0

سانحہ کنن پوشپورہ کی متاثرہ خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے


اسلام ا ٓباد(بی بی سی) سانحہ کنن پوشپورہ کی متاثرہ خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے ”یوم مزاحمت نسواں کشمیر“ منایاگیا۔ اس سلسلہ میں کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں وکشمیرلبریشن کمیشن کے زیراہتمام بھارتی ہائی کمیشن، اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں، سیاسی وسماجی جماعتوں کے زعماء، کارکنوں، طلبہ وطالبات، وکلاء، صحافیوں، جڑاوں شہروں میں مقیم کشمیری کمیونٹی، تاجر اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین حضرات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مظاہرہ سے کنوینرکل جماعتی حریت کانفرنس محمود احمد ساغر، سینئررہنما شیخ عبدالمتین،سید یوسف نسیم، ڈائریکٹر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز الطاف وانی،سیاسی رہنمانبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ، ماہر تعلیم پروفیسر کوثر سرور، محترمہ بے نظیر، فاروق رحمانی، لبریشن فرنٹ کے سلیم ہارون، انجینئرمشتاق محمود، ڈائریکٹرمیڈیا ونگ سرورحسین گلگتی، ڈائریکٹرجموں وکشمیرلبریشن کمیشن راجہ خان افسرخان،سماجی رہنما سردار محمد صدیق، حسن البناء، زاہد صفی، سینئرصحافی بشیر عثمانی، مہتاب اشرف، ایڈووکیٹ پرویز، پروفیسر وارث علی میر، امتیاز وانی، سردار عاصم عباسی، طارق مرزا، مشتاق بٹ،میر طاہر مسعود، اعجاز رحمانی،ثناء اللہ ڈار، ڈپٹی ڈائریکٹرلبریشن کمیشن عظیم سرور، انچارج سوشل میڈیا نجیب الغفورخان، انعام الحسن، راجہ راشدرضاسمیت نوجوانوں، طلبہ، تاجروں اور صحافیوں سمیت مختلف شعبہ ہائے حیات کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اس موقع پرہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مقررین نے کہا کہ 23فروری 1991 کو ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھاجائے گا۔ بھارت تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے لیے عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہاہے۔ مقررین نے عالمی برادری، اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ کنن پوشپورہ سانحہ کی متاثرہ خواتین 32برس بعد بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ 23فروری 1991ء کی رات کو بھارتی فوجیوں نے کنن اور پوشپورہ نامی دیہاتوں کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی کے بہانے گھروں میں داخل ہوگئے اور سو کے قریب خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاجن میں نوجوان لڑکیاں اور معمر خواتین تک شامل تھیں۔ مقررین نے کہا کہ اس سانحہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات میں فوجی اہلکاروں کو ملوث قرار دیا گیا لیکن بعدمیں بھارتی حکومت نے حیلے بہانوں سے اس واقعہ پر پردہ ڈال دیااور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو کلین چٹ دے دی گئی۔ مقررین نے مزید کہا کہ کشمیری خواتین تحریک آزادی کے ماتھے کا جھومر ہیں جو ہر مرحلہ میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ قابض غاصب بھارتی فوج کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوکر جرأت و بہادری کا ثبوت دیتی رہیں۔ ان خواتین نے اپنی جانوں اور عزتوں کی بھی پروا نہیں کی۔ تحریک آزادی کشمیر کے دوران گزشتہ تیس برسوں میں دس ہزار سے زائد خواتین اپنی عزتوں کی قربانیاں پیش کرچکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی فوج عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے تاکہ حریت پسندوں کے جذبہ آزادی کو کچل سکے لیکن اس کے باوجودخواتین کے عزم اور پائے استقلال میں لرزش نہیں آئی۔ کشمیری قوم نے آزادی کی تحریک کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپنی خواتین کو کبھی شرمندہ ہونے دیا۔ مقررین نے سانحہ کنن پوشپورہ کی متاثرہ خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان متاثرہ خواتین کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان پر کیے گئے ایک ایک ظلم کا حساب بھارت کو دینا پڑے گا۔ مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور عالمی عدالت انصاف کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں غاصب بھارتی فوج کے کرتوتوں، ظلم وتشدد اور جبری عصمت دری جیسے گھناؤنے اعمال کا نوٹس لینا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت نے قابض فوج کو ہرقسم کے ظلم وتشدد کی کھلی اجازت دے رکھی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایسے قوانین نافذ ہیں جن کا مہذب دنیامیں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان قوانین کی آڑ میں ایک جانب نہتے مظلوم کشمیریوں کو عقوبت خانوں میں جان لیوا ٹارچر کا نشانہ بنایاجارہاہے اور دوسری جانب ان جرائم میں ملوث اہلکاروں کوکلین چٹ دے دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اتنے ہی مظالم ڈھائے جتنے کل کو وہ برداشت بھی کرسکے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارت نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپنے وعدوں سے خود ہی انحراف کیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ بھارت نے ہمیشہ جھوٹ اور منافقت سے کام لیا۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ پاکستانی قوم اور حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔ ہم آج بھی اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کرواتے ہیں کہ ہم کسی بھی مرحلے پر کشمیری قوم کی حمایت سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ دنیا کو جان لینا چاہیے کہ کشمیری صرف اپنی سرزمین کی آزادی ہی نہیں بلکہ تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں