
مظفرآباد(بی بی سی)صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت کوئی اسمبلی نہیں ہے اور اس کمی کو آزادی کے بیس کیمپ آزاد کشمیر کی اسمبلی پورا کر سکتی ہے اور اس کے لیے غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے میری ملاقات میں انہوں نے یقین دلایا ہے کہ مسئلہ کشمیر اب بھی اقوام متحدہ کے چارٹر پر موجود ہے اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی موثر ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اس سلسلہ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ میرے امریکہ، برطانیہ، بیلجیئم اور ترکی کے حالیہ دورے سے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کا موقف بھرپور انداز میں انٹرنیشنل کمیونٹی تک پہنچا ہے اور کشمیری عوام جو کہ مسئلہ کشمیر کے اصل اور اہم فریق ہیں اُن کی آواز اب دنیا کے ایوانوں میں بلند ہوئی ہے۔ میرے بیرون ممالک کے اس دورے کے دورس اثرات مرتب ہونگے اور بھارت میرے اس دورے سے دفاعی پوزیشن پر آگیا ہے۔ میں نے اپنے دورے کا آغاز ترکی سے کیا۔ دورہ ترکی کے دوران انقرہ میں قبرص کے وزیراعظم اونل اسٹل سے خصوصی ملاقات کی جبکہ میں نے اپنے دورے کے دوران کشمیر فلسطین اور قبرص جیسے مسائل حل کرنے پر زور دیا اسی طرح میں نے ترکی کی نئی جماعت ویلفیئر پارٹی کے چیئرمین فاتح اربکان اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک تھنکنگ ایس ڈی ای کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں شرکت کی جبکہ اسی طرح میں نے سنٹر فار اکنامک سوشل ریسرچ میں منعقدہ سیمینار میں بھی شرکت کی جبکہ اپنے دورہ ترکی کے دوران میں نے ترکی کی حکمران جماعت آک پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ علی شاہین کی طرف سے ترکش پارلیمنٹ میں اپنے اعزاز میں دئیے گے ظہرانے میں بھی شرکت کی، جبکہ اسی طرح میں نے ترکش پارلیمنٹ میں ڈپٹی چیئر پرسن آک پارٹی و چیئرپرسن خارجہ امور کمیٹی افکان اعلیٰ ترکش پارلیمنٹ میں پارلیمنٹری کونسل برائے یورپ کے چیئرمین احمٹ یلڈر ترکش ممبرپارلیمنٹ ایفف ڈیمرکیران ترکش ممبرپارلیمنٹ و نائب وزیر خارجہ فیوزی سنوردی، ترکش ممبر پارلیمنٹ میمت اسلان اور دیگر ممبران پارلیمنٹ سے بھی ملاقاتیں کیں اور انہیں کشمیر کاز کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ میری تجویز پر ترکش پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی بنانے اور پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق میں قرار داد پیش کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا جو کہ ہماری بڑی کامیابی ہے۔ ترکی کے دورہ کے بعد میں نے برطانیہ کا دورہ کیا جہاں پر میں نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کیا جس میں پچاس سے زائد برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی اور اس موقع پر برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی مذمت کی۔ اسی طرح میں نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں کمیونٹی کے مختلف جلسوں سے بھی خطاب کیا جبکہ میں نے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر لندن میں بھارتی سفارتخانے سے 10ڈاؤننگ اسٹریٹ تک کشمیریوں کے مارچ کی قیادت کی۔ اس موقع پر میں نے برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ 10ڈاؤننگ اسٹریٹ میں مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر ایک یاداشت بھی پیش کی۔ان خیالات کا صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آج یہاں ایوان صدر مظفرآباد میں مقامی، ملکی، بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی خواجہ فاروق احمد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے بیرون ممالک کے دورے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میں نے بیلجیئم کے درالحکومت برسلز میں ممبران یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے برسلز میں ممبر یورپین پارلیمنٹ و پاکستان کے گزشتہ دو انتخابات میں یورپی یونین کے چیف الیکشن آبزرور مائیکل گیلر، ممبر یورپین پارلیمنٹ جورن ورجنی، ممبر یورپی پارلیمنٹ ہروی جوون، ممبر یورپی پارلیمنٹ لظیف ایٹ بالا، ممبر بیلجیئم سینٹ برٹن ممپکا، ممبر یورپین پارلیمنٹ ہینس ہیدی، انسانی حقوق کے چیئرمین ولی فوٹرے اور دیگر ممبران پارلیمنٹ سے انفرادی ملاقاتوں میں ممبران کو مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔ جبکہ بعد ازاں میں نے اپنے دورہ نیو یارک کے دوران میں نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں میں نے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے پولیٹیکل و قیام امن محمد خالد خیاری، اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے انسانی حقوق کمیشن الزے بریڈز کیرس سمیت اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر کے انہیں کشمیر ایشو پر بریفنگ دی۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں کسی بھی کشمیری لیڈر کا یہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کا پہلا دورہ ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام نے مجھے یقین دلایا کہ اقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادیں اب بھی موثر ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی طرح میں نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی کانگریس وویمن شہلا جیکسن، امریکی سینٹ کے رکن کرس وین ہالن، وزارت خارجہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیدارجیسن میکلن سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر آگاہی دی۔ میرے اس بیرون ممالک کے دورے کے دورس اثرات مرتب ہونگے اور اس سے بھارت دفاعی پوزیشن پر آگیا ہے اور دنیا اب کشمیری عوام کا موقف سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔
٭٭٭٭٭
0