اسلام آباد(بی بی سی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کی حکومتیں غزہ میں سفاکیت روکنے کے لیے اسرائیل کے خلاف اجتماعی جہاد کا اعلان کریں۔ مسلمان حکمران اگر اب بھی بیدار نہ ہوئے تو اسرائیل فلسطین پر قبضہ کر کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی جارحیت کا آغاز کر دے گا۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل کے لیے مزید 14.5ارب ڈالر کی امداد منظور کر کے صہیونی ریاست کو قتل عام کا لائسنس جاری کیا۔ تاریخ امریکا کی انسانیت پر ظلم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے، یہ جاپان، ویت نام، عراق، افغانستان میں لاکھوں انسانوں کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ پوری امت مسلمہ بے چین، دکھ اور کرب کی حالت میں، حکمرانوں کی جانب دیکھ رہی ہے۔ غزہ میں بچوں، خواتین پر بارود کی بارش کو ایک ماہ ہو گیا، اسرائیل نے اقوام متحدہ کی قراردادوں، او آئی سی کی اپیلوں کا مذاق اڑایا۔ صہیونی توسیع پسندانہ عزائم پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکز اسلامی پشاور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امیر جماعت نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے مشترکہ کمیشن تشکیل دیں اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ پاکستانیوں نے سالہاسال افغانوں کی میزبانی کی ہے، انھیں ایمرجنسی بنیادوں پر نکالنے سے دونوں ممالک کے مشترکہ دشمنوں کو شہ ملے گی، پروپیگنڈا اور سازشیں ہوں گی۔سراج الحق نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 8فروری کو قومی انتخابات کرانے کے شیڈول کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے ذریعے آیندہ تمام انتخابات آئینی مدت کے اندر کرانے کی واضح ڈائریکشن جاری کی جائیں، ملک ماضی کی غلطیوں کو دہرانے اور آئینی بحران پیدا کرنے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی الیکشن کمیشن کو مالی و انتظامی لحاظ سے خود مختار دیکھنا چاہتی ہے۔ انتخابات میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی ہر صورت میں پابندی ہونی چاہیے۔
امیر جماعت نے سودی نظام کو معیشت کی تباہی کی جڑ قرار دیا اور کہا کہ اسے جاری رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کو عوام کی جانب سے سپورٹ کرنا سود جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہے، کو مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔ حضورؐ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے دیے گئے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی جائے۔ ملک پر سالہاسال مسلط رہنے والی پارٹیاں ایکسپوز ہو چکیں، ان کے پاس مسائل کا کوئی حل نہیں، یہ باریوں کی طلب گار ہیں تاکہ اقتدار میں رہ کر اپنے لیے مزید دولت اکٹھی کریں، حکمران اشرافیہ نے غریب قوم پر مہنگائی مسلط کی، ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک آئی ایم ایف کے قرضوں کے چنگل میں پھنسا، قوم سانپوں کو دودھ پلاتی رہے گی تو یہ اژدھا بن کر انھیں ہی نگل لیں گے۔ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور کرپشن سے نجات کے لیے عوام کے پاس جماعت اسلامی کی صورت میں آپشن موجو د ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر ا حتساب کا کڑا نظام متعارف کرائے گی، ملک کو قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق چلائیں گے۔
0