0

نگران کابینہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی؟


جنوبی پنجاب سے پھر آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ پنجاب کی نگران کابینہ میں جنوبی پنجاب کی کوئی نمائندگی نہیں یہ بھی ایک طرح کا فضول اعتراض ہے۔ جنوبی پنجاب کو اقتدار میں نمائندگی ملے یا نہ ملے اسے رہنا پھر بھی پسماندہ ہی ہے، جب ساڑھے تین سال تک عثمان بزدار کی صورت میں جنوبی پنجاب کو صوبے کا سب سے بڑا عہدہ حاصل رہا تو کون سی خوشحالی آ گئی۔ آج بھی وہی بے روز گاری ہے پسماندگی؟ غربت و افلاس کا ڈیرہ ہے سو ایک نگران کابینہ میں ایک آدھ وزارت سے جنوبی پنجاب میں کیا تبدیلی آ جائے گی۔ اچھا ہے نمائندگی نہ ملے تاکہ یہ دعویٰ تو رہے کہ جنوبی پنجاب کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ ایک بے بس اور اپاہج وزیر اتنے بڑے جنوبی پنجاب کے لئے کیا کر سکتا ہے ماضی کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ جنوبی پنجاب کو بڑے عہدے تو دیئے جاتے رہے مگر یہ اجازت کبھی نہیں دی گئی کہ ان عہدوں پر براجمان شخصیات اپنے علاقے کے بارے میں بھی کوئی بڑے فیصلے کریں ان کے ہاتھ باندھ دیئے جاتے ہیں انہیں ہاتھ ایسے کھلے نہیں ملتے جیسے چوہدری پرویز الٰہی کو ملے اور انہوں نے گجرات کو ڈویژن بنانے کے ساتھ ساتھ خزانے کے منہ کھول دیئے منصوبے نہ صرف منظور کئے بلکہ ان کے لئے ایڈوانس فنڈز بھی جاری کر دیئے۔ یہاں یہ حال ہے کہ جب سید یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو انہوں نے صرف ملتان کے لئے ایک فلائی اوور منظور کیا پہلے سے موجود ایئرپورٹ کی توسیع کے لئے منصوبے کی منظوری دی باقی سارا جنوبی پنجاب ان کی توجہ کا منتظر رہا اس سے پہلے بھی جنوبی پنجاب کو وزارت عظمیٰ وزارت اعلیٰ، سپیکر شپ حتی کہ صدارت بھی ملتی رہی مگر اس خطے کی تقدیر بدلنی تھی نہ بدلی 9 کروڑ افراد پر مشتمل یہ خطہ ہمیشہ محرومی کا شکار رہا ہے۔اس خطے کے کروڑوں عوام کو چکر دینے کے لئے ہر دور میں کوئی نہ کوئی شعبدہ بازی کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہی عوام صوبائی اور قومی اسمبلی کی بڑی تعداد میں نشستوں کے لئے ووٹ دیتے ہیں بلکہ کہا یہ جاتا ہے کہ حکومتیں بنتی ہی اس علاقے کے ووٹوں سے ہیں 2018ءکے انتخابات سے پہلے یہاں ایک صوبہ محاذ بنایا گیا یہ کس کا کارنامہ تھا، یہ بات اب ڈھکی چھپی نہ رہی۔ اس محاذ کا نعرہ تھا کہ وہ علیحدہ صوبے کے نام پر الیکشن لڑے گا اور جیتنے کے بعد صرف اس پارٹی سے اتحاد کرے گا جو جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنائے گی۔ ابھی اس محاذ کی بنت ہو رہی تھی کہ خبر آ گئی اس کا تحریک انصاف سے اتحاد ہو گیا ہے۔ 2018ءکے انتخابات میں تحریک انصاف نے اس اتحاد کی معاونت سے جنوبی پنجاب میں اکثریت حاصل کی۔ ملتان سے کلین سویپ کیا اور جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع سے اتنی نشستیں جیت لیں کہ مرکز اور صوبے میں حکومت بنا سکے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ عمران خان کی نظر انتخاب تونسہ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی عثمان بزدار پر پڑی اور انہیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ اس زمانے میں یہ کہا جانے لگا کہ جنوبی پنجاب سے وزیر اعلیٰ اس لئے لیا گیا ہے کہ اسے تحریک انصاف دعوے کے مطابق علیحدہ صوبہ بنانا چاہتی ہے لیکن وقت گزرا تو یہ معلوم ہوا کہ اب یہ ترجیح تحریک انصاف کی ہے اور نہ اس صوبہ محاذ کی جس نے علیحدہ صوبے کے نام پر عوام سے ووٹ لئے تھے۔ وقت گزرتا رہا اور دباﺅ بڑھا تو تحریک انصاف کی حکومت نے یہاں علیحدہ سیکرٹریٹ بنانے کا شوشہ چھوڑا کہاں علیحدہ خود مختار صوبہ اور کہاں ایک بے اختیار و بے بس علیحدہ سیکرٹریٹ۔ پھر اس میں بھی گنجل یہ ڈالی گئی کہ اسے ملتان اور بہاولپور میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ ایسی چال تھی جس نے جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے میں دراڑ ڈال دی۔ یہ جھگڑا کھڑا ہو گیا کہ صوبہ جنوبی پنجاب بنے گا تو اس کا صدر مقام کہاں ہو گا؟ ملتان یا بہاولپور۔ ایک ہی صوبے میں دو سیکرٹریٹ بنانے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ جو بری طرح ناکام ہو گیا کیونکہ افسر تو یہاں تعینات کر دیئے گئے۔ بیورو کریسی کو کھپانے کی گنجائش بھی پیدا ہو گئی۔ مگر عوام کو ایک دھیلے کا ریلیف نہیں ملا۔ اس وقت بھی تمام اختیارات پنجاب کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پاس ہیں۔ سیکرٹری فنانس بھی لاہور میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فنڈز کی محتاجی اسی طرح جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں