آپامنزہ جاوید..اسلام آباد
(اپنے اوپر احسان کریں )
میں سوچتی ھوں
ہم ایک دوسرے کے لیے
فائدہ مند کیوں نہیں بنتے
کیوں ہم سب سے علحیدہ
سب سے جدا
زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں
ہم کیوں نہیں چاہتے جو ہم کھا رہے ہیں جو ہم پہن رہے ہیں کسی اور کو بھی تو چاہیے
کسی اور کا دل بھی کرتا ھو گا
ہم کیوں
کسی دوسرے کی بھوک پیاس تمنا خواہش کو محسوس نہیں کرتے
ہم اتنے خود غرض ہیں ہمارے سامنے کوئ بھوکا بیٹھا ھو تو ہمیں احساس ہی نہیں ھوتا کہ اسے بھی بھوک لگ رہی ھو گی
میں اپنے کھانے میں سے کچھ اسے بھی دیے دوں
میرے پاس اتنی دولت ہے کسی غریب کے گھر کے کسی ایک بچے کی کفالت کر لوں اسکی ساری ذمہ داری لے لوں کسی غریب کی بیٹی کی شادی کی ذمہ داری میں بانٹ لوں کسی کی ترستی ویران آنکھوں میں کوئ امید کا جنگو بھر دوں اگر کسی کے پاس نوکری ہے یا کسی کو نوکری لگوا سکتے ہیں تو کسی کی راہنمائ کردوں کہ فلاں جگہ ملازمت مل سکتی ہے اگر کوئ باہر کسی ملک میں ہے تو وہ کسی اور کو طریقہ کار بتا دیے
اگر اسے باہر کسی ملک میں بلا سکتا ہے تو بلا لے
ہم چھوٹی بڑی کسی ہمدردی سے اتنے پیچھے کیوں ہیں کیا یہ دنیا کی عیش وعشرت مال ودولت مرنے کے بعد ساتھ لے کر جا سکتے ہیں
نہیں نا
تو پھر نکیاں کمائیے
جو آپ ساتھ لے کر جائیں گے اپنی آخرت کی زندگی کے لیے بھی کچھ نہ کچھ جمع کیجیۓ چاہے وہ کسی کے ساتھ اچھا بولنا ہی ھو مسکرا کر ملنا ہی ھو . کسی کو دولت کا غرور کسی کو اپنے اعلی عہدے کی اکڑ کسی کو اعلی منسب کی اپنی شان وشوکت کا مان کبھی سوچا یہ آپکو کس نے دیا دنیا میں آپ سے زیادہ عقلمند آپ سے زیادہ خوبصورت لوگ بھی ہیں انکے پاس یہ سب کیوں نہیں کیا یہ آپکو آپکی ذہانت کی وجہ سے ملا کوشش سے ملا تو دیکھیے محنت کش کو دیکھیے بہت سے ذہین لوگوں کو خوبصورت لوگوں کو…
یہ سب اللہ کی عطا ہے کہ آپکو آپکی محنت کا ثمر مل رہا ہے آپکی ذہانت کی قدر کی جارہی ہے یہ حکم الہی ہے جب تک اللہ چاہے گا نعمتیں ملتی رہیں گی اور جب اللہ چاہے گا وہ ساری مال ودولت صحت شان وشوکت واپس لے لیے گا اسکی واپسی نعمت کی کئ مثالیں ہمارے معاشرے میں ملتی ہیں تو تکبر غرور سے ہٹ کر اللہ کے بندے بندی بنکر آخرت کی فکر کر کہ بھی سوچیے
خدا کے لیے دوسروں کے کام آنا انکی راہنمائ کرنا مفید مشورہ دینا
کسی نہ کسی طرح مدد کرنا
اپنا شعار بنا لیجیۓ
تاکہ ہمارے دنیاسے چلے جانے کے بعد کوئ تو ھو جو اپنے لیے دعا مانگے تو بے اختیار آپ کا نام اسکے لبوں پے آ جاۓ جب وہ اللہ کا شکر کرے تو آپ کا چہرہ بھی اسکی آنکھوں کے سامنے آ جاۓ چلیں اگر کوئ ایسا نہ بھی کرے تو میرے پروردگار تو دیکھ رہا ہے فرشتے لکھ رہے ہیں ہمارے اعمال نامے کا ڈیٹا جمع ھو رہا ہے وہاں تو لکھا جا چکا ھو گا نا
تو آہیے دل سے عہد کیجیۓ آپ روزانہ یا جب بھی موقعہ ملے گا نیکی ضرور کریں گے یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ سوچا جاۓ تو اپنے آپ پر احسان ھو گا
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں
0