ادب کی قلوپطرہ ڈاکٹر عارفہ صبح خان عصر حاضر کی ہمہ جہت شخصیت

تحریر: امین رضا مغل
ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر1970کو لاہور میں پیدا ہوئیں انہوں نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے اردو لٹریچر میں ڈاکٹریٹ کیا انہوں نے ٹاپ کیا اور وہ یونیورسٹی سے اردو لٹریچر میں ڈاکٹریٹ کرنے والی پہلی طالبہ کا اعزاز بھی حاصل کیا حسب و نسب کے اعتبار سے یوسف زئی پٹھان ہیں انہیں پاکستان کی پہلی مزاح نگار،پاکستان کی پہلی لیڈی کرائم رپورٹر،پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر،صدر ویمن جرنلسٹ فورم، پریس کلب لاہور (مسلسل پانچ سال)اور70 بار مسلسل بہترین صحافی کا ایوارڈحاصل ہے وہ پاکستان کی واحد صحافی خاتون ہیں جن کے کریڈٹ پر 12 گولڈ میڈلز اور 70 ایوارڈز ہیں معروف اور صف اول کے مزاح نگار کرنل محمد خان مرحوم نے انھیں خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب دیا اور انکی مزاح پر شائع ہونیوالی مشہور زمانہ کتاب شٹ اپ کے فلیپ میں لکھا کہ ہم مردوں کے لئے خوشی کا مقام ہے کہ خواتین میں بھی ایک پطرس بخاری پیدا ہوگئیں۔
مشتاق یوسفی، شفیق الرحمان، اشفاق احمد ، احمد ندیم قاسمی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، ڈاکٹر وزیر آغا ، ڈاکٹر سلیم اختر اور ڈاکٹر مجید نظامی جیسی جید شخصیات نے انہیں دادو تحسین سے نوازا ہے۔ مجید نظامی نے ڈاکٹر عارفہ کو ” صحافت کی شیرنی” کا خطاب دیا۔
پرویز مشرف ، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف، کلثوم نواز اور بیشمار سیاستدانوں نے انکے قلم کی طاقت کو سراہا ڈاکٹر عارفہ صبح خان اپنے فن کی داد پاکستان ،بھارت، مصر کے مایہ ناز نقادوں ادیبوں دانشوروں اورمزاح نگاروں سے وصول کر چکی ہیں مجید نظامی مرحوم نے ایک تقریب کے دوران ایک طالبہ کے اس سوال پر کہ آج کے زمانے میں لڑکیوں کے لئے کون رول ماڈل ہیں اور ہمیں کس کو آئیڈیل بنا کر چلنا چاہئے تو مجید نظامی نے جواب دیا کہ عصر حاضر میں عارفہ صبح خان سے بڑھ کر کوئی رول ماڈل نہیں ہوسکتا وہ بہادری،جرات، ہمت، ذہانت، کردار ،ایمانداری اور حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ ہیںڈاکٹر عارفہ صبح خان نے پندرہ کتابیں عکس زن، مابدولت، تجاہل عارفانہ، شٹ اپ، کرکرے کردار، اردو تنقید کا اصلی چہرہ، اب صبح ہونے کو ہے، عشق بلاخیز، تنقیدی گرہیں، کافر ادا، اماں حوا سے اماں کونسلر تک، سیاستدانوں کے سائیڈ ایفیکٹس،صبح ہوگئی جاناں، گنجے اور گنجیاں ، درجنوں افسانے ،سینکڑوں مضامین ، ہزاروں کالمز لکھے ہیں صرف مزاح نگاری پر ان کی چار کتابیں شٹ اپ، مابدولت،کرکرے کردار،گنجے اور گنجیاں ہیں حال ہی میں ان کی کتاب گنجے اور گنجیاں شائع ہوئی ہے گنجے اور گنجیاں
جس قدر مزاح سے بھر پور ہے، اس کا دیباچہ اسی قدر رلا دینے والا ہے جو خون کے آنسوو¿ں سے قلمبند کیا گیا ہے انکے شاندار مزاح کا اندازہ چند مزاح پاروں سے ہو سکتا ہے ،مثلاً فرمالوجی یا ٹر خالوجی ، کا نپیں ٹانگ جاتی ہیں ، لہوڑلہو رہے ، چھچھوراا ایسوسی ایشن،
سیاستدانوں کے سائیڈ ایفیکٹس ، بونگیاں، ایج کمپلیکس ، ویلی قوم ، ایزی لوڈ والی صبا ، محبت بھی بوڑھی ہو جاتی ہے، انجمن ستائش باہمی ، ساس نہیں راس، سائیں قائم علی شاہ و غیرہ یہ کتاب انہوں نے کس ماحول میں لکھی اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ سامنے موت کھڑی تھی اور میں مزاح تخلیق کر رہی تھی۔ میں اپنی زندگی سے مکمل نا امید اور مایوس تھی کیونکہ موت میرے سر پر پنجے گاڑے کھڑی تھی میری کینسر کی دوسری سٹیج تھی تب میں نے شدید ڈیپریشن کی حالت میں طنز و مزاح تخلیق کیا ” خیابان ادب کی چیئرپرسن، نامور ادیبہ شاعرہ صحافی دانشور ڈاکٹر عارفہ صبح خان نے بتایا کہ گزشتہ برس انھیں کینسر جیسی جان لیوا بیماری ہوگئی وہ اس موذی مرض سے لڑتے لڑتے نڈھال ہو کر ڈیپریشن میں چلی گئیں انہوں نے کرب اور مایوسی کی حالت میں طنز و مزاح لکھنا شروع کر دیا گنجے اور گنجیاں” کے نام سے انہوں نے ایک معرکتہ الآراءشاہکار تخلیق کیا ڈاکٹر عارفہ کی کتاب “گنجے اور گنجیاں انتہائی پر لطف ، دلچسپ ، انہونی اور مزاح سے بھر پور کتاب ہے پبلشر اور رائٹر سید وقار معین کا کہنا ہے کہ یہ اس صدی کا سب سے خوبصورت مزاح ہے اس کتاب کے مزاح پارے، ادب کی دنیا میں مزاح نگاری کو بلندیوں پر لے گئے ہیں ڈاکٹر عارفہ نے یہ مزاح ایسی حالت میں لکھا ہے جب لمحہ لمحہ موت انکی طرف بڑھ رہی تھی وہ کینسر کی دوسری سٹیج پر تھیںانکی کیموتھیراپی مکمل فیل ہو گئی تھی انھیں دو مرتبہ سرجری کے طویل عمل سے گزرنا پڑا وہ اٹھنے بیٹھتے، لکھنے پڑھنے اور بولنے کے قابل بھی نہیں تھیں ڈاکٹر عارفہ کا کہنا ہے کہ میری 300 راتیں اپنی ممکنہ موت پر روتے سسکتے گزریں جبکہ 300 دن انہوں نے مسلسل یہ کتاب لکھی ریڈی ایشن کے بعد ابھی وہ ٹارگٹیڈ ڈ تھیراپی کے عمل سے گزر رہی ہیں ڈاکٹر عارفہ صبح خاں بلاشبہ عصر حاضر کی ہمہ جہت شخصیت اور ادب کا سرمایہ ہیں ہم دعا گوہیں کہ اللہ پاک ان کو صحت وتندرستی والی لمبی زندگی عطافرمائے ۔ آمین
0