارون کی برابر والی نشست پہ پڑی جو خالی تھی۔
”مجھے علم ہوا ہے کہ آج میخاٸل نے تمہارے دفتر میں ہنگامہ کیا ہے۔“ روسٹڈ بیف سے انصاف کرتے ہوٸے مسٹر ایڈورڈ نے رسلان کو مخاطب کیا۔
”آپ سے یہ کس نے کہا؟“ رسلان نے ہاتھ روکتے ہوٸے ابرو اچکایا۔
”یہ اہم نہیں ہے۔ زیادہ اہم یہ ہے اس نے تم سے کیا کہا؟“ مسٹر ایڈورڈ نے سختی سے پوچھا۔
”یہ کوٸی تشویش ناک بات نہیں ہے۔ یہ اس کا پرانا فتور ہے جو وقفے وقفے سے اسے ایسی بچگانہ حرکتیں کرنے پہ مجبور کرتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ میں اسے بی کے فارما کے سیاہ و سپید کا مالک بنا کے ٹیکسٹاٸل کا کام سنبھال لوں۔“ رسلان نے تفصیلاً جواب دیا تو مسٹر ایڈورڈ بھڑک اٹھے۔
”مجھے رامن سے بات کرنے دو کہ وہ اپنے بیٹے کو سنبھالے۔ آخر وہ یہ سب کیسے سوچ سکتا ہے؟“
”کیا وہ پچاس فیصد کا شراکت دار نہیں ہے؟ ایسا چاہنے میں کیا قباحت ہے؟ آپ اسے ہینڈ اوور کر دیں!“ ارون نے سادگی سے مشورہ دیا۔
اسے نہ تو بزنس میں دلچسپی تھی نہ ہی بزنس کے معاملات میں۔ بس خدا لگتی بات کہنے میں وہ کوٸی عار محسوس نہ کرتا تھا اس لیے ابھی بھی کہہ گیا۔
”کیا تمہیں کسی نے مخاطب کیا؟“ مسٹر ایڈورڈ نے غصے سے مٹھی بھینچ کے میز پہ ماری۔
مسز دامینیکا نے دہل کے شوہر کو دیکھا۔
”بابا جانے دیجیے! ارون نے صرف ایک بات براٸے بات کی ہے۔“ رسلان نے ارون کو دیکھتے ہوٸے نرمی سے کہا جس کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخ ہو چکا تھا۔
”تمہاری بے جا حمایت نے ہی اسے ایسا بنایا ہے۔ کیا اب آرٹس اور ہیومنیٹیز پڑھنے والے ہمیں کاروباری نزاکتوں کے بارے میں بتاٸیں گے؟“ مسٹر ایڈورڈ کا لہجہ طنزیہ ہوا۔
وہ رسلان کی طرح ارون کو بھی کامیاب کاروباری آدمی بنانا چاہتے تھے۔ مگر وہ ہمیشہ سے انہیں ہر اس معاملے میں مایوس کرتا آیا تھا جس میں رسلان نے انہیں خوش کیا تھا۔ وہ آج تک کوٸی ایسا کام نہیں کر سکا تھا جس پر مسٹر ایڈورڈ فخر کر سکیں۔ کہاں وہ اسے بزنس کی تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور کہاں وہ انسانی تاریخ اور فلسفے سے رغبت کے باعث ہیومنٹیز پڑھنے کا خواہاں تھا۔ ایک اچھی خاصی بحث میں یہ رسلان ہی تھا جس نے انہیں قاٸل کیا تھا کہ وہ اسے اس فیصلے میں آزاد چھوڑ دیں۔ بظاہر تو انہوں نے اجازت دے دی تھی مگر ابھی تک ان کا ملال کم نہ ہوا تھا۔ اس کی کمزوریوں اور ناکامیوں پہ طنز کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
اکثر ماں باپ کو یہی لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک صحیح ہونے کے لیے ان کا ماں باپ ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔ اسی سوچ کے نتیجے میں وہ اپنے بچوں کو کمپیٸر کرنے میں، جج کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہر بچے کی عادات، نفسیات، ذہنی استعداد اور دلچسپیاں وغیرہ مختلف ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کے بچے ایک دوسرے کی کاربن کاپیز نہیں ہیں جو ان کے خصاٸل و خصاٸص مشترک ہوں۔ انہیں ایک بچے کے سانچے میں اپنے دیگر بچوں کو ڈھالنے کی لایعنی سعی سے گریز کرنا چاہیے کہ اس عمل میں وہ ان کا ناقابلِ تلافی نقصان کر گزریں گے۔ جن بچوں کے ساتھ ایسا تجربہ کیا جاتا ہے ان کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نہ تو وہ مصنوعی سانچے میں مکمل ڈھل پاتے ہیں نہ ہی اپنی حقیقی بناوٹ کو برقرار رکھ پاتے ہیں۔ ماں باپ کو خوش کرنے کے لیے اپنی فطرت کے خلاف اگر وہ کسی بیرونی شخصیت کے لبادے میں گھس بھی جاٸیں تو سو فیصد مطلوبہ نتاٸج دینے سے قاصر رہتے ہیں۔
مسٹر ایڈورڈ بھی ایسے ہی باپ تھے جو اپنے دیگر بچوں میں بھی رسلان کی خوبیاں اور خصوصیات دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان کا بس ایک ہی پیمانہ تھا جس پر وہ اپنے دوسرے بچوں کو بھی تولتے تھے۔ اور وہ پیمانہ رسلان تھا۔
”بابا وہ بچہ ہے اسے ان نزاکتوں کا علم نہیں ہے۔ سو غصہ مت کریے!“ رسلان کا لہجہ ابھی بھی ہموار تھا۔
ارون نے ضبط کرتے ہوٸے اس کے مطمٸن چہرے کو بے بسی سے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھیں ارون سے محبت کی گواہ تھیں۔ بلاشبہ وہ ایک اچھا بیٹا ہی نہیں اچھا بھاٸی بھی تھا۔
”ہنہہہ بچہ اور یہ؟ اسے موقع ملے تو یہ باپ کے فراٸض بھی ادا کر دیتا ہے۔“ مسٹر ایڈورڈ کا یہ طنز بڑا کاری تھا۔
اس طنز کا پسِ منظر وہاں موجود سب لوگ جانتے تھے۔
”او خدا! کیا تم لوگ اپنے کاروباری معاملات اپنے دفتر تک نہیں رکھ سکتے؟“ مسز دامینیکا نے غصے سے شوہر کو مخاطب کیا۔
ارون نے غصے سے پلیٹ پیچھے ہٹاٸی اور کرسی دھکیل کے اٹھ کھڑا ہوا۔
”جب باپ اپنا فرض بھول جاٸے اور بیٹا اس کا فرض ادا کر دے تو باپ کو طنز کرنے کی بجاٸے بیٹے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔“ دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کے جھکتے ہوٸے اس نے دھیمے لہجے میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
مسٹر ایڈورڈ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا۔
”ارون!“ مسز دامینیکا نے کھانا ادھورا چھوڑ کے جاتے بیٹے کو آواز دی۔
”جانے دو اس بدبخت کو! کیا تم دونوں نے دیکھا؟ تم نے دیکھا اس نے مجھ سے کیسی بات کی؟ وہ چاہتا ہے کہ میں اس کا شکرگزار بنوں۔۔۔“ اسے ایک عدد گالی سے نوازتے ہوٸے وہ آپا کھو رہے تھے۔
رسلان نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما۔
مسٹر ایڈورڈ ابھی بھی بول رہے تھے۔ جب کہ مسز دامینیکا اطمینان سے کھانا کھانے لگیں کہ یہ سب تو معمول تھا۔
*****
یہ رات کا پچھلا پہر تھا جب اس کی اچانک آنکھ کھلی۔ ایک نظر اپنے جہازی ساٸز کے آراستہ کمرے پہ ڈال کے اس نے آنکھیں موند لیں۔ دیوار پہ لگی گھڑی رات کے سوا دو بجا رہی تھی۔ وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا مگر نیند اچانک ہی اس سے کوسوں دور جا کھڑی ہوٸی۔ جب وہ داٸیں باٸیں کروٹیں بدل کے سونے کی کوشش میں ناکام ہو گیا تو اٹھ کے بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر قبل ڈاٸیننگ ہال کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آیا تو اس کا دل افسوس سے بھر گیا۔ ساٸیڈ لمیپ کی محدود روشنی میں اپنے سلیپرز ڈھونڈ کے پیروں میں اڑستے ہوٸے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ دوسری منزل پر کل دس کشادہ کمرے تھے۔ اس کے داٸیں جانب اس کے والدین کا کمرہ تھا جس کے ساتھ ایک کمرہ خالی رہتا تھا۔ باٸیں جانب بھی ایک کمرہ تھا جو مقفل تھا۔ وہ اس سے اگلے کمرے کے دروازے پہ آن ٹھہرا۔ دروازے کی درز سے نکلتی روشنی کی پتلی سی لکیر اس کی بیداری کی گواہ تھی۔ اس سے اگلا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
کچھ ثانیے سوچنے کے بعد اس نے دروازے پر دستک دی مگر دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھلنے لگا۔ کمرہ مقفل نہیں تھا۔ وہ گہری سانس بھر کے اندر داخل ہوا۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑاٸی، کمرہ خالی تھا۔ آگے بڑھ کے اس نے سٹڈی روم اور باتھ روم میں بھی دیکھا مگر وہ کہیں نہیں تھا۔ اس نے واپسی کے لیے قدم بڑھاٸے ہی تھے کہ کسی خیال کے تحت مسکراتا ہوا ٹیرس کی طرف پلٹ گیا۔ وہ اسے ایک نسبتاً تاریک گوشے میں ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگاٸے، آنکھیں موندے فلور پہ بیٹھا مل گیا تھا۔
اسے اس طرح ٹانگیں پھیلاٸے دیکھ کر وہ اداسی سے مسکرایا۔ اسے علم تھا کہ وہ بچپن سے ہی جب بھی اداس یا غمزدہ ہوتا تو اسی انداز میں اسی جگہ پایا جاتا تھا۔ اپنے تٸیں وہ اس جگہ چھپتا تھا مگر وہ ہمیشہ اسے ڈھونڈ لیتا تھا۔
وہ چپکے سے اس کے برابر اسی کے انداز میں آن بیٹھا۔ کھٹکے سے اس کی آنکھیں کھل گٸیں۔
”بھاٸی آپ؟ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“ وہ اسے یہاں دیکھ کر حیران ہوا جو مسکراتے ہوٸے اسے دیکھ رہا تھا۔
”یہی سوال میرا تم سے ہے کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ رسلان نے نرمی سے پوچھا۔
”وہ میں۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔بس یونہی یہاں بیٹھا تھا تو آنکھ لگ گٸی۔“ ٹانگیں سمیٹتے ہوٸے اس نے جواب دیا۔
اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ کافی دیر روتا رہا ہے۔
”بابا کی باتوں کو دل پر مت لیا کرو! وہ ہمارے اپنے ہیں۔ وہ غصے میں ایسا کہہ جاتے ہیں ورنہ ہم سب سے بہت محبت کرتے ہیں۔“ رسلان نے اسے سمجھایا۔
”یہ اپنے ہی تو ہوتے ہیں جن کی باتیں دل تک رساٸی رکھتی ہیں ورنہ تو دن بھر ہم سے کٸی ایسے لوگ مخاطب ہوتے ہیں جن کی باتیں زیادہ اثر انگیز ہوتی ہیں۔ مگر ہم ان کی باتوں کو اپنے کانوں تک محدود رکھتے ہیں۔ اپنے غصے میں کچھ کہیں یا محبت میں، ان کی کہی باتوں کا آخری ٹھکانہ دل ہی ہوتا ہے۔“ ارون اداسی سے مسکرایا۔
”تمہیں اس قدر بدگمان نہیں ہونا چاہیے۔“ رسلان کو اکثر وہ اپنی عمر سے کافی بڑا لگتا تھا۔
”میرے خیال میں مجھے خوش گمان بھی نہیں ہونا چاہیے۔“ اس کے پاس ہر بات کا جواب ہوتا تھا۔
”میں تم سے محبت کرتا ہوں۔“ وہ شاید اس کا اپنوں پہ یقین بحال کرنا چاہتا تھا۔
”مجھے یقین ہے۔“ اس نے رسلان کا اپنے شانے پہ رکھا ہاتھ تھاما۔
”وعدہ کرو کہ حالات چاہے جو بھی ہوں تم ہمیشہ اپنے بھاٸی پر یقین کرو گے۔“ اس نے اپنی داٸیں ہتھیلی ارون کے آگے پھیلاٸی۔
”میں وعدہ کرتا ہوں کیوں کہ میں جانتا ہوں میرا بھاٸی دنیا کا سب سے اچھا بھاٸی اور انسان ہے۔“ ارون نے اپنی ہتھیلی اس کی چوڑی ہتھیلی میں چھپا دی تو دونوں بھاٸی محبت سے مسکرا دیے۔
یہ تو طے تھا کہ مسٹر ایڈورڈ جو بھی سوچیں یا کہیں وہ اچھے بھاٸی اور دوست تھے۔
