0

تعارف/ انٹرویو : ثمن سرفراز صاحبہ / رائٹر


تعارف/ انٹرویو : ثمن سرفراز صاحبہ / رائٹر
سوال: تعارف؟
جواب:
میں راولپنڈی پاکستان سے تعلق رکھنے والی ادیبہ ، شاعرہ ، اور موٹیویشنل اسپیکر ثمن سرفراز ہوں۔ میں27 مئی2000 میں ضلع راولپنڈی ایک نجی ہسپتال میں پیدا ہوئی۔ میں نے ابتدائی دنوں میں قلمی نام عدن دل رکھا جو کہ بعد میں اپنے اصل نام ثمن سرفراز سے بدل دیا۔
والد صاحب کا نام محمد سرفراز ہے جو کہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔
میں نے پرائمری ، مڈل اور میٹرک کی تعلیم والد کے بیسیوں جگہ تبادلہ ہونے کی وجہ سے مختلف شہروں سے حاصل کی۔ جبکہ حال میں فاطمہ جناح یو نیورسٹی برائے خواتین سے ڈیفنس اور ڈپلو میٹک اسٹڈیز میں تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔
میں نے چودہ سال کی عمر میں نے اپنی شاعری کا آغاز اپنے استاذ پر لکھی ایک نظم سے کیا تب میں آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ میں بچپن سے ہی بہت زیادہ الگ تھلگ رہنے والی بچی تھی، بہت مشاہداتی۔
شاعری کی تمام اصناف میں غزل اور آزاد نظم میری پسندیدہ ہیں اور اکثر انہی پر میں طبع آزمائی کرتی رہتی ہوں۔ میرا ایک شعر ہے;
کبھی طوفاں، کبھی رِم جھم، کبھی خوشیاں لکھیں میں نے
میں اپنی زندگی سے منسلک ہر ساز لکھتی ہوں
آپ کا مشغلہ کیا ہے ؟
جواب: چونکہ ایک انسان بیک وقت بہت سے کردار نبھا رہا ہوتا، عمر کے مختلف حصوں میں مختلف چیزوں میں توجہ لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح میں مختلف اوقات میں مختلف مشاغل اختیار کرتی رہی ہوں۔ پچپن میں ڈرائنگ اور تنہائی پسندی مشغلہ ہوا کرتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزاج کی تبدیلی کے ساتھ مشاغل تبدیل ہوئے اب مشاہدہ، شاعری، کیتھرارسس اور ذاتی محاسبہ وقتِ فراغت کے مشاغل میں شامل ہیں۔
میں ان سب مشغلوں میں شاعری سب سے زیادہ پسند کرتی ہوں۔
1۔ ۔سوال. آپ کی پسندیدہ شخصیت کونسی ہے؟ اور کیوں پسند کرتے ہیں؟
جواب: میری پسندیدہ شخصیت محترمہ پروین شاکر صاحبہ ہیں جنہیں ”خوشبو کی شاعرہ“ کہا جاتا ہے۔ مجھے پروین شاکر اس لیے پسند ہیں کہ انھوں نے انتہائی نا مسائد حالات میں بھی بہت بہادری سے زندگی کی جنگ لڑی اور یہ جنگ لڑتے لڑتے ہر چیز فتح کر لی۔ اس دور میں جب پروین شاکر نے ایک نوجوان شاعرہ کے روپ میں قدم رکھا اور پاکستان کی پہلی خواتین سی ایس پی آفیسز میں شمولیت اختیار کی بذات خود ایک خاتون ہو کر اتنا کچھ جیتنا بھی ایک فخر کی بات تھی۔
سوال. آپ اپنی زندگی کے تجربات سے کیا اخذ کرتے ہیں کہ کامیابی کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟
جواب: ایک اچھا سوال۔میرے نزدیک کامیابی کے لیے صلاحیت اور اسے بہترین انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس زمرے میں محنت اور ثابت قدمی کا عنصر بھی ناگزیر ہے۔
سوال. زندگی میں مقصد کا ہونا کتنا ضروری ہے؟
جواب: زندگی میں مقصد کا ہونا ہے ایسے ہی ہے جیسے ایک تالے کے ساتھ چابی کا ہونا، جیسے ایک چابی ایک تعلق کو کھولنے کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے اسی طرح زندگی میں مقصد زندگی کو سودمند بناتا ہے، جب کوئی شخص زندگی میں مقصد نہیں رکھتا تو وہ اپنی زندگی کا بہت قیمتی وقت ضائع کرتا ہے۔
وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ اس طرح وہ بہت سی اعصابی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ بےمقصد زندگی اسکی معاشی و معاشرتی کارکردگی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
سوال. آج کل لوگ مایوس کیوں ہوجاتے ہیں؟ اس مایوس کو ختم کیسے کیا جا سکتا ہے؟
جواب: میں سمجھتی ہوں کہ اسلام سے دوری، بےجا موازنہ کرنا، ضرورت سے زیادہ حساسیت اور نا شکری ہمارے معاشرے میں مایوسی کی جڑ ہیں۔
ہم اسلام سے جتنا قریب ہوں گے، جتنے مضبوط ہوں گےجذباتی اور ذہنی اعتبار سے۔ ہم اتنے ہی مایوسی سے بچ سکتے ہیں۔
سوال تعلیمی نظام کو مزید بہترکیسے بنایا جاسکتا ہے؟
جواب: ہمارا تعلیمی نظام صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کامیاب زندگی کے لیے ہنرمندی درکار ہے۔ اسکے علاوہ اخلاقیات، قومی زبان سے شناسائی اور اسلامی اقدار کا تحفظ بھی ہمارے تعلیمی نظام کا حصّہ ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے مثبت سوچ کا فروغ بھی تعلیمی نظام کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
سوال. ہمارے نوجوانوں کے لئے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب: ایک چھوٹی سی تلقین جو نوجوانوں کو کرنا چاہوں گی وہ یہ ہے کہ اپنی اہمیت پہچانیں جب تک آپ اپنی اہمیت نہیں پہچانیں گے تب تک آپ کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ وقت کے بےجا تصرف سے بچیں۔ سوشل میڈیا پر بےجا وقت صرف کرنے کی بجائے اپنی ذات کی کھوج میں وقت صرف کریں، اپنی صلاحیتوں کو کھوجیں ان پر کام کریں، تاکہ جدید دور کے، جدید تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر آپ اپنے منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔
سچائی، ایمانداری، ثابت قدمی اور محنت جاری رکھیں وہ دن دور نہیں جب کامیابی آپکے قدم چومے گی۔
سوال،معا شرے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے؟
جواب: بیروزگاری کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے روزگار کے مواقعے ڈھونڈنے ہوں گے جو کہ ضروری نہیں ڈگریوں سے حاصل ہوں۔
ہمیں اکیسویں صدی میں جدید ہنر سیکھنا ہوں گے جو کہ ہمارے لیے روزگار کے دروازے کھول دیں گے۔ گرچہ ڈگریوں کی اپنی اہمیت ہے میں تعلیم حاصل کرنے کے حق میں ہوں لیکن یہ مدعہ قابلِ غور ہے کہ آج کل کے کتابی باتوں کے علاوہ عملی اقدامات کی زیادہ ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں بےروزگاری کی شکار ایک بہت بڑی تعداد خواتین کی ہے لہذا کچھ ایسے پروگرام گورمنٹ کو متعارف کرنے چاہیں جو کہ روزگار فراہم کریں۔ تاکہ ہماری معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
سوال ۔استاد کا طالب علم کے ساتھ رویہ کیسا ہونا چاہیئے
جواب: میرے نزدیک ایک استاذ کو سیکھنے اور سکھانے کے جذبے سے لبریز ہونا چاہیے۔ ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ پڑھنے پڑھانے کا شوق ایک استاذ کو استاذ بناتا ہے۔ اس زمرے میں صرف کتابی باتیں نہیں زندگی گزارنے کا ڈنگ بھی ایک استاد کو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے سکھانا چاہیے۔
بلا شبہ استاد معاشرے میں آگہی پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
سوال۔تربیت کے حوالے سے آپ کا کیا خیال ہے
جواب: بلاشبہ ایک بہترین سوال۔ تربیت ایک ایسا عمل ہے جو صرف ماں کی گود تک محدود نہیں ہوتا یہ ماں کی گود سے شروع ہوکر آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ گرچہ تربیت کا ایک بہت بڑا حصہ والدین اور اساتذہ کا مرہونِ منت ہے لیکن ہم سفر، اولاد اور سرِ راہ ٹھوکریں بھی اس ذمرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سوال- زندگی کے تجربات کی بنا پر آپ کے مطابق انسان کے دوست کیسے ہونے چاہئیں ؟
جواب: میرے خیال سے دوست کو ایسا ہونا چاہیے کہ اگرچہ وہ کم بات کرے لیکن جب وہ بات کرے تو آپ ہلکا محسوس کریں خود کو، بالکل ایک پھول کی طرح تروتازہ۔ جو تنقید برائے اصلاح کرتا ہے وہ دوست ہوتا ہے، جو اس وقت بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جب پوری دنیا آپ کے خلاف ہو وہ دوست ہوتا ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جس کو آپ کی ذات سے محبت ہو آپ کی خوبیوں اور خامیوں سے نہیں۔ آپ کی شاکر و منون ہوں یہ تمام سوالات جو آپ نے کئے، یہ آج معاشرے کو مثبت بنانے کے لیے ضروری تھے۔

کیٹاگری میں : ادب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں