0

اے مئے غفلت کے سرمستو! تحریر: حفصہ بٹ عدن

اے مئے غفلت کے سرمستو!

تھم ذرا بے تابی دل بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے
اے مئے غفلت کے سرمستو کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس دیس کی آخر جہاں رہتے ہو تم
(علامہ محمد اقبال)
جب ہمارے عمر رضی اللہ عنہ نے القدس فتح کیا تو سختی سے تاکید کی تھی۔ کوئی بچہ، عورت، نہتا مرد، پادری، ان کی عبادت گاہیں اس لیے نہیں کہ ان پر ہتھیار اٹھائے جائیں۔ مقابلہ تو انہی سے ہوتا ہے جو ہتھیار اٹھا کر مزاحمت کرے۔
مسلم سپہ سالار اللہ کے قانون تلے ہوتا ہے، اس کے سائے سے نکل کر اجر ضائع نہیں کر سکتا۔ وہ چاہے بھی تو اپنی انا کی تسکین یا ذاتی بدلہ نہیں لے سکتا۔ جب خدا نے کہا ہتھیار ڈال دو تو بس ڈال دو جب اس کا حکم ہو کہ ڈٹ جاؤ تو ڈٹ جاؤ۔ کوئی تیسری راہ نہیں ہوتی۔
خدا نے قانون اس لیے بنائے کہ زمین لہو سے نہ بھر جائے۔ فساد گھروں میں نہ گھس جائے۔ نسلیں تباہ نہ ہو جائیں۔ ایک امن کی فضا میں سب سکھ سے سانس لیں اور دوسروں کو لینے دیں۔
ایڈولف ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی کی۔ ہم اس کے حامی تھے نہ کبھی ہوں گے کیونکہ ہمارا خدا اس سے روکتا ہے، ہمارے نبی اس سے منع کرتے ہیں۔ انبیاء تو سب ہی یہی پیغام لائے تھے۔ موسی علیہ السلام کی تعلیم یہ تو نہ تھی کہ دوسروں کو انسان نہ سمجھا جائے اور خون کی ندیاں بہا دی جائیں۔
وہ قوم جو خدا کے احسانوں کو بھول جائے اپنے نبی کے احسانوں کو خاطر میں نہ لائے وہ عمر رضی اللہ عنہ کی خیر خواہی کو کیونکر یاد رکھ سکتی ہے۔ عمر چاہتے تو ساری نسل کو القدس سے باہر نکال پھینکتے۔ ایوبی کی چاہ ہوتی تو وہ اس پتھر قوم کو پاکیزہ زمین سے باہر کر دیتے تاکہ ان کے پلید پیر سرزمین انبیاء کو چھونے نہ پاتے مگر وہ اللہ کے فرمان سے بندھے تھے۔ اپنے نبی کے مزاج اور حکم کے تابع تھے۔
تاریخ کے سیاہ باب گواہ ہیں۔ جب جب کم ظرفوں کو اقتدار ملا، غلبہ ملا یہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ مسجدیں چھوڑیں، بچوں کو بخشا نہ بے ضرر عورتوں کو گھروں میں رہنے دیا۔
ہمیں یاد ہے جب خدا نے انہیں قبطیوں سے بچا کر سمندر سے بارہ رستے بنا کر نکالا تھا، یہ راستے میں ہی ایک بت کی چاہ کرنے لگے تھے۔ جب خدا نے کہا تھا فلسطین میں جاؤ، تب بھی انہیں جان کے لالے پڑ گئے تھے اور آج بھی اپنی نسل بچانے کو باؤلے ہوئے جا رہے ہیں۔ جانور کا پیٹ بھر جائے تو وہ بے ضرر ہو جاتا ہے۔ میرا اللہ حق فرماتا ہے کہ یہ چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ ان میں کوئی خیر نہیں۔ مجسم شر ہیں۔
سسکیاں، دردناک چیخیں، تڑپتے ہوئے شیرخوار بچے، بھسم ہوتی عمارتیں، بھوک پیاس سے بلکتے کم سن بچے اور لاشوں سے بھرا شہر دنیا کو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟
امن کا راگ الاپنے والے شاید افیون کھا کر سو گئے ہیں۔ یورپ کا یہ ناجائز بچہ امریکہ نے کس قدر سر پر چڑھا رکھا ہے۔ وہ خون کے دریا بہا رہا ہے اور وہ مسلسل اس کی پیٹھ تھپتھپا رہا ہے۔ خدا غارت کرے کافروں کو اور انہیں عبرت کا نشان بنائے۔
یہود و نصاری اور مشرکین کے مل جانے پر کوئی اچنبھا نہیں، وہ احزاب میں بھی تو مل گئے تھے۔ تب بھی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب پر سب رستے بند تھے۔ بھوک تھی، تعداد میں کمی تھی، مسلسل محصور تھے، باہر سے آمد و رفت بند اور بےسرو سامانی تھی، مگر اللہ پر بھروسہ کامل تھا، ایمان پختہ تھے، کردار میں ذرا بھی لغزش نہ تھی تبھی رسول اللہ صلی۔اللہ علیہ وسلم کی پشین گوئیوں پر سب کا ایمان تھا کہ قیصر و کسری خاک میں ملیں گے اور وہ خاک میں مل کر رہے۔
غزہ میں بھی بھوک ہے، ہر جانب سے گھرا ہے اور مسلسل حملوں کی بہتات ہے۔ ڈر ہے، خوف ہے، بے سروسامانی ہے۔ وقت کے قیصر و کسری مل گئے ہیں۔ مگر امت کہیں کھو گئی ہے، وہ پہلی سی نہیں ہے، وہ بکھری ہوئی ہے۔ ٹکڑوں میں بٹے گروہ اکٹھے ہونے میں وقت لگاتے ہیں اور یہ وقت معصوم جانوں کے خون سے دھرتی کو سرخ کر رہا ہے۔ ہوش کے ناخن لو! یہودی خیبر سے نکالے جانے کو اب تک نہ بھولے اور ہم سب کچھ بھول بھلا کر اپنی دنیا میں مست ہیں۔ قبلہ اول سے سروکار نہ وہاں کے باسیوں سے۔ اور جنہیں ہے تو فقط افسوس کی حد تک۔
ہاتھ بڑھاؤ، آج کی طاقت معیشت ہے۔ ان کی معیشت تباہ کرنا تمہارا کام ہے۔ ان کی ہر شے کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟
تم جنگ نہیں کر سکتے۔ کیا اتنا بھی نہیں کر سکتے؟
تمہارے کان کیا سنتے نہیں، القدس کی فضائیں پکار رہی ہیں
مجھ کو دیکھو میرے شہر کا کھنڈر دیکھو
میری خاک کی تہہ میں ذرا اندر دیکھو
میرے پہلو میں لہو کا ہے اک دریا بہتا
تم اگر دیکھو تو لاشوں کا سمندر دیکھو
حفصہ بٹ عدن
ٹوبہ ٹیک سنگھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں