آپا منزہ جاوید
اسلام آباد
“اس پرچم کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں ۔’
سب پاکستانیوں کو 77 واں یوم آزادی
مبارک ہو
یہ خوشیوں بھرا دن ہے جوش جذبے کو ابھارنے اور حب الوطنی کو اجاگر کرنے کا دن عہد وفا کرنے اور دوہرانے کا دن ہے ۔
خوشیاں منائیں لیکن اپنے مذہب کے مطابق
ہمارے مذہب میں ڈھول بجائے بجانے کی ممانعت ہے ہم کسی چیز کے ملنے ہر سجدہ شکر ادا کرتے ہیں۔ الحمدللہ رب العالمین کہتے ہیں ۔تو ہمیں چاہیے اس دن شکرانے کے نفل ادا کرنے کا خاص طور پر اہتمام کریں۔جتنا ہو سکے صدقہ خیرات کریں ۔تحفے میں اپنے ملک کو کو ہر سال کچھ ایسا تحفہ دیں جو اس کی آن بان میں اضافے کا باعث بنے۔یہ کیا کہ ساری رات سڑکوں پر شور مچانا بائیک کا سلانسر نکال کر چلانا بجاے بجاتے رہنا اور جو خاندان کے افراد آتش بازی دیکھنے یا رنگ برنگی روشنیاں کمکمے دیکھنے نکلیں ان پر پٹاخے پھینکنا مذاق اڑانا افسوسناک ہے حیرت ہے یہ کون سی آزادی کی تقریب ہے جس میں بہودگی ہو
لڑکیوں کو تنگ کرنا کہاں کی آزادی کا جشن ہے ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں جب اپنے ہی آزاد ملک میں ہی محفوظ نہیں ۔۔۔
آپ کی غیرت کہاں مر گئ ہے کیا آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ تم خود اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو لوٹ سکو ۔ ان کو تنگ کر سکو ان پر پٹاخے پھینک سکو انہیں چھڑ سکو اے پاکستانیوں
کچھ تو سوچیں کچھ تو خیال کریں کہ یہ ملک کلمے کے نام پے آزاد ہوا تھا مسلمانوں کو ایسا ملک چاہیے تھا جہاں وہ آزادی سے کلمہ حق بلند کر سکیں۔ کھلے عام نماز پڑھ سکیں۔ جب مرد روزی رزق کمانے باہر جائیں تو انکے خاندان محفوظ ہوں ان کے گھر محفوظ ہوں۔ تو کیا ہوا کیا آپ اس آزادی کی قدر کر رہے ہیں ۔ آپ نے اب تک اپنے ملک کے لیے کیا کیا ہے جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہو ۔
کیا آپ جشن آزادی کے لیے چودہ اگست کا دن پس شور شرابے اور موج مستی منانے کے لیے مقرر کر چکے ہیں کہ اس دن کو آگاہی اور شعور کا دن بنا کر گزار رہے ہیں اپنے نسلوں کو بتائیں کہ ہمارا پیارا ملک کیسے آزاد ہواتھا کیسے ہمارے جوان بے دریغ بے دردی سے قتل کیے گے کیسے ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں نے اپنی عزتوں کی قربانی دی کیسے عظیم لوگوں نے اپنے خاندان اپنی وراثت اپنے مال مویشی چھوڑ کر بھوکے ننگے جانوں کی قربانیاں دیے کر آگ اور خون کا دریا پار کر کہ اپنے آنے والی نسلوں کے لیے آزاد ملک حاصل کیا ۔کیسے کیسے تاجر رئیس اس آزادی کے لیے رول گے بادشادہ سے فقیر ہوئے کیسے کیسے بہادروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر بہت سے لوگوں کو بچایا
انہیں کیا چاہیے تھا۔ “آزادی”
یہ آزادی بہت قیمتی ہے شکر کریں ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں آزادی کی قدر وقیمت جاننی ہے تو ان ملکوں کے باشندوں پر نظر دوڑائیں جو آزادی سے محروم ہیں اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں
سکول کالج یونیورسٹی میں ناچ گا کر آزادی کا جشن نہیں منایا جاتا یہ تو سجدہ شکر کا دن ہے ان شہداء کو یاد کرنے کا دن ہے جو راہ جہاد آزادی میں شہید کر دیے گے جن کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا جن کو قبریں اور جنازے بھی نصیب نہیں ہوئے تھے ان لڑکیوں بہنوں کو یاد کر کہ روئیں جو آزادی کے لیے لٹ گئیں جو اندھے کنواں کی نظر ہوئیں جہنوں نے خود کنوایں میں چھلانگیں لگائیں ان ماؤں کی حیرت اور خوف زدہ ٹھٹھرتی آوازیں آنکھیں یاد کیجیئے جن کے سامنے ان کے شیر بیٹے شہد کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گے آزادی یونہی نہیں مل جاتی اس کے پیچھے ہزاروں داستانیں ہوتی ہیں گہرے زخموں کی دکھوں کی کہانیاں ہوتی ہیں۔
اپنی تاریخ بچوں کو پڑھائیں ان کو وہ ساری داستانیں سنائیں تاکہ وہ آزادی کی قدر وقیمت پہچان سکیں۔ جان سکیں۔ ناچ گانے کے لیے یہ ملک نہیں لیا گیا تھا ۔
خداراہ سوچیں سمجھیں آپ کس مقام پر کھڑے ہیں کیا آپ آزاد ملک کی قدر کرتے ہیں۔۔جب آپ اور آپ کی نسلیں قربانیوں کی داستانیں سنیں گی تو سمجھیں گے کہ ہمارے آباؤ اجداد نے آزاد ملک کیوں ؟کس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا؟ ۔پھر وہ اپنے ضمیر کی عدالت لگائیں گے کہ ہم نے ان کی قربانیوں کا کیا بدلہ دیا ہے ؟
ہمیں اپنے ملک کو کیسے سنبھال کر ترقی کامیابی کی طرف لے کر جانا ہے؟ ۔غیرت مند قومیں آزادی کا جشن اس طرح مںاتی ہیں کہ ہر فرد یہ فخر کرتا ہے میں نے اس سال اپنے ملک کے لیے یہ یہ کیا ہے میں فخر محسوس کرتا کرتی ہوں کہ اس کے وقار کو بلند کرنے میں میرا بھی ہاتھ ہے ۔
اس دن عہد کیجیئے ہم اس ملک کی سلامتی کے لیے تن من دھن سے لگن اور محنت سے کام کریں گے اور دنیا میں اپنے ملک کا نام اچھائی میں بلند کریں گے
اور یاد رکھیں ملک وقوم کا نام بلند وہی کرتے ہیں جو خود بلند کردار کے ہوتے ہیں سچے اور وعدے کے پکے ہوتے ہیں آئیے ملکر کر اپنے ملک سے وعدہ کریں ہم ایسا کوئ کام نہیں کریں گے جس سے ملک کا وقار پست ہو بلکہ پوری ایمانداری سے اس کی ترقی خوشحالی کے لیے کوشش کریں گے اور اپنے ملک کو خوشیوں سے بھر دیں گے امن و سکون بانٹیں گے ۔
ملک ہماری پہچان ہے ہماری آن بان جان ہے یہ ملک سلامت ہے تو ہم سلامت ہیں ہم سب ایک ہیں
پاکستان زندہ باد پائیندہ باد
0