*****
گھڑی صبح کے نو بجا رہی تھی اور وہ ابھی تک بیدار نہیں ہوٸی تھی۔ کچن میں کام کرتی ویرا کو اب تشویش ہو رہی تھی۔ رات جب وہ کام سے لوٹی تو میلانا تب سو رہی تھی۔ ویرا کو اس سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ خود چاہے کام سے رات گٸے واپس آتی صبح جلدی بیدار ہو جاتی تھی۔ میلانا کاہل اور سست ضرور تھی لیکن یونیورسٹی تو وہ شوق سے جا رہی تھی۔ کچھ سوچ کر اس نے انڈے پھینٹتا اپنا ہاتھ روکا اور باٶل سلیب پہ رکھ کے کمرے کی طرف بڑھی۔
”اے سست لڑکی! کیا تمہیں یونیورسٹی سے خارج کر دیا گیا ہے؟“ وہ اس کے سرہانے پہنچ چکی تھی جو منہ کمبل سے باہر نکالے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
میلانا نے کسمسا کے آنکھیں کھولیں۔
”میں کہاں ہوں؟“ حیرت سے آنکھیں اور منہ کھولے اس نے معصومیت سے پوچھا۔
”جہنم میں!“ ویرا نے اسے گھورتے ہوٸے جواب دیا۔
”اوہ!“ وہ ہوش میں آتے ہوٸے اٹھ بیٹھی۔
”کیا تمہیں یونیورسٹی نہیں جانا؟“ ویرا نے دونوں ہاتھ اب کمر پہ رکھ لیے تھے۔
اس کا سوال اسے کل کے منظر میں لے گیا۔ ایک بار پھر اسی شرمندگی اور خوف نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا۔
”کیا تم ٹھیک ہو؟ تمہاری زبان کسی نے تم سے مستعار تو نہیں لے لی؟“ ویرا نے اپنی آنکھیں سکیڑتے ہوٸے اس کا جاٸزہ لیا جو کل سے خاموش تھی۔
”ہاں۔۔۔مجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تم میری مدد کر سکتی ہو؟“ میلانا نے مدد طلب نظروں سے اسے دیکھا۔
کیا بات ہے؟ تم مجھ سے کھل کے کہو!“ اب وہ سنجیدہ ہو چکی تھی۔
”یہ تمہارا ہیٸر بینڈ!“ میلانا نے تکیے کے نیچے سے اس کا ہیٸر بینڈ نکال کے اسے تھمایا۔
”او خدا تیرا شکر ہے! یہ تمہیں کہاں سے ملا؟“ ویرا اس کے پاس ہی بیڈ پہ بیٹھ گٸی۔
”کیا تم مجھے کسی ایسے ہاسٹل کا بتا سکتی ہو جہاں کرایہ کم ہو؟“ وہ اس کا سوال نظر انداز کر گٸی۔
”کیا تمہیں میرے ساتھ رہنے میں کوٸی دقت ہے؟ کیا تمہیں مجھ سے کوٸی شکایت ہے؟“ ویرا چونکی تھی۔
”نہیں۔۔۔ہاں البتہ تمہیں میرے یہاں رہنے پر مسٸلہ ہو سکتا ہے۔“ اس نے آہستگی سے کہا۔
”تم یہ سب کیا کہہ رہی ہو؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔“ وہ حقیقتاً الجھ رہی تھی۔
”تمہارا ہیٸر بینڈ گم نہیں ہوا بلکہ میں نے چرایا تھا۔“ اس نے سر جھکاتے ہوٸے اعتراف کیا۔
”کیا؟ تم نے چرایا تھا؟ اتنی معمولی سی چیز تم کیوں چراٶ گی؟“ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
”میں معمولی چیزیں ہی چراتی ہوں۔“ سبز آنکھوں سے دو موتی ٹپکے تو ویرا کا دل مٹھی میں آ گیا۔ اس نے تو اب تک اسے ہنستے مسکراتے دیکھا تھا۔
”اور مجھے اب یونیورسٹی نہیں جانا۔“ اس کی اگلی بات نے ویرا کو سچ مچ حیران کیا تھا۔
”کیوں؟ کیا ہوا ہے؟ کسی نے تمہیں پریشان کیا ہے؟ مجھے بتاٶ! خدا کے لیے مجھے بتاٶ کہ وہاں کیا ہوا ہے؟“ وہ اس سے چھوٹی تھی۔ اس مختصر سے ساتھ میں وہ اسے اپنی چھوٹی بہن کی طرح عزیز ہو گٸی تھی۔
”اگر میں بتاٶں گی کہ وہاں کیا ہوا تھا تو تم بھی مجھے اس کی طرح غلط سمجھو گی۔“ سبز آنکھوں میں حزن کے ساٸے تھے۔
”نہیں میں تمہیں جج نہیں کروں گی۔ بلکہ میں تمہیں کبھی بھی جج نہیں کروں گی۔ تم مجھے کچھ بھی اس یقین کے ساتھ بتا سکتی ہو کہ میں تمہیں سنوں گی اور سمجھوں گی۔“ ویرا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے تھپکا۔
