“ہمارے قابلِ قدر کولیگ محسن نقوی صاحب”تحریر: ڈاکٹرعارفہ صبح خان
ایسے سیاستدان کا کو ئی اچار ڈالے جن کے نام بڑے اور درشن چھوٹے۔جو پروپیگینڈا، اشتہاروں اور نئے نئے بیانیوں یا بریانیوں کا سہارا لیکر بڑے بنتے ہیں۔ بڑے بڑے منشور لیکر آتے ہیں، ترقیاتی کاموں کا شور مچاتے ہیں، کروڑوں اربوں روپیہ اشتہاری مہمات پر خرچ کرتے ہیں۔ چالیس سال سے ملک میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ پاکستان کے جو حالات چالیس سال پہلے تھے، آج پاکستان اُن سے بد ترحالات میں ہے۔ پانچ سال پہلے عثمان بزدار جیسے نا اہل آدمی کو ہر لحاظ سے ذرخیز صوبے پنچاب پر مسلط کر دیا گیا۔ عمران نیازی نے اس نالائق نا اہل آدمی عثمان بزدار کو ایسے صوبے کا وزیر اعلیٰ بنایا جہاں ایک سے ایک جو ہر قابل مو جود تھا۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس پر قدرت کی نوازشات ہیں۔ یہ صوبہ ہمیشہ ذرخیز اور توانا رہا ہے لیکن عثمان بزدار نے چار سال میں پنجاب کو کھنڈر بنا دیا اور یہاں چار سالوں میں کرپشن کی غضب کہانیاں چلیں جو ابھی تک پوری طرح عیاں نہیں ہوئیں۔ کچھ لوگ یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ لاہور کو لندن، پیرس، روم بنا ئیں گے۔ شہباز شریف نے کام کم کئیے اور رُولا زیادہ ڈا لا۔ پھر اچانک کایا پلٹی۔ نگران سیٹ اپ آیا جس میں حیرت انگیز طور پر ہمارے کولیگ مُحسن نقوی کے نام وزارتِ اعلیٰ کا قرعہ نکلا۔ محسن نقوی جن کا شروع سے ہی تعلق صحافت سے ہے اور صحافت میں انہوں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں لیکن بطور وزیر اعلیٰ محض نودس ماہ میں محسن نقوی نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جو خدمت کی ہے۔ وہ یقینا قابلِ قدر ہے۔ محسن نقوی محض چند ماہ کے لیے نگران وزیر اعلیٰ لائے گئے تھے لیکن جو مثالی کارکردگی انہوں نے دکھائی ہے۔ اس وقت نگران سیٹ اپ میں سب سے کامیاب، مقبول اور اثر آفرین شخصیت ثابت ہوئے ہیں۔ نقوی صاحب جانتے تھے کہ وہ محض چند ماہ کے لیے لائے گئے ہیں لیکن انہوں نے اسکے باوجود جو انتھک محنت کی۔ خاص طور پر پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے عملی اقدامات کیے جس میں کلمہ چوک، اکبر چوک، شاہدرہ چوک اور لاہور کی بے شمار سڑکیں، فٹ پاتھ، فلائی اورز، انڈر پاسز اور گرین بیلٹ پر کام کیا ہے۔ اُس نے لاہور کی شان دوبالا کر دی ہے۔ خا ص طور پر مختلف سڑکوں کو سگنل فری روڈز بنانے کی وجہ سے لاہوریوں کی زندگیوں میں آسانیاں آئی ہیں۔ مال روڈ کو آلودگی سے پاک کرنے پر کام کیا ہے جبکہ اس سے بڑھکر وہ کام جس سے لاکھوں لوگوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو دعائیں دی ہیں۔ وہ ہسپتالوں کی حالتِ زار کی دُرستگی ہے۔ محسن نقوی نے روزانہ کی بنیاد پر ہسپتالوں میں خود جاکر نگرانی کی ہے۔ تمام تقریباً تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جینسی کی صورتحال اتنی خوفناک تھی کہ جونئیر، نا تجربہ کار اور اناڑی ڈاکٹر ایمرجینسی میں اونگھ رہے ہوتے تھے۔ غریب اور مستحق مریضوں کو ادویات نہیں ملتی تھیں۔ ایک ایک بیڈ پرتین چار مریض سوار ہوتے تھے۔بستروں کی حالت اتنی خستہ، کمزور اوربدبودار تھی کہ وہاں جانور بھی رہنا پسند نہ کریں۔ واش رومز میں سڑاند اور غلاظتوں کے ڈھیر، انتظامیہ مریضوں کو بلیک میل کرتی اور ایک ایک دوائی نا پید اور بڑی مہنگی فروخت کی جاتی تھیں۔ ڈا کٹرز ڈیوٹی سے غائب ہوتے۔ آج پاکستان بیماروں کا ملک بن چکا ہے۔ ہر ہسپتال میں ہزاروں لاکھوں لوگ علاج کی غرض سے آتے ہیں لیکن ڈا کٹروں کی غفلت، انتظامی بد نظمیاں اور ہسپتالوں میں مافیاز کے عمل دخل سے سینکڑوں مریض یا تو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دُھو بیٹھتے ہیں یا پھر جسمانی معذوریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ آشوب چشم اور ڈینگی کے حوالے سے صورتحال سامنے آ گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ان تمام حالات کا خود جائزہ لیا۔ بہت سارے عملے کو معطل کیا۔ سخت وارننگ دی اور ہسپتالوں کے حالات درست کئے۔ خا ص طور پر پی آئی سی میں اہم کام کیے۔ دل کے مریضوں کے چھ چھ ماہ چیک اپ اور مختلف ٹیسٹ جیسے اینجوگرافی کا وقت نہیں دیا جاتا تھا اور نہ ہی امراضِ قلب پر مو ثر کام ہو رہا تھا۔ محسن نقوی نے اس شدید نوعیت کی بیماری اور اسکے علاج کے لیے جدید قا بلِ عمل اقدامات کئے۔ اسی طرح کینسر جیسے خوفناک، مہنگے ترین اور موذی مرض کے لیے ہسپتالوں کو خصوصی فنڈز اور ہدایات دیں۔ اگر ہسپتالوں میں توجہ، ہمدردی اور ایمانداری سے تمام مریضوں کا علاج کیا جائے تو کم سے کم اخراجات میں یہ علاج ممکن ہے۔ لیکن سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں اورخاص طور پر کینسر کے مریضوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور مریض کے دکھ اذیت اور کرب کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مجبوراًسرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غفلت، بے توجیہی اور بے رحمانہ رویے سے تنگ آکر لوگ پرا ئیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جہاں کینسر کے علاج پر 70سے80 لاکھ روپیہ خرچہ آتا ہے۔لوگ مقروض، کنگلے اور غریب ہو جاتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ کو ئی اپنے پیارے کوموت کے منہ میں جاتا نہیں دیکھ سکتا۔ اس حوالے سے محسن نقوی کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مریض کسی پرائیویٹ ہسپتال جاکر مقروض اور کنگلا نہ ہو۔ اسی طرح انہوں نے اب تعلیمی اداروں کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے اور ابتدائی طور پر کچھ تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ سیکٹر کی نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ ان سکولوں کا معیار اُن بھاری فیسیں لینے والے اداروں سے بھی بہتر کیا جا سکے۔ اسکے علاوہ انہوں نے سکول اوقات کار میں، اساتذہ کی الیکشن سمیت کسی ڈیوٹی سر انجام دینے پر پابندی لگا دی ہے جس سے طالبعلموں کی پڑھائی کا حرج ہو۔ نگران وزیر اعلیٰ نے اس دوران ادب و ثقافت پر بھی توجہ دی لیکن وہ اب ہر جگہ خود نہیں جا سکتے اور نہ ہی ادب و ثقافت کے حوالے سے خود فیصلے کر سکتے۔ اسکے بارے میں محسن نقوی کافی زیادہ consious ہیں لیکن بد قسمتی سے ادب و ثقافت پر بھی ایک مافیا نے پنچے گاڑے ہو ئے ہیں اور یہاں چند مخصوص لوگوں کی اجارہ داری ہے جو اقربا پروری، چا پلوسی اور ذاتی تعلقات مفادات کو کیش کر کے جینوین ادباء و شعراء کا حق مار کر بیٹھے ہو ئے ہیں۔یہا ں دو نمبر کا راج ہے جس کی وجہ سے لاہور جیسے علم و ادب کے مرکز اور ہزاروں ادیبوں شا عروں کے ہوتے ہوئے محض چند لوگ ہی منظر پر نظر آتے ہیں، جس سے حقیقی ادب اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ محسن نقوی صاحب کو اس پر بھی توجہ دینی چا ہیے اور پُرانے پاپی لوگوں سے جان چھڑانی چا ہیے۔ لاہور میں درجنوں علمی ادبی سیاسی ثقافتی تعلیمی تفریحی ادارے ہیں جو حکومت کی سرپرستی چاہتے ہیں اور کروڑوں کے فنڈز کھاتے ہیں مگر علمی ادبی سرگرمیاں نام کو نہیں ہیں۔ سب جیبیں بھر بھرکر، لوٹ مار کر کے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ محسن نقوی کیونکہ بنیادی طور پر صحافی ہیں، اس لیے صحافیوں کی پورے خلوص اور دل سے مدد بھی کرتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ محتلف پریس کلبوں کو جو سالانہ کروڑوں کی امداد اور گرانٹس دی جاتی ہیں۔ اُسکی کس طرح بندر بانٹ ہو جاتی ہے۔ بے شمار صحافی بیمار ہیں، معذور ہیں، عمر رسیدہ ہیں، بیروزگار ہیں، کسی کی بیٹی کی شادی، کسی کے بچوں کی تعلیم ہے، کو ئی بے گھر ہے اور کو ئی رنڈوا یا بیوہ یا یتیم ہے۔ اُسکا کوئی سہارا نہیں ہے۔ اگر پریس کلب اتنی بڑی بڑی گرانٹس سے صحا فیوں کی مدد کرتا تو صحافی آٹھ آٹھ آنسو نہ روتے۔ اس حوالے سے بھی کو ئی موئثر لائحہ عمل ہونا چا ہیے تاکہ حقیقی، مستحق، ضرورتمند صحافیوں کی عزت نفس مجروع کیے بغیر مالی امداد کی جا سکے۔ محسن نقوی نے محض چند ماہ میں پنجاب کے حالات بدلے ہیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جہاں وزیر اعلیٰ کی زیر نگرانی ہسپتالو ں کے لیے پانچ ارب کے فنڈز منظور کیے ہیں۔ وہاں بیروزگاری کے خاتمے کے لیے بھی کام کرتے جا ئیں۔ محسن نقوی نے زراعت اور تجارت کے لیے بڑے اہم فیصلے لیکر اپنی کارکردگی دکھائی ہے۔چین اور دیگر ممالک میں وہ سیر سپاٹے کی غرض سے نہیں گئے تھے۔ نہ اُن کے ساتھ فیملی گئی، نہ وہ تفریح کے لیے گئے نہ ہو ٹلنگ کی نہ سلفیاں بنائیں۔ بلکہ انہوں نے ان چار پانچ ملکوں سے تجربات لیے، معا ہدے کیے اور ملکی اداروں کی بہتری پر کام کیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ محسن نقوی صبح اٹھکر خاموشی سے کام شروع کر دیتے ہیں۔ جڑانوالہ کیس صرف محسن نقوی کے تدبر سے حل ہوا۔ ایسے بے شمار کام ہیں جسکا کریڈٹ محسن نقوی کو جاتا ہے۔ وہ ہر ایک کی مدد کے لیے بھاگے بھاگے پھرتے ہیں۔ کسی سائل کو مسئلہ ہو تو اُسے اپنے پاس بلا لیتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ عارضی مدت کے لیے آئے ہیں۔ جب الیکشن ہو ئے تو واپس چلے جائیں گے۔ ان الیکشنز میں وہ آئین کی رُو سے حصہ بھی نہیں لے سکتے اور آئندہ بھی وہ سیاست کے کسی عہدے کے طلبگار نہیں ہیں یعنی وہ جو بھی کام کر رہے ہیں۔ اُس میں نیک نیتی، خلوص اور انسا نیت ہے۔ افسوس کہ اتنے وزیر اعلیٰ آئے اورگئے مگر کسی نے تمامتر اختیارات، صوابدید، وسائل ہو نے کے کبھی ایسے کام نہیں کیے جو ہمارے عظیم کو لیگ محسن نقوی صاحب نے محض چندماہ میں کر دکھائے ہیں۔ میری دعا ہے کہ آپ چھ ماہ کے لیے بطور وزیر اعلیٰ آئے تھے لیکن آپ چھ سال وزیر اعلیٰ رہیں کیونکہ پنجاب کا مقدر اور لاہور کا جو بن آپکے دم سے نکھر رہا ہے۔ ہمیں آپ پر فخرہے۔
0