0

آزا دکشمیر کے قانون میاں عبدالوحید نے کہاہے کہ آزاد کشمیر کی موجود ہ حکومت آئین و قانون کی بالادستی،شہریوں کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت،ریاستی تشخص کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے

میرپور (بی بی سی) آزا دکشمیر کے قانون میاں عبدالوحید نے کہاہے کہ آزاد کشمیر کی موجود ہ حکومت آئین و قانون کی بالادستی،شہریوں کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت،ریاستی تشخص کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے،وزیر اعظم چوہدری انوار الحق اور ان کی اتحادی جماعتیں ریاست سے کرپشن کے خاتمے،رشوت ستانی سے نجات دلانے کیلئے کوشاں ہے،وزیر اعظم نے جرات مندانہ انداز اور دلیری سے وفاق کے سامنے حقوق کی آواز بلند کی ہے،آزاد کشمیر کی حکومت تحریک آزادی کشمیر کیلئے قائم ہو ئی تھی،عوام کے اندر قومی یکجہتی کی تحریک پیدا کر نے کیلئے کوٹلی میں جلسہ عام کے ذریعے آغاز کیا جا رہاہے،آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن،ڈیفامیشن کے مسودہ قانون قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے،جس کو قانون سازی کے ذریعے ایکٹ کا حصہ بنایا جائے گا،ڈیفامیشن کے قانون کے حوالے سے صحافی برادری کے نمائندگان کو اعتما د میں لیا جائیگا،ایسا کوئی قانون نہیں بنائینگے جو آزادی اظہار رائے کے متصادم ہو،تنقید ہر شہری کا حق ہے،صحافت پر کوئی قدغن نہیں،نہ صحافیوں سے کوئی گلہ شکوہ ہے،آزاد کشمیر میں اظہا ر رائے کی مکمل آزادی ہے،کوئی بھی شخص سیاسی قید ی نہیں،سوشل میڈیاکے ذریعے خطہ میں انارکی پھیلانے کی کوشش کر نیوالوں کو لگام دینا ضروری ہے،کسی کی عزت نفس مجروح کر نے کا حق کسی کو حاصل نہ ہے۔
ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے یہاں میرپور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،وزیر قانون میاں عبدالوحید نے کہاکہ ان کا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت سے ہے،جس کی ساری جدو جہد جمہوریت کی اصل بحالی کیلئے ہے،اظہار رائے کے ذریعے تنقید،مخالفت کرنے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور جب تک ہم بامقصد مکالمہ کی بنیاد نہیں رکھیں گے،ترقی کے ذینے طے نہیں کر سکتے،علاقائی گروہی تعصبات کا خاتمہ ضروری ہے،انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے خطہ کو معاشی استحکام دلانے کیلئے عملی اقداما ت کئے ہیں،حالیہ ترقیاتی کاموں کے ٹینڈر میں شفافیت کے ذریعے کروڑوں روپے کی بچت ہوئی ہے،یہ بچت بھی ان ہی علاقوں /حلقوں میں خرچ ہوگی،کرپشن فری سوسائٹی بنانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو آگے آنا چاہئے اور حکومت اور حکومتی اداروں کو مضبوط بنانے چاہئے،انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور 2کے مسودہ قانون زیر کار تھے،جن کو اب قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے،جو رائٹ ٹو انفارمیشن،ڈیفا میشن جیسے قانون بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرینگے،ڈیفامیشن کے قانون کے نفاذ سے قبل تمام اسٹیک ہولڈر ز بالخصوص صحافتی برادری کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے گا،ان کے اعتراضات کو دور کیا جائیگا،انہوں نے کہا کہ میں اور میری سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کسی بھی ایسے اقدام /قانون کا حصہ نہیں گے جس کا نقصان عام آدمی اور عوام کو ہو،انہوں نے کہا کہ ریاستی صحافت کے اداروں کے ساتھ نہ کوئی لڑائی جھگڑا ہے اور نہ ہی کوئی انتقام بات،ہم صحافت اور صحافتی اداروں کی خدمات کے متعرف ہیں،صحافیوں کی آزاد خطہ اور تحریک آزادی کیلئے گراں قدر خدمات ہیں،انہوں نے کہ کل جماعتی اتحاد کے ذریعے کوٹلی سے ایک مہم کا آغاز کر رہے ہیں،تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر جلسے جلوس ریلیاں ہونگی،باہمی اتفاق اتحاد کے ذریعے ہم مقبو ضہ کشمیر کے حوالے سے اپنا موقف دنیا تک پہنچا ئینگے،بھارت طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کو غلام بنانے کے درپہ ہے،انہوں نے کہاکہ بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کے حوالے سے جو فیصلہ دیا ہے و ہ کشمیر یوں کیلئے قابل قبول نہیں،اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ہی مسئلہ کشمیر کا حقیقی اور پائیدار حل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں