غزہ کے باسی!
از قلم: حفصہ بٹ عدن
جنگ میں پیدا ہونے والوں کے پاس دو ہی آپشنز ہوتے ہیں۔ مر جائیں ہا جرأت مند ہو جائیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ جری اور بہادر ہوتے ہیں۔ پھر اس سے شاید اتنا فرق نہیں پڑتا وہ کس کی اولاد ہیں۔ ماحول انہیں نڈر اور قوی بنا دیتا ہے۔
اگر وہ ڈرپوک ہوں تو جلد فنا ہو جائیں۔ اپنی بقا کی جنگ ہر کوئی لڑنا چاہتا اور لڑتا ہے۔ زہن سازی بھی ایک شے ہے۔ جنگی ماحول میں آنکھ کھولنے والا بچہ دھماکوں کی آواز اور بارود کی بو سونگھتے سونگھتے پروان چڑھتا ہے۔ اردگرد پڑے لوتھڑے اور خون کے بازار میں کھیلنے والے سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہوش مند ہو کر آپ کے لیے پھولوں کی سیج سجائے گا؟ عقل کامل ہونے تک وہ اپنے آپ میں ایک جنگجو ہو گا۔ اسے دشمن کو مارنا اچھا لگے گا کیونکہ کبھی لڑکپن میں اپنے پیاروں کے جسدی ٹکڑوں سے ہاتھ لہو لہو کیے تھے۔ اسے لطف آئے گا جب دشمن کی بستیاں جل کر فنا ہوں گی کیونکہ اس کا خیمہ بھی تو بچپن میں جل گیا تھا اور اس کی ماں کئی روز تک اپنے آنچل میں چھپا کر سلانے کی کوشش کرتی تھی۔
وہ محبوب لوگوں کی چیخ و پکار اور آہ و زاریاں کانوں میں ایسی گونج پیدا کرتی ہوں گی کہ رائفل کی تڑتڑاہٹ کو اس پر حاوی کرنا ہوتا ہو گا۔ اس کے باوجود اگر کوئی امن کی بات کرنا چاہے تو یقیناً کسی اندر کی طاقت کا کمال ہے۔ نفسیات تو بدلے پر اکسائے مگر بات سمجھوتے کی ہو تو مان لیں اندر جو ماں نے ایک ایمان کا بیج بویا تھا، تربیت نے اسے تناور کر دیا ہے۔ نفس اور انتقامی غصے کے برخلاف ایک قانون کے تابع ہونا کہ بھسم نہیں کرنا، عبادت گاہیں نہیں توڑنی، کمزوروں پر ہاتھ نہیں اٹھانا، عزتیں نیلام نہیں کرنی۔۔۔۔ کیا یہ اچنبھے کی بات نہیں؟
گو کہ بین الاقوامی عدالت کے قوانین بھی کچھ یوں ہی ہیں مگر عمل درآمد ناپید اور عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ مگر ایک خدا کے ماننے والے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سینے سے لگائے اس پر کاربند ہیں۔ آفریں ہے غزہ کے باسیو!
0