رداامانت علی
فیصل آباد
عنوان : لہو لہو پشاور
آج سے کچھ سال پہلے 16 دسمبر ء2014 دہشت گردوں نے پشاور کے ایک مشہور سکول آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر دیا اور اس دہشت گرد حملے کے دوران 100 سے زائد کم سے کم 114 معصوم بچوں اور اساتذہ کو بڑی بے دردی اور سفاکانہ طریقے سے شہید کر دیا تھا. وہ بچے اور اساتذہ جو اپنی زندگی میں ایک نئے عزم کے ساتھ اسکول کے لئے روانہ ہوئے تھے اور اپنی زندگی کو ایک حسین لمحات کے لئے سب کے لئے اچھی مثال قائم کرنا چاہتے تھے۔ان کو کیا علم تھا کہ دہشت گردوں ان کے اسکول پر حملہ آور ہو کر ان پر اس طرح سے حملہ کریں گے کہ ان کو اس رہتی دنیا کا اچھے اور سنہری الفاظ میں یاد کیا جائے گا۔دہشت گردوں نے اسکول پرحملہ کرکے علم کی شمع بجھانا چاہی لیکن قوم کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور اساتذہ پر دہشت گردی کر کہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کے ان بچوں سے کس قدر خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ آج کے بچے پڑھ لکھ کر ان دہشت گردوں کا نام نشان اس دنیا سے مٹا دیں گے۔شہدا کے والدین آج بھی صدمے سے نڈھال ہیں،کیونکہ ان کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے بچے علم کی روشنی کے لئے گئے اور ان پر سفاکانہ حملہ کیا جائے گا اور جن والدین کے بچے بچ گئے وہ بھی اس ہولناک دن کوفراموش نہیں کرسکے۔
حکومت پاکستان نے بھی انسداد دہشت گردی کے لئے قومی ایکشن پلان شروع کیا۔ جس میں پاک فوج کا سرگرم عمل اور شہدا کے والدین سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔پاک فوج اور پاکستان قوم نے اس دردناک المیہ کے بعد ایک نئے عزم کے ساتھ دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے دن رات ایک کر دی۔ جبکہ دہشت گردوں نے بہت سے طریقوں سے پاکستان کے مستقبل معماروں کونشانہ بنا کر سیکیورٹی اداروں کا حوصلہ توڑنے کی انتھک کوشش کی، لیکن پاکستان بھر میں جاری تعلیمی سرگرمیاں ملک کے دشمنوں کو ایک پیغام سر عام دے رہی ہیں کہ قوم پاکستان کے معصوم شہدا بچوں اور اساتذہ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاکستان زندہ آباد
0