عُنوان : پھول جیسی شریکِ حیات
تحریر : ریحان انصاری
نکاح یعنی کے شادی ایک ایسا بندھن جو مُحبت کو تو اس بندھن میں اپنے ساتھ سمیٹیں ہوئے ہے مگر….
اپنے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے لیئے ایسا روحانی اور جسمانی سُکون بھی شامل حال ہے جسکے زریعے انسان اپنے آپکو بہت سے گناہوں سے روک لیتا ہے…اور ساتھ ہی ساتھ..اپنے آدھے ایمان کو بھی کامل و اکمل بنالیتا ہے…
..کیونکہ ..!!
نکاح ہر مسلمان کا نصف ایمان اور ایک مُقدس بندھن ہے..
مگر ہر کوئی چاہتا ہے کہ اُسکا ہمسفر نیک مُتقی اور پرہیزگار ہو مگر خود وہ چاہے جیسا بھی ہو پر بیوی کے معاملے سب کی پسند ایک ہی نظر آتی ہے کہ نیک صالحہ بیوی ہی میری شریک حیات ہو..
تو میرے دوستو….
ایک آسان مثال آپکو سمجھاتے چلو…اور وہ یہ کہ کیا آپ نے کسی گندگی میں خوشبو مہکتی دیکھی ہے..??
نہیں نا کیونکہ خوشبو کا شُمار خوشبودار جگہوں سے ہوتا گندگی کے مقام سے نہیں کیونکہ جہاں گندگی ہوگی وہاں خوشبوؤں کا تصوُّر مُحال ہے کیونکہ وہاں سوائے بدبو کے کُچھ بھی نہیں..
اسی طرح ایک نیک سیرت بیوی بھی ہے. کیونکہ وہ ایک خوشبو ہے. عبادت کی خوشبو, ریاضت کی خوشبو, نمازوں کی خوشبو, دین متین پر استقامت کی خوشبو, تلاوت قرآن پاک کی خوشبو,نیک اخلاق و سیرت کی خوشبو, غیر محرم سے پردوں کی خوشبو, سر سے پاؤں تک حجاب سے چُھپی ہوئ مانند سمجھوں کہ ایک پھول ہو.
جو اللّٰہ کی مُحبت میں ہردم خوشبو سے یوں لگے مہکتی ہو…
تو جناب…
اگر آپ کو ایسی خوشبو دار پھول کو اپنی زندگی کی شریک حیات بنانا ہے تو یاد رکھے آپکو بھی اللّٰہ کے حُکم کا پابند ہونا ہوگا. اطاعت رسول اللّٰہ اور سُنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے لبریز ہوکر ایک خوشبودار پھول بننا ہوگا.اور جب آپ دین پر عمل کرکے ایک پھول بن جائینگے تو آپکو بھی ایک نیک سیرت خوشبودار پھول جیسی بیوی کو اللّٰہ پاک آپکی زندگی کا شریک حیات بنادینگے.
0