آپا منزہ جاوید اسلام آباد
گھر کا بڑا
اپنے آپ کو منوانے کے لیے ہمیں زندگی میں ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جن سے ہم دوسروں کے لیے یا اپنے کنبے کے لیے بہت اہم ہو جاتے ہیں. اہم والے درجے کو پانے کے ہمیں بےشمار قربانیاں دینی پڑتی ہیں، کہیں جذبات کی تو کہیں وقت کی، بہت سے آنسوؤں کو اپنے اندر ہی اندر جذب کرنا پڑتا ہے گھر میں یا خاندان میں جب کسی کو بڑا بنا دیکھیں تو سمجھ جائیں اس لفظ بڑے کے پیچھے اس کے بڑے بڑے کام ہیں بڑی بڑی محنت ہے تبھی جا کر اسے گھر کا بڑا مانا جاتا ہے.گھر کی جو ذمہ داری اپنے کندھوں پے اٹھا لیتا ہے وہ سب کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے اس میں عمر کی کوئی قید تو نہیں بہت سے گھر ہیں جہاں چھوٹے بیٹے نے اپنی محنت سے گھر کے حالات بہتر کیے لیکن عمومی ہمارے مشرقی رواج میں دیکھا جاتا ہے بڑے بیٹے کو گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے.اسی پر زیادہ ذمہ داری ڈالی جاتی ہے گھر کا بڑا ہونا بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ہم نے اکثر دیکھا ہے گھر کا جو بڑا ہے اسے پس اپنے مسئلے مسائل سنانے کے لیے ہم نے اہم سمجھا ہوا ہے ہم یہ نہیں سمجھ پا رہے اسے بھی دوستی کی ضرورت ہے وہ بھی جیتا جاگتا انسان ہے وہ بھی کچھ دیر زمہ داریوں سے ہٹ کر سکون سے کچھ وقت گزارنا چاہتا ہے گھر کا بڑا بیٹا ہونا بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کوئی بھی کام ہو بڑے بیٹے نے کرنا ہے کوئی بھی مسئلہ ہے بڑے بیٹے نے حل کرنا ہے ہم کسی ایک کو بڑا بنا کر اس کی زندگی کو تلخ کر دیتے ہیں اسے تھکا دیتے ہمیں اسے اتنا بڑا سمجھ لیتے ہیں کہ اپنا جیسا سمجھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں.
ہمیں احساس کرنا چاہیے کہ وہ بھی عام انسان ہے اس کے بھی جذبات ہیں اس کی بھی کوئی خواہشات ہو سکتی ہیں ہم ہمیشہ قربانی کی بڑے بیٹے یا بڑے بھائی سے ہی واقع کرتے ہیں
ہم چاہتے ہیں زندگی کے سارے کمپرومائز بڑا بیٹا یا بڑا بھائی ہی کرے. جب کسی کو کوئی چیز چاہیے فٹ سے کہا جاتا ہے چل یہ اسے دیے دیے وہ چھوٹا ہے یاد رکھیں بڑا بیٹا ہے یا چھوٹا احساسات سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں خواہشات سب کی ایک جیسی ہوتی ہیں یہ کیا ایک اپنی خواہشات اپنے جزبات کی قربانی دیتا رہے. دوسرے آرام سکون سے رہیں کیا یہ اس کا جرم ہے کہ وہ بڑا بیٹا ہے.؟ ہمیں اپنی ساری اولاد کو بچوں کی طرح ہی سمجھنا چاہیے اکثر دیکھا ہے بڑے بیٹے کو کچھ جماعتیں پڑھنے کے بعد پڑھنے سے روک کر کام میں لگا دیا جاتا ہے کہ باپ کے ساتھ مل کر کام کرے یوں بڑا بھائی باپ کے ساتھ باپ بن کر کام میں جت جاتا ہے وہ اپنے اعلی تعلیم حاصل کرنے کا خواب اپنے چھوٹے بہن بھائیوں میں دیکھنے لگتا ہے یہ اس کی پہلی قربانی ہوتی ہے جو کسی کی نظر میں نہیں ہوتی پھر اگر اُس کی بہنیں ہیں تو کہا جاتا ہے پہلے بہنوں کی شادی کر لے پھر تم شادی کرنا یہ فرض ادا کر لیں وہ اس پر بھی راضی خوشی آمین کر کہ محنت کی چکی میں جت جاتا ہے کہ فرض ادا ہو جائیں یہ فرض ادا کرتے کرتے اس کے اپنے بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے پھر چھوٹے بھائ کی تعلیم کا خرچہ آڑے جاتا ہے پھر وہ تعلیم کے خرچے کا سوچ کر کمائی کرنے میں لگ جاتا ہےاور پھر جب چھوٹا بھائی اعلی تعلیم حاصل کر کہ کسی اچھی جاب پر لگ جاتا ہے تو گھر والے چھوٹے بیٹے کے نخرے برداشت کرتے ہیں اس کے آنے جانے کا خیال رکھتے. اس کی شادی کا سوچتے ہیں اور پھر اس کی شادی کے ساتھ بڑے بیٹے کے بھی شادی کی تیاری شروع کی جاتی ہےاور تمام خرچے پھر بڑے نے ہی پورے کرنے ہوتے ہیں. کہا جاتا ہے چھوٹے کو تو ابھی نئی نئی نوکری ملی ہے وہ کہاں سے اتنا خرچہ کرے گا. خدا خدا کر کہ بڑے بیٹے کی شادی بھی ہو جاتی ہے اور چھوٹے بیٹے کی بھی.پھر چھوٹا بیٹا جاب کی وجہ سے دوسرے شہر چلا جاتا ہے اور بڑے بیٹے پر ماں باپ اور اپنے بچوں کی ساری ذمہ داری آ جاتی ہےپھر وقت کروٹ لیتا ہے جائیداد کی تقسیم ہوتی ہے اور چھوٹے اور بڑے بیٹے کو جائیداد ایک جیسی تقسیم ہوتی ہے. سوچنا تو یہ ہے وہ گھر کا بڑا بیٹا جو ساری زندگی گھر کی ذمہ داریاں پوری کرتا رہا خرچے پورے کرتا رہا اس کے حصے کیا آیا سواۓ ذمہ داریوں کے والدین کو چاہیے اس پہلو پر توجہ دیں جب آپ بڑے بیٹے سے قربانی چاہتے ہیں تو اس کے مستقبل کے بارے میں بھی دوسروں سے مختلف اور بہتر فیصلے کریں سوچیں ایک بچہ آدھی زندگی آپ کے نام کر دیتا ہے اپنا کچھ نہیں سوچتا اور دوسرا بچہ جس کو کامیاب زندگی ملتی ہے جوانی ملتی ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں بڑے بیٹے کا کیا قصور ہے جس نے آپ کی فرمانبرداری میں آدھی زندگی یونہی گزار دی اور آخر میں ماں باپ کی بھی دوا دارو کی ساری ذمہ داری وہی اُٹھاۓ گا باقی سب پنبچھی بن کر اپنے اپنے علیحدہ گھونسلے بناتے رہیں. اگر آپ بڑے بیٹے کو گھر کی اور اپنی اولاد کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے ساتھ لگاتے ہیں تو وراثت تقسیم کرتے وقت. وقت کے حساب سے وارثت تقسیم کیا کریں اس نے اپنے سنہری پل آپ کو گھر کو دیے ہیں اس کا حق بنتا ہے کہ اس کو انعام میں کچھ نوازہ جاۓ بلکہ چھوٹے بہنوں اور بھائیوں کا بھی حق ہے وہ اس پہلو پر بات کریں ویسے اس میں قصور بہنوں بھائیوں کا بھی اتنا نہیں ہے کیونکہ ماں باپ نے کبھی کسی کو احساس ہی نہیں کروایا کہ آپ جیسا ہمارا بڑا بیٹا ہم سب کے لیے میرے ساتھ مل کر محنت کرتا رہا ہے. اس نے ہمیشہ آپ سب کے لیے اپنے وقت اپنے جزبات کی قربانی دی ہے اور اب وہ وقت کے ساتھ اتنا جوان نہیں رہا تو وہ انعام کا حق دار ہے. جس نے بےلوث آپ کا ساتھ دیا اب اس کا ساتھ دیں. والدین یہ بھی سوچیں کہ جب سب بچے حصے لے کر علیحدہ علیحدہ گھروں میں چلے جائیں گے تو ہمارا خیال کون رکھے گا. کیا یہ بھی ذمہ داری بڑے بیٹے کی ہے؟ اگر بیماری آجاتی ہے تو ہماری بیماری کا خرچہ کون اُٹھاۓ گا کیا تمام عمر ذمہ داری بڑے بیٹے نے ہی اٹھانی ہے اور کسی کا کوئی فرض نہیں کہ وہ والدین کے لیے کچھ خرچہ کریں. والدین جائیداد کی تقسیم کرتے وقت خیال رکھیں انہوں نے اپنے لیے بھی کچھ نہ کچھ رکھنا ہے جو بیماری میں ان کے کام آ سکے. انہیں کسی کی محتاجی نہ ہو. یہ زندگی ہے کسی کا کوئی پتہ نہیں ہوتا کب تک صحت ہے کب بیماری ہے کب کوئی دنیا چھوڑ جاۓ تو جب بھی فیصلے کریں بڑی سوچ وچار کے بعد فیصلے کیا کریں جزباتی فیصلے ہمیشہ پچھتاوے کا باعث بنتے ہیں
اللہ تعالی ہم سب کا حامی ومدد گار ہو
0