اس کے اصرار پر میلانا نے سارا واقعہ سنا دیا۔
”بس اتنی سی بات تھی؟“ ویرا نے ایک گہری سانس بھری۔ وہ اس کا مسٸلہ جان چکی تھی۔
”کیا یہ اتنی سی بات ہے؟“ میلانا کو اس کا ردعمل حیران کر گیا تھا۔
”ہاں بالکل! تم اس لڑکے کا نمبر ملاٶ! میں اس سے بات کرتی ہوں۔“ وہ پرسکون تھی۔
”میرے پاس موباٸل فون نہیں ہے۔“ اس نے منہ بناتے ہوٸے جواب دیا۔
ان کا ساتھ مختصر ہی تھا۔ وہ صبح یونیورسٹی چلی جاتی اور جب لوٹتی تو ویرا کام پر جانے کے لیے تیار ہونے لگتی۔ اس کی واپسی پر وہ سو رہی ہوتی تھی۔ اس دوران ویرا نے اسے موباٸل فون استعمال کرتے نہیں دیکھا تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے پاس موباٸل فون ہے ہی نہیں۔
”کیا؟ تمہارے پاس موباٸل فون نہیں ہے؟ او خدا اس جدید دور میں تم موباٸل استعمال نہیں کرتی۔“ ویرا پر تو حیرت کا پہاڑ ٹوٹا۔
”موباٸل فون لوگوں میں رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کو جوڑتا ہے۔ جب کہ میری زندگی میں کوٸی ایسا شخص ہے ہی نہیں جو مجھ سے رابطہ رکھنا چاہے۔ میرے نزدیک جو بھی آتا ہے میری حقیقت جان کے مجھ سے ایسا دور ہوتا ہے کہ دوبارہ اس کی پرچھاٸی بھی نہیں ملتی۔“ اس کا لہجہ گواہ تھا کہ وہ بہت برے رویوں کا سامنا کرتی آٸی ہے۔
”اچھا بس۔۔۔۔بس! اب تم دکھی مت ہو! اٹھو اور تازہ دم ہو جاٶ تاکہ ہم ایک ساتھ ناشتہ کریں۔ میں اس لڑکے سے بات کروں گی۔“ ویرا نے اس کا ہاتھ تھپکتے ہوٸے اسے تسلی دی۔
”کیا تم یہ میرے لیے کرو گی؟“ اس کی آنکھیں ڈبڈباٸی تھیں۔
”ہاں میں تمہارے لیے وہ سب کروں گی جو ایک دوست دوسرے کے لیے کر سکتا ہے۔ زندگی میں کبھی بھی خود کو تنہا مت سمجھنا! یاد رکھو کہ ویرا ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔“ اس نے مسکراتے ہوٸے ایک عہد اس کی ہتھیلی پہ رکھ دیا۔
”خدا کرے کہ تم۔۔۔“
”بس۔۔۔بس! مہربانی کرو، آگے کچھ مت کہنا! تمہاری زبان بددعاٸیں دینے کی عادی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوشش کے باوجود بھی کوٸی دعا نکل سکتی ہے۔“ اس سے قبل کہ وہ اپنی دعا مکمل کرتی ویرا نے دہل کے اس کی بات کاٹی۔
”اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔“ میلانا نے برا مناتے ہوٸے اپنا ہاتھ چھڑایا تو وہ ہنس دی۔
کچھ پل اسے سنجیدگی سے گھورنے کے بعد وہ بھی ہنسنے لگی کہ وہ اپنی اس عادت سے بخوبی واقف تھی۔
*****
”کیا بات ہے؟ تمہارا دھیان کہاں ہے؟ تم لیکچر کیوں نہیں سن رہے؟“ اس نے بار بار گردن موڑ کے مختلف اطراف میں نظریں گھماتے واسل کے پیٹ میں کہنی مارتے ہوٸے کہا۔
وہ کافی دیر سے نوٹ کر رہا تھا کہ واسل پوری کلاس کا جاٸزہ لینے میں مصروف تھا۔
”ایسا کچھ نہیں ہے۔“ اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔
”تم میلانا کو ڈھونڈ رہے ہو؟“ نوٹ بک پر پینسل گھسیٹتے ہوٸے ارون نے آہستہ سے پوچھا۔ گویا وہ اس کی غیر دلچسپی کی وجہ جان چکا تھا۔
”نہیں۔۔۔بالکل نہیں!“ واسل نے بیزاری سے جواب دیا اور تیز تیز بولتے مسٹر لوکا کی طرف متوجہ ہوا۔
”شاید میں نے اس کے ساتھ برا کیا۔ مجھے اس کی بات سننا چاہیے تھی۔ ہو سکتا کے وہ سب چیزیں اسے کلاس میں سے یا کہیں اور سے ملی ہوں۔ مجھے اسے سننا چاہیے تھا۔“ وہ دل ہی دل میں اپنی عجلت پسندی کو کوس رہا تھا۔
