(قائد اعظم محمد علی جناح)
دریائے سندھ کے کنارے تک اسلام حکومت کر رہا ہے سینکڑوں قبیلے ریگستان عرب سے نکل کر دور دراز پھیل رہے ہیں ۔
بہت سی قومیں دلی ذوق سے اسلام کے حلقے میں داخل ہو رہی ہیں اس وسیع دنیا میں جابجا مسلمانوں کی حکومت کا پرچم لہرا رہا ہے خطہ ہند بھی دنیا کا وہ خوبصورت ترین ہر نعمت سے مالا مال خطہ ہے
جہاں ان گنت سالوں سے مسلمان حکمران کی حیثیت سے آنے والے ادوار سے بے خبر سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالے ہیں ۔رفتہ رفتہ ہر عروج کو زوال کے مثل مسلمانوں کی حکومت تاریکیوں میں گم ہونے لگی ہے
مسلمان حکومت کی غرقابی تعلیم و تربیت کی نا آسودہ حالی کے پیش نظر ہے ۔
اسلام کا جوش مرنے لگا ۔
بلند ہمتیں پست ہوئیں ۔حوصلے وسیع نہ رہے ۔
انگریز نے شکست فاش سے دوچار کیا۔۔۔
خطہ ہند میں غیر مسلم کا آپس میں گٹھ جوڑ ہوا ۔
لہجوں کی شدتیں ماحول کی حدتیں صرف سب مسلمانوں کے ماتھے کی لکیر بنیں۔ ۔۔
مسلمان کو تعلیم کی پستیوں میں گرا دیا گیا ۔۔۔
مسلمانوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔۔۔
زمانہ مسلمانوں کی بیچارگی کا نظارہ کر رہے تھا کہاں یہ قوم کائنات کی اندھیری راہوں میں شمع روشن کرنے والی اور آج انہی گمنام گلیوں میں بھٹکنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت کی رحمانیت کو جوش آیا اور خطہ ہند کی ہواؤں میں ایسے ایسے ذی فہم و ذی شعور عبد جنم لینے لگے کہ جن کی بدولت تاریک راہوں پہ علم کے چراغ جلنے لگے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اسلامیانٍ ہند پر خالقٍ غائب و حاضر کا بہت خاص کرم ہوا 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس نے آنے والے دنوں میں اس خطہ میں ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال زمانوں میں تلاشنا مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کسے خبر تھی کہ بچہ اپنے افکار اپنے کردار اور پرخلوص انداز سے ہند کے مسلمانوں کی تقدیر بدلتے ہوئے سب مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے گا ۔
آنے والے سالوں میں اسی بچے کو دنیا نے قائد اعظم محمد علی جنا ح کے نام سے جانا ۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ جناح کا بھائی پونجا جناح کہ اس بیٹے نے ثابت کیا کہ مشکل ترین حالات میں کیسے تقدیریں اپنے حق میں کی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔
قائد اعظم محمد علی جناح خطہء ہند کے مسلمانوں کے دکھوں کا مداوا چاہتے تھے ۔انہوں نے فیصلہ کیا اور قدم اٹھا لیا پھر ان کا کوئی بھی قدم نہ رکا نہ ہی ہٹا بس آگے ہی آگے بڑھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ اپنی کاوشوں سے مسلمانانِ ہند کی تقدیر میں آزاد اسلامی ریاست کے قیام میں اپنا وہ کردار ادا کیا کہ قیامت تک آنے والے لوگ یاد کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ مسلمانوں نے بے دریغ قربانیاں دیں تاکہ ان کی آنے والی نسلیں الگ اسلامی ریاست میں آزادی کا سانس لے سکیں اور خدائے بزرگ برتر کی عطاؤں میں اپنے لیڈر کی سرپرستی میں الگ اسلامی ریاست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے
آخر کار 25 دسمبر 1879 کو طلوع ہونے والا درخشاں ستارہ 11 ستمبر 1948 کو داستانٍ حیات چھوڑتا ہوا غروب ہو گیا ۔۔
قائد اعظم محمد علی جنا اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے مگر آنے والی نسلوں کو ایک پیغام دے گئے کہ محنت اور لگن سے ہر مشکل کام کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔آج وطنِ عزیز کے ہر باشندے کو چاہئے کہ اپنے وطن کی بقا کےلیے اپنے لیڈر کے نقشِ قدم پر چلے۔ ۔۔۔
کالم نگار
سیدہ نزہت ایوب
0