*****
”مسٹر واسل موروز! کیا تم دو منٹ کے لیے میری بات سن سکتے ہو؟“ وہ ارون کے ساتھ پارکنگ تک آیا ہی تھا کہ اس کی پشت پر آواز ابھری۔
وہ دونوں ٹھہر کے پلٹے۔ وہاں ایک دراز قامت سفید جینز شرٹ میں ملبوس لڑکی سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔
”کیا تم نے مجھ سے کچھ کہا؟“ وہ اس لڑکی کو نہیں جانتا تھا۔
”ظاہر ہے۔ کیا تمہارا نام واسل نہیں ہے؟ تمہارے اس موٹے کلاس فیلو نے تو یہی بتایا تھا کہ تم واسل موروز ہو۔“ اس نے سختی سے پوچھا۔
”کیوں نہیں۔ میں ہی واسل ہوں۔ کہو میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں؟“ اس نے جلدی سے کہا۔
لڑکی نے ایک نظر ارون کو دیکھا جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”کیا میں جان سکتی ہوں کہ تم ہو کون؟ کیا تم ایک مکمل انسان ہو؟ کیا تم تمام تر دنیاوی خامیوں سے پاک ہو؟“ وہ دو قدم آگے بڑھی اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوٸے پوچھا۔
”کیا مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں کہ تم یہ کیا اور کیوں کہہ رہی ہو۔“ وہ تو حیران ہوا ہی تھا ارون کا منہ بھی کھل گیا۔
”دیکھو مسٹر واسل! میں تمہیں صرف یہ بتانے آٸی ہوں کہ کوٸی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا۔ اگر ایک انسان کچھ غلط کرتا بھی ہے تو اس کا کوٸی نہ کوٸی محرک ہوتا ہے۔ اگر تمہارے سامنے کسی کی کوٸی خامی عیاں ہو جاٸے تو اسے جج کرنے والے تم کون ہو؟ تمہیں کوٸی حق نہیں پہنچتا کہ تم اسے کٹہرے میں کھڑا کرو اور بنا صفاٸی کا موقع دیے مجرم بنا دو۔ تم میلانا کی تذلیل کرنے کا کوٸی حق نہیں رکھتے تھے۔“ اس کے لہجے میں کوٸی لچک نہیں تھی۔
واسل نے سر جھکایا کہ شاید وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا مگر ارون کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
”تم ہوتے کون ہو اسے بنا سنے، بنا سمجھے چورنی کہنے والے؟ کیا تم نے اسے برا بھلا کہنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی سوچا کہ وہ اتنی معمولی چیزوں کو کیوں چراٸے گی؟“ اس کے عین سامنے کھڑی وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
“میں معافی چاہتا ہوں کہ میں نے اس کا دل دکھایا۔ میرا ایسا کوٸی ارادہ نہیں تھا۔ مجھے جاننا چاہیے تھا کہ اس نے وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں کیوں چراٸیں۔“ وہ اعتراف کر رہا تھا۔
ارون شاید اب سب سمجھ گیا تھا اس لیے منہ بند کر لیا۔
”وہ Kleptomania disorder کی شکار ہے۔ ایسے لوگ انجانے میں ایسی معمولی چیزوں کو چراتے ہیں جن کی انہیں ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ وہ یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرتے۔ بس ان کے اندر ایک ایسی سینسیشن پیدا ہوتی ہے، ایک ارج کہ وہ اس چیز کو چرا لیں جس کو وہ خود بھی خرید سکتے ہیں۔ انہیں ان چیزوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی مگر اپنے اس دماغی ڈس آرڈر کی وجہ سے چرا لیتے ہیں۔ کٸی بار تو جب وہ ان چیزوں کو اپنے پاس دیکھتے ہیں تو انہیں یاد بھی نہیں ہوتا کہ یہ ان کے پاس کب اور کہاں سے آٸی۔ اکثر تو بعد میں یاد آنے پر وہ ان چیزوں کو وہیں واپس رکھ دیتے ہیں جہاں سے اٹھاتے ہیں۔ لیکن اس سب میں انہیں بہت اذیت کا سامنا ہوتا ہے۔ انہیں ایموشنل پین سے لے کر لیگل پرابلمز تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تنہا رہ جانے کا خوف جو ہے وہ بےبسی، گلٹ، پریشانی، شرمندگی اور جیل جانے کے خوف سے بھی برا ہوتا ہے۔
میلانا اس سب سے گزر رہی ہے۔ وہ بدقسمت ہے کہ اسے بہت کم لوگوں نے سمجھنے کی کوشش کی۔ اسی لیے اب وہ اس سٹیج پر ہے کہ مزید گلٹ اور خوف افورڈ نہیں کر سکتی۔ جان لو کہ اس نے انجانے میں وہ گھڑی اور سب چیزیں چراٸی تھیں۔ لیکن تم نے کلاس میں جا کر سب کو بتا دیا کہ وہ میلانا نے چراٸی ہیں۔“ وہ جیسے جیسے بتاتی گٸی واسل اور ارون کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی گٸیں۔ آخر میں اس نے افسوس سے کہا تو گھڑی کے ذکر پہ ارون کے کان کھڑے ہوٸے۔
”ایک سیکنڈ! ایک سیکنڈ! کیا وہ گھڑی میلانا نے چراٸی تھی؟ تم نے مجھے کہا تھا کہ وہ تمہیں پارکنگ میں ملی۔“ اس نے واسل سے پوچھا۔
اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی جو اتنی دیر سے اسے باتیں سنا رہی تھی۔ واسل نے اسے کچھ جتاتی ہوٸی نظروں سے دیکھا تو وہ گردن پہ ہاتھ پھیرتی اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔
”میرا خیال ہے اب مجھے چلنا چاہیے۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔“ اپنی داٸیں کلاٸی پہ بندھی نفیس سی گھڑی کو دیکھتے ہوٸے اس نے آہستگی سے کہا۔
ارون نے دلچسپی سے اسے دیکھا جس کا لہجہ یکسر بدل چکا تھا۔
”باٸے!“ وہ جلدی سے انہیں ہاتھ ہلا کے پلٹ گٸی۔
”محترمہ رکیے ذرا!“ وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ واسل نے پکارا تو اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
اب رکنے کی باری اس کی تھی۔ وہ چلتا ہوا اس کے عین سامنے آ رکا۔
”ویرا!“ اس نے اپنا نام بتایا۔
”مس ویرا! میں اتنا کم ظرف ہرگز نہیں ہوں کہ میرے سامنے اگر کسی کا بھرم ٹوٹ جاٸے تو میں دنیا بھر میں اس کا ڈھنڈورا پیٹ دوں۔ میں لوگوں کو، ان کی مجبوریوں کو دیر سے ہی سہی مگر سمجھ لیتا ہوں۔ میرا ردعمل بالکل فطری تھا جس کے لیے میں شرمندہ ہوں۔“ اس کا لہجہ سچا تھا۔
”کوٸی بات نہیں۔ میں نے بھی زیادہ بول دیا، اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔“ ویرا نے سادگی سے بات سمیٹی۔
ارون کی چین کو انگلی میں گھماتا انہیں دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
”کوٸی بات نہیں۔ اور ہاں تم نے کہا وہ بدقسمت ہے۔ جان لو کہ تم جیسی دوست ہونے کے بعد وہ بدقسمت نہیں ہے جو اس کو تکلیف پہنچانے والے کسی بھی شخص سے لڑنے کے لیے کہیں بھی پہنچ سکتی ہے۔“ واسل نے سرنڈر کرنے والے انداز میں دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوٸے شرارت سے کہا تو وہ شرمندہ ہوٸی۔
”میں معافی چاہتی ہوں۔“
”بہرحال یہ ایک یادگار ملاقات تھی۔“ واسل نے ہاتھ بڑھا کے ہنستے ہوٸے کہا تو ویرا نے مسکراتے ہوٸے ہاتھ ملایا۔
”سیم ہیٸر!“ ارون نے جلدی سے آگے بڑھ کے واسل کی پیروی کی تو الجھ گٸی۔
”میں ارون ہوں۔ ارون گھڑی والا!“ اس نے جلدی سے اپنا تعارف دیا تو وہ سب ایک ساتھ ہنس پڑے۔
*****
دروازہ کھول کے وہ فلیٹ میں داخل ہوا تو اسے کچن سے ملحقہ کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ دبے قدموں وہ آگے بڑھا تو اندازہ ہوا کہ دو لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
شاید وہ انہیں جانتا تھا اسی لیے کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کے کچن کی طرف پلٹ گیا۔ فریج سے پانی کی بوتل نکال کے کھڑے کھڑے اس نے چند گھونٹ حلق میں انڈیلے۔ بوتل کو واپس فریج میں رکھ کے اپنے منتشر بالوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کرتا وہ اسی کمرے کی طرف بڑھا۔ گھڑی رات کے ساڑھے بارہ بجا رہی تھی۔
اس نے جونہی دروازے کو دھکیل کے کھولا قالین پہ بیٹھے باتیں کرتے دونوں لڑکے خاموش ہو گٸے۔
”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ کیا میں نے تمہیں ابھی مجھ سے رابطہ کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟“ سرخ جرسی والے لڑکے کو وہاں دیکھ کر اسے برا لگا تھا۔
”ہاں۔۔۔لیکن۔۔۔کیا تم اس لڑکی کو ڈھونڈنے میں مدد نہیں کرو گے؟ دیکھو میں آج پھر بہت امید سے تمہارے پاس آیا ہوں۔“ وہ اٹھ کر اس کے سامنے آ گیا جو دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے کمرے کے وسط میں کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
”نہیں۔۔۔۔اور تم نے اسے یہاں داخل کیوں ہونے دیا؟“ اب وہ دوسرے لڑکے سے مخاطب تھا۔
”میں نے ہی زہوک کو مجبور کیا تھا۔ دیکھو! میں نے اس بوڑھے سے وعدہ کیا تھا۔ خدا کے لیے۔۔۔“
”سیم! تم اس معاملے میں اتنے سنجیدہ کیوں ہو رہے ہو؟“ اس نے ابرو سکوڑے۔
”کیوں کہ میں اس غم سے گزر چکا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کی طرح یہ لڑکی بھی۔۔۔“ سیم نے اپنے لب سختی سے بھینچ لیے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گٸی تھیں۔
”سیم تم ہر غم کو اپنے ذاتی غم سے مت جوڑا کرو!“ اس کا لہجہ نرم ہوا۔
”ٹھیک ہے۔ جیسا تم چاہو! میں تمہیں دوبارہ تنگ نہیں کروں گا۔“ خود کو پرسکون کرتے ہوٸے اس نے ایک گہری سانس لی۔
”میں چلتا ہوں!“ زہوک کا شانہ چھو کے اس نے قدم دروازے کی طرف بڑھا دیے۔
”رکو!“ دو انگلیوں اور انگوٹھے کی مدد سے اپنے ماتھے کو مسلتے ہوٸے اس نے سیم کو پکارا۔
وہ دروازے کے عین سامنے رک گیا۔
”اب کیا ہے؟“ اس نے پلٹ کے روٹھے ہوٸے لہجے میں پوچھا۔
”ہم اس بوڑھے کی مدد کریں گے۔“ اس نے آہستگی سے کہا۔
”کیا تم سچ کہہ رہے ہو؟“ سیم نے حیرت سے پوچھا۔
”اب کیا میں لکھ کر دوں تو تمہیں یقین آٸے گا؟“ اسے سیم کی مصنوعی حیرت پہ غصہ آیا۔
”نہیں۔۔۔! مجھے تم پر یقین ہے۔ تم بہت اچھے ہو۔“ وہ دوڑ کے اس کے گلے لگ گیا تو زہوک نے بھی اس کی گردن کے گرد اپنے بازو حماٸل کر دیے۔
”اچھا بس! اب زیادہ ڈرامے بازیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیچھے ہٹو!“ اس نے دونوں کو خود سے الگ کرتے ہوٸے جھاڑا تو وہ معصومیت سے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو گٸے۔
”شکریہ ایبن!“ دونوں ایک ساتھ بولے تو وہ انہیں گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔
(جاری ہے)